قصہ تین درویش اور چوتھی کھونٹ کا سفر


ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک گاؤں میں تین بھائی رہتے تھے۔ ہاں تو اس میں انوکھی بات کیا ہے۔ ؟ بھائی تو کہیں نہ کہیں رہتے ہی ہیں۔ ان بھائیوں میں ایسا کیا الگ تھا کہ جس کا ذکر ضروری ہو۔

تو سنیے، ان بھائیوں کی خصوصیت ایسی محبت تھی جو چشم فلک نے بہت کم دیکھی ہو گی۔ دنیا بھر میں بہن بھائی خون کے رشتے میں بندھے ہونے کے باعث ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں مگر یہ بھائی ایسے تھے جو جسم تو تین رکھتے تھے مگر روح ایک تھی۔ ان میں فرق صرف ناموں کا تھا اور نام میں کیا رکھا ہے یہ تو دنیاوی پہچان کا ذریعہ ہیں۔

تھوڑا اور پیچھے جائیں تو یہ کہانی انیسویں صدی کے اواخر سے شروع ہوتی ہے جب ملک ہندوستان پر ایک ملکہ حکومت کرتی تھی۔ پنجاب کا جنوبی خطہ مردم خیز خطہ ہے جہاں ہر دور میں محنتی اور بہادر لوگ جنم لیتے رہے ہیں۔

بستی لودھراں، لیہ سے چار پانچ کلومیٹر مغرب کی طرف دریائے سندھ کے کنارے آباد ہے۔ ان تینوں بھائیوں کے دادا ملک ولی محمد کی پیدائش 1899 ء کو اسی بستی لودھراں میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی اولاد سے علم کی شمع روشن کی اور اپنے صاحبزادے ملک نور محمد کو کوٹلہ حاجی شاہ سکول بھیج دیا۔ تب بستی لودھراں کے ارد گرد کوئی سکول نہ تھا اس لئے نور محمد کو کوٹلہ حاجی شاہ بھیجنا پرا جہاں سے انہوں نے پرائمری پاس کی اور واپس آ گئے۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد مڈل کا امتحان پاس کیا۔ ان تینوں بھائیوں کے دادا اور والد چھ ماہ کے وقفے سے یکے بعد دیگرے وفات پا گئے۔

اب کہانی چونکہ تینوں بھائیوں تک ان پہنچی ہے تو ان کے نام بھی سن لیجیے تاکہ کہانی کو آگے بڑھانے میں آسانی ہو۔ سب سے بڑے بھائی کا نام ملک اللہ بخش لودھراں، منجھلے کا نام ملک منظور احمد لودھراں تھا اور سب سے چھوٹے کا نام ملک فیض محمد لودھراں۔

ملک اللہ بخش لودھراں 1926 ء میں پیدا ہوئے۔ والد کی وفات کے وقت چونکہ دونوں چھوٹے بھائی صغیر سن تھے چنانچہ بڑے بھائی ملک اللہ بخش نے پرورش کی۔ دونوں چھوٹے بھائی اپنے برادر بزرگ کی بے حد تکریم کرتے تھے، یوں جانیے کہ رب کے بعد بڑے بھائی کا دم بھرتے تھے۔ ملک اللہ بخش نے بھی والد کی وفات کے بعد چھوٹے بھائیوں کو آغوش میں ایسے سمیٹا کہ کبھی کوئی تکلیف ان تک نہ آنے دی۔ ملک اللہ بخش مطالعہ کے شیدائی تھے اور علم حاصل کرنا ان کا جنون تھا۔

ایک دور افتادہ بستی، جس کے چہار جانب دور دور تک کوئی تعلیم یافتہ انسان نظر نہیں آتا تھا، وہاں رہ کر انہوں نے پرائیویٹ ایف اے، بی اے کے بعد ایم اے اردو کیا۔ ان کی شخصیت کی خاص بات یہ تھی کہ چونکہ ان کی اپنی زندگی محنت سے عبارت تھی سو انہیں جدوجہد اور محنت کرنے والے لوگ بہت پسند تھے اور وہ دامے درمے سخنے ایسے لوگوں کی مدد کیا کرتے۔

بستی لودھراں والا، موضع نشیب سمرا کا ایک حصہ ہے اور پورے موضع میں تعلیم حاصل کرنے کے ذرائع نہیں تھے۔ ملک نور محمد نے تعلیم کا سفر شروع کیا تو بڑے بیٹے ملک اللہ بخش لودھراں نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور اردگرد کے لوگوں میں یہ شعور بیدار کیا کہ تعلیم حاصل کر کے ان کے بچے ضائع نہیں ہوں گے بلکہ اچھی زندگی بسر کریں گے۔ اس وقت تو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ بچے تعلیم حاصل کر کے کیا کریں گے خواہ مخواہ وقت ضائع کریں گے۔ ملک اللہ بخش لودھراں نے بڑی بھاگ دوڑ اور کوشش کر کے موضع نشیب سمرا میں لڑکوں کا سکول بنوایا اور اساتذہ تعینات کروائے جن میں استاد خدا بخش کنجال، استاد خدا بخش اعوان اور علی محمد کنجال کے نام شامل ہیں۔

ادارے کا نام لودھراں والا بوائز سکول رکھا گیا۔ سخت گرمی کے موسم میں آموں کے باغات میں کلاسیں لگائی جاتیں۔ اسی بوائز سکول کی پہلی طالبہ ملک اللہ بخش لودھراں کی اپنی بیٹی منیرہ بانو تھیں۔ اعتدال، میانہ روی اور روشن خیالی کا یہ عالم تھا کہ کبھی کسی کے ذہن میں اس سوال نے سر نہ اٹھایا کہ ایک لڑکی اتنے لڑکوں کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ آج ڈاکٹر منیرہ بانو لیہ کی مشہور گائناکالوجسٹ ہیں۔ جب طلباء اور طالبات کی تعداد بڑھی تو موضع سمرا نشیب میں لودھراں والا گرلز سکول بھی کھلوایا۔

کچھ احباب نے سیاسی نقاب لگا کر دونوں سکولوں کے نام تبدیل کروانے کی سرتوڑ کوششیں کیں مگر ناکام رہے۔ اس سکول کے طالب علموں میں کئی ایسے نام ہیں جو بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوئے۔ ملک اللہ بخش لودھراں کو تعلیم بانٹنے کا جنون تھا۔ وہ اپنی بیٹھک میں طلباء کو گروپوں کی شکل میں پڑھاتے۔ اس زمانے میں ٹیوشن فیس کا تصور بھی نہیں تھا۔ ملک اللہ بخش ایک جملہ کہا کرتے تھے جس کا انہوں نے ساری عمر پاس رکھا۔ وہ جملہ یہ تھا کہ علم بیچنے کی نہیں بانٹنے کی چیز ہے۔

انہوں نے ہمیشہ علم بانٹا۔ وہ غریب طلباء کے دسترخوان کا بھی انتظام کرتے۔ اپنے اور اپنے خاندان کے بچوں کے ساتھ ساتھ علاقے کے بچوں میں علم کی لگن پیدا کرنا ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے نزدیک اشتراکیت کتابی فلسفہ نہیں بلکہ زندگی کا روزمرہ ہوتی ہے۔ ملک اللہ بخش کے باورچی خانہ میں کبھی صرف گھر والوں کے لیے نہیں پکایا گیا بلکہ ہمیشہ پانچ سات مہمانوں کا خیال رکھ کر کھانا تیار کیا جاتا۔ کبھی آرٹیفیشل دسترخوان نہ سجا۔ دال، روٹی، سبزی، گوشت جو ہے حاضر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہمان داری کبھی بوجھ نہ بنی۔

والد کی وفات کے بعد ملک اللہ بخش پر چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری بھی آ گئی جسے انہوں نے ایسی محبت اور محنت سے نبھایا کہ کبھی باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی اور دونوں بھائیوں نے بھی کبھی ان کے سامنے آواز بلند کرنا تو دور کی بات آنکھ تک نہ اٹھائی۔ منجھلے بھائی جو ڈاکٹر تھے، ایک واقعہ اکثر سنایا کرتے کہ ایک بار نشتر میڈیکل کالج میں دوران تعلیم کسی پروفیسر کے رویے سے دل گرفتہ ہو کر گھر آ گئے اور اعلان کیا کہ وہ مزید تعلیم حاصل نہیں کریں گے۔

پروفیسر صاحب نے ان کے تعلیمی کیریئر کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ رات ہو چکی تھی بڑے بھائی نے کہا اب سو جاؤ صبح بات کریں گے۔ صبح ناشتے کے بعد بڑے بھائی نے منجھلے کو ساتھ لیا اور کھیتوں میں چلے آئے۔ سامنے ہل پڑا تھا، اس کے طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”یا اپنے دماغ کو ٹھنڈا کرو اور واپس جا کر ڈگری مکمل کرو یا یہ ہل اٹھاؤ کھیت سامنے ہے۔ پھر ساری زندگی یہی ہے۔“ منجھلے بھائی کا غصہ تب تک ٹھنڈا ہو چکا تھا، دو دن گھر گزار کر خاموشی سے نشتر واپس آیا اور تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔

اب ڈاکٹر منظور احمد لودھراں کی کہانی بھی سن لیجیے۔ یہ کہانی آپ تک انہی ڈاکٹر منظور احمد لودھراں کی سب سے بڑی بیٹی کی زبانی پہنچ رہی ہے۔ ابو جان 8 جون 1936 ء کو پیدا ہوئے۔ لودھراں والا سکول سے پرائمری تعلیم مکمل کر کے ابو جان گورنمنٹ ہائی سکول لیہ آ گئے اور ہاسٹل میں رہنے لگے۔ دوران تعلیم پرائمری، مڈل اور میٹرک میں وظائف حاصل کیے ۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد ڈیرہ غازی خان سے ایف ایس سی کی اور نشتر میڈیکل کالج ملتان میں داخلہ لے لیا۔

1962 ء میں ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ ابو جان نہایت حساس دل کے مالک تھے۔ ان دنوں صوبہ سرحد میں ڈاکٹرز کی شدید قلت تھی۔ سرحد حکومت نے وفاق سے ڈاکٹرز مانگے جو وہاں کام کر سکیں تو ابو جان نے خود کو پیش کر دیا۔ ان کی پہلی پوسٹنگ پرووا ہوئی۔ اس کے بعد پہاڑ پور اور پھر میران شاہ تعینات رہے۔ میری یادداشتوں میں میران شاہ کا ہسپتال اور گھر خوب محفوظ ہیں۔ اپنے کام سے انتہائی مخلص، ان تھک، بہادر جدوجہد کے عادی اور سخت محنتی باپ کی سب سے پہلی اولاد ہونا میرے لئے اعزاز ہے۔ چھ فٹ سے نکلتا قد، سانولا سنہرا رنگ، ذہانت لنڈھاتی روشن آنکھیں اور بالوں کا مخصوص انداز اپنے وقت کے ہیرو تھے میرے والد۔ 1973 ء تک صوبہ سرحد میں خدمات سرانجام دینے کے بعد پنجاب واپس آ گئے۔

فیض محمد لودھراں 20 ستمبر 1939 ء کو پیدا ہوئے۔ 1951 ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول لیہ میں چھٹی جماعت میں داخلہ لیا اور 1956 ء میں میٹرک کیا۔ پرائمری، مڈل، میٹرک اور ایف ایس سی میں سکالر شپ حاصل کیے ۔ ایف ایس سی اور بی ایس سی (آنرز ) ایمرسن کالج ملتان سے کیا۔ 1960 ء میں ایمرسن کالج سے بی ایس سی آنرز کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے، وہاں سے ایم ایس سی فزکس کیا۔ ان دنوں لیکچررز کی شدید قلت تھی۔ تین سال لیکچرر شپ کے بعد 1965 ء کی جنگ سے پہلے پاکستان ایئرفورس کی ٹیکنیکل برانچ میں شمولیت اختیار کی اور Cranfield UK سے 1978 ء میں ایم ایس سی ایروناٹیکل انجینئرنگ کی۔

دوران سروس فرانس، انگلینڈ اور امریکہ سے کورسز کیے اور تمغہ امتیاز اور ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا۔ سعودی ائر ہیڈ کوارٹر میں 1981 ء سے 1984 ء تک خدمات سرانجام دیں۔ تیس سال کی سروس کے بعد 1995 ء میں ائر کموڈور کے رینک سے ریٹائر ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد چار سال شاہین فاؤنڈیشن میں کام کیا۔ سیسل چوہدری (ستارہ جرات) ان کے سینئرز میں سے تھے۔

دوران تعلیم تینوں بھائیوں کو مالی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ زمین تقریباً تیس ایکڑ تھی جو ایک چھوٹے خاندان کی گزر بسر کے لئے کافی تھی لیکن دو بچوں کو ہاسٹل میں پڑھانے کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ سب سے مشکل وقت 1956 ء کا تھا جب تینوں بھائی گھر سے دور چلے گئے۔ ملک اللہ بخش لودھراں بی ٹی کرنے لاہور، ڈاکٹر منظور احمد لودھراں نشتر میڈیکل کالج ملتان اور فیض محمد لودھراں ایمرسن کالج ملتان میں تھے۔ 1961 ءمیں آبائی بستی دریا برد ہو گئی اور یہ خاندان لیہ منتقل ہو گیا۔

لیہ تھل ہسپتال اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال جو بعد میں ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال بنا ڈاکٹر منظور احمد لودھراں کی انتظامی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

عوامی خدمت ان کا جنون تھا۔ وہ جانتے تھے کہ سرکاری ملازمت میں رہ کر اپنے علاقے کے لئے وہ کام نہیں کر سکتے جو کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ 1982 ء میں ازخود ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس وقت ابو جان ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایم ایس تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے لیہ شہر میں پہلے باضابطہ پرائیویٹ ہسپتال کی بنیاد رکھی۔ عمران ہسپتال لیہ ان کے خوابوں کی تعبیر ہے۔

مسلم لیگ سے جذباتی وابستگی تھی اسی لئے اس کو چنا پھر اس راہ پر چلتے ہوئے کبھی کانٹوں کی پروا نہ کی۔ لیہ کو ضلع کا درجہ دلانے میں ان کی سرتوڑ کوششوں سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اس سلسلے میں انہوں نے دن رات کام کیا۔ ہمارے ہاں ایک بہت بڑا مسئلہ لاعلمی اور شکوک شبہات کا رویہ ہے۔ لوگوں کو ان کے اپنے فائدے کی بات سمجھانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کے لئے سب سے مشکل بات لوگوں میں یہ شعور بیدار کرنا تھا کہ اس کی ضرورت کیا ہے۔

ان دنوں تحصیل لیہ کا ضلع مظفرگڑھ تھا۔ وہ لوگوں کو بٹھا بٹھا کر سمجھاتے کہ خدا کے بندو! ضلع بننے سے تمہارے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے۔ ڈی سی آفس، ایس پی آفس، سیشن کورٹ اور دوسرے دفاتر تمہیں یہیں میسر ہوں گے۔ ابھی ہر چھوٹے چھوٹے کام کے لیے مظفرگڑھ جانا پڑتا ہے مگر تب لوگوں میں اتنا شعور نہ تھا کہ مظفرگڑھ جانے میں کیا برائی ہے۔ ابو جان بتایا کرتے کہ میں نے یہ مشکلات دیکھی ہیں۔ جب سرکاری ہسپتال کے عدالتی معاملات کے لیے مجھے ہر وقت مظفرگڑھ جانا پڑتا تھا تو پورا ہسپتال چند نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کے سپرد ہوتا۔

یہ وہ وقت تھا جب شہر اور مضافات کے علاقے ایک ہسپتال اور ڈاکٹر پر انحصار کرتے تھے۔ کسی اچانک حادثے کی صورت میں ڈاکٹر کی غیر موجودگی تکلیف دہ ہوتی تھی۔ خیر بڑی جدوجہد کے بعد لیہ کو ضلع کا درجہ ملا اور کئی مسائل حل ہوئے مگر مسائل کو حل کی طرف لانے والے خاموشی سے ایک طرف ہو کر فیض بانٹنے میں مشغول رہے۔

لیہ کو مستقل مسکن بنانے کے ارادہ کیا تو سامنے بہت آسان اور خوبصورت راستے تھے۔ شاندار مستقبل، روپیہ پیسہ، بچوں کی اعلیٰ تعلیم، خوبصورت زندگی۔ کئی مرتبہ ابو کو حکومت کی طرف سے ایران اور لیبیا جانے کی پیشکش ہوئی مگر ہمیشہ انکار کر دیا۔ ان کے ڈاکٹر دوستوں نے بڑے شہروں میں پریکٹس کرنے کا مشورہ دیا تو ہمیشہ نہایت محبت اور مان سے منع کر دیا۔ وہ کہتے تھے ان شہروں میں کام کرنے والے بہت ہیں میرا علاقہ اور یہاں کے لوگ بہت پسماندہ ہیں اگر میں انہیں چھوڑ گیا تو کون ان کے لیے کام کرے گا۔

ابو جان کے کلاس فیلوز اور بہترین دوستوں میں ایسے نام شامل ہیں جنہوں نے اپنے کام میں کمال حاصل کیا۔ نشتر میڈیکل کالج کا یہ batch کمال تھا۔ ابو جان کے دوست اور کلاس فیلوز میں ڈاکٹر راشد لطیف، ڈاکٹر عطا اللہ مرحوم، ڈاکٹر نگہت عطا اللہ، ڈاکٹر افتخار راجہ مرحوم، ڈاکٹر پیر بخش (ڈیرہ غازی خان ) ، ڈاکٹر منور ذہین سابق پرنسپل نشتر میڈیکل کالج، ڈاکٹر صغریٰ (راولپنڈی ) ، ڈاکٹر رشید سیال، ڈاکٹر اکبر نیازی اور بہت سے دوسرے شامل ہیں۔ یہ وہ نام ہیں جن کا ذکر ہمارے گھر میں ہمیشہ رہتا تھا۔

ابو جان کی ساری زندگی محنت و مشقت کی مثال ہے۔ وہ پیدائشی طور پر زندگی اور زندگی کے مسائل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے کے عادی تھے۔ حالات و مشکلات کے سامنے ہتھیار ڈالنا ان کی سرشت میں نہیں تھا۔ وقت کے فراعین کو نہ صرف ڈٹ کر للکارتے بلکہ ان کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتے۔ ہم نے کبھی انہیں ہار مانتے نہیں دیکھا۔ اپنے وقت پر علاقے کے واحد ڈاکٹر تھے۔ لیہ میں آنے والے انتظامی افسران اور ان کے خاندان کے واحد معالج ہوتے مگر کسی تعلق سے فائدہ اٹھانے کا تصور بھی ان کے لیے گناہ کبیرہ تھا۔

ان کا یہی بہادرانہ رویہ زندگی کے آخری دنوں میں بیماری کے دوران بھی برقرار رہا۔ انہوں نے بیماری سے مسلسل ایسی جنگ لڑی کہ موت کو بھی پانچ ماہ سوچنا پڑا کہ ایسے بہادر کو زندگی سے کیسے چھینا جائے۔ چار ماہ دس دن اتفاق ہسپتال لاہور کے آئی سی یو میں موجود ڈاکٹرز نرسیں اور دوسرا عملہ حیران تھا کہ ایک کے بعد دوسری بیماری ان پر حملہ کرتی ہے اور وہ اپنے مخصوص شرارتی انداز میں چکمہ دے جاتے ہیں۔ ہسپتال کے ڈاکٹرز اور عملے کو ان سے اتنی انسیت اور جذباتی وابستگی ہو گئی تھی کہ وہ علاج کے ساتھ ساتھ ان کے لئے اولاد کی طرح دعائیں کرتے۔

جب ان کے دوست احباب ان سے ملنے آتے اور ان کی زندگی اور کارناموں کے قصے سناتے تو وہ حیرت زدہ رہ جاتے کہ کوئی انسان اتنا بے غرض بھی ہو سکتا ہے۔ نہ نام و نمود کی خواہش نہ کوئی واہ واہ اور نہ کسی صلے کی پروا۔ سب کی خواہش تھی کہ ڈاکٹر صاحب صحت سلامتی سے اپنے گھر لوٹیں تو ہم سب جشن منائیں۔ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ نجانے کتنی دعائیں تھیں کہ ہم نے کبھی ایسا مریض نہیں دیکھا جو موت کی سرحد سے بار بار واپس آ جاتا تھا۔ مگر موت سے کس کو رستگاری ہے۔ اپنی تمام کوششوں کے باوجود ہم سب حکم الہٰی کے پابند ہیں

ان کی وفات صرف ہمارے یا ہمارے خاندان کے لیے ہی نہیں بلکہ لیہ کے ہر گھر کے لیے سانحہ تھی۔ لوگ آ کر ہم سے تعزیت کرتے ہوئے ہمیں سے پرسہ مانگتے کہ آج ہم یتیم ہو گئے ہیں۔ کتنے لوگوں نے کہا ہمارے بچوں کی تعلیم کا خرچ ڈاکٹر صاحب اٹھاتے تھے۔ کتنوں کے گھروں میں راشن کا انتظام خاموشی سے ہو جاتا۔ کتنے یتیم بچے سر پٹک پٹک کر روئے کہ آج ہم پھر یتیم ہو گئے ہیں۔ غریب مریضوں کے صرف علاج ہی نہیں آپریشن تک مفت کرتے اور جاتے ہوئے دو اؤں کے علاوہ پیسے بھی دیتے کہ اچھی خوراک کھانا تاکہ جلد صحت یاب ہو سکو۔

میڈیکل سٹورز کے مالکان کا کہنا تھا ہمیں ایک چھوٹا سا نشان بتایا ہوا تھا کہ جس پرچی پر یہ نشان ہو اس مریض سے رقم نہ لینا میرے حساب میں لکھ دینا۔ ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو کھاتہ دیکھ کر خاموشی سے تمام رقوم میڈیکل سٹور والے کو ادا کر دیتے۔ ہر ایک کا پردہ رکھتے کہ کسی کی آنکھ نہ جھکے۔ پولیس مقابلوں میں زخمی ڈاکو ہسپتال لائے جاتے۔ ان کے جسموں میں پیوست گولیاں نکال کر زخم سیتے بھرپور توجہ سے علاج کرتے۔ کہا کرتے مسیحا کا کام زخم سینا ہے زخم کریدنا نہیں۔ ہمارا کام انسانی جان بچانا ہے باقی کام پولیس جانے یا عدالت۔

الیکشن میں اگر اپنی پارٹی جیت جاتی تو اعلان ہوتے ہی مخالف امیدوار سے ملتے، گلے لگاتے اور کہتے آپ نے بہت ہمت کی ہار جیت زندگی کا حصہ ہے۔ اپنی پارٹی ہار جاتی تو مٹھائی لے کر جاتے اور پورے خلوص مبارکباد دیتے۔ وہ ان سیاست دانوں میں سے تھے جنہوں نے ہمیشہ اپنی جیب سے پارٹی کے لیے خرچ کیا، کبھی کسی کا احسان نہیں اٹھایا۔ اپنے بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے جب تک سیاست میں رہے کسی بچے کو سرکاری ملازمت نہیں کرنے دی۔ کہا کرتے میں جانتا ہوں تم سب میرٹ پر آؤ گے مگر میں کسی کو موقع نہیں دینا چاہتا کہ ہم پر انگلی اٹھائے۔ تاحیات مسلم لیگ (ن) ضلع لیہ کے صدر رہے۔ ان کے بدترین مخالف بھی ان کا نام عزت اور احترام سے لیتے ہیں۔

ابو جان کی نماز جنازہ بھی تاریخی تھی۔ شدید رش کے باعث بہت سے لوگ فیملی پارک نہ پہنچ سکے۔ نماز جنازہ شروع ہوتے ہی جو جہاں تھا اس نے وہیں نیت باندھ لی۔ ان کی قل خوانی مسجد میں رکھی گئی۔ دن بھر لوگوں کا اژدھام رہا۔ دن ڈھلے بھائی عمران اور باقی عزیز و اقارب باہر آئے تو دیکھا باہر کچھ مسیحی بھائی موجود تھے جو چک نمبر 270 ٹی ڈی اے لیہ سے آئے تھے۔ انہوں نے کہا ڈاکٹر صاحب ہمارے لیے بہت محترم تھے انہوں نے ہمیشہ ہمارے مسائل حل کیے ہمیں سینے سے لگایا ہمیں ہمیشہ اپنا بھائی کہا بھی اور سمجھا بھی۔ ہم ان کے لیے چرچ میں دعا کروانا چاہتے ہیں آپ کی اجازت اور شرکت کے خواہش مند ہیں۔ عمران نے کہا بسر و چشم۔

2005 ء کا زلزلہ آیا تو عمران ان دنوں نشتر ہسپتال میں ریزیڈنسی کر رہا تھا۔ اس نے کہا وہ نشتر کی رضا کار ٹیم کے ساتھ سوات جانا چاہتا ہے۔ ہم تینوں بہنیں پریشان تھیں۔ ہم تینوں کے بعد اللہ تعالی نے اسے ہماری ماں کی گود میں ڈالا تھا اور قدرتی بات ہے کہ ہم سب کی جان اس میں ہے۔ ہمارا خیال تھا ابو جان اسے شاید اجازت نہیں دیں گے مگر ہماری حیرت کی انتہا نہ رہی جب انہوں نے نہایت خوش دلی سے کہا ”بالکل جاؤ وہاں تمہاری ضرورت ہے اور اگر محسوس کرو کہ میرے کرنے کے لئے کوئی کام ہے تو ایک فون کر دینا میں فوراً آ جاؤں گا۔ ابھی ان ہاتھوں میں اتنا دم ہے زخم سی سکیں۔“ اپنے بزرگوں سے ہم نے جو اثاثہ لیا ہے اس میں دردمندی سرفہرست ہے۔ انسانیت سب سے پہلے ہے ہمیں فخر ہے ہم ایسے شاندار لوگوں کی اولاد ہیں۔

ملک اللہ بخش لودھراں، ڈاکٹر منظور احمد لودھراں اور ملک فیض محمد لودھراں، تینوں بھائیوں کی محبت کی مثالیں سارا زمانہ دیتا ہے۔ ایسی بے غرض محبت خال خال ہی نظر آتی ہے۔ تینوں بھائی انتہائی روشن خیال تھے۔ خواتین کی فلاح و بہبود کے سخت حامی اور اپنے خاندان کی خواتین کی تعلیم و ترقی پر بہت توجہ دینے والے۔ بیٹیوں کی شخصیت میں اعتماد اور اپنی شاندار روایات کا پاس ان کی تربیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیہ جیسے چھوٹے شہر میں آج سے تیس سال پہلے بھی انہوں نے بیٹیوں پر علم و آگہی کے دروازے کھولے۔

ملک اللہ بخش لودھراں کی دو بیٹیاں ڈاکٹر منیرہ بانو اور ڈاکٹر نازش فاطمہ گائناکالوجسٹ ہیں اور بیٹا عمیر فارسٹ افسر ہے۔ ڈاکٹر منظور کو اللہ تعالی نے یکے بعد دیگرے تین بیٹیوں سے نوازا اور پھر دو بیٹے عطا کیے مگر پورا علاقہ گواہ ہے کہ انہوں نے کبھی بیٹوں اور بیٹیوں میں فرق نہیں جانا۔ میں نبیلہ عصمت ان کی بڑی بیٹی ہوں، جب میں نے ان سے ادب پڑھنے کی اجازت مانگی تو انہوں نے ایک شرط پر اجازت دی کہ میں پی ایچ ڈی ضرور کروں گی۔

مجھ سے کہا ”میں ہر صورت تمہارے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا دیکھنا چاہتا ہوں۔“ وقت کی گھمن گھیریوں نے ایسا الجھایا کہ ان کی یہ خواہش میں ان کی زندگی میں تو پوری نہ کر سکی مگر اب جونہی فرصت بہم ہوئی ہے تو میں الحمدللہ پی ایچ ڈی کر رہی ہوں۔ کورس ورک مکمل ہے اور اب مقالے کی تیاری میں مصروف ہوں الحمدللہ۔ ان کی دوسری بیٹی ڈاکٹر فوزیہ ندرت مشہور گائناکالوجسٹ ہے۔ خدا نے اس کے ہاتھ میں بھی والد کی طرح شفا رکھی ہے اور ویسا ہی دردمند دل دیا ہے۔

عالیہ نکہت سب سے چھوٹی بیٹی ہے۔ اردو ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور محکمہ تعلیم میں ضلعی انتظامی افسر کے طور پر فرائض سرانجام دیتی ہیں۔ ڈاکٹر عمران منظور لودھراں مشاق سرجن ہے۔ سات سال سروسز ہسپتال لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر رہنے کے بعد نشتر ہسپتال میں تعینات ہے۔ ابو جان کی طرح اس کے ہاتھوں میں بھی جادو ہے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ چھوٹا ہونے کے باوجود والد صاحب کی وفات کے بعد پورے گھر کو ایسے سمیٹ رکھا ہے کہ دل سے دعائیں نکلتی ہیں یا رب ایسے بھائی ہر بہن کو دے۔ احمد عدنان لودھراں گھر کا سب سے چھوٹا بچہ اب خود تین بچوں کا باپ ہے۔ وہ ادویات کا بزنس بڑی کامیابی سے چلا رہا ہے الحمدللہ۔

ملک فیض محمد لودھراں کے دونوں بیٹے عامر اور یاسر انجینئر ہیں جبکہ بیٹی ارم فیض ڈاکٹر ہیں۔ عامر ان دنوں ملتان کی ایک بڑی ٹیکسٹائل مل کے جنرل مینیجر ہیں جبکہ یاسر فیض ٹیلی کمیونیکیشن انجینئرنگ کرنے کے بعد آسٹریلیا میں ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ارم فیض نے ماسٹر آف سائنس ان پبلک ہیلتھ اور ایم سی پی ایس ان فیملی میڈیسن کر رکھا ہے۔

زندگی کا سفر جاری ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے۔ قصہ گو کو اب اجازت دیجئے۔ بڑے دونوں بھائی ملک اللہ بخش لودھراں اور ڈاکٹر منظور احمد لودھراں اللہ کے حضور پیش ہو چکے۔ ان کے لئے مغفرت کی دعا کے ساتھ ساتھ یہ بھی دعا ہے کہ اللہ تعالی فیض انکل کا سایہ ہم سب پر سلامت رکھے اور ہم سب ان کے ساتھ اپنے بچوں کی خوشیاں اور کامیابیاں دیکھیں۔ آمین

مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیم
تونے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے

Facebook Comments HS