وہ تاریخ کے اوراق تمہیں یاد کرتے ہیں


جب انسان تاریخ کے چند اوراق پڑھ لیتا ہے۔ تو میرے نزدیک کسی علم و عاقل شخص کے لیے کافی ہوتا ہے۔ کیو نہ اسے تاریخ کے آئینہ میں دیکھنے کے لیے ایک راستہ مل جاتا ہے۔ اسے کچھ نہ کچھ معلومات ضرور ملتی ہیں کہ گزرا ہوا زمانہ کیسا تھا اور اس دور میں کیا کیا ہوا۔ کیسے لوگ تھے رسم و رواج کیسے تھے۔ اسی بنیاد پر میرے نزدیک تو حق و باطل میں فرق کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ بے شک یہ ایک مسلسل تحقیقی عمل ہے اور دوسری بات ایک لمبا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔

مگر جب کسی بھی چیز پر تحقیق شروع جائے تو نتیجہ ضرور اخذ کر لیا جاتا ہے۔ اسی لیے میں بھی کچھ ایسی بات کرنا چاہتا ہوں تاریک اور تاریخ سے وابستہ لوگ کبھی بھی اپنے فرائض میں کوتاہی نہیں کر سکتے ہیں۔ اور اپنے کام کو اپنے لیے عبادت سے کم نہیں سمجھتے ہیں بے شک یہ ایک جان لیوا کام ہے۔ اور معاشرے میں رہتے ہوئے سچ کو بتانا سب سے پاکیزہ اور مقدس عمل ہے۔ تب ہی تحقیق جسے ہم انگریزی میں ریسرچ کہتے ہیں مانی جائے گی۔

میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا جس میں مغربی دنیا سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے مفکرین تھے۔ پہلے تو مجھے عجیب سا محسوس ہوا۔ جیسے جیسے میں مطالعہ کرتا گیا ساری چھپی باتیں خود پردہ اٹھاتی گی۔ اور اسی وجہ سے میرا پہلا موضوع عظیم الشان مفکر سقراط بن گیا۔ جب میں نے سقراط کی حیات مبارکہ مطالعہ کرنا شروع کیا تو میرے لیے بہت مشکل تھا۔ کیو کہ کافی پہلو تھے جو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ اور ہر موضوع دوسرے سے پیچیدہ تھا۔

یہاں تک تو لفظ سیاسیات بھی میرے لیے نیا تھا۔ اور جس معاشرے میں میں رہتا ہوں وہاں کیسی سیاست ہے جو ہوتی ہے۔ میں مزید آ گے بڑا اور سقراط کو ہی اپنا موضوع بنایا اور اسی کی دانشمندی اور عقلیت پسندانہ نظریات کے بارے جانا شروع کر دیا۔ بے شک تاریخ کافی تلخیاں بھی رکھتی ہے۔ مگر اسے ایک جگہ رک کر آ گے نکلنے کی کوشش کی۔ جب ان کی ذات کے بارے جانا تو معلوم ہوا کہ آپ لوگوں کو بلا معاوضہ تعلیم و تربیت دیتے آپ لوگوں سے کھڑے کھڑے سوال جواب شروع کر دیتے تھے۔

یہ ان کی کمال عادت تھی جس کی وجہ سے نوجوان ان کی طرف کھینچے چلے آتے تھے۔ کیونکہ سقراط اخلاقیات کا درس دیتا اور وہ لوگوں کو اپنے پیٹ کے لیے روزی روٹی کمانے کا طریقہ بتاتا۔ آپ نیکی کو علم سے تشبیہ دیتے تھے۔ اور لوگوں کی ترقی کو ریاست کی ترقی سمجھتا تھام مگر معاشرے والے ہمیشہ آپ کی ذات کے بارے میں طرح طرح کے پروپیگنڈا کرتے تھے اور ان کی ہستی پر الزام تراشی لگاتے کہ سقراط ریاست کے نوجوانوں کو بغاوت کی تعلیم دیتا ہے۔

اور اسی بنیاد پر اس وقت کی عدالت میں سقراط پر بغاوت کا مقدمہ چلایا۔ کیو کہ سقراط صدیوں سے قائم جاگیرداروں کے قائم کردہ نظام کے خلاف تھا۔ کیو کہ یہ وہ سارے غلط قوانین تھے جو کسی بھی انسان کی بنیادی آ زادی کو مفلوج کرتے تھے۔ اسی بنیاد پر جب اراکین عدالت نے سقراط کے خلاف بغاوت کا مقدمہ کا جھوٹا فیصلہ سنایا جس میں سقراط کو زہر کا پیالہ پینے کی سزا سنائی گئی۔ کافی شاگردوں اور دوستوں نے سقراط کی خدمت میں عرض کی کہ آپ یہاں سے کہی دور چلے جائے تاکہ سزا سے بچ سکے۔

مگر اس عظیم ہستی نے ایسا عمل کرنے سے انکار کر دیا اور بڑی خوشی سے حق اور سچ کی جیت کے لیے زہر کا پیالہ پی لیا اور موت کو اپنے گلے سے لگا لیا۔ تاریخ شاید ان کو آ زادی کے فکر کا پہلا مفکر شہید سمجھتی ہے۔ سقراط نے حق کی سربلندی کے لیے موت کو قبول کیا اور تڑپ تڑپ کر موت کی نیند سو گیا۔ میں اس عظیم الشان ہستی کی ذات بارے اگر لکھتا رہوں تو میرا ذہن کام کرنا چھوڑ دیے۔ میں نے عظیم ہستی کی ذات پر انتہائی آ سان اور سادہ طریقہ سے نظر ڈالنے کی کوشش کی تاکہ میں اپنے موضوع کی طرف واپس بھی جا سکوں۔

میری بات کا مقصد فقط سیاست ہے یعنی لفظ سیاسیات اور اس سے مناسبت رکھنے والے لفظ سیاست کا مقصد کیا ہے۔ تاکہ آج کے دور کے فاسق، مکرو، لالچی، انا پرست، خود غرض اور جہالت سے بھرے لوگوں کی پہچان ہو سکے۔ یعنی سیاسی جماعتوں میں ہونے والی بدماشیاں دیکھ سکیں۔ جیسے پی ٹی آئی کے مطابق نون والے پٹواری ہیں اور نون لیگ کے مطابق پی ٹی آئی والے یوتھیا ہیں۔ بنیادی تو یہ دو الفاظ ہی تھے جو لوگوں میں نفرت اور حقارت کو فروغ دینے میں کامیاب ہوئے۔

چلیں مان لیتے ہیں ہم عوام نا اہل ہیں۔ اور ان میں شعور کی کمی ہے۔ مگر ان شعور رکھنے والے ہمارے رہنماؤں کا کیا جو اپنے آپ کو سیاستدان کہتے ہیں اور ہماری عوام کا خود کو رہبر سمجھتے ہیں۔ اسی لیے یہ عوام کی جان مال عزت و آبرو ادب و احترام کا جنازہ نکال دیتے ہیں۔ اگر ہم کسی بھی سیاسی پارٹی کی بات کریں تو میرے خیال میں ہمیں سنگ سار کر دیا جائے گا۔ چاہیے وہ پی ٹی آئی، نون لیگ، ایم کیو ایم ہو یا کوئی اور ہو۔

اسی لیے میں کہتا ہو یہ لوگ سیاست مقدس پیشہ پر ایک دھبہ ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ سقراط نے زہر کس بات پر پیا تھا۔ بس ان کو تو اپنی ذات کے مفادات ہی سب کچھ لگتے ہیں۔ جہاں تک میرا خیال ہے ہمارا کوئی درندہ دان جسے ہم سیاست دان کہتے ہیں وہ لفظ سیاسیات کے مفہوم سے بھی واقف نہیں ہو گا۔ اسی لیے میں کہتا ہو ان سب پر لفظ سیاست دان استعمال کرنے پر پابندی لگا دینی چاہیے۔ تاکہ اس مقدس پیشہ کی بے حرمتی نہ ہو پائے۔ مجھے تو یہ حیرانی ہوتی ہے کہ کسی نے تاریخ کی کتابوں کو کھولا بھی نہیں ہو گا کیا انہوں نے متعدد مفکرین کی تصانیف کا مطالعہ نہیں کیا۔

اگر یہ کر پاتے تو ان کو اندازہ ہوتا کہ ایک سیاسی رہنما کے کیا کیا فرائض ہیں اور کیا کیا اس کے کام ہیں۔ مگر ان سیاسی درندوں کو کیا پتا کہ حق و سچ پر مفکرین نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ تب ہم بھی ایک اچھے پاکستانی ہونے کے ناتے ایک اچھے معاشرے کی پہچان بن سکے اور اپنے ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے دن رات محنت کر سکے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments