فادرز ڈے


اماں ابا کی شادی پچاس کی دہائی کے آخر میں ہوئی۔ ابا گریجویٹ تھے اور اماں کبھی سکول بھی نہیں گئی تھیں۔ قرآن پڑھنا جانتی تھیں اور اسی توسط سے اردو کی بھی معمولی شد بد تھی۔ لکھ نہیں سکتی تھیں اور دستخط کی جگہ انگوٹھا لگاتی تھیں۔ ابا نے انہیں اردو لکھنا سکھایا انگریزی کے حروف تہجی کی پہچان کروائی اور ساتھ ہی اردو اور انگریزی میں ان کا نام لکھنے کی مشق بھی کروائی تاکہ وہ کاغذات پر اپنے نام کے دستخط کیا کریں۔ اماں نے کہا کہ انہیں انگریزی میں نام لکھتے شرم محسوس ہوتی ہے اس لیے وہ اردو میں ہی دستخط پر اکتفا کریں گی۔

سادہ خاتون تھیں گھر سے باہر نکلنا پسند نہیں کرتی تھیں مگر آہستہ آہستہ ابا کی بدولت انہوں نے تھوڑا حساب کتاب سیکھا، بینک اکاؤنٹ کھلوایا، گھر کے خرچے کا بجٹ بنایا کرتیں، شروع میں گھبراتی تھیں پھر آہستہ آہستہ عادت ہو گئی۔

مہینے کے آخر میں پیسے بچا کر کچھ رقم جوڑ لیتیں تو ابا ان کے نام سے مختلف قومی بچت کی سکیموں کے سرٹیفیکیٹ یا شیئرز لا کر انہیں دیتے اور یہ بھی سکھاتے کہ کس طرح ان کا منافع آتا ہے۔ اماں کہتی تھیں کہ انہوں نے جو پیسے ان کے ہاتھ میں تھمائے کبھی ان کا حساب نہیں مانگا۔ بلکہ بھائی بڑے ہوئے تو کہا کرتے کہ بھئی اب تمہارے بچے بڑے ہو گئے ہیں ان پر ذمہ داری ڈالو تمہیں میری ضرورت نہیں ہونی چاہیے، ان سے بینک میں پیسے جمع کرواؤ اور اپنے پیسوں کا خود دھیان رکھو۔ بچوں کو بھی روزانہ کے بجائے ماہانہ جیب خرچ دیا کرو اور انہیں بھی یہ سب سکھاؤ۔

ہم بہن بھائی کبھی ابا کے ساتھ بیٹھے ہوتے تو ابا اماں کی بہت تعریف کیا کرتے، ہم سے کہتے کہ دیکھو میری اوسط آمدنی میں تمہاری اماں کس قدر سلیقے سے گھر چلاتی ہیں، ان سے سیکھا کرو۔ اماں آس پاس ہی کام کر رہی ہوتیں، اور مجھے یہ سب بہت اچھا لگتا تھا۔

ہمارے ایک رشتے کے ماموں سعودی عرب سے پاکستان شفٹ ہوئے اور اپنا بزنس شروع کیا، انہیں کچھ رقم کی ضرورت تھی اور اماں سے انہوں نے اس بات کا ذکر کیا۔ اماں نے ان سے کہا کہ وہ انہیں یہ رقم دینے کو تیار ہیں مگر وہ پارٹنر شپ کرنا چاہتی ہیں، نفع نقصان دونوں برداشت کریں گی منافع رقم سے کم لیں گی کیونکہ محنت ان کی نہیں ہو گی۔ اور اصل رقم وہ جتنے عرصے بعد واپس کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ ماموں نے بخوشی انہیں اپنا بزنس پارٹنر بنا لیا۔ میں بہت چھوٹی تھی مگر یاد ہے کہ ابا بہت خوش ہوئے تھے اور اماں کی بہت ہمت بندھائی تھی۔ مذاق میں کہا کرتے کہ ارے آپ کی والدہ تو بزنس ویمن بن گئی ہیں۔

یہ ابا ہی تھے جن کی حوصلہ افزائی اور دیے اعتماد کی بدولت اماں ہمیشہ خود انحصار اور خود کفیل رہیں۔ اپنے مکان کے کرائے کا حساب خود رکھتیں، یادداشت اچھی تھی اور حساب کتاب میں طاق ہو گئی تھیں۔ ابا ہنستے اور اماں سے کہتے تھے کہ آپ کو تو اکاؤنٹنٹ ہونا چاہیے تھا مجال ہے کہ کوئی پیسہ یہاں وہاں ہو جائے۔

میں چھوٹی تھی تو یاد ہے کہ ایک دفعہ ابا نے کچھ کاغذات میرے سامنے رکھے اور کہا ان پر دستخط کر دو، میں نے پین اٹھا کر دستخط کر دیے تو کہنے لگے کہ ”پڑھا تھا کہ کیا لکھا ہے ان کاغذات پر؟“

میں نے کہا، ”نہیں“ ۔
کہنے لگے، ”پڑھا نہیں تو دستخط کیسے کر دیے؟ کیا پڑھنا نہیں جانتیں؟“
میں نے کہا ابا آپ نے دیے اس لیے!
کہنے لگے، ”میں کچھ بھی کاغذ دے دوں گا تو تم بغیر جانے بغیر پڑھے دستخط کر دو گی؟“

پھر آرام سے سمجھایا کہ یاد رکھو! کبھی بھی کوئی بھی بشمول میرے تمہیں کوئی بھی دستاویز دے ان پر پڑھے بغیر کبھی دستخط نہیں کرنا۔ اور اس میں کوئی شرم محسوس کرنے یا لحاظ کرنے کی ضرورت نہیں۔

میں بہت شرمندہ ہوئی اور اس کے بعد جب بھی وہ کوئی سرٹیفیکیٹ یا پیپر دیتے میں کہتی کہ ابا آپ رکھ دیں میں پڑھ کر سائن کر کے آپ کو دیتی ہوں۔ اور وہ سر پر ہاتھ پھر کر مسکرا کر شاباش دیتے۔

زندگی کی کتنی ہی سیکھ ہیں جو ہمیں اپنے ابا سے ملیں اماں کہتی تھیں کہ ابا ان کا فخر اور غرور تھے جنہوں نے انہیں سر اٹھا کر جینا سکھایا۔ انہیں اس قابل بنایا کہ وہ ساری زندگی اپنی اولاد سمیت کبھی کسی پر معاشی طور سے بوجھ نہیں بنیں۔

کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ کچھ کام کرتے یہ خیال نہ آئے کہ ارے یہ تو ہم نے اپنے ابا سے سیکھا تھا۔ فادرز ڈے آیا تو خیال آیا کہ یہ دن تو محض ایک بہانہ ہے کچھ یادیں تازہ کر لینے کا کچھ عہد اپنے آپ سے باندھ لینے کا کہ تربیت کے کچھ گن بھی اگر اگلی نسل تک پہنچا سکیں تو شاید یہ زندگی رائیگاں نہیں!

Facebook Comments HS

One thought on “فادرز ڈے

  • 21/06/2022 at 10:15 صبح
    Permalink

    واہ کیا بہترین سبق آموز تحریر لکھی ہے۔ میں نے پکا تہیہ کرلیا کہ آج سے ہی اپنی وائف کو لکھت پڑھت سکھانے کی سرتوڑ کوشش کرونگا تاکہ وہ آپ کی ولدہ کی طرح سرخرو زندگی گزارسکے۔ بہت بہت شکریہ آپ کا۔

Comments are closed.