گلگت سے چترال تک: ایک جائزہ

”ودھ کیلی ٹو چترال“ لیفٹیننٹ ولیم جارج لارنس بینین کی لکھی ہوئی فوجی مہم کی داستان ہے جس میں انگریزوں کی جارحیت کی کہانی بیان ہوئی ہے۔ اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کر کے ہمارے دوست نور شمس الدین صاحب نے ہر اس انسان پر احسان کیا ہے جس کو تاریخ، ادب اور انگریزوں کی دور اندیشوں اور چالاکیوں سے دلچسپی ہو۔ کتاب پر محترم ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب اور فرنود عالم صاحب کا تبصرہ اس کتاب کو مزید خوبصورت بناتے ہیں۔ نور شمس الدین صاحب کا اپنا لکھا ہوا ”پس منظر“ اس پوری کتاب کے خلاصے کا کردار ادا کرتا ہے۔ چند اوراق پر مشتمل ان حضرات کی رائے تاریخ کا ایک گہرا تجزیہ بھی پیش کرتی ہے۔
کتاب، اس کے ترجمے اور دوسری تکنیکی معاملات پر دوسرے اہل علم حضرات بات کریں گے۔ شاید ان تین حضرات کی رائے نظر انداز کی جائے اس لئے اس مضمون میں کتاب سے زیادہ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب اور فرنود عالم صاحب کی رائے اور نور شمس الدین صاحب کے لکھے ہوئے پس منظر کا احاطہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ چند اوراق پر مشتمل ان حضرات کی رائے تاریخ کا ایک گہرا تجزیہ پیش کرتی ہے۔
کتاب کے متعلق ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب کا تجزیہ اور میری رائے :
دنیا میں سب سے مشکل کام اپنے استاد سے اختلاف رکھنا ہے۔ استاد بھی وہ جو باپ سے زیادہ شفیق اور مہربان ہو اور جس کی ہر بات خلوص پر مبنی ہو۔ استاد اور شاگرد کی اختلاف کی بات کی جائے تو ارسطو کی اپنے استاد افلاطون کی کتاب The Republic پر Poetics میں اختلاف یاد آجاتی ہے۔ اسی طرح امام ابو حنیفہ پر اس کے شاگرد امام ابو یوسف نے بھی کئی اعتراضات اٹھائے تھے۔ ”چھوٹی منہ بڑی بات“ اور ”سورج کو چراغ دکھانے“ کے مصداق میں بھی آج یہ جسارت اور گستاخی کرنے جا رہا ہوں۔ بحیثیت ایک شفیق استاد کے وہ انشا اللہ میری اس گستاخی پر ناراض نہیں ہوں گے۔
آپ نے چترال میں 1895 کے واقعے اور اس کی اہمیت کے حوالے سے جو باتیں لکھی ہیں وہ آپ کی تاریخ پر گہری نظر کو ظاہر کرتی ہیں۔ یقیناً کتاب اور مصنف کے بارے میں آپ کی رائے ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن postcolonial literature کے ایک ادنی طالب علم ہونے کی حیثیت سے کچھ باتیں جو مجھے انصاف پر مبنی نہیں لگیں ان کا ذکر کرنا چاہوں گا۔
آپ نے دو بیانیوں کا ذکر کیا ہے :
پہلے بیانئے کے مطابق لوگ شیر افضل، عمرا خان اور عیسی خان کو چترال کا ہیرو مانتے ہیں جبکہ دوسرا بیانیہ انگریز کی حمایت پر مبنی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر وہ جیت جاتے تو چترال ”کابل کا غلام“ بن جاتا اور قحط اور غربت اس کا مقدر بن جاتا۔ جبکہ انگریزوں کا ساتھ دینے سے یہاں ترقی کی راہیں استوار ہوئیں۔
یہ دو تو عوامی بیانئے ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب کے آخری دو جملے دوسری رائے کی تائید کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں :
”آج چترال میں تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر شعبوں میں خوشحالی اور ترقی کے جو مواقع دستیاب ہیں ان کے پس منظر میں“ ودھ کیلی ٹو چترال ”کی مہم کا بھی نمایاں کردار ہے“
اس میں ڈاکٹر صاحب نے تعلیم و ترقی کو انگریزوں کی آمد سے جوڑ کر تاریخ سے نا انصافی کی ہے۔ کابل کی حکمرانی کو ”غلامی“ جبکہ انگریزوں کی جارحیت کو ”تخت کابل کی غلامی سے چھڑا کر برطانوی ہند کی بڑی حکومت کا حصہ بنانا چاہتے تھے“ سے تمثیل دے کر مقامی روایات، تعلیم و تربیت وغیرہ کی اہمیت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ آپ نے اس حقیقت کی بھی نفی کردی ہے کہ انگریزوں کی آمد سے پہلے برصغیر کی جی ڈی پی دنیا کی جی ڈی پی کا 25 فیصد تھا جبکہ 1947 میں یہ محض 2 فیصد رہ گیا تھا۔ انگریزوں کا مقصد نہ ہی ترقی کی راہیں ہموار کرنا تھا نہ ہی تعلیم۔ ان کا مقصد اپنے کاروبار کے فروغ کے لئے ترقی کے نام پر سڑکیں بنانا، ریلوے کا نظام دینا اور تعلیم کے ذریعے بابو پیدا کرنا تھا تاکہ اپنے کاروبار کے معاملات کا ان کے ذریعے حساب کتاب رکھا جا سکے۔
فرنود عالم کا تجزیہ:
فرنود عالم شاید دو یا تین بار چترال آئے ہیں لیکن چترالی روایات اور ثقافت سے ایک عام چترالی باشندے سے بھی زیادہ واقفیت رکھتے ہیں۔ اس نے کتاب پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”اقبال کی ترتیب میں شمشیر و سناں اول ہے اور طاوس و رباب آخر ہے۔ چترال کی تاریخ میں طاوس و رباب اول ہے اور طاوس و رباب ہی آخر ہے۔“
چترالیوں کے متعلق فرنود عالم کی حقیقت پر مبنی یہ رائے مجھے ہماری یونیورسٹی میں ایک سیمینار کی یاد دلا دی جس میں مستنصر حسین تارڑ مدعو تھے۔ ادیب اور اس کی تخلیقانہ صلاحیتوں پر بات کرتے ہوئے آپ نے بتایا کہ میں مونجوداڑو جانے سے پہلے اس کے متعلق اپنی کتاب ”بہاؤ“ میں لکھا۔ جب دو سال بعد وہاں گیا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جس طرح میں نے اس کے متعلق لکھا تھا اس میں اور مونجوداڑو کے ایک ایک پتھر میں ذرا برابر بھی فرق نہیں تھا۔ یعنی میرے فکشن اور اس فیکٹ میں کوئی فرق تھا ہی نہیں۔
سوال و جواب کے سیشن میں نمل یونیورسٹی کی ایک طالبہ، جو کہ انگریزی ادب میں ایم فل کی طالبہ تھیں، نے اٹھ کر سوال کیا: سر بپسی سھدوا پر بھی یہی اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ تین سال کی عمر میں لاہور چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ اس لئے اس نے اپنے ناول ”آئس کینڈی مین“ میں لاہور کا جو نقشہ بیان کیا ہے وہ انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ آپ کس طرح اپنے اس دعوے کو سچ ثابت کر سکتے ہیں؟ اس پر تارڑ صاحب نے مختصراً کہا کہ اگر آپ 60 سال بھی لاہور میں رہیں تو بپسی سھدوا کی طرح لاہور اور اس کی گلیوں کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتی ہیں۔ اس کا فکشن بھی آپ کی فیکٹ سے زیادہ سچا ہوگا۔
مستنصر حسین تارڑ کے برعکس جنہوں نے ”چترال داستان“ میں چترالیوں کی کھلے الفاظ میں بے عزتی کی ہے فرنود عالم نے ایک جملے میں دبے الفاظ میں چترالیوں کی مزاج میں موجود کاہلی اور سستی کو ادبی انداز میں بیان کیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں آپ نے euphemism کے ذریعے چترالیوں کو نکما کہا ہے۔
فرنود عالم نے بھی بپسی سھدوا کی طرح چترال کے متعلق اپنی دو لائنوں کی رائے دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ فرنود عالم واقعی میں تاریخ، ادب، جغرافیہ اور ثقافت کے عالم ہیں۔
آگے کتاب کے متعلق اپنی رائے دیتے ہوئے لکھتے ہیں :
”یہ کتاب دراصل استعمار کی جارحیت اور دراندازیوں کا روزنامچہ ہے۔“
یہ جملہ اس پوری تاریخ کا احاطہ کرتا ہے جس میں انگریز اپنی چال بازیوں کے ذریعے آدھی دنیا پر قابض ہو چکے تھے۔ اس کہانی میں جو بیان ہوا ہے اس میں اور ٹیپو سلطان اور میر جعفر والی کہانیوں میں وقت، حالات اور جغرافیہ کا ہی فرق ہے۔ فرنود عالم کے اس ایک جملے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرنود عالم نے اس پوری کہانی کے پس منظر کو سمجھا ہے۔ دوسروں کے برعکس جو انگریز کو مہربان (سڑکوں، ریلوے، وغیرہ کی وجہ سے ) سمجھتے ہیں، فرنود نے اس ایک جملے میں اس مغالطے کو رد کر دیا ہے۔
نور شمس الدین صاحب کا لکھا ہوا ”پس منظر“
”ودھ کیلی ٹو چترال“ 1895 کے واقعے کی کہانی ہے جو کہ دس ابواب پر مشتمل ہے۔ ترجمہ کرتے ہوئے نور شمس الدین صاحب نے کمال مہارت سے کام لیا ہے۔ لگ نہیں رہا کہ یہ ترجمہ ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ترجمہ کرتے ہوئے مترجم نے خوب محنت کی ہے۔ بحیثیت ایک قاری مجھے کتاب اور اس کے ترجمے سے بھی زیادہ نور شمس الدین صاحب کا لکھا ہوا پس منظر پسند آیا۔
”پس منظر“ میں شمسی صاحب نے سب سے پہلے انیسویں صدی میں برطانیہ اور روس کے درمیان ہونے والے گریٹ گیم اور اس میں جغرافیہ کی اہمیت کا ذکر کیا ہے۔ اس میں افغانستان اور چترال کی اہمیت کا ذکر ملتا ہے۔ انتہائی مختصر الفاظ میں اس پوری کہانی کو بیان کیا گیا ہے جو کہ مترجم کی قابلیت کو ظاہر کرتا ہے۔
آگے چل کر 1895 میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا ذکر ملتا ہے۔ اندرونی حالات اور ان پر بیرونی مداخلت اور ان کے اندرونی سیاست پر مرتب ہونے والے اثرات کا لطیف پیرائے میں مختصر اور جامع انداز میں احاطہ کیا گیا ہے۔
تاریخی حوالہ جات کے ذریعے نور شمس الدین صاحب نے ان واقعات کا جو پس منظر بیان کیا ہے وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ مترجم کو تاریخ پر مکمل عبور حاصل ہے۔ یہ پس منظر اس پوری کتاب کی ہی نہیں بلکہ ان تمام واقعات کی synopsis ہے جو 1895 کے سیاسی، سماجی اور معاشی حالات کے وقوع پذیر ہونے کی وجہ بنے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ نور شمس الدین صاحب کے لکھے ہوئے پس منظر پڑھنے کے بعد اس موضوع پر مزید کوئی کتاب پڑھنے یا اسی کتاب کو مزید آگے پڑھنے کی ضرورت پڑے گی۔





