خودکشی: ذہنی مرض یا جرم
صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال سے پروین (فرضی نام) گلگت بلتستان کے ضلع غذر سے نازیہ (فرضی نام) گلگت شہر سے عمران (فرضی نام) اور ہنزہ سے آفتاب (فرضی نام) نے ایک مہینے کے اندر خودکشی کی۔ ان جوان سال بیٹا اور بیٹیوں کے جانے سے ان کے خاندان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ ان میں سے دو نے دریا میں چھلانگ لگا دی تھی اور دو نے گلے میں پھندا ڈال کر زندگی کا خاتمہ کیا۔ پھر یوں ہوا کہ ان چاروں کی لاش برآمد ہوئی، اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوایا گیا، ڈاکٹروں نے لکھ کر دیا کہ ان کی موت پانی میں ڈوبنے سے اور گلے میں پھندا کے دباؤ سے ہوئیں۔
پھر خاندان اور گاؤں کے کچھ لوگوں نے پولیس سے درخواست کی کہ لاش ان کے حوالے کی جائے۔ کیوں کہ ان کے خاندان، گاؤں اور علاقے کی عزت اور بدنامی کا مسئلہ ہے اور ہاں پولیس کو قانونی طور پر قائل کرنے کے لئے یہ جھوٹی بات بتا دی کہ خودکشی کرنے والا ذہنی طور پر ٹھیک نہیں تھا۔ یہ تھے وہ قصے جو آج تک خود کشی کے کیسوں میں چترال اور گلگت بلتستان میں ہوتے رہے ہیں۔
خودکشی کے عمل میں انسان اپنی جان لینے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر معاشرہ اس پر مختلف رد عمل کا اظہار کرتا ہے کہیں اسے مذہبی، سماجی اور عقلی طور پر غلط عمل سمجھا جاتا ہے۔ اور کہیں اسے حالات اور واقعات کے لحاظ سے درست بھی قرار دیا جاتا ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق چترال میں پچھلے دس سالوں میں خودکشی کے 175 واقعات درج کیے گئے۔ جن میں سے 106 خواتین شامل تھیں۔ اور گلگت بلتستان میں ہونے والے واقعے میں انڈیپنڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق 2018 سے 2020 تک 70 واقعات رپورٹ کیے گئے ہے۔
خودکشی کے کیسوں میں اگر ہم پولیس کے نقطہ نظر کو جاننے کی کوشش کریں تو ان کے مطابق جب پولیس مکمل چھان بین کرنے کی کوشش کرے تو انھیں گاؤں یا کمیونٹی کی طرف سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے اور بعض دفعہ بات احتجاج تک پہنچتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کی پولیس کو اس کیس میں گواہ اور شواہد نہیں ملتے اور کیس کمزور پڑتا ہے۔
پھر ہم نے گاؤں یا علاقے کے ذمہ داران سے اس حوالے سے جاننے کی کوشش کی تو ان کے مطابق گاؤں یا علاقے کے لوگ ایک دوسرے کو جانتے ہے۔ اس لئے زیادہ تر خودکشی کے کیسوں میں قانونی کارروائی یا بدنامی کے خوف سے وہ سچ بتانے سے ڈرتے ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ہر چالیس سیکنڈ میں ایک شخص خودکشی کرتا ہے۔ جس میں پندرہ سے انتیس سال کی عمر کے بچوں میں موت کی دوسری اہم وجہ ہے۔ اور ان میں سے 79 فیصد واقعات غریب ممالک سے تعلق رکھنے والے خاندانوں میں پیش آتے ہے۔
پاکستان اور دنیا بھر کی ماہرین نفسیات کے مطابق معاشرہ تیزی سے بدل رہی ہے۔ اور اس تیزی سے بدلتی دنیا میں ٹیکنالوجی نے انسانی ضروریات کی زیادہ تر چیزوں کو ریپلیس کیا ہے۔ جس سے نوجوانوں میں ذہنی دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت میں کمی اور دباؤ برداشت نہ کرنا اس نوعیت کے خیالات کا جنم لینا ہے جس میں خودکشی سرفہرست ہے۔
ایکسپریس نیوز کے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خودکشی کا سب سے زیادہ رجحان گلگت بلتستان میں ضلع ہنزہ اور ضلع غذر میں ہے۔ میرا نہیں خیال کہ ہنزہ اور غذر میں یہ رجحان سب سے زیادہ ہے۔ پورے پاکستان میں چترال کے علاوہ ایسے دوسرے ضلعے یا صوبہ ہوں گے جہاں خودکشیاں زیادہ ہوتی ہوں گی مگر بدنامی کی خاطر رپورٹ نہیں کرتے۔
گلگت بلتستان میں خودکشی کے واقعات کو جانچنے کی کوشش کریں تو ہمیں اس کے دو پہلو نظر آتے ہیں۔ پہلا عدم برداشت اور دوسرا ذہنی بیماری۔ عدم برداشت کی وجہ معاشرے میں آپس کی تعلقات میں ناچاقی، رشتوں میں تنازعات، گھریلو معاملات میں نا اتفاقی، افسردگی، کم اعتمادی، ظلم و جبر، بے جا تنقید، مایوسی، غصہ، جبری شادی، غربت و افلاس، بے روزگاری، محتاجی، مالی تنگی، قرضوں کا بوجھ، ذہنی و جسمانی تشدد اور تیزی سے بدلتا معاشرہ شامل ہے۔
دوسری وجہ یعنی ذہنی بیماری، کو سمجھنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ جس طرح سے انسانی جسم میں ہر اعضا کی مختلف بیماریاں ہیں۔ ذہنی بیماری بھی اسی طرح ایک قسم ہے۔ اور قابل اعلاج ہے۔ ؟
جس طرح جسمانی صحت کے لئے سہولیات موجود ہیں۔ اسی طرح اب وقت کی ضرورت ہے کہ ذہنی صحت کے لئے بھی کام شروع کرے اور ذہنی بیماریوں سے متعلق لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ماہر نفسیات سے ملنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ ذہنی بیماری کو تسلیم کر کے علاج کو ممکن بنایا جا ئے۔
پاکستان کے دوسرے علاقوں کی بات کریں تو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی رپورٹ کے مطابق وہاں پر روزانہ خودکشی کے اوسطاً پانچ واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس سنگین مسئلے کو روکنا صرف حکومت یا ایک ادارے کا کام نہیں۔ بلکہ اس میں معاشرے کے تمام سٹیک ہولڈرز مل کر کام کریں۔
حکومت گلگت بلتستان ہر ضلعے میں کم از کم ایک ماہر نفسیات کی تقرری کو یقینی بنائے اور ساتھ ساتھ ہر گاؤں میں ذہنی صحت سے منسوب معاشرتی بدنامی کے ڈر اور خوف کو مٹانے کے لئے آگاہی مہم چلائے اور ساتھ ساتھ اس مرض میں مبتلا افراد کی امداد کو بھی یقینی بنائے۔
گلگت بلتستان میں بڑھتی ہوئی خودکشی کے واقعات سے متعلق ابھی تک کوئی ریسرچ نہیں ہوسکی لہذا کسی ایسے ادارے جو مینٹل ہیلتھ سے متعلق عبور رکھتا ہو۔ سے ایک جامع تحقیق کرانے کی اشد ضرورت ہے۔ جس سے ان واقعات میں کمی لانے پر کام کیا جا سکے اور ساتھ ساتھ خودکشی سے متعلق گلگت بلتستان کی حکومت ایک موثر تفتیشی نظام کے ساتھ قانون سازی کرے۔ تا کہ قانون کے مطابق پولیس اپنی انویسٹگیشن پوری کرے۔ اور ان عوامل اور محرکات کا پتہ چل سکے جس کی وجہ سے خودکشی ہوئی۔ اسی عوامل اور محرکات کے ذریعے آنے والے وقت میں خودکشی پر قابو پایا جاسکیں۔ تاکہ خاص کر خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کر کے خودکشی کے نام پر دفن کرنا بند ہوں۔
آج تک گلگت بلتستان اور چترال میں جتنے بھی خودکشی کے واقعات ہوئے ہیں۔ ان کے خاندان کے لئے یہ دردناک موت کو بھلانا ممکن نہیں۔ وہ آج بھی یہ جاننے کی کوشش میں ہیں کہ ان کے بچے اتنے بڑے اقدام پر کیوں مجبور ہوئے۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق 2015 میں خودکشی کے ایک ہزار نو سو واقعات رپورٹ کیے گئے۔ اور دو سالوں میں یہ تعداد بڑھ کر تین ہزار پانچ سو تک جا پہنچی۔ اور تقریباً 90 فیصد واقعات ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کے ہیں۔ ہر خودکشی کی الگ الگ وجوہات ہوتی ہیں۔ لہذا ہر واقعے کو خودکشی قرار دینا ہر گز درست نہیں۔
خودکشی کو ختم کرنا ممکن نہیں اور آسان بھی نہیں اگر ایسا ہوتا تو ترقی یافتہ ممالک کب کے کر چکے ہوتے۔ اسی لئے جن کو آپ جانتے ہیں اور پیار کرتے ہیں۔ ان کا خیال رکھیں۔ اگر ان کی زندگی باہر سے ٹھیک دکھائی دے رہی ہے تو ہر گز اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے نجی معاملات سب ٹھیک ہیں۔ اسی لئے شعوری طور پر ایک دوسرے کا سہارا بنیں۔ اور اگر آپ کے جاننے والوں میں کسی کے مزاج، گفتگو اور حرکات میں اچانک تبدیلی محسوس کریں تو انھیں انزائٹی، ڈپریشن یا کوئی اور ذہنی بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔ لہذا انھیں ڈاکٹر تک پہنچا کر ذمہ دار اور ایک مہذب شہری ہونے کا ثبوت دیں ورنہ ان کا بھی انجام وہی ہو گا جن کا اوپر ذکر کرچکا ہوں۔


