نظریاتی اختلافات اور وسعت قلبی کیسے پیدا ہو؟
عہد رفتہ میں جہاں انسان بہت سے بندھنوں سے آزاد ہوا ہے، وہیں قاری اور صاحب تحریر کے درمیان تعلق اور رابطے کا استوار ہونا بھی ہے، جس کی بدولت ایک قاری مصنف کی تحریر سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا مافی الضمیر یا مدعا اس تک پہنچا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف مصنف کو قاری کی رائے سے واقفیت ہوجاتی ہے، بلکہ وہ اس کے ذریعے اپنے نکتہ نظر کی مزید وضاحت بھی کر کے قاری کو اطمینان دلا سکتا ہے۔ مگر اس کے لئے بنیادی شرط قاری کا باشعور ہونا ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا علمی مرتبہ بھی ایسا ہو کہ وہ مصنف کی تحریر اور اس کے پس منظر سے کما حقہ واقف ہو۔ تاہم اگر قاری ان صفات سے محروم ہو، تو اس کو پھر کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ محض تفنن طبع یا کسی ذاتی عناد کی خاطر مخالفت اختیار کر کے صاحب تحریر کے لئے کوفت اور اذیت کا باعث بنے۔
ہمارے یہاں خوش قسمتی سے پہلے یہ ماحول دستیاب تھا، جس میں ہزار ہاں اختلافات کے باوجود فریق مخالف کا دلی احترام مسلم تھا، مگر جیسے ہی کارزار سیاست میں نادیدہ قوتوں کی بدولت نئے کردار متعارف کروائے گئے، تو اس کے بعد ماحول یکسر تبدیل ہو کر رہ گیا۔ اس پہ مستزاد کرائے پہ مستعار لئے گئے وہ نوجوان تھے، جن کی سیاسی تربیت اور اٹھان ہی اس سوچ کے ساتھ کی گئی کہ اپنے مخالف کی ہر بات کا معقول جواب دینے کی بجائے اس کی تواضع مغلظات سے کی جائے، تاکہ وہ دل برداشتہ ہو کر لکھنا اور بولنا ہی چھوڑ جائے۔ اس پہ طرہ یہ کہ جو ان مغلظات میں جتنی فصاحت اور بلاغت کا استعمال کرتا ہے، وہ حضور کا اتنا ہی قرب حاصل کرتا جاتا ہے۔ لہذا جہاں کل ترقی کی معراج علمی اختلاف کی بجائے دشنام طرازی ٹھہر جائے وہاں نتیجہ طوفان بدتمیزی کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
آپ ٹویٹر پہ جائیں، یا فیس بک پہ نظر دوڑا لیجیے، ادھر کسی نے کوئی بات کی، اور پھر اس کے بعد وہ ناقابل بیان الفاظ میں تبصرے نمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں جن کا تصور بھی ایک شریف انسان نہیں کر سکتا۔ ان مغلظات کو پڑھ کر ایک ذی ہوش انسان یہ سوچنے پر لازمی مجبور ہوجاتا ہے، کہ ان شتر بے مہار عناصر کی جو اس نہج پر تربیت کی گئی ہے، یہ ہمارے معاشرے کو آخر کس سمت لے کر جا رہے ہیں۔ اور اب حالت یہاں تک پہنچ چکی، کی فریق مخالف کا قتل تک مباح کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ جب فریق مخالف کو دلیل کی بجائے گولی سے مسکت کرنے کو ترجیح دی جائے گی، تو نتیجتاً معاشرے کا امن اور سکون برباد ہو کر رہ جائے گا۔ اور جب معاشرہ شکست و ریخت کی جانب گامزن ہو جائے، تو اس آگ کے شعلے ملک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
ایک ایسا ملک اور معاشرہ جو اپنی فکری اور علمی شناخت کھو بیٹھے، اور پھر بھی ہم اس کی ترقی کے خواب بنتے رہیں، تو گویا ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ کیونکہ اصل، حقیقی اور پائیدار ترقی مادی نہیں بلکہ فکری ترقی ہوتی ہے، جس کی بدولت اس ملک کی وقعت اور اہمیت اقوام عالم میں تسلیم کی جاتی ہے۔ مگر ہمارے یہاں جو حالات بنا دیے گئے ہیں، ان کو دیکھ کر یہی گمان ہوتا ہے کہ ہم کسی جنگل میں رہ رہے ہیں، جہاں صرف جہل کا راج ہے اور علم کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
دنیا کے کس معاشرے میں اختلاف نہیں پایا جاتا، مگر وہاں احترام انسانیت کی فضا ہنوز قائم ہے۔ لہذا وہاں اختلاف کی صورت میں مکالمہ جاتی بحث سے ہی مسائل کا حل تلاش کیا جاتا ہے۔ اور یہی وہ علمی میراث ہے، جو ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتی ہے۔ کیونکہ کسی بھی مسئلے کا حل اگر علمی بنیادوں پر ڈھونڈا جائے گا، تو معاملہ خوش اسلوبی سے طے ہو جائے گا۔ مگر اس کی بجائے دشنام طرازی، الزامی سیاست، اتہام بازی، ذاتی حملے اور رکیک جملوں کا اگر سہارا لیا جائے گا، تو اس سے ماسوا گرد اٹھنے کے اور کچھ بھی برآمد نہیں ہو گا۔ اور جب گرد اٹھتی ہے تو انسان کے لئے اس وقت یہ تمیز کرنی مشکل ہوجاتی ہے، کہ صحیح صورت حال کیا ہے، اور اب کرنا کیا ہے۔ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب دھاک میں بیٹھا دشمن اچانک حملہ آور ہو کر اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے۔ اور پھر سوائے تاسف اور کف افسوس ملنے کے کچھ باقی نہیں رہتا۔
ہمارے یہاں حالات بہت حد تک خراب ہو جانے کے باوجود، ابھی بھی موقع ہے کہ ہم سنبھل جائیں، اور اپنے کردار اور افکار کا جائزہ لے کر اپنی تشکیل نو کریں۔ اور اپنے قلب و ذہن کو اس قدر وسعت دیں کہ ہمارے اندر فریق مخالف کے نکتہ نظر کو سننے کا حوصلہ پیدا ہو جائے۔ مگر اس کے لئے کتاب خوانی اور اہل علم کی صحبت اختیار کرنا ازحد ضروری ہے۔ کیونکہ یہی وہ ذرائع ہیں جو انسان کو درجہ بہمیت سے نکال کر اسے درجہ انسانیت پہ متمکن کرتے ہیں۔ جو انسانی روح کی فکری بالیدگی کر کے، اس کے زاویہ نگاہ کو وسعت بخشنے میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کیونکہ جب تک ہمارا رشتہ کتاب سے قائم نہیں ہو گا، اور ہم انسانوں کی صحبت کو اختیار نہیں کریں گے، اس وقت تک ہم زندگی کے حقیقی معنی سے بے خبر رہ کر گویا جہالت کی زندگی ہی گزارتے رہیں گے۔


