خواتین کے لیے حفظان صحت کی سہولتوں تک رسائی


معاشرے میں صنفی مساوات کے حوالے سے شعور میں بہتری آنا ایک خوش آئند امر ہے تاہم اب بھی ایسے کئی مسائل اور چیلنج موجود ہیں جن پر وسیع سطح پر گفتگو کی ضرورت ہے تاکہ خواتین اور لڑکیوں کو ان کی بہترین استعداد کے مطابق آگے بڑھنے میں مدد دی جا سکے۔ ماہواری بھی ایک ایسا معاملہ ہے جس کے متعلق شعور عام نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہ اس معاملے پر معاشرے میں طویل مدتی مکالمے کی ضرورت ہے اور اس میں مردوں کو بھی شامل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب مرد/ لڑکے اس معاملے پر حساس ہوں گے، تو ماہواری کے مسئلے سے متعلق مسائل کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں گے اور معاشرے میں خواتین کو ان مسائل کے حل میں رکاوٹ بننے کی بجائے ان کے حل میں معاون ثابت ہوں گے۔

اسی طرح ماہواری کے دوران حفظان صحت کے انتظام سے متعلق ایکشن پلان کو حکومت کی جانب سے ترجیحی بنیادوں پر مناسب انتظامی اقدامات کے ساتھ ساتھ بجٹ مختص کرنے کے حوالے سے پیشرفت ضروری ہے۔ ایم ایچ ایم کا کامیاب نفاذ تعلیم، صحت، سماجی بہبود، دیہی ترقی اور دیگر بڑے محکموں کے کردار پر بھی منحصر ہے۔ اس کے ساتھ ہی میڈیا اور سول سوسائٹی سماجی اصولوں کو متاثر کرنے اور امتیازی سلوک سے لڑنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اسی طرح عام دنوں کے علاوہ ہر لڑکی اور عورت کو آفات کے دوران بھی حیض کے حوالے سے مناسب معلومات اور مدد فراہم کی جانی چاہیے۔ ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ آفات کے دوران خواتین اور لڑکیاں ہمیشہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں سر فہرست ہوتی ہیں اور ایم ایچ ایم کی پہلے سے ناکافی سہولتیں ناپید ہو جاتی ہیں۔

پاکستان اور خصوصاً صوبہ بلوچستان میں خواتین اور لڑکیوں کو درپیش ان چیلنجز کے حوالے سے شعور کی بیداری کی ایک کاوش کے طور پر ’گلوبل ایم ایچ ڈے 2022 کے حوالے سے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم تقریب کا اہتمام بلوچستان رورل سپورٹ پروگرام (بی آر ایس پی) نے ایم ایچ ایم ورکنگ گروپ بلوچستان اور جی آئی زی، یونیسف، مرسی کور، قطر چیرٹی سمیت ورکنگ گروپ میں شامل دوسرے اداروں کیا اشتراک سے کیا تھا۔ گلوبل ایم ایچ ڈے ہر سال 28 مئی کو منایا جاتا ہے اور اس کا بنیادی مقصد ماہواری کے بارے میں دنیا بھر کی خواتین کو درپیش چیلنجز، متعلقہ پالیسیوں اور مسائل کے ممکنہ حل کے لیے آگاہی کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ پالیسیوں میں بہتری اور ہر سطح پر مثبت اقدامات کے لیے آواز اٹھانا ہے۔

ایم ایچ ڈے کی تقریب کے دوران مقررین نے ان کاوشوں کے جاری رہنے پر زور دیا جن کا آغاز ایم ایچ ایم ورکنگ گروپ کوئٹہ نے کیا اور معاشرے میں اس اہم گفتگو کو عام کرنے کے لیے قابل قدر کاوشیں کیں۔ مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں ماہواری اور اس سے جڑے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے گزشتہ چند برسوں کے دوران قابل ذکر پیش رفت ہوئی ہے تاہم ان کاوشوں کو مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح لڑکیوں کے لیے با سہولت سکولوں کا قیام یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا کیونکہ سکولوں میں نا صرف ایم ایچ کے حوالے شعور عام کرنے کی ضرورت ہے بلکہ سکولوں کو لڑکیوں کی ایم ایچ ایم کے ضمن میں سہولتوں سے بھی مزین کرنے کی ضرورت ہے۔

تقریب کے دوران شرکاء جن کا تعلق زندگی کے مختلف شعبوں سے تھا کو بتایا گیا کہ ایم ایچ ایم پوری دنیا میں خواتین اور لڑکیوں کو درپیش اہم مسئلہ ہے۔ اس پہلو کو اجاگر کرنے کے لیے کہ جنوبی ایشیاء کے ایک اور ملک نیپال میں اس چیلنج کو کس طرح دیکھا جا رہا ہے، تقریب کے شرکاء کو ایک مختصر دستاویزی فلم دکھانے کا اہتمام کیا گیا۔ دستاویزی فلم میں واضح کیا گیا کہ معاشی طور پر کمزور طبقات میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے نا صرف پر مشقت کام بڑھ جاتے ہیں بلکہ ان کی حفظان صحت کے حوالے سے ضروریات بھی نظر انداز ہو جاتی ہیں۔ فلم میں فرسودہ رسوم و رواج کا بھی ذکر کیا گیا کہ کس طرح حیض کو عورتوں کے عیب کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

جہاں تک صوبہ بلوچستان میں ایم ایچ ایم کے حوالے سے کاوشوں کا تعلق ہے، اس سفر کا با قاعدہ آغاز جنوری 2021 میں ایم ایچ ایم ورکنگ گروپ کی بنیاد رکھتے ہوئے کیا۔ ورکنگ گروپ کو اپنا کام موثر انداز سے آگے بڑھانے کے لیے ایک سیکرٹریٹ کی اشد ضرورت تھی۔ یہ وہ موقع تھا جب جی آئی زی نے آگے بڑھ ہماری غیر معمولی معاونت کی جس کی بدولت ورکنگ گروپ کے لیے ایم ایچ ایم کے صوبائی سیکرٹریٹ کی بنیاد رکھی گئی۔ یقیناً صوبے میں ایم ایچ ایم کے بارے میں شعور اور آگاہی عام کرنے کے حوالے سے یہ ایک اہم سنگ میل تھا۔

Facebook Comments HS