لو میرج، ارینج میرج اور عورت کی خود مختاری


جب جب آپ کو یہ غلط فہمی ہونے لگے کہ ہمارا عوامی شعور بنیادی انسانی حقوق خاص طور سے کمزور طبقوں مثلاً عورت، بچے اور خواجہ سرا کے حوالے سے بہتر ہونے لگا ہے ملکی سطح پہ کوئی نہ کوئی ایسا واقع ہوجاتا ہے جو آپ کو دوبارہ حقیقت کی دنیا میں لاکھڑا کرتا ہے۔

کچھ ایسا ہی معاملہ دعا زہرہ کے حوالے سے سامنے آیا۔ دونوں ہی طرف کے حامیوں کے لیے صورت حال خوش گوار نہیں۔ تباہ ہوتے خاندانی نظام کی طرف سے فکر مند لوگ مزید فکر مند ہو گئے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اب تک کوئی ایسا کیس اتنا ہائی پروفائل ہوا ہی نہیں تھا جہاں ملک کی ایک بڑی تعداد کو پتا چل پاتا کہ پسند کی شادیوں میں عدالت کیس کو کیسے دیکھتی ہے۔ ان کے لیے یہ کامن سینس کی بات تھی کہ لڑکی نے کسی کو پسند کیا لیکن گھر والوں کی مرضی نہیں تھی اب شادی وہیں ہونی چاہیے جہاں والدین کی مرضی ہے۔

کیوں کہ خاندانی نظام کو مضبوط رکھنے کا اہم طریقہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اولاد خاص طور سے بیٹی کو دیکھ بھال کر ”خاندانی“ لوگوں میں بیاہا جائے۔ کئی گھرانوں میں بہو لانے کی حدود بھی سخت ہیں۔ اس خاندانی نظام کو مزید مضبوط رکھنے کا ایک طریقہ ہمارے یہاں خاندان کے اندر شادیوں کا رواج بھی ہے۔ جو خاندانی نظام مضبوط کرے نہ کرے جینیٹیکلی پاکستانی قوم کو بہت نقصان پہنچا رہا۔

دوسری طرف ہمیں لبرل طبقہ نظر آتا ہے جن میں اکثریت ان کی ہے جو نوے کی دہائی کی رومانوی فلموں والا نظریہ رکھتے ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے لڑکا لڑکی نے محبت کرلی اب وہ تمام دنیا سے جنگ پہ نکل کھڑے ہوں اور آخر فتح محبت کی ہوگی۔ اور سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔

ہمارے ملک میں جب نظریاتی اختلاف پہ بات آتی ہے تو وہ صرف نظریات تک نہیں رہتی وہ اکثر عقیدوں تک پہنچ جاتی ہے اور وہ عقیدے بھی ہر ممکن حد تک انتہاؤں کو چھو رہے ہوتے ہیں۔ یہاں ایک بڑا مسئلہ یہ آتا ہے کہ نظریات اور عقائد کی جنگ میں عوامل نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ نہ خاندانی نظام کے سپورٹر ان عوامل پہ نظر کرنے کے لیے تیار ہیں جن کی وجہ سے نوبت یہاں تک پہنچی۔ نہ لبرل طبقہ ان عوامل پہ نظر کرنے پہ تیار ہے جو شادی کے بعد آئیں گے۔

پہلے تو ہمیں ان عوامل پہ غور کرنا ہو گا جن کی وجہ سے بات یہاں تک پہنچتی ہے۔ بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ جب بات اس پیرائے کی سمت نہیں جاتی تو کیاصورت حال ہوتی ہے۔ یعنی یہ بات اب بڑے پیمانے پہ زیر بحث ہے کہ کیا عوامل رہے ہوں گے جنہوں نے دعا کو گھر سے نکلنے پہ مجبور کیا۔ کم عمری میں زیادہ ذمہ داری، تعلیم کے حصول کی کمی، والدین کی سختی وغیرہ

دعا کے حالیہ انٹرویو میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس کے دعوے کے مطابق اس کے والدین اس کا رشتہ طے کر چکے تھے اور اس کے پیچھے جائیداد کا کوئی مسئلہ تھا۔

جو کچھ دعا زہرہ کے کیس میں بتدریج سامنے آ رہا ہے اس میں سے کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ ہمارے دیہی علاقوں میں ہر دوسرے تیسرے دن ایسا کیس نکلتا ہے۔ اخبار میں خبر چھپتی ہے کہ فلاں گاؤں میں ایک گھر پہ چار آٹھ لوگوں حملہ کر کے گھر کی تیرہ چودہ سال کی بیٹی کو اغوا کر لیا پولیس نے کیس درج کرنے سے منع کر دیا کہا یہ جا رہا ہے کہ لڑکی اپنی پسند سے شادی کے لیے نکلی ہے وغیرہ وغیرہ۔ بازیاب ہونے کے بعد اکثر وہ لڑکی بیس بائیس سال کی نکلتی ہے۔ کچھ واقعی عمر سے چھوٹی ہوتی ہیں جنہیں دارالامان بھیج دیا جاتا ہے۔ لیکن وہ واقعی گھر کے حالات سے تنگ آ کر ہی نکلی ہوتی ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ جس کے لیے نکلی ہیں وہ واقعی کوئی ہیرو ہی ہو گا جو دنیا کے سرد و گرم سے اسے نکال لے جائے گا لیکن اس نے وعدے یہی کیے ہوتے ہیں۔

ہمارے یہاں بیٹیوں کی تربیت جس نہج پہ کی جاتی ہے ایسے میں کافی لڑکیاں اچھی خاصی بڑی عمر تک لوگوں کو پرکھنے اور فیصلہ سازی کے ہنر میں کافی حد تک کوری ہوتی ہیں اس کی توجیہ یہ پیش کی جاتی ہے کہ ان کی حفاظت کرنے کے لیے ان کے باپ بھائی موجود ہیں۔ بد قسمتی سے یہ حفاظت اس طرح کی جاتی ہے کہ ان لڑکیوں کو بہت سے بنیادی حقوق سے دور کر دیا جاتا ہے۔ تعلیم نہیں دلوائی جاتی، غذا آدھی دی جاتی ہے، کم عمری میں سخت گھریلو مشقت کرنی ہوتی ہے جس میں گھر سنبھالنا اور خود سے چھوٹے بہن بھائیوں کو بالکل ماں کی طرح سنبھالنا شامل ہے۔

یہ ذمہ داری وہ اکثر چار پانچ سال کی عمر سے نبھانا شروع کردیتی ہیں۔ اب حالات سمجھیے یہاں ہم اس ماں کی بات کر رہے ہیں جو خود بھی بمشکل سولہ سترہ سال کی ہے کیوں کہ اس کی شادی گھر والوں نے اس کی بلوغت میں داخل ہوتے ہی کردی۔ اور وہ شاید اپنی پہلی یا دوسری ماہواری کے فوراً بعد حاملہ ہو گئی۔ یہ بچی اب اگلے پانچ دس سال مسلسل پیدائش کے عمل سے گزرتی رہے گی۔ کم عمری کی شادی پے درپے حمل اور ذہنی ناپختگی اس لڑکی کو بری طرح جذباتی نفسیاتی و جسمانی طور پہ تباہ کر چکے ہوتے ہیں۔

وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی اولاد کی ذمہ داری گھر کی بڑی بیٹی پہ ڈال دیتی ہے۔ دوسری طرف باپ ہے، تعلیم کی کمی یہاں بھی ہے۔ یہ ظاہری طور پہ تو نکاح کے بندھن میں بندھ چکا ہے لیکن جذباتی طور پہ بیوی سے نہیں جڑ سکا۔ اسی لیے آپ کو ہر دوسرے دن یہ خبریں بھی سننے کو ملتی ہیں کہ نسوانی آواز کے دھوکے میں آ کر فلاں مرد کو اغوا برائے تاوان کر لیا گیا۔ ہمارے یہاں کے مرد شادی شدہ ہونے کے باوجود عورت سے رومانوی تعلق کے لیے شدید ترسے ہوئے ہیں کیوں کہ بیوی سے صرف جنسی تعلق نبھاتے ہیں۔ کئی اس لیے بھی تعلق نبھانے میں مسائل کا سامنا کرتے ہیں کیوں کہ بچپن سے ہی جنسی تشدد کا شکار رہے ہیں۔ یہ نسوانی آواز کے جال میں پھنس کر اغوا ہونے والی خبریں بھی اتنی ہی زیادہ ہیں جتنی لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے کی یا ان کا ریپ ہونے کی۔ مگر چوں کہ ہم مرد کو عورت سے زیادہ عقل مند سمجھتے ہیں اور اس کے دامن سے گھر کی عزت نہیں بندھی اس لیے ان کیسز پہ کسی کی قومی غیرت نہیں جاگتی۔

پھر اکثر کیسز میں باپ مزدور طبقے سے تعلق رکھتا ہے جس نے بہت کم عمری سے مزدوری کرنا اور لوگوں کی جھڑکیاں کھانا شروع کر دیا تھا۔ یہ ساری فرسٹریشن دونوں طرف سے اولاد پہ نکلتی ہے۔ اسی دوران گھر کے بچے ماں اور باپ کے درمیان کے نہ ہونے والے جذباتی تعلق کو بھی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کئی گھرانوں میں دیور بھابھی کی معصومانہ چھیڑ چھاڑ حقیقتاً بالکل معصومانہ نہیں ہوتی، نہ ہی بہنوئی کی سالی سے بے تکلفی عمومی نوعیت کی ہوتی ہے۔

یعنی معاشرتی سطح پہ جن اخلاقیات کا پرچار کیا جا رہا ہوتا ہے وہ بچوں کو عملی طور پہ گھر میں کبھی دیکھنے کا موقع نہیں ملتا۔ غیر ازدواجی جنسی تعلقات اور جنسی تشدد اس قدر گھٹا ملا ہوتا ہے کہ آپ الگ سے پہچان ہی نہیں پاتے کہ کہاں کون وکٹم ہے اور کہاں تعلق باہمی رضا مندی سے جاری ہے۔ ان جنسی رویوں کی لپیٹ میں پھر گھر کے بچے بھی آ جاتے ہیں۔ انہیں گھر کے ہی بڑے جواکثر مرد ہوتے ہیں لیکن عورتیں بھی ہو سکتی ہیں استعمال کرتے ہیں اور بات ڈھکی چھپی رہتی ہے، کھلتی تب ہے جب وہ لڑکی اپنی مرضی سے کسی تعلق کی طرف بڑھتی ہے اور اس تعلق میں گھر والوں کا مفاد نہیں ہوتا۔

ممکن ہے وہ یہ قدم شادی سے پہلے اٹھائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ گھر والوں کی طرف سے کئی دفعہ اس کی زبردستی شادی کروائی گئی ہو نکاح پہ نکاح کروایا گیا ہو اور پھر وہ اس چکر سے نکلنے کے لیے کسی کو پسند کرے۔ یہاں سے اگلے مرحلے کے عوامل پہ بات آتی ہے یعنی جسے پسند کیا ہے اس کو کس بنیاد پہ چنا گیا ہے۔ یہاں چوں کہ پہلی ترجیح گھر کے ماحول سے نکلنا ہے اور لڑکی نہ صرف فرسٹریٹڈ ہے بلکہ کم تعلیم یافتہ اور باہر کی دنیا سے نابلد بھی ہے۔

ساتھ ہی جس ماحول میں رہتی آئی ہے نوے سے پچانوے فیصد امکان ہے کہ ڈپریشن، کسی پرانے ذہنی صدمے یا شدید اسٹریس کی وجہ سے ہسٹیریا وغیرہ کی علامات میں سے کچھ علامات بھی رکھتی ہو۔ اس ذہنی کیفیت اور شعوری سطح کے ساتھ وہ کوئی لمبی چوڑی پلاننگ نہیں کرپاتی اسے جو تھوڑی بہت پیار بھری باتیں کر کے یہ یقین دلا دے کہ وہ اسے اس ماحول سے نکال لے گا وہ اس پہ یقین کر لیتی ہے۔ یہاں کافی حد تک چلائلڈ ابیوز کے عوامل لاگو ہوتے ہیں کیوں کہ اول تو اکثر یہ بچیاں ہی ہوتی ہیں۔

لیکن جب قانونی عمر تک پہنچ بھی جائیں تو بھی دنیا کے حوالے سے ان کا تجربہ اتنا کم ہوتا ہے کہ انہیں با آسانی بہلایا پھسلایا جاسکتا ہے۔ ڈپریشن ویسے ہی سب سے پہلے مسائل کو منطقی بنیادوں پہ پرکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ اور یہ کیفیت ماں باپ کی طرف بھی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے جو رشتہ طے کیا ہوتا ہے اس میں بھی کوئی خاص پلاننگ اس حوالے سے نہیں ہوتی کہ بیٹی کے شادی کے بعد کی زندگی خوش گوار ہوگی یا نہیں۔

ایک لگے بندھے کلیے کے تحت رشتے طے کردیے جاتے ہیں اور اس کے بعد لڑکا لڑکی کو قسمیں، ڈراوے وغیرہ دے کر اس رشتے کو نبھانے کا پابند کر دیا جاتا ہے۔ اکثر گھروں میں یہ ایک بیٹی لے کر اور ایک بیٹی دے کر یقینی بنایا جاتا ہے کہ کوئی ایک رشتہ اتنی آسانی سے نہ ٹوٹ سکے۔ یہ عوامل مستقل طور پہ ازدواجی رشتے کو نازک حالت میں رکھتے ہیں اور میاں بیوی میں سے جس کو جب موقع ملے وہ غیر ازدواجی تعلق کی طرف چلا جاتا ہے۔ مرد چوں کہ معاشی طور پہ مضبوط ہے اور ساتھ ہی اسے معاشرتی اور شرعی حوالے سے ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ خواتین سے تعلق کی اجازت ہے ایسے میں اسے گھر چھوڑنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

گھر کے گھٹن زدہ ماحول سے نکلنے کے لیے لڑکیاں اور عورتیں دوسرے مردوں کا سہارا لینے پہ خود کو اس لیے مجبور سمجھتی ہیں کیوں کہ انہیں بچپن سے یہی سکھایا گیا ہوتا ہے کہ معاشرے میں ان کی حفاظت ایک مرد ہی کر سکتا ہے۔ معاشی معاملات سنبھالنے کے لیے بھی انہیں کسی مرد کے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے۔ دارالامان میں میری ملاقات ایسی کئی لڑکیوں سے ہوئی جو اکیلی ہی گھر سے نکل کر آئی تھیں۔ لیکن جب دارلامان سے بھی نکلنے کا کوئی راستہ نہیں مل سکا تو مجبوراً کسی مرد کا سہارا لیا۔

یہ الگ بات کہ اس کے الگ نتائج نکلتے ہیں، کبھی انہیں واپس دارلامان آنا پڑتا ہے کیوں کہ جس سے شادی کی ہوتی ہے وہ بھی مار پیٹ کے گھر سے نکال دیتا ہے، کبھی گھر والے قتل کے لیے ڈرانے دھمکانے لگتے ہیں، کبھی لڑکی خود ہی مطمئن نہیں ہوپاتی، کبھی جس سے شادی کے لیے نکلی ہوتی ہیں وہ کسی کو آگے بیچ دیتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ہے کہ سارے کیسز ہی خوفناک انجام تک جائیں کئی جگہ لڑکیاں پسند کی شادی کے لیے نکلتی ہیں اور لڑکا لڑکی اس شادی کو نبھاتے بھی ہیں۔

اب ہم آتے ہیں اس صورت حال کی طرف جب لڑکی گھر سے نہیں نکلی۔ شہروں میں اکثر ایسا دیکھنے میں کم آیا ہے اسی لیے دعا کا کیس لوگوں کو انوکھا لگ رہا ہے۔ کیوں کہ شہروں میں لڑکیاں نسبتاً تعلیم یافتہ ہوتی ہیں، متوسط طبقے کے گھرانوں میں اخلاقی حدود زیادہ سخت ہوتی ہیں، وہاں اکثر غیر ازدواجی تعلقات ہوں بھی تو بہت ڈھکے چھپے ہوتے ہیں، گھر والوں سے شادی کی بات کی جائے تو یا تو گھر والے تھوڑے بہت جھگڑے کے بعد شادی کروا ہی دیتے ہیں یا لڑکی کو قسمیں یا دھمکیاں دے کر ارینج میرج پہ راضی کر لیتے ہیں۔

شہروں میں ایک اور مسئلہ شادی کی ایک مخصوص عمر گزرجانے کے بعد تک لڑکی کا غیر شادی شدہ ہونے کا بھی ہے۔ شہروں میں پسند کی شادیوں میں آپ کو دو اہم وجوہات نظر آئیں گی۔ غریب گھرانے کی لڑکی کا نسبتاً مضبوط معاشی حالت رکھنے والے لڑکے یا پختہ عمر مرد کی طرف مائل ہونا یا بڑی عمر کی لڑکی کا کسی کی طرف مائل ہونا دونوں طرح کی پسند کی شادیوں میں محبت سب سے غیر اہم عنصر بن کے رہ جاتی ہے کیوں کہ دونوں صورتوں میں ترجیحات الگ ہیں۔ کم عمر لڑکی کو سہولیات چاہئیں، پختہ عمر لڑکی کو شادی شدہ کا لیبل چاہیے کیوں کہ وہ ہر چلتے پھرتے کے سوال و جواب سے صرف اکتائی نہیں ہے بلکہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو چکی ہے۔

شادی والدین کی پسند سے ہو یا اپنی پسند سے اگر میاں بیوی کے درمیان مثبت جذباتی تعلق نہ بن سکے، آپس میں بات چیت ہموار نہ ہو جو کہ ہمارے یہاں اکثر کیسز میں ہوتا ہے تو شادی بھلے اپنی پسند سے کی گئی ہو یا والدین کی پسند سے بالآخر جلد ہی جھگڑوں تک پہنچ جاتی ہے۔ اسی لیے ہمارے یہاں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ شادی جیسے بھی ہو بندہ آخر میں پچھتاتا ہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہمارے ساری توجہ صرف شادی کی تقریب کے اردگرد رہتی ہے اس کے بعد تعلق کو کیسے نبھانا ہے اس کے بارے میں کبھی بات نہیں ہوتی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 115 posts and counting.See all posts by absar-fatima

One thought on “لو میرج، ارینج میرج اور عورت کی خود مختاری

  • 16/06/2022 at 2:02 شام
    Permalink

    بہت خوبصورت و بیش قیمت تحریر۔ بہت شکریہ

Comments are closed.