کہانی کار


اکثر میں سوچتا ہوں کہانیاں کہاں جنم لیتی ہیں، کیسے جنم لیتی ہیں کیا کہانی لکھنے والے کوئی اعلیٰ و ارفع قسم کے انسان ہوتے ہیں۔ ویسے بھی ہم فارغ بندے ہیں اس لیے ایسے خیالات کا آنا لازم ہے۔ ان کی تلاش میں سوچتا جاتا ہوں اور جواب تلاش کرتا ہوں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہر انسان میں ہی ایک کہانی کار موجود ہوتا ہے جو کہانیاں بنتا رہتا ہے بس فرق اتنا ہے کہ ان کو لکھ نہیں پاتا یا بات لکھنے تک پہنچ نہیں پاتی۔ مثال کے طور پر ماں جب اپنے بیٹے سے بات کرتی ہے تو کہتی ہے جب میرا بیٹا بڑا ہو گا وہ افسر بنے گا پھر میں اس کے لیے چاند سی بہو لاؤں گی (اور روز اس کے ساتھ لڑائی کروں گی) میرا بیٹا بڑا فرمانبردار ہو گا، ماں کی خدمت کرے گا خوب ترقی کرے گا۔

اگر آپ غور کریں تو ماں اپنے بیٹے کے لیے کہانی سوچ رہی ہے اور سنا رہی ہے کیونکہ مستقبل کا اس کو معلوم نہیں ہے لیکن اس کے نیک خیالات اپنے بیٹے کے لیے ہیں۔ چاہے بیٹا بڑا ہو کر افسر کا چوکیدار ہی کیوں نہ بن جائے لیکن یہ کہانی نہیں تو اور کیا ہے ہم سب اپنے بچپن میں چاند پر رہنے والی بڑھیا کی کہانی سنتے آئے ہیں اور ہم میں سے آج تک کسی نے سوال نہیں کیا کہ بڑھیا چاند پر پہنچی کیسے؟ بہرحال کہانی اور انسان کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔

ایک اور مثال دیکھیں کہ اگر گھر میں تین بہوئیں رہتی ہوں اور دو بہوؤں کی آپس میں بنتی ہو تو تیسری خواہ مخواہ سوچنے لگ جائے گی کہ یہ میرے متعلق باتیں کرتی ہیں اور میرے گلے کرتی رہتی ہیں اور وہ ادھوری بات سن کر اپنی کہانی بنائی جائے گی اور ان کو دل میں برا بھلا سوچے گی۔ میرا خیال ہے کہانی کی پہلی قسم غیبت ہی ہوگی جب دو لوگ آپس میں مل کر تیسرے بندے کی برائی کرتے ہیں۔ اس لیے جو لوگ لوگوں کی باتیں کرتے ہیں دراصل وہ اپنی کہانیاں سناتے ہیں۔

ایک اور مثال دیکھیں کہ اگر آپ راستے میں جا رہے ہوں اور کوئی حادثہ دیکھ لیں تو آپ کا ذہن اس کے متعلق خود بخود سوچنے لگ جائے گا اور نجانے کون کون سی کہانی بنانے لگ جائے گا پھر آپ ڈر بھی جاتے ہیں کہ ایسا حادثہ آپ کے ساتھ نہ ہو جائے وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح آپ کو کوئی فون کال آ جائے اور اس کا نمبر آپ کے موبائل میں محفوظ نہ ہو تو سوچیں آپ کا دماغ کہاں کہاں کی سیر کرا کے آپ کو لے کر آئے گا۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ ہر انسان ہی کہانی کار ہے۔

جب وہ باہر سے کوئی شے دیکھتا ہے تو اس کے معنی بنانے کے لیے اپنے ذہن میں کہانی بناتا ہے۔ کہانی بنانے کے لیے اس انسان کے پاس پوری معلومات نہیں ہوتی تو ان معلومات کو انسان اپنے تخیل کے ذریعے پر کرتا ہے۔ اس لیے مجھے ایسا لگتا ہے کہ کوئی کہانی بھی سچی نہیں اور کوئی کہانی بھی فکشن نہیں کیونکہ ہر دو ہی انسان کی تخیل اور باہر کے کچھ واقعات کی مدد سے جنم لیتی ہیں۔ آپ غور کریں تو ہر مذہب بھی اپنی کہانی پیش کرتا ہے جو اس مذہب کے پیروکار بغیر سوال و جواب کے مان لیتے ہیں بس فرق اتنا ہے کہ دوسرے مذہب کے پیروکار اس کو جھوٹ مانتے ہیں اور یہ ہر مذہب کے ساتھ ہوتا ہے۔

دراصل انسان کو ہر بات کہانی کی صورت میں سمجھ آتی ہے۔ اس لیے اس کا ذہن کہانی بناتا رہتا ہے اور جب کوئی کہانی سنتا ہے تو اس کو مان بھی لیتا ہے۔ آپ غور کریں آپ ڈرامہ یا فلم دیکھ رہیں ہیں اور اس میں کوئی جذباتی منظر آ گیا ہے تو آپ کے آنسو چلے آئیں گے حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ ڈرامہ دیکھ رہے ہیں جو کہ سراسر ایک جھوٹ ہے لیکن انسان اور کہانی کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور چلتا رہے گا۔ کہانی کے لیے سچا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ یہ اس طرح لکھی جائے کہ آپ کو سچی محسوس ہو تب جا کر لوگ اس کا یقین کریں گے اگر کوئی سچی کہانی بھی بے ربط ہو تو لوگ اس کو جھوٹ مان لیں گے اور یقین نہیں کریں گے۔

آج کے دور میں آپ ترقی کرنا چاہتے ہیں تو اپنی کہانی سنانا سیکھیں جس کو آج کل برانڈنگ کہا جاتا ہے آپ بھی ایک برانڈ بن جائیں گے لیکن آپ غور کریں تو آپ بھی ایک کہانی ہی تو ہیں جس میں کچھ باہر کے عناصر ہیں باقی آپ کی ساری سوچیں ہیں۔ انسان سارے کہانی کار ہیں اس لیے وہ کہانی بناتے ہیں اور سنتے بھی ہیں فرق صرف اتنا آتا ہے کہ کچھ لوگ اپنی کہانی لکھنا شروع کر دیتے ہیں جو کہ افسانے، کالم یا ناول کہلاتے ہیں۔

Facebook Comments HS