دور رواں کا خاص المیہ اور شعور کا فقدان


کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جو انسان کو بار بار گزرے ہوئے سالوں کی یاد دلاتی ہیں۔ اور اسی طرح کچھ انسان یا شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو بار بار یاد آتی ہیں۔ اور جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پکارتی ہیں کہ یہ قوم کدھر جا رہی ہے منزل کہیں اور ہے۔ اسی طرح 90 سال قبل مرد قلندر حکیم الامت حضرت علامہ اقبال رح نے اس قوم کو ایک آزاد وطن کا تصور دیا اور اپنی انتھک جد و جہد سے ایک انقلابی منشور دیا تھا۔ جس میں پاکستان بنانے کا تصور پیش کیا تھا اور ساتھ ہی پاکستان بچانے کا تصور بھی دیا تھا۔

میری ناقص نگاہ جب ان تصورات کے پیش نظر رہی تو ایک بات تو سمجھ میں آئی لیکن ایک بات سمجھ سے بالا رہی۔ وہ یہ کہ ایک بات تو آزاد وطن بنانے کی جو پیش کی گئی تھی وہ تو قائد اعظم محمد علی جناح رح نے تعبیر کردی اور آزاد وطن بن گیا۔ جبکہ دوسری بات وطن کے بچانے کی رہی تو اب کے دور میں بھی قائد اعظم کی ضرورت ہے۔

لیکن آج کے قائد اعظم کو کیسے تلاش کریں کیونکہ یہ اس دور کا خاص المیہ ہے اگر آج کا قائد اعظم تلاش کیا جائے تو بے بسی و لاچاری اور تمام مشکلات کا حل مل جائے گا اور آج کا پاکستان لٹیروں، غاصبوں، حرام خوروں اور چوروں سے بچ جائے گا اور وطن عزیز پوری دنیا کو لیڈ کرے گا۔ لیکن معاملہ اس کے برعکس جا رہا ہے۔ وطن کو بچانے کے کیے اس بے بس قوم کو ایسا لیڈر چاہیے جو اس کے احوال کی عکاسی کر سکے اور آئین کے مطابق اس کو شعور و آگاہی دے سکے۔ کیونکہ آزاد وطن کا خواب علامہ اقبال رح نے دیا تھا تو تعبیر قائد اعظم رح نے پوری کی لیکن اب تکمیل یعنی وطن و ریاست کو بچانے کی ضرورت ہے۔ ورنہ اللہ۔ نہ کرے کہ یہ شیرازہ بکھر نہ جائے۔ بقول اقبال رح

یہ دور اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں لا الہ الا اللہ

ہر دور میں کوئی نہ کوئی ابراہیم آتا ہے جو ظلم و فساد اور کرپشن کو ختم کرتا ہے۔ لیکن ہر دور میں نام بدلتے رہتے ہیں۔

آج وطن عزیز کے بسنے والوں پہ غور کیا جائے تو اچھی تعلیم و صحت اور تربیت و اخلاق سے محروم نظر آتے ہیں۔ کوئی سہولت موجود نہیں۔ لوگ بے بسی و لاچاری کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ گداگری دن بدن فروغ پاتی جا رہی ہے۔ لوگ بھوک سے نڈھال ہوتے جا رہے ہیں۔ لوگ غربت و افلاس کی وجہ سے اپنے گردے بیچ رہے ہیں۔ اور خود کشیاں کرنے پہ مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ وطن عزیز کے آئین کے مطابق عوام کو حقوق نہیں دیے جا رہے۔ حقوق نام کی کوئی پاسداری نہیں۔ حقوق پامال کرنا مقدر بنتا جا رہا ہے جس سے عوام دو چاری کا شکار بنتی جا رہی ہے۔ نوجوان بے روزگاری کا شکار بنتے جا رہے ہیں۔ مساوی تعلیم کا کافی فقدان نظر آ رہا ہے۔ لوگ بے چینی و مفلسی کا شکار بنے اچھی تعلیم، اچھی خوراک، اچھی صحت سے محروم محرومی کا شکار ہیں۔

جس اقبال رح نے انقلاب و بیداری و شعور کا پیغام دیا تھا۔ نوجوان نسل آج محروم ہے۔ الا ماشاء اللہ آج کی درسگاہیں یعنی یونیورسٹیز، کالجز اور سکولز حقیقی و اخلاقی تعلیم سے محروم ہیں۔ تو شعور سے کیسے ڈیویلوپ ہو۔

ظلم کے خلاف ایک پلیٹ فارم پہ آنے کی ضرورت یہ لیکن ہر سیاسی و مذہبی جماعتوں کا رخ بدلا ہوا نظر آتا ہے۔ ہر کوئی اپنی انانیت کے بت کی پوجا میں محو نظر آ رہا ہے۔

قوم کے نوجوانوں کی خودی بیدار نظر نہیں آتی اس قوم کے نوجوانوں کو ندی نالہ و نوکریاں دلوانے کا جھانسا دے کر تماشا بنا دیا گیا ہے۔

قوم کو ایسے لیڈر کی ضرورت ہے جس کے پاس ویژن ہو۔ جس کے پاس علم و اخلاق ہو۔ جس کے پاس آئین سمجھانے اور اس پر عمل کروانے کی دسترس ہو۔

وطن عزیز کی تکمیل و بچانے کے لیے ایسے لیڈر کی ضرورت ہے۔ جو ممتاز اوصاف کا مالک ہو۔ جو صاحب علم و معرفت ہو۔ جو PHD ہو۔ قانون کا پروفیسر ہو۔ آئین پہ دسترس ہو۔ جو ہر محاذ پر علمی و فکری حوالے سے دسترس رکھتا ہو۔ جس کے پاس انقلاب کا ویژن ہو۔ جو بین المسالک و بین المذاہب کو یکجا کرنے میں قائدانہ صلاحیتوں کا مالک ہو۔ جو اتحاد امت پہ کام کرتا ہو۔ جو ملک و عالمی سطح پہ علم و معرفت و اصلاح احوال امت پر کام کرتا ہو۔ جس کے پاس ذہنی و فکری و مذہبی وسعت ہو اور تنگ نظری سے پاک ہو۔ جس کے پاس ہزاروں کی تعداد میں PHD شاگرد ہوں۔ جس کے سیاسی پلیٹ فارم پہ Well Educated Man & Women ہوں۔ جن کے کئی تعلیمی ادارے ہوں۔ جس نے ہزاروں کی تعداد میں کتابت و خطابت میں اس قوم کو کنٹریبیوشن دی ہو۔

اگر قوم ایسے قائد و لیڈر وطن عزیز میں تلاش کر لے اور اس کو فالو کر لے یا ایسے لیڈر کے سیاسی پلیٹ فارم پہ آ کے تعلیم یافتہ اور ریفارمرز کے ساتھ شامل ہو کر تکمیل پاکستان کے لیے جد و جہد کرے تو انقلاب ممکن ہے۔

لیکن معاملہ اس کے بر عکس جا رہا ہے۔ بعض مذہبی جماعتوں کے قائدین کہتے ہیں کہ ہم غیر سیاسی ہیں ہمارا سیاست سے کیا۔ اور بعض علماء و مشائخ بھی سیاست سے خود کو کوسوں دور رکھے ہوئے ہیں کہ یہ۔ ہمارا کام نہیں۔

اگر بعض مذہبی و سیاسی جماعتیں ایسی سوچ کا حامل ہوں گی تو بعید نہیں کہ ہمارا حشر بھی تاتاری حملے سے بڑھ کر نہ ہو۔

بقول اقبال رح
جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

آج کے مذہبی و سیاسی قائدین کو چاہیے کہ جس سیاست کا تصور اسلام میں ملتا ہے جس کے معنی سنوارنا و بنانا ہے اور اچھا معاشرہ تشکیل دینا ہے۔ اس سے دور کیوں؟

سیاست اللہ۔ کی ایک۔ نعمت ہے جو حضور نبی اکرم ﷺ کی ایک سنت ہے۔ جس سے پہلی ریاست مدینہ تشکیل پائی۔

اس قوم کو چاہیے کہ شعور کو ڈیویلوپ کریں اور حقیقی لیڈر کی اپنے اندر پہچان پیدا کریں تاکہ وطن عزیز و ریاست کو بچایا جا سکے۔ کیونکہ یہ اقبال رح کے خواب کا دوسرا حصہ ہے جو تکمیل کا خواہاں ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments