آئی پی ایل: 6.02 ارب ڈالر میں نشریاتی حقوق کی فروخت، تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے
انڈین ارب پتی موکیش امبانی کے حمایت یافتہ ’وائے کام 18‘ ادارے نے آن لائن سٹریمنگ کے حقوق 3.05 ارب ڈالر میں حاصل کیے۔ جبکہ سٹار انڈیا، جس کی مالک کمپنی ڈزنی ہے، نے آئندہ پانچ برسوں کے لیے 3.05 ارب ڈالر میں ٹی وی رائٹس حاصل کیے ہیں۔
گذشتہ پانچ برسوں کے دوران آئی پی ایل کی نشریات کے حقوق سٹار انڈیا کے پاس تھے۔ اس نے یہ حقوق 2.4 ارب ڈالر میں حاصل کیے تھے تاہم اس بار نشریات کے یہ دونوں معاہدے اس سے دگنی رقم میں طے پائے ہیں۔
ان اعداد و شمار کے بعد آئی پی ایل کا شمار اب کھیلوں کے ان مقابلوں میں ہو گا جن میں ہر میچ کی قیمت سب سے زیادہ ہے۔ ان میں امریکہ کی نیشنل فٹبال لیگ بھی شامل ہے۔
آئی پی ایل کے نشریاتی حقوق جیتنے والی بولی کے تحت فی میچ یہ قیمت 73.6 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ اس دوران آئی پی ایل کے 410 میچز دکھائے جائیں گے۔
ڈیجیٹل سٹریمنگ رائٹس بھی سال 2023 سے 2027 تک کے دورانیے کے لیے فروخت کیے گئے ہیں جس کے مطابق ایک میچ دکھانے کی قیمت 64 لاکھ بنتی ہے۔
انڈین کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی کے سیکریٹری جے شاہ کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل کی آمدن کو ملک میں کرکٹ کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس سے انفراسٹرکچر کی بہتری اور سہولیات میں اضافے کی امداد کی جاتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ ریاستی ایسوسی ایشنز اور آئی پی ایل ٹیمیں ایک ساتھ کام کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ ہمارے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر یعنی کرکٹ فین کا خیال رکھا جائے۔‘
یہ بھی پڑھیے
پی ایس ایل کے غیرملکی کرکٹرز جو آئی پی ایل میں سونے کے بھاؤ بِکے
’راولپنڈی ایکسپریس‘ کی جگہ اب ’کشمیر ایکسپریس‘ کا دور آنے والا ہے!
‘سینیئر کھلاڑی نشے میں دھت تھا جب اس نے مجھے 15ویں منزل کی کھڑکی سے باہر لٹکا دیا’
آئی پی ایل دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی کھیلوں کی تقریب ہے جس میں بہترین کھلاڑیوں کو اچھے معاوضے دیے جاتے ہیں۔ کرکٹ کی معروف نیوز ویب سائٹ ’کرک انفو‘ کے مطابق کھیلوں کے مقابلوں میں فی میچ رقم کے اعتبار سے یہ دوسرے نمبر پر سب سے مہنگے نشریاتی حقوق ہیں اور پہلے نمبر پر این ایف ایل ہے۔
انڈیا میں گذشتہ چند برسوں میں متاثر کُن شرح سے انٹرنیٹ کی رسائی میں اضافہ کی وجہ آئی پی ایل کی نشراتی حقوق میں سے سب سے زیادہ ڈیجیٹل نشر کے حقوق میں لاگت کا اضافہ ہوا ہے۔


