جوانی ڈھل جائے گی یہ حقیقت ہے
انسان جس کو پیدا کرنے والے اس کے حقیقی مالک نے اشرف المخلوقات کر کہ پیدا کیا یعنی سب مخلوقات جو خالق نے خلق کیے ان سب میں سے افضل اور بالا درجہ ملا ہے۔
اور آج وہ ہی انسان اپنے جوانی کہ جوش و خروش میں گھن مل کر اپنے حقیقی رب کو بھول چکا ہے شاید یہ انسان بھول رہا ہے کہ ایک دن یہ خوبصورت چہرہ جھریوں میں بدل جائے گا وہ وقت آئے گا جب یہ کمزور ٹانگیں بھاری جسم کا بوجھ اٹھانے سے انکار کریں گی خود چل کر جانے کہ بجائے کسی کا سہارا ہی حقیقت بنیں گی تب انسان سمجھ جائے گا کہ بیشک جس حسن و جوانی پہ مجھے ناز تھا وہ چار دن کا ساز تھا جو میں بجا کر آیا۔
کبھی سوچا ہے کہ کہا گئے وہ لوگ جن کو ناز تھا اپنی خوبصورتی پہ کہا گئے دنیا کہ وہ لوگ جو اپنی خوبصورت چہرے اور جوانی کہ بدولت پوری دنیا میں جانے جاتے تھے سب ڈھل گئے سب فنا ہو گئے اور ایک دن سب کا آنا ہے اس لیے ڈرو اس دن سے جب سوال کیا جائے کہ بتا تمہاری فانی جوانی کہا گئی کیا کر لیا جب تمہارے ہاتھ مضبوط تھے تمہاری ٹانگیں تمہارے بھاری جسم کا سہارا تھیں تب ہم اپنے خالق حقیقی کہ سامنے سر اٹھانے کہ بجائے شرمندہ ہوں گے ۔
وقت کے ساتھ ہی اس جوانی کی قدر کریں ورنہ بڑھاپے میں بعض اوقات پچھتاوے کے سائے پریشان کرتے ہیں اور اس وقت کچھ بن نہیں پاتا بندہ کچھ کرنا چاہتا ہے لیکن حوصلہ ساتھ نہیں دیتا جوانی کو یاد کرتا ہے لیکن جوانی نے تو واپس آنا نہیں اور بڑھاپے سے اکتاتا ہے مگر اس نے بھی جانا نہیں اور نہ اس وقت پچھتانے کا کوئی فائدہ ہو گا اس دنیا کہ فانی چیزوں میں گھل مل کر اپنے اس سجدے کو نہ بھول جائیں جس کے بدلے کل تمہیں ڈھیر سجدے کرنے پڑیں اس رنگین دنیا کہ رنگوں میں اپنے اس حقیقت کو نہ جھٹلائیں نہ بھولیں کہ وہ لحد جس کو باغ اپنے بنانا ہے۔
یہ خالق حقیقی کی خوف و محبت کے تعلق سے ممکن ہے کہ وہ لحد باغ میں بدل جائے جوانی میں ہی خدا سے محبت انسان کی سیرت سنوار دیتی ہے۔
یہ ہی ممکن ہے کہ جو شخص نیکیوں بھری زندگی گزارے گا اور خوف خدا سے لرزاں و ترساں رہے گا وہ اللہ کی رحمت کاملہ سے جنت کا مستحق ٹھہرے گا لہٰذا جوانی کو نیکی و پرہیز گاری میں صرف کیجئے خواہشات نفسانی کی پیروی سے بچیں ابھی سے سنبھل جائیے یاد رکھئے یہ حسن و جوانی دولت فانی ہے اور اس پر غرور و تکبر نادانی ہے۔


