چائے وائے ہائے ہائے


چائے وہ مشروب جو غریب کا کھاجا اور امیر کا نخرہ ہے، کبھی بیڈ ٹی کبھی گرین ٹی کبھی مسالحہ ٹی۔ سنا ہے چائے کی ایک پیالی پر انقلاب برپا ہو جاتے ہیں، چائے نہ ہوئی موئی جرنیل ہو گئی۔ یہ چائے ہی ہے جو بڑے شہروں میں رہنے والوں کی رگوں میں خون کی جگہ دوڑ رہی ہے جن کی محنت سے ملک کی معیشت چل رہی ہے۔ شہروں میں رہنے والے عجیب ہیں کولھو کے بیل کی طرح کام میں جتے ہوئے ہیں اور چائے پاپے پر جی رہے ہیں، انھیں تو پراٹھے بنانے کی فرصت بھی نہیں۔ انھیں تو زیادہ کام میں تھکن اتارنے کو چائے، کام نہ ہو تو ٹائم پاس کرنے کے لیے چائے، امتحانات میں نیند بھگانے کے لیے چائے، بیماری زکام کھانسی میں کبھی دار چینی، کبھی ادرک یا جوشاندہ چائے، بقول شاعر

دنیا کی الجھنوں سے دور رہتے ہیں
چائے پیتے ہیں سکوں سے رہتے ہیں

گاؤں کی تو بات ہی اور ہے ان کی چائے تو دودھ پتی، قوت سے بھرپور، صبح سویرے دیسی گھی کے پراٹھے اور دودھ پتی کا ناشتہ تازہ دم کر دیتا ہے۔ بچوں کے رشتے چائے کی پیالی پر طے ہو جاتے ہیں، بڑی بڑی بزنس میٹنگز میں اہم فیصلے چائے پیتے ہوئے آسانی سے کیے جاتے ہیں۔ عاشق مزاجوں کی شان نرالی ہے محبوب کی یاد میں چائے کے کپ چلتے ہیں

تم میری چائے کا وہ آخری گھونٹ ہو
جو کسی کے لاکھ مانگنے پر بھی نا دوں
کسی کا خیال یوں بکھرتا ہے
ہاتھ میں چائے اور وہ پہلو میں
ہو گئی سرد کھولتی چائے

ہمیں یاد ہے ابھی پاکستان بنے پچیس سال بھی نا ہوئے تھے کہ ہمارا ایک بازو مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا، وہاں چائے وافر مقدار میں کاشت کی جاتی تھی مغربی پاکستان میں ساری چائے وہیں سے آتی تھی، اکثر فلموں میں گانے چائے کے باغات میں فلم بند کیے جاتے تھے۔ تہ در تہ پہاڑوں پر خوبصورت سرسبز چائے کے باغات، ان میں کام کرتی پیٹھ پر ٹوکری باندھے ہزاروں خواتین چائے کی پتیاں توڑتی ایک الگ ہی نظارہ پیش کرتیں۔ جب ہم دو لخت ہوئے اس وقت بھی یہی مشورہ دیا گیا کہ چائے پینا بند کردو یا کم کردو کیونکہ اب چائے پر زر مبادلہ خرچ ہو گا، جذبۂ حب الوطنی میں کئی لوگوں نے چائے کم کردی کہیں چوک میں پیالیاں توڑ کر عہد کیا گیا کہ اب چائے بند۔

ہم نے اتنے بڑے سانحے کے بعد بھی کچھ نہیں سیکھا اور ملک میں معیشت کی بہتری یا زراعت کو فروغ دینے کے بجائے سادہ بندر بانٹ میں لگے رہے۔ جمہوریت کا پھل کھانے کے بعد دور زیاں میں تو معاشرہ کے ساتھ معاشرت بھی تبدیل ہو گئی، آہستہ آہستہ یہ زہر ہمیں ختم کرنے لگا۔ اس کے بعد جمہوریت کے نام پر ملک کو نوچ کھسوٹ کر برباد کرنے میں سب نے اپنا حصہ ڈالا، غریب غریب تر اور اشرافیہ اپنی تجوریاں بھر کر مضبوط ہوتی گئی۔ آج پچھتر سال بعد بھی ہم وہیں زیرو پوائنٹ پر کھڑے ہیں، پھر ایک بار قوم سے قربانی کے طلبگار۔

غریب کے منہ سے چائے کا کپ بھی چھین لینا چاہتے ہیں کیونکہ غریب تو ہوا اور پانی پہ گزارہ کر لے گا لیکن اشرافیہ کا کیا ہو گا۔ کیا اشرافیہ کے اللے تللے ختم کرنے کی ہمت ہے کسی میں، کیا کوئی سرمایہ دار اتنا غیرت مند ہے کہ اپنی دولت ملکی قرضے اتارنے کے لیے دان کردے۔ ہمارے سیاستدانوں، سابق جرنیلوں، اور کئی اہم لوگوں جن کی دولت ملک سے باہر سوئس بنکوں میں پڑی سڑ رہی ہے وہ اس خزانے کو ملکی مفاد میں پاکستان پر نہیں لگا سکتے۔ کیا کوئی ارب پتی بلڈر پاکستان کے لیے کچھ کرنے کی سکت رکھتا ہے، ویسے بھی یہ سب کمایا تو پاکستان سے ہی ہے پاکستان رہے گا تو یہ بھی رہیں گے۔

میرے پیارے ہم وطنو اب بھی آپ کو ہی قربانی دینی ہے اپنے اپنے چائے کے کپ توڑ کر، پانی پہ گزارہ کر کے کام پر لگ جائیے کیونکہ موجودہ نوزائیدہ حکومت کے وزیر برائے ترقی، منصوبہ بندی اور خصوصی اقدامات نے موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں عوام سے اپیل کی ہے کہ قوم چائے کے ایک یا دو کپ کم کردے کیونکہ جو چائے ہم درآمد کرتے ہیں وہ بھی ادھار لے کر کرتے ہیں۔ کتنی بری بات ہے بے وقوف عوام سمجھتے ہی نہیں چائے پینے پہ مصر ہیں، اور بھی چیزیں ہیں پینے کے لیے خون جگر پئیں، غم دوراں سے پیٹ بھریں، سیانے کہتے ہیں دھوکا اور چائے دو چیزیں ہیں جو آنکھیں کھول دیتی ہیں۔

وقت قلیل، باتیں طویل، شکوے ہزار
پر جانے دیجئے چائے پی جیئے

Facebook Comments HS