لینن کا مقبرہ
وطن عزیز میں سوشلزم، کمیونزم وغیرہ کے بارے میں اتنا متواتر، موثر اور شدید پروپیگنڈا کیا گیا کہ کسی بھی عام پاکستانی کو ان نظاموں کے اکابر یا ان سے متعلق کسی بھی چیز کا محض نام لینے سے ہی دنیا اور عقبٰی سے محرومی کا خطرہ نظر آنے لگتا تھا۔ اس موثر پروپیگنڈے کی بڑی وجہ ملک کے بالادست طبقات میں شخصیات اور اداروں کی امریکہ پرستی اور مغرب کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کے بارے میں عمومی اتفاق رائے تھا کیو نکہ اس زمانے میں امریکہ اور مغرب کا طوطی بھی خوب بولتا تھا۔ اس کی دوسری بڑی وجہ سوویت یونین کا آہنی پردوں کے پیچھے پنہاں ہو نا بھی تھا۔ پھر یہود و نصاریٰ کے خدا پرست اور سوویت یونین کے ملحد ہونے کے بارے میں مذہبی طبقات شد و مد سے دلائل دیتے تھکتے نہ تھے۔
دوسری جا نب امریکہ اور مغرب بھی1980 کی دہائی کے اواخر میں سوویت یونین کی شکست تک فلسفۂ جہاد کے سرگرم حامی تھے۔ مگر پھر سب کچھ کسی بازی گر کے کھیل کی طرح یک سر بدل گیا۔ امریکی سامراج کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ، سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد سامراج کا اصل چہرہ جو پہلے بھی کافی عیاں تھا، اب کھل کر سامنے آ گیا۔ اب ہمارے مذہبی طبقے کو بھی یہود و نصاری کی اسلام دشمنی ستانے لگی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ان طبقات نے نہ تو مغرب پرستی اور مغرب دشمنی اور نہ ہی سوویت یونین سے نفرت اور دشمنی کی بنیاد کسی ٹھوس، منطقی اور غیر جذباتی علمی مطالعے پر رکھی تھی بلکہ اس کا انحصار سرا سر وقتی، محدود اور تنگ نظری پر مبنی مفادات پر تھا صرف علامہ اقبال ہی وہ بڑی شخصیت نظر آتے ہیں جنہوں نے ان دونوں نظام ہائے فکر کو وسیع تر علمی اور فکری پس منظر میں دیکھا اور اپنی نثر و نظم میں ان پر کھل کر اظہار خیال کیا۔
اس میں شک نہیں کہ حضرت علامہ نے مغربی نظام فکر و عمل خصوصاً سرمایہ دارانہ نظام کو انتہائی سخت الفاظ میں مطعون کیا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ ’اشتراکی کوچہ گردوں‘ کی ’مساوات شکم‘ سے بھی مایوس تھے۔ کلام اقبال اور ان کی نثری تحریروں کے مطالعے سے یہ احساس اجاگر ہوتا ہے کہ اقبال نے بہت سے مشہور عالم انقلابی شعرا سے کہیں زیادہ اس نظام کا وقیع اور عمیق مطالعہ کر رکھا تھا اور وہ سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں اشتراکیت کے خلاف اتنی سخت زبان بھی استعمال نہیں کرتے بلکہ اپنی انتہائی اثر انگیز اور شاعرانہ حسن کی بہترین مثال نظم ’لینن خدا کے حضور میں‘ سوویت یونین کے بانی اور اشتراکیت کو عملی طور پر سوویت یونین میں نافذ کرنے والے لینن کو خدا کے حضور لے آئے ہیں۔
میری طرح پاکستانی طلبا کی کئی نسلوں کا بیسویں صدی کے اس عظیم مگر خونی انقلاب کے بانی کا تعارف ثانوی درجوں میں پڑھائی جانے والی بس یہی ایک نظم تھی۔ سو لڑکپن سے ہی اس شخصیت اور اس نظام کو جاننے کے بارے میں اشتیاق پیدا ہوا۔ کیا خبر تھی کہ مرور ایام سے ایک دن یہ موقع بھی میسر آ جائے گا اور اس شخصیت کے جسد خاکی سے ایک آدھ میل کی دوری پر طویل قیام کا موقع میسر آ جائے گا۔ مگر اتنے قریب قیام کے باؤ جود میں کئی سال تک کریملن کی بڑی دیوار کے باہر قائم لینن میزولیم جانے پر خود کو آمادہ نہ کر سکا۔
شاید میرا ذہن شدید اشتیاق کے باوجود اس خیالی پیکر کو حقیقت کے روپ میں دیکھنے سے خائف تھا کہ مبادا تصور سے تصویر بالکل مختلف ہو۔ بالکل اسی طرح جیسے ہمارے بچپن کے دور میں گاؤں کے ایک تالاب میں پانچ سگی بہنیں ایک دوسری کو بچانے کی کوشش میں یکے بعد دیگرے ڈوب گئی تھیں مگر چند فرلانگ کے فاصلے پر واقع اس تالاب کو میں نے زمانوں بعد چند سال پہلے دیکھا۔ اس سارے عرصے ذہن اسے دیکھنے کے شوق اور اس کرب انگیز واقعے سے پیدا ہونے والے گہرے اسرار میں ڈوبا رہا۔ بعض اوقات واقعات اور شخصیات سے زمانی اور مکانی دوری بھی ان کی پرسراریت میں اضافہ کر دیتی ہے۔ شاید اسی طرح اساطیر اور داستانیں جنم لیتی ہیں او ر ان میں تہہ در تہہ معانی ملفوف ہوتے جاتے ہیں۔
میں ماسکو میں اپنے قیام کے تیسرے برس لینن کا جسد خاکی دیکھنے کی غرض سے گیا۔ ہفتے کے چار دن یہ میزولیم دس بجے سے ایک بجے تک عوام کے لیے کھلا رہتا ہے۔ کچھ ماہ کے لیے اسے بند بھی کیا جاتا ہے جب لاش کو محفوظ رکھنے کے لئے مختلف ادویات اور کیمیائی مرکبات لگائے جاتے ہیں۔ حسب دستور اس دن بھی لوگوں کی طویل قطار لگی تھی جس میں زیادہ تعداد غیر ملکیوں کی تھی۔ میزولیم میں داخلے سے پہلے جامہ تلاشی لی جاتی ہے اور کیمرے اور موبائل فون وغیرہ رکھ لیے جاتے ہیں۔
جسد خاکی کی تصویر لینے کی اجازت نہیں ہے مزار ایک چھوٹے سے کمرے پر مشتمل ہے۔ کمرے میں قدم رکھتے ہی تابوت میں لیٹا لینن لگتا ہے جیسے خواب استراحت میں ہو۔ تو یہی ہے وہ شخص جس نے زاروں کی سلطنت کا تختہ الٹ کر سوویت یونین کی بنیاد رکھ دی؟ کیا یہی وہ شخص ہے، عام روسیوں سے اتنا کم قامت اور مختصر، یعنی بس پانچ فٹ سات انچ جسم کا مالک، کہ جس نے مشرق و مغرب میں ایک تہلکہ مچا دیا اور مارکسزم کے بانی کارل مارکس نے جس واحد ملک کے بارے میں قطعیت کی ساتھ پیشن گوئی کی تھی کہ وہاں کبھی کمیونسٹ انقلاب نہیں آ سکتا، لینن نے اسی ملک میں دنیا میں سب سے پہلے یہ انقلاب برپا کر کے سرمایہ دارانہ نظام کے مقابلے میں ایک نئے عالمی اقتصادی نظام کی بنیاد رکھ دی۔
دیکھنے میں لینن کسی بڑے انقلابی سیاسی لیڈر سے زیادہ کسی یونیورسٹی کا پروفیسر لگتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی کالی مونچھیں، کسی قدر بھاری ابرو، کشادہ پیشانی، عام قدو قامت اور جسامت۔ یہ شخصیت بھاری بھرکم دراز قامت روسیوں سے کسی صورت میل نہیں کھاتی! ویسے کسی یونیورسٹی کا پروفیسر وہ یوں ہی نہیں لگتا بلکہ اس نے سینکڑوں پروفیسروں سے کہیں زیادہ عمیق اور دقیق علمی کام کیا ہے اگرچہ اسے انقلابی سرگرمیوں کی پاداش میں داخلے کے چار ماہ بعد ہی کاذان یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا۔
لینن جس نے اپنی 54 سالہ زندگی کے آخری عشرے کے انتہائی طوفانی سال شدید بیماری اور عذلت نشینی میں گزارے، کے دوران 54000 ہزار سے زیادہ کاغذات پر مشتمل اپنی تحریریں چھوڑی ہیں۔ سوویت دور کا وہ واحد خوش قسمت لیڈر ہے جسے آج بھی ہیرو کا درجہ حاصل ہے، جس کے نام پر آج بھی سڑکیں، پارک اور پورے پورے علاقے موجود ہیں۔ جس کے مجسمے ماسکو اور روس کے طول و عرض میں نصب ہیں۔ البتہ تاریخی ریکارڈ کو درست رکھنے کے لئے لینن میزولیم کے ساتھ ہی سوویت دور کے راہنماؤں کے چند انچوں پر مشتمل مجسمے ناموں کے ساتھ غیر نمایاں طور پر ایک ڈیڑھ فٹ کی دیوار میں لگا دیے گئے ہیں جس پر کسی کی خال خال ہی نظر پڑتی ہے۔ وہ جو نیوٹن نے اپنے تیسرے قانون حرکت میں کہا ہے کہ عمل اور رد عمل مساوی مگر مختلف سمتوں میں ہوتے ہیں، روس کی سیاسی تاریخ میں بڑے واضع طور پر کار فرما نظر آتا ہے۔ روسیوں پر تاریخ میں جس قدر بڑے حملے ہوئے انہوں نے اتنے ہی بڑے جوابی حملے کیے ، خواہ وہ تاتاریوں سے جنگیں ہوں، پیٹر (دی گریٹ) ، ملکہ کیتھرین کے دور کے واقعات ہوں یا بیسویں صدی کے اوائل کا اشتراکی انقلاب، یہ کلیہ ہر جگہ کار فرما نظر آتا ہے
اشتراکی انقلاب نے زاروں سے تعلق رکھنے والے ہر نقش کہن کو مٹانے کی سر توڑ کوشش کی۔ ساری عبادت گاہوں، چرچوں، مسجدوں اور گرجوں کو فوج کی بارکوں اور گھوڑوں کے اصطبلوں کے طور پر استعمال کیا جانے لگا اور مذہب کو شجر ممنوعہ قرار دے کر اسے ہر طرح سے مٹانے کی کوشش کی گئی۔ اس کے رد عمل میں سوویت یونین کے ٹوٹنے پر اس دور کی بے شمار چیزیں راندہ درگاہ ٹھہری، جوزف سٹالن کے مجسموں کو جگہ جگہ سے اکھاڑ پھینکا گیا مگر اس کا کیا کیجئے کہ کہ سٹالن کے دور کی یادگاریں اس قدر اور اتنی مفید ہیں کہ اگر ان سے مکمل چھٹکارا حاصل کیا جاتا تو یقین کیجئے روسی فیڈریشن اور خصوصاً ماسکو میں بہت کم قابل ذکر چیزیں نظر آتیں۔
مثلاً سوچئے تو اگر ماسکو کے منظر میں سے ’سات بہنیں‘ seven sisters) ) نامی عمارتیں اور شہر کا شان دار زیر زمین میٹرو سسٹم، جس کے اب 200 سے زائد اسٹیشن ہیں اور جو دوسری جنگ عظیم میں جرمن ہوائی حملوں کے خلاف اہل ماسکو کے لئے عظیم پناہ گاہ ثابت ہوا، اور وہ سارے فلیٹ اور عام لوگوں کے لئے تعمیر کی گئی رہائشی عمارتیں، پارک، تفریح گاہیں، سٹیڈیم وغیرہ نکال دیے جائیں تو ماسکو کیسا نظر آئے گا؟ بالکل خالی خالی، اجڑا اجڑا سا۔
مقصد سٹالن کا قصیدہ لکھنا نہیں۔ اس نے کم و بیش اتنے ہی روسی شہری انقلاب کو مستحکم کرنے کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیے جتنے روسی شہریوں نے جنگ عظیم دوم میں مادر وطن کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ سٹالن نے مبینہ طور پر 20 ملین روسیوں کو قتل کرایا جب کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنگ عظیم دوم میں 27 ملین روسیوں نے اپنی جانیں دفاع وطن کے لئے قربان کیں۔ دوسری طرف اس جنگ میں نازی جرمنی کی مکمل شکست اور اس پر قبضے میں سٹالن کے کردار کو کسی طور فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
خوشی کی بات یہ ہے کہ اس کے اس کردار کو نہ صرف تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ اس کی تعریف و توصیف بھی کی جاتی ہے۔ ریڈ آرمی کی علامتوں اور نشانیوں کو تکریم کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس جنگ میں حصہ لینے والوں (جن میں سے اب چند ہی باقی رہ گئے ہیں ) اور ان کے خاندانوں کو بڑی عزت و تکریم دی جاتی ہے۔ قومی دنوں خصوصاً 9 مئی کو یوم فتح پر وہ اپنی فوجی وردیوں میں ملبوس، سینوں پر تمغے سجائے جگہ جگہ نظر آتے ہیں۔ نہ صرف یوم فتح کی پریڈ پر انہیں نمایاں جگہ دی جاتی ہے بلکہ شہر کے اہم مقامات جیسے گورکی پارک، فتح پارک (وکٹری پارک) پر بھی انہیں دیکھا جا سکتا ہے جہاں عوام الناس انہیں عقیدت اور محبت سے پھولوں کے گل دستے پیش کر رہے ہوتے ہیں۔
لیکن عمومی طور پر روسی اپنی کیمو نسٹ دور کی یادگاروں سے کنارہ کش ہو چکے ہیں۔ 1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد یہی رد عمل متوقع بھی تھا۔ روسی، چینیوں کی طرح ایک بتدریج، منظم اور سوچی سمجھی تبدیلی کے عمل سے نہیں گزرے اور یوں کمیونزم کے خلاف ان کے شدید رد عمل سے ملک کے کئی حصے نادانستہ طور پر ملک سے جدا ہو گئے۔ لگتا نہیں کہ ٹوٹ پھوٹ کا یہ عمل جو ایک بار شروع ہوا تو پھر پھیلتا ہی چلا گیا، کسی سوچی سمجھی پالیسی کا شاخسانہ تھا کیو ں کہ اس میں روس کے وہ حصے بھی جدا ہو گئے جن کے بارے میں کبھی ایسے سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ یہ علاقے تو صدیوں سے روسی سلطنت کا مرکز تھے بلکہ یہی تو اصل روس تھے، جیسے یوکرین، بیلاروس، جارجیا، اوسیٹہ وغیرہ۔ ۔





