ٹیلی فون کا ڈبہ، دعا اور ”کچھ لکھ دیا کر“

وہ مہینے میں ایک دو بار آتا کسی سیلزمین کو اشارہ کرتا اور دکان کے پچھلے حصہ کی طرف بڑھ جاتا جہاں موٹر پارٹس سے بھر کر آنے والی لکڑی اور پلائی وڈ کی خالی پیٹیاں پڑی ہوتیں، اپنی پسند کی پیٹیاں باہر لے آتا، ادائیگی کرتا اور پیٹیوں کے تختے ادھیڑ باندھ سر پہ رکھ لے جاتا۔ مگر اسؔی کی دہائی کے اواخر میں اس دن لمبے قد، مضبوط محنت کش سمارٹ جسم کے ساتھ ادھیڑ عمر میں داخل ہوتا وہ شخص اپنے معمول کے لباس چار خانہ سوتی دھوتی اور قمیص میں ملبوس سیدھا میری میز کے پاس آ کھڑا ہوا اور میرے دیکھنے پر اشارے سے بتایا کہ آپ فارغ ہو لیں پہلے۔ ہاں اس کا نام بھول چکا، لہذا شریف سمجھ لیں
فیصل آباد کا لاری اڈہ سرکلر روڈ سے سرگودھا روڈ موجودہ جگہ منتقل ہونے کے بعد ٹی بی ہسپتال کی دیوار کے ساتھ جوان دستکار شریف ٹیلیفون کے ڈبے بناتا نظر آنے لگا جس میں ڈائل کے اوپر ڈھکنا آ جاتا اور تالا لگ جاتا۔ تا ڈائل تک پہنچ تالا کھول کر ہو۔ دن کو بناتا اور شام گھوم پھر دکان داروں کے فون بل کم کرنے میں مدد کرنے والا یہ ہتھیار بیچ آتا۔ لاری اڈہ کی جگہ حبیب، یونائیٹڈ اور مسلم کمرشل بنکوں نے سنبھالی اور ہسپتال کی دیوار جناح مارکیٹ میں تبدیل ہوئی تو دونوں کے سنگم پہ ڈیرہ لگا لیا۔
میں نے سرکلر روڈ پر ریل بازار پولیس چوکی کے سامنے دکان کھولی تو دیودار چیل کیل قسم کی لکڑیوں سے بنی خالی پیٹیاں لینے آ جاتا اور یہ سلسلہ میرے اپنا کاروبار لاری اڈہ کے سامنے اپنی مملوکہ دکان پہ منتقل ہونے کے بعد بھی جاری تھا اور آج وہ میرے فارغ ہونے کا منتظر میری میز کے دائیں جانب کرسی پہ بیٹھا تھا۔ بتانے لگا کہ اسے خاصی دیر سے پیٹ میں شدید درد کا عارضہ لا حق ہے اور کسی علاج سے بھی افاقہ نہیں۔ اسے کسی دوست نے مشورہ دیا ہے فضل عمر ہسپتال ربوہ میں غریبوں کا علاج بھی بہت توجہ سے ہوتا ہے۔
آپ مجھے وہاں کے ڈاکٹر صاحب کے نام سفارشی رقعہ لکھ دیں۔ تا واقعی توجہ سے معائنہ اور علاج ہو۔ میں مخمصہ میں پڑ چکا تھا اور اسے سمجھا رہا تھا کہ بھائی یہ تو درست ہے کہ میرا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے مگر میرا تو فضل عمر ہسپتال میں اتفاقاً کسی بھی شعبہ میں نیچے سے اوپر تک کوئی واقف نہیں۔ تمہیں بھی نہ ڈاکٹر کا نام پتہ نہ اس شعبہ کا جہاں تم نے جانا ہے۔ میں کس کے نام لکھوں اور کیا لکھوں۔ وہاں علاج توجہ اور اخلاص سے ہونے کا تمہیں علم ہے ہی۔ تو جھجک کس بات کی۔ چلے جاؤ انشاءاللہ علاج توجہ سے ہو گا۔
اس کا اصرار تھا اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کروں۔ اس کی آنکھوں کی امید یاس میں بدلتی نظر آئی اور وہ سلام کر کے دروازہ کی طرف بڑھا۔ اچانک میرے دماغ میں ایک بجلی سی کوند گئی اور جیسے ایک کاغذ سا لہراتا نظر آیا۔ اوہ خدایا تو کیا اس لئے مجھے یہ پڑھنے کی تحریک ہوئی تھی۔ میں نے اسے واپس بلا بیٹھنے کے لئے کہا اور دکان کا رائٹنگ پیڈ سامنے رکھ لیا۔
میں نے ان دیکھے ان جانے ڈاکٹر کے نام یہ لکھتے کہ میں اور آپ دونوں ایک دوسرے کے لئے اجنبی ہیں مگر یہ مجبور مریض مصر ہے کہ میں سفارشی خط لکھ دوں کہ تعلق جماعت احمدیہ سے ہے۔ میں اسے انکار کر چکا تھا کہ اچانک میری نظروں کے سامنے چند روز قبل پڑھا گھر کی لائبریری میں پڑی انیس سو چودہ کی شائع شدہ کتاب عسل مصفؔی ’کا صفحہ گھوم گیا جس میں الحاج حکیم نورالدین بھیروی کے حصول علم کے لئے دربدر خاک چھانتے ملی نصیحت کا ذکر ہے۔ ( اب اصل الفاظ )
” رام پور کے مرد کامل سید امیر شاہ کی نصیحت
اگر آپ کے پاس کوئی شخص کسی غرض کے لئے آئے تو آپ بارگاہ ایزدی میں دعا کریں کہ الہی اسے میں نے نہیں بلایا۔ تو نے خود بھیجا ہے۔ جس کام کے لئے وہ آیا ہے اگر آپ کو منظور نہیں تو جس گناہ کے لئے میرے لئے یہ سامان ذلت ( یعنی کام نہ کر سکنا ) بھیجا گیا ہے، میں اس سے توبہ کرتا ہوں۔ اس دعا کے بعد اگر وہ اصرار کرے تو آپ دوبارہ دعا مانگ کر کچھ لکھ دیا کریں ”
میں نے خدا تعالی کے حضور دعا مانگتے ان فقرات کو، جن الفاظ میں یاد آئے، لکھتے ان سے درخواست کی کہ میری التجا کی لاج رکھیں اور خدائے برتر سے اس کی صحت کے لئے اور میری بریت کے لئے دعا مانگتے علاج فرمائیں۔
خط کھلے لفافہ میں ڈال کر اسے دے دیا اس نے جیب میں رکھ تو لیا مگر بے یقینی اور بے دلی اس کے چہرے سے مترشح تھی۔ اسے اپنی ٹیسٹوں کی رپورٹیں اور زیر استعمال دوائیں ساتھ لے جانے کی تلقین کی۔
دو تین ماہ گزر گئے۔ میرے ذہن سے بات نکل چکی تھی کہ اچانک ایک دن وہ پھر دکان میں داخل ہوا سیدھا میرے پاس آتے مجھ سے لپٹ گیا۔ وہ رو رہا تھا اور بتا رہا تھا کہ وہ مکمل صحت یاب ہو چکا تھا۔ وہ میرا شکرگزار تھا ڈاکٹر صاحب کے لئے دعائیں زبان پہ جاری۔ سکون سے بیٹھا تو پہلے معافی مانگی کہ اسے یقین تھا کہ میں نے اسے محض ٹرخا دیا ہے۔ تب اس نے کسی سے پڑھوا کر سنا اور اس کے تسلی دینے پر وہ فضل عمر ہسپتال جا پہنچا۔
آگے اس کا بیان کچھ یوں تھا۔ ”باری آنے پر میں ڈاکٹر کے سامنے پہنچا اور بغیر کچھ کہے خط پیش کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے خط پر سرسری نظر دوڑائی دراز میں رکھا پھر دوبارہ نکال کے پڑھا۔ کہنیاں میز پہ رکھ کر اور ہتھیلیوں پر ٹھوڑی رکھ سوچ میں پڑ گئے۔ پھر مجھے سائڈ والی کرسی پر بیٹھنے کا کہہ اور دوسرے مریض دیکھنا شروع کیے ۔ میرے لئے چائے اور بسکٹ وغیرہ آچکے تھے۔ فارغ ہو بہت شفقت سے معائنہ فرماتے رپورٹیں چیک کرتے تفصیل پوچھتے ہوئے بتایا کہ جو دوائیں میں استعمال کر رہا تھا وہ ہی درست ہیں۔ بس طریق استعمال اور اوقات استعمال کو تبدیل کرتے کچھ احتیاطیں بتاتے خدا تعالی سے صحت یابی کی دعا کرتے رہنے کی تلقین فرمائی۔ میں نے ہدایات پر پوری طرح عمل کیا اور الحمدللٰہ آج مکمل شفایاب ہوں“
روتے ہوئے کہنے لگا "آدھی شفا تو حسن سلوک سے مل گئی تھی” اس کی آنکھوں سے پھر آنسو جاری تھے اور میرا شکریہ کر رہا تھا اور میں اسے سمجھا رہا تھا کہ میرا کوئی کمال نہیں تمہاری تکلیف اور تڑپ اور تمہاری دہائیاں اور چیخیں رب نے سن لی تھیں اور یہ تمام سبب پیدا ہوئے تھے۔ اور یہ کہتے میری نظروں کے سامنے اوائل عمر سے دل پہ چھائے اور تجربہ میں آئے یہ فقرات گھوم رہے تھے۔
” ایک بچہ جب بھوک سے بیتاب ہو کر دودھ کے لئے چلؔاتا اور چیختا ہے تو ماں کے پستانوں میں دودھ جوش مار کر اتر آتا ہے۔ بچہ دعا کا نام بھی نہیں جانتا لیکن اس کی چیخیں دودھ کو کیوں کر کھینچ لاتی ہیں؟ تو ہماری چیخیں جب اللہ تعالی کے حضور ہوں، تو وہ کچھ کھینچ کر نہیں لا سکتیں؟ آتا ہے، سب کچھ آتا ہے۔ بس ان چیخوں میں وہ درد اور التجا ہو جو آسمان کے خدا تک پہنچ جائے، کہ وہ مادر مہربان سے بھی کہیں زیادہ اپنے بندے پہ مہربان ہے“
وہ جا چکا تھا اور اس کی صحت یابی پہ خدا تعالی کا شکر ادا کرتے مجھے وہ پاک ارشادات یاد آرہے تھے جن میں بادلوں کے بننے کا ذکر ہے۔ حکم کے مطابق جانے کا ذکر ہے اور اس پیاسی زمیں کی پیاس بجھانے کا ذکر ہے جس کی فریاد سنی گئی تھی۔

