پاکستان کی مشکلات کم ہونا شروع


ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے روشن امکانات ہیں، اکتوبر میں پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا، لیکن آج کل پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے کریڈٹ کے بھی بہت چرچے ہیں۔

آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ پاکستان کو کس نے مشکلات سے نکالا تھا، کون پاکستان کا محسن تھا، جس نے پاکستان کو اپنی حکومت میں بلیک لسٹ سے گرے لسٹ میں اور پھر وائٹ لسٹ میں لایا۔

آئیے اب اس پر تھوڑی نظر دوڑائیں کہ جب دو ہزار تیرہ کے الیکشن ہوئے اور مسلم لیگ نون کی حکومت بنی تو پاکستان اس وقت کون سی لسٹ میں تھا اور کون سی مشکلات میں گھرا ہوا تھا، ملک کے اس وقت کیا حالات تھے، دہشتگردی، لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بیروزگاری عروج پر تھی، پاکستان مسلم لیگ نون کو اقتدار ملا تو ملک بہت سے مسائل میں پھنسا ہوا تھا۔

دہشتگردی، مہنگائی، لوڈشیڈنگ، بیروزگاری کے ساتھ پاکستان کے لیے یہ بھی بہت بڑا چیلنج تھا، کہ پاکستان اس وقت ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں تھا، بلیک لسٹ میں ہونے کی وجہ سے پاکستان کا امیج دنیا میں کوئی اچھا نہ تھا۔

دنیا پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کر رہی تھی، معاشی طور پر پاکستان کو بہت سے مسائل درپیش تھے، اس کے علاوہ باقی مسائل علیحدہ تھے، پاکستان مسلم لیگ نون کے لیے سب سے بڑا چیلنج دہشتگردی تھی، ہر روز دھماکوں کی گونج، ملک بھر میں خوف کا عالم تھا۔

اس خوف کی فضا کو ختم کرنے کے لیے میاں نواز شریف نے دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی منظوری دی، اس کے ساتھ ساتھ میاں نواز شریف نے مختلف ممالک کے دورے کیے، دنیا کو سرمایہ کے لیے راضی کیا، جس کے بعد پاکستان میں ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔

میاں نواز شریف نے جو اقدامات کیے اس کا ثمر ملک اور قوم کو ملا، ملک سے دہشتگردی ختم ہوئی، کراچی کا امن بحال ہوا، لوڈشیڈنگ ختم ہوئی، مہنگائی کم ہوئی، بیروزگاری میں کمی آئی۔

میاں نواز شریف کی دن رات کی محنت سے جو پاکستان 2013 میں بلیک لسٹ میں تھا، میاں نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان کو 2014 میں بلیک لسٹ سے گرے لسٹ میں ڈالا گیا۔ اور پھر میاں نواز شریف کی حکومت میں ہی 2015 میں گرے لسٹ سے نکال کر وائٹ لسٹ میں شامل کر لیا گیا۔

جس کے بعد پاکستان دنیا میں ابھرتا ہوا ملک کے طور پر سامنے آ رہا تھا، سی پیک شروع ہو چکا تھا، ملک میں سرمایہ کاری آ رہی تھی، معیشت مضبوط ہو رہی تھی، ڈالر کنٹرول میں تھا، عوام کو ریلیف مل رہا تھا۔

پھر اس وقت ایک سازش تیار ہوئی اصل میں وہ سازش تھی، وہ سازش نواز شریف کے خلاف نہیں تھی، بلکہ پاکستان کے خلاف تھی، کیونکہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی وائٹ لسٹ میں آ چکا تھا، ملک میں خوشحالی آ چکی تھی، اور دن بدن اسٹاک ایکسچینج بلندیوں کو چھو رہی تھی، معیشت عروج پر پہنچ چکی تھی، ڈالر کنٹرول میں تھا، روپیہ مستحکم ہو رہا تھا۔

عالمی ادارے پاکستان کو دنیا میں ابھرتی معیشت کے طور پر دیکھ رہے تھے، عالمی ادارے پاکستان کو ایشیاء ٹائیگر کا نام دے رہے تھے، لیکن بدقسمتی سے اس وقت ملک میں ایک فساد کا سلسلہ شروع ہوا، پانامہ کے نام پر ڈرامہ رچایا گیا، اور اچھے خاصے ترقی کے سفر پر چلتے ملک میں ہیجانی سی کیفیت پیدا کر دی گئی، جس کے باعث سرمایہ کار واپس جانے پر مجبور ہو گئے۔

جس نواز شریف نے پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ سے نکال کر گرے لسٹ میں لایا، پھر گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں لایا، ملک میں لوڈشیڈنگ دہشت گردی مہنگائی کا خاتمہ کیا، ملک میں سی پیک شروع کیا، موٹرویز، شاہراہوں کے جال بچھائے، کسان کو ڈیزل، کھاد، بیج، سستے مہیا کیے، ہر شعبے سے وابستہ شخص کو ریلیف دیا، اس نواز شریف کے ساتھ کیا ہوا، سب کے سامنے ہے۔

افسوس اس بات کا ہے نواز شریف کے خلاف سازش کر کے انہیں وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر پاکستان کی خوشحالی اور پاکستان کی معیشت پر بہت گہری ضرب لگائی گئی۔

نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کے بعد ملک میں مایوسی پیدا ہوئی، ملک میں جو حالات پیدا کر دیے گئے، ملک سے سرمایہ واپس جانے لگے، ملک میں انتشار اور نفرت کا جو سلسلہ شروع ہوا، اس کے نتائج یہ نکلے کہ جو ملک نواز شریف کی قیادت میں ترقی کر رہا تھا، جو ملک بلیک لسٹ سے گرے لسٹ میں پھر وائٹ لسٹ میں آ چکا تھا۔

پھر وہی ملک جون 2018 میں کیئر ٹیکر حکومت میں گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا، اگر میاں نواز شریف کو نہ ہٹایا جاتا، اور جو ملک میں ترقی اور خوشحالی کا سفر شروع تھا، اس کو بریک نہ لگائی جاتی، تو آج پاکستان کے حالات بہت مختلف ہوتے۔

آج پاکستان کی معیشت مضبوط ہوتی، غربت کم ہو چکی ہوتی، مہنگائی ختم ہو چکی ہوتی، لیکن افسوس جو ملک مضبوط معاشی ملک بننے جا رہا تھا، اس پر ایک نا اہل شخص کو مسلط کر دیا گیا، جس کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے آج ملک اور قوم مشکلات میں گھری ہوئی ہے، خان صاحب نے پونے چار سال میں ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا، جس کا خمیازہ آج مہنگائی کی صورت میں عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

آج اگر خان صاحب ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ کا کریڈٹ لینے کی تو کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ نہیں مان رہے کہ ان کی نا اہلیوں کی وجہ سے سرمایہ کار یہاں سے چلے گئے، ان کی حکومت میں کرپشن بڑھ گئی، جس کی تصدیق عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کی۔

خان صاحب آپ پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ قرضے لے کر بھی ملک کی معیشت کو نہ سنبھال سکے، خان صاحب اگر دس سال اور بھی حکومت میں رہتے، تو کبھی بھی ملک گرے لسٹ سے نہ نکلتا، کیونکہ خان صاحب کبھی یورپی یونین کو دھمکی دیتے ہیں، تو کبھی امریکہ پر سازش کا الزام لگاتے ہیں، ایسے حالات میں کیسے ملک گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے۔

اب خان صاحب کی حکومت گئی ہے اور وزیر اعظم شہباز شریف نے دوست ممالک سے روابط بحال کیے ہیں، اور جن کی سپورٹ اور حمایت کی وجہ سے آج پاکستان میں اچھی خبریں آنا شروع ہو گئیں ہیں، پاکستان کا گرے لسٹ سے نکلنا پاکستان کے لیے بہت مفید ثابت ہو گا، امید یہی ہے کہ اگلے تین چار ماہ میں حالات کافی بہتر ہو جائیں گے، جو عوام پر مہنگائی کے پہاڑ گرے ہیں، وہ مہنگائی کافی حد تک کم ہو جائے گی، اور بہت جلد پاکستان معاشی طور پر بہتری کی طرف جائے گا اور ملک میں ایک خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا۔

Facebook Comments HS