ابھی تک کانپیں ٹانگ رہی ہیں


”ابھی تک کانپیں ٹانگ رہی ہیں“ ، یہ سوچ سوچ کر کہ کیا عامر لیاقت اور ان جیسے کئی لوگوں کی موت کی ذمہ دار میں تو نہیں؟ کیا میں ہمیشہ ہر معاملے میں حد سے گزر جاتی ہوں اور اس کا نقصان دوسروں کو اٹھانا پڑتا۔ اس دکھ کا احساس اگر سب کو ہونے لگ جائے تو ہم ڈر کے مارے کسی کی دل آزاری کبھی نہ کریں۔ رہ رہ کر ہمیں یہ بات ستائے کہ آخر ہم نے کیا کر دیا ہے۔ کاش میں ایسا نہ کرتی تو وہ بچ جاتا۔ کاش وہ زندہ ہوتا تو میں معافی مانگ لیتی۔

سوشل میڈیا کا صحیح استعمال کرتی۔ انگریز نے ہمیں ایک پلیٹ فارم دیا، مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ میں اس کا استعمال اس طریقے سے کروں کہ کسی کی جان ہی چلے جائے۔ یہ پلیٹ فارم تو رابطے قائم کرنے، اچھے تعلقات قائم کرنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ یہ آخر مجھ سمیت کئی نوجوان کس لائن میں چل پڑے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم ذہنی تناؤ کا شکار ہیں تو میمز دیکھ کے کچھ سکون لے لیتے ہیں یا پاکستانی میمرز سب سے زیادہ عقلمند ہیں۔ یہ کیسی عقلمندی ہوئی کہ کسی کی موت کی وجہ بن جائے۔

”ابھی تک کانپیں ٹانگ رہی ہیں“ یہ سوچ سوچ کر کہ کاش میں ہر پوسٹ کو پڑھتے ہوئے کچھ دیر رک جاتی۔ سوچ لیتی، اس پوسٹ کو سمجھ لیتی۔ پھر ہی اس پر کوئی رائے دیتی۔ مجھے دکھ ہے کہ میری جلد بازی نے اتنا بڑا نقصان کر دیا۔ چاہے وہ انسان جیسا بھی تھا۔ لیکن میں اسے مکمل طور پر نہیں جانتی تھی کہ وہ اندر سے کیسا ہے۔ کہتے ہیں کہ ”مجھے مجھ سے زیادہ بہتر کوئی نہیں جانتا“ ، تو ہم کسی بھی دوسرے کو اس سے بہتر نہیں جان سکتے۔ اب یہ سوچ کر آہ بھر آتی ہے،

ذرا اس کرب کا اندازہ کیجئے
میں اپنے آپ کو پہچانتا ہوں

میں خود کو جانتی ہوں اور میرا ذہن کہتا ہے کہ میں نے غلط کیا ہر پوسٹ پر اپنا فوری رد عمل دے کر۔ رک جاتی تو مجھے سوچنے سمجھنے کا کچھ وقت ملتا تو شاید میں کچھ اچھا لکھ کر میرے فالوورز کو ایک نئی راہ دیتی کہ ہاں ایسے بھی سوچا جا سکتا ہے۔ ہم اپنے مذاق چکر میں کیا دوسروں کی زندگیوں کو تناؤ کا شکار تو نہیں کر رہے؟

”ابھی تک کانپیں ٹانگ رہی ہیں“ کہ مجھے تعزیتی پوسٹ نہ کرنا پڑتی۔ یہ میری غلطی ہے۔ یہ آپ کی بھی غلطی ہے۔ ہم سب مل کر ایک معاشرہ بناتے ہیں۔ یہ پورے معاشرے کے لئے سوچنے کا وقت ہے کہ ہمیں کون سا رستہ اختیار کرنا ہے۔ زندہ لوگوں کی حوصلہ افزائی کا یا ان کے مر جانے کے بعد کی حوصلہ افزائی کا۔ کہا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں لوگوں کی قدر ان کے مرنے کے بعد کی جاتی ہے۔ اب ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ ہم کیسے ہم اس مثال کو غلط ثابت کر سکتے ہیں۔ کیسے میں خود سوشل میڈیا کا بہتر استعمال کر کے کسی کی بے وجہ دل آزاری کرنے سے بچ سکتی ہوں۔

”ابھی تک کانپیں ٹانگ رہی ہیں“ کہ اب ہماری ہر چیز تیزی سے اصل زندگی سے نکل کر اسکرین کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ ہمارے جذبات، احساسات اور خیالات بھی الیکٹرانک صفحات کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ سوچ کر دکھ ہوتا ہے کہ جب سے ہم نے ایموجیز کی مدد سے اپنے احساسات کا اظہار کرنا شروع کیا ہے تو ہماری اپنی زبانوں سے نکلے الفاظ کی اہمیت ختم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ کوئی مر رہا ہے تو ویڈیو، کوئی مار رہا ہے تو ویڈیو، آپ نے کیا کھایا، کیا خریدا، کیا پہنا، کہاں گھومنے گئے، کس سے ملے، کس کے ساتھ وقت گزارا۔ ہر لمحہ سیلفی کی فکر میں جیتے لوگ اتنی زندگی جی نہیں رہے، جتنی زندگی کیمرے میں قید کر رہے ہیں۔ عامر لیاقت کی وڈیو کے کتنے لائیکس، کتنے کمنٹس، کتنے شیئرز کی گنتی میں الجھ کر اپنی اصل قیمت کو بھول گئے تھے۔

اوپر کی گئی تمام باتوں میں آپ کو انفرادیت کا ایک پہلو ملے گا۔ میں خود کیا سوچ رہی ہوں اور مجھے خود کو کیسے بہتر کرنا ہے۔ ہمیں سوشل میڈیا پر پھیلتی برائی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنا ہو گا، اگر اس کا صحیح اور دانشمندی سے استعمال نہیں کیا گیا تو ہمارے اس معاشرے کا تانا بانا بکھر سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم سوشل میڈیا انٹرنیٹ کا استعمال انتہائی دانشمندی سے کریں اور کوشش کریں کہ اس کا استعمال ضرورت کے لئے ہو۔

یہ سب ہمیں نہیں، آپ کو ”خود“ انفرادی سطح پر سوچنا ہے۔ کیونکہ جب آپ اپنی سوچ کے زاویے بدلیں گے تو بہت کچھ بدل جائے گا۔ والدین بھی بچوں کی سوشل میڈیا پر ہونے والی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں تاکہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے کا سبب نہ بنیں۔ سوشل میڈیا کے بارے نوجوانوں میں آگاہی اور اصلاح کے لیے باقاعدہ مہم چلانی چاہیے۔ اور نوجوانوں میں شعور اجاگر کریں کہ وہ خود یہ سوچیں کہ انہیں کس طرف جانا چاہیے۔ یہ نہ ہو کہ بعد میں ان کی بھی میری طرح کانپیں ٹانگ رہی ہوں۔

Facebook Comments HS