ملا نصرالدین اور ہم


ملا نصرالدین ہمارے خطے کا ایک جانا پہچانا مشہور کردار ہے۔ کہیں پر وہ ایک مزاحیہ کردار ہے تو کہیں وہ ایک دانشمند آدمی ہے جو معاشرے پر طنز کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ترکی، ایران اور ازبکستان کے علاوہ افغانستان بھی اس کو اپنے اپنے ملک کا باشندہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کا ترکی سے ہونا زیادہ مستند ہے۔ ملا نصیرالدین پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اور مستقبل میں بھی لکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ اس کی شخصیت پر ایک اینیمیٹڈ مووی بھی بن چکی ہے۔ عموماً اس کے لطائف کا ذکر کیا جاتا ہے جو حقیقت میں اپنے اندر گہرا طنز چھپا کر رکھتے ہیں۔ آج میں اس کے دو لطائف کا ذکر کروں گا جو آج کل ہمارے سیاسی حالات سے بہت میل کھاتے ہیں۔

پہلا کچھ اس طرح ہے کہ ایک آدمی ملا نصیرالدین کے پاس اتا ہے اور اس سے خط پڑھنے کی استدعا کرتا ہے۔ ملا جواب میں کہتا ہے کہ مجھے تو لکھنا پڑھنا نہیں آتا۔ وہ آدمی اس کی پگڑی کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ اتنی بڑی پگڑی پہنی ہے اور خط نہیں پڑھ سکتے۔ ملا اپنی پگڑی اتار کر اس کے سر پر رکھتا ہے اور کہتا ہے لے اب پگڑی تیرے سر پر تو خط پڑھ۔ وطن عزیز میں پگڑیاں تو سب نے باندھی ہوئی ہیں لیکن خط کوئی بھی نہیں پڑھ سکتا۔

اقتدار کا ہما کبھی سویلین اور کبھی کسی فوجی جنرل کے سر پر بیٹھتا ہے۔ جو بھی اقتدار میں آتا ہے سب کا یہی خیال ہوتا ہے کہ اس نے تو بڑی پگڑی پہنی ہوئی ہے لہذا اس کے پاس عوام کے سارے مسائل کا حل ہو گا۔ لیکن پتہ تب چلتا ہے کہ جب عوام میں سے روزانہ کوئی نہ کوئی اس سے خط پڑھوانے کی استدعا کرتا ہے۔ اور جواب میں نہ تو وہ خط پڑھ کر دے سکتا ہے اور نہ ہی ملا نصرالدین کی طرح اخلاقی جرات کر کے بتا سکتا ہے کہ حکومت کرنا اس کی بس کی بات نہیں۔

جس طرح انتخابات سے پہلے اور انتخابات کے دوران عوام کو سہانے خواب دکھائے جاتے ہیں حکومت میں آنے کے بعد ان کی مثال ملا نصرالدین کی پگڑی جیسی ہوجاتی ہے۔ عوام مجبور ہے خود تو خط پڑھ نہیں سکتے۔ لہذا پھر انتخابات کا انتظار کرتے ہیں کہ شاید اس دفعہ صحیح پگڑی والا ملے جو ہمارے خطوط پڑھوا سکے۔ ان کو یہ فکر نہیں ہوتی کہ پرانے پگڑی والے کو آئینی طریقے سے ہٹایا گیا یا غیر آئینی طریقے سے۔ عوام کو اگر فکر ہے تو اپنے خطوط پڑھوانے کی۔

ملا نصرالدین کی اکثر کہانیوں میں اس کے گدھے کا ذکر ملتا ہے۔ ایک دفعہ ملا نے اعلان کیا کہ میرے پاس جو گدھا ہے اس کے اندر کچھ روحانی خصوصیات ہیں۔ جس کی وجہ سے اس کی قیمت ایک لاکھ اشرفیاں ہے۔ بات اڑتے اڑتے بادشاہ کے کانوں تک پہنچ گئی۔ اس نے ملا کو گدھے سمیت بلایا۔ ملا دربار میں حاضر ہوا تو بادشاہ نے گدھے کی خصوصیات اور قیمت کے بارے میں پوچھا۔ ملا نے کہا کہ اس گدھے کی یہ خاصیت ہے کہ اس پر جو بھی بیٹھتا ہے اس کو مکہ اور مدینہ نظر آتے ہیں۔ اس لیے اس کی قیمت ایک لاکھ اشرفیاں ہیں۔

بادشاہ نے اپنے ایک وزیر سے کہا کہ گدھے کے اوپر بیٹھ کر ملا کے دعوے کی تصدیق کرے۔ جب وزیر گدھے کے اوپر بیٹھنے لگا تو ملا نے کہا کہ حضور اگر گدھے پر کوئی گناہگار آدمی بیٹھے تو اس کو کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ صرف نیک لوگوں کو نظر اتا ہے۔ چار و ناچار وزیر کو گدھے پر بیٹھنا پڑا کیونکہ بادشاہ کا حکم تھا۔ اب جب وہ گدھے کے اوپر بیٹھا تو نہ مکہ نظر آیا اور نہ مدینہ۔ اس نے سوچا کہ اگر بتاتا ہوں کہ نہ مکہ نظر آیا اور نہ مدینہ تو سب مجھے گناہ گار سمجھیں گے۔

اس لیے زور زور سے چلایا کہ وہ رہا مکہ اور وہ مدینہ سب صاف نظر آ رہا ہے۔ وزیر کو دیکھ کر بادشاہ کو بھی مکہ مدینہ دیکھنے کا شوق ہوا۔ جھٹ سے گدھے پر سوار ہوا۔ لیکن وہاں تو کچھ نہ تھا۔ لیکن لوگوں کی نظروں میں پارسا بننے کے لئے اس نے بھی جھوٹ کا سہارا لیا۔ اور کہا کہ ہاں سب نظر آتا ہے۔ گدھے سے اتر کر ملا کو رقم ادا کی۔ اور گدھے کو شاہی اصطبل میں باندھ کر سائیس کو اس خاص خدمت کا حکم دیا۔

وطن عزیز میں بھی کچھ سالوں کے بعد الیکشن میں یہی ہوتا آ رہا ہے۔ مقتدر حلقے ملا نصرالدین کی طرح کسی ایک پارٹی یا اس کے لیڈر کو جادوئی خصوصیات کا حامل بتا کر عوام کو بیچ دیتے ہیں۔ اس نیک کام میں ہمارا میڈیا بھی اپنا حصہ ڈالتا ہے۔ اس کو ایک ایسے نجات دہندہ کے روپ میں پیش کیا جاتا ہے جس کے پاس پاکستانی عوام کے سارے مسائل کا حل موجود ہوتا ہے۔ الیکشن سے پہلے اس کے ہاتھ میں جادوئی چھڑی دے کر منٹوں میں مسائل حل کرنے والے بابا کے روپ میں عوام۔ کو بیچ دیا جاتا ہے۔ اصل عقدہ تب کھلتا ہے جب کوئی اس کرشماتی شخصیت کی سواری سے مستفید ہوتا ہے لیکن پھر دیر ہو چکی ہوتی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments