پاکستان میں جمہوری سیاسی بحرانوں کی وجوہات


پاکستان اور بھارت کے متعلق کہیں لکھا پڑھا تھا کہ ”بھارت کے عوام اپنے ملک سے اتنی محبت نہیں کرتے جتنا بھارتی حکمران کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس پاکستانی عوام اپنے ملک سے بے پناہ محبت کرتے ہیں لیکن حکمران نہیں کرتے“

کسی حد تک یہ تجزیہ درست بھی ہے، دونوں ممالک نے 14۔ 15 اگست 1947 کو عین ایک ہی وقت میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ دونوں ممالک کو ایک رواں حکومتی انتظامی ڈھانچہ، سول سروس، فن تعمیر، مواصلات، ذرائع ابلاغ، ڈاک سسٹم اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک برقرار برطانوی ریل اور روڈ سسٹم وراثت میں ملا۔

دونوں ممالک میں برطانیہ راج سے آزادی کی جدوجہد کرنے کی بدولت تجربے کار مضبوط سیاسی شخصیات (جناح، نہرو، گاندھی، باچا خان دیگر) اور سیاسی جماعتیں بھی موجود تھیں جنہیں بھرپور عوامی حمایت بھی حاصل تھی۔ دونوں ممالک نے اپنے اپنے آئین بنائے اور برطانوی طرز کے پارلیمانی نظام کا انتخاب کیا۔

لیکن اب سات دہائیوں کے بعد ہندوستان ایک مضبوط معیشت ہے جبکہ پاکستانی معیشت تباہی کا شکار ہے، اور ملک کو چلانے کے لیے بیرونی امداد کی ضرورت رہتی ہے۔

پاکستانی سیاست کے آغاز سے اب تک مذہبی طاقتوں، عسکری قوتوں اور سرمایہ دارانہ سیاسی اشرافیہ نے اپنی طاقت کے مطابق اثر بنائے رکھا ہوا ہے۔

تقسیم ہند کے وقت پاکستانی سیاسی اشرافیہ کا طبقاتی ڈھانچہ جاگیردارانہ طبقاتی نظام پر مبنی تھا۔ اس طبقاتی نظام کی وجہ سے اسی اعلیٰ طبقے نے کمزور طبقات کو ہمیشہ ہی دیوار سے لگائے رکھا اور محنت کش طبقے کی حکومتوں میں شمولیت کے راستوں کو روکنے کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے جس کی مثال مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش) اور مغربی پاکستان میں دو مختلف طبقات کے ہونے کی وجہ سے اتفاق رائے کا فقدان رہا اور یہ غیر فطری رشتہ مزید آگے نہ بڑھ سکا اور یوں ایک ہی مذہب کے ماننے والے دو مختلف طبقات ایک پیج پر متفق نہ ہو سکے اور بنگلہ دیش وجود میں آیا۔

بنگلہ دیش وجود میں آنے سے صرف پچاس سال بعد ہی ترقی کی پٹری پر پاکستان سے زیادہ تیز رفتار میں سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ لیکن پاکستان میں جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور آمروں نے کوئی بھی ترقی اور ملکی وسائل عوام کی اکثریت تک پہنچے ہی نہیں دیے۔ اس طرح اس طبقاتی نظام کی سخت نوعیت نے پاکستان کو تعلیمی اور معاشی ترقی سے روک دیا ہے اور پاکستان کو طبقاتی ڈھانچے میں جکڑ دیا ہے جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

پاکستان میں سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کے بے دریغ استعمال نے بھی پاکستانی عوام کو جمہوریت سے مستفید ہونے سے روکے رکھا۔ کیونکہ مسلمان اکثریتی ملک ہونے کی وجہ سے اکثریتی عوام اسلامی سیاسی نظام یا شریعہ قوانین کے نفاذ کے حق میں ہیں۔ چونکہ اسلامی سیاسی نظام میں حکمران کے چناؤ کا طریقہ کار جمہوریت کے مطابق نہیں ہے اسی لیے مقتدر قوتیں اسلامی نظام کے نفاذ کا جھانسہ دے کر عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب بھی رہے اور اقتدار پر قابض بھی رہے۔

پاکستانی مقتدر قوتوں نے جمہوریت کے ساتھ ”اسلامی“ لکھ کر ملک پاکستان میں سرمایہ دارانہ سیاسی ڈھانچے کو اس قدر مضبوط کر لیا کہ عام آدمی مقتدر قوتوں کو آزما آزما کر دن بدن صرف مایوسی کی لپیٹ میں زندہ رہے زندہ ہیں۔ غیر جمہوری قوتوں کی اقتدار میں مداخلت اور شرارتوں کی وجہ سے ملک میں جمہوریت حقیقی معنوں میں پنپنے ہی نہیں دی گئی۔

پاکستانی مقتدر قوتوں نے پاکستانی عوام کے ذہنوں کو مسائل کے حل کی جانب سوچنے، سمجھنے سے روکنے کے لئے ہر وہ اقدام کیا جس کی قطعاً ضرورت نہیں تھی۔

چونکہ میرا ماننا یہ ہے کہ آمریت کبھی بھی عوام کے لئے فلاحی نہیں ہو سکتی آمر ناکارہ گورنس کی وجہ سے پیدا ہونے والے معاشی بحران سے دیوالیہ پن کی درمیانی پوزیشن میں معیشت کو رواں رکھنے کے لئے غیر ملکی امداد کا محتاج ہوجاتا ہے۔ جیسے 1979 میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے اور اس کے بعد سوویت یونین سے لڑنے کے لیے غیر ملکی قوتوں نے جنرل ضیاء الحق کی ظالمانہ فوجی آمریت کو امداد کی صورت میں سہارا دیا۔

اگر امریکہ اس جنگ میں ملوث نہ ہوتا تو جنرل ضیاء الحق کی ناقص گورننس کو جلد گرا دیا جاتا یوں ممکن تھا کہ پاکستان کی جمہوریت واپس آ چکی ہوتی۔ یہی عمل تب بھی دہرایا گیا جب نائن الیون کے حملوں کے بعد امریکا نے پرویز مشرف کے اقتدار کو سہارا دینے کے لئے اربوں ڈالر امداد دی۔ اور بدلے میں اپنے مفادات کے لئے پاکستان اور پاکستانیوں کا استعمال کیا۔

ایسا نہیں ہے کہ صرف عسکری آمروں نے ہی اقتدار کو طوالت دینے کے لئے درکار غیر ملکی امداد کا سہارا حاصل کرنے کے لئے غیر ملکی پنگوں میں ملک جھونک دیا بلکہ خود کو جمہوری کہنے والی سرمایہ دارانہ سیاسی اشرافیہ نے بھی اسی فارمولے کو اپنائے رکھا۔

سوویت یونین کے خلاف جنگ کو اسلام کی جنگ بنانے میں مذہبی طاقتوں نے آمروں اور سیاسی قوتوں دونوں کا ساتھ دیا۔ لیکن اس کے برعکس بھارت کو پرائی جنگ میں کودنے کی خارش کبھی نہیں ہوئی بلکہ بھارتی سیاسی قیادت نے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لئے پاکستانی سیاسی اشرافیہ کی طرح ایڈوینچر کرنے کے بجائے تعمیر و ترقی کر کے عوام کا ووٹ حاصل کرنے کا طریقہ کار اپنایا۔ جبکہ پاکستانی مقتدر قوتیں عوام کی حمایت کے حصول کے لئے پاکستانی مسلمانوں کے مذہبی عقائد کی حساسیت کو بطور ہتھیار استعمال کرتے رہے ہیں (کر رہے ہیں ) ۔

ذوالفقار علی بھٹو جیسے جمہوری لیڈر نے پاکستان میں جب سوشلسٹ نظام کے نفاذ کی کوشش کی تو اس وقت مذہبی طاقتوں نے بھٹو صاحب پر روس (سرخوں ) کا آلہ کار ہونے کے فتوے جاری کرنا شروع کر دیے۔

بھٹو لینڈ ریفارمز کے تحت ایک ایسا قانون تیار کرنے کی کوشش میں تھے کہ کوئی بھی جاگیر دار ڈیڑھ سو ایکڑ سے زائد زمین کا مالک نہ رہے اور نہ کبھی بن سکے ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ اگر یہ قانون بن جاتا ہے تو سب سے پہلے اپنی جاگیریں سرینڈر کرنے والا پہلا شخص میں خود ہوں گا، ظاہر ہے یہ قانون کسی بھی جاگیردار، سرمایہ دار قوت کو قابل قبول نہیں ہو سکتا لہذا اسی لیے غیر جمہوری مقتدر قوتوں اور ان سے مستفید ہونے والے تمام ہی طبقات بھٹو کے خلاف ہو گئے۔

اس مخالفت میں پیش پیش مذہبی طاقتیں تھیں جنہوں نے فتوے جاری کرنا شروع کر دیے کہ بھٹو صاحب ( سرخے ) ہیں اور روسی طرز کا کمیونسٹ نظام حکومت لانا چاہ رہے ہیں جو کہ اسلام کے مطابق نہیں۔ پاکستانی عوام کو ایک مرتبہ پھر مذہبی حوالہ جات کی مدد سے یہ باور کروایا گیا کہ بھٹو کی سوشل ریفارمز کی کوششیں اسلام مخالف ہیں۔ تب چند سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے صحافیوں، ادیبوں، شعرائے کرام نے بھٹو کا ساتھ دینے کے کوشش بھی کی لیکن بے سود، اسی سیاسی منظرنامے اور مذہبی طاقتوں کے فتووں کے متعلق حبیب جالب صاحب نے نظم لکھی تھی جس کے چند اشعار :

خطرہ ہے زرداروں کو
گرتی ہوئی دیواروں کو
صدیوں کے بیماروں کو
خطرے میں اسلام نہیں

سرمایہ داریت، غیر جمہوری اور مذہبی قوتوں کی مداخلت سے سے پاک جمہوری سیاسی استحکام میں ہی ملک پاکستان کے مستقبل کی بہتری ہے۔

Facebook Comments HS