بے بسی کے رقص کا مرحلہ ابھی دور ہے

گزشتہ ماہ ترکش مصنف خاتون صحافی ایستمل کر ان کی کتاب
How to Lose a Country: The Seven Steps from Democracy to Dictatorship
کا مطالعہ کیا۔ سیاسی تجزیوں اور تبصروں پر مبنی اس کتاب میں ترکش سماج اور وہاں کے جمہوریت پسندوں کی جد و جہد کا احوال ہے۔ کتاب میں ترکش صدر رجب طیب اردوان کے ابھرنے کی کہانی ہے۔ روشن خیالی سے رجعت پسندی کے سفر کی داستان ہے۔ اس کے علاوہ دa پاپولسٹ سیاسی رہنماؤں اور ان کی طرز سیاست کا ایک جائزہ ہے۔ کتاب پر تبصرے کا ارادہ نہیں، البتہ اس حصے کا ذکر ضروری ہے جس میں استنبول، تقسیم اسکوائر گیزی پارک مظاہرے کے بارے میں لکھا ہے۔
2013 میں ترک حکومت نے تقسیم اسکوائر، گیزی پارک کی تعمیر نو کا فیصلہ کیا۔ پارک کی جگہ پر شاپنگ سینٹر، فٹ پاتھ اور سلطنت عثمانیہ دور کی فوجی بیرکس کی یادگار بنانے کے فیصلے پر ماحولیاتی کارکنان نے تحفظ کا اظہار کیا۔ مگر حکومت نے انہیں خاطر میں لانا مناسب نہیں سمجھا۔
اگرچہ یہ مظاہرہ گیزی پارک کے چھ سو درختوں کی کٹائی کے فیصلے کے خلاف ماحولیاتی احتجاج کے طور پر شروع ہوا، تاہم، بعد ازاں یہ سیاسی رنگ اختیار کر گیا اور دیکھتے oی دیکھتے پورے ملک میں پھیل گیا۔ مظاہرین نے اس وقت کے وزیر اعظم اور موجودہ صدر رجب طیب اردوغان پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ اپنی پالیسیوں کے اطلاق کے لیے مطلق العنان انداز اختیار کیے ہوئے ہیں۔
دن بدن مظاہرین کی بڑھتی تعداد کو دیکھ کر ترک وزیر اعظم کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا تو اس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو مظاہرین پر دھاوا بولنے کا حکم دیا۔ پولیس نے وزیر اعظم کے حکم کو بجا لاتے ہوئے پارک کو خالی کرانے کے لیے مظاہرین پر آنسو گیس کے شیل اور تیز دھار پانی برسانے کے علاوہ ربر کی گولیاں بھی چلائیں۔ تقریباً دو ماہ تک پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی کا کھیل جاری رہا۔
گیزی پارک مظاہرے کی خاص بات یہ تھی کہ مظاہرین تھوڑی دیر کے لیے منتشر ہو جاتے پھر واپس آ جاتے۔ مظاہرین میں ہر طبقہ فکر کے لوگ شامل تھے۔ ڈاکٹرز زخمی مظاہرین کا مفت علاج کرتے تو اطراف میں واقع ہوٹل پولیس سے جھڑپوں کے دوران مظاہرین کو پناہ دیتے۔
مصنفہ لکھتی ہیں کہ لوگوں میں ایک عجیب سی اپنائیت تھی۔ لوگ ایک دوسرے کو جانتے نہیں تھے مگر ایک دوسرے کا خیال رکھتے، ضرورتوں کا پوچھتے، ایک دوسرے کا سہارا بنتے۔ من چلے موقع سے فائدہ اٹھا کر رقص کرتے، اور کچھ شرارتی نوجوان سر عام بوس و کنار سے اردوغان انتظامیہ کو یہ پیغام دیتے کہ اگر ہمارے بوس و کنار سے حکومت گرتی ہے تو ہم گرائیں گے۔ گرافٹی آرٹسٹ دیواروں پر اپنے فن کا مظاہرہ کر کے مظاہرین سے خوب داد وصول کرتے۔ صحافی تحریروں سے، سیاسی رہنما تقریروں سے مظاہرین کا حوصلہ بڑھاتے۔ جو کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکتے تھے وہ سوشل میڈیا پر مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے ٹرینڈز چلاتے۔
پھر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ کی جاتی یا ڈنڈے برسائے جاتے تو وہ سامنے سے ہنسنا شروع کر دیتے۔
پولیس توقع کرتی کہ مظاہرین درد کی شدت سے چیخیں گے چلائیں گے، مگر بجائے چیخنے چلانے کے مظاہرین ہنستے۔ ان کا ہنسنا پولیس کو الجھن میں ڈالتا کہ یہ کہیں پاگل تو نہیں ہو گئے۔ جب معاملات انتہا کو پہنچ جائیں تو پھر ڈنڈوں کی مار، تیز پانی کی دھار گولیوں کی بوچھاڑ بھی بے اثر ہوجاتی ہے۔
اسی باب میں آگے ایک اناطولین لوک کہانی کا ذکر ہے۔ ماضی میں ایک ایسا بے رحم سلطان گزرا ہے، رعایا کو پریشان کرنا ٹیکس بڑھانا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔ یہ کہانی ایک ایسے گاؤں کی ہے جو اس بے رحم سلطان کی رعایا میں شامل تھا۔ ایک دن سلطان ٹیکس کلکٹر کو وصولی کے لیے بھیجتا ہے۔ دیہاتی اس سے التجا کرتے ہیں کہ انہیں ٹیکس معاف کر دیا جائے۔ لیکن اس کے بر عکس ٹیکس مزید بڑھادیا جاتا ہے۔ کچھ عرصے بعد ٹیکس کلکٹر دوبارہ اس گاؤں میں ٹیکس وصولی کے لیے جاتا ہے، بھوک و بدحالی کا شکار دیہاتی منت سماجت کرتے ہیں کہ ان کے حال پر رحم کھایا جائے وہ اضافی ٹیکس کا مزید بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔ غریبوں کو گڑگڑانے کی یہ سزا ملتی ہے ایک بار پھر وہی پرانی روایت دہرائی جاتی ہے۔
کچھ سال یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے۔ تاہم، کچھ سالوں بعد نوبت یہاں تک آن پہنچتی ہے کہ ٹیکس کلکٹر کو آتا دیکھ کر گاؤں والے ناچنا شروع کر دیتے ہیں۔ ٹیکس کلکٹر دور سے یہ منظر دیکھ کر الٹے پاؤں لوٹ جاتا ہے۔ سلطان کے سامنے پیش ہو کر کہتا ہے حضور ہمیں ٹیکس میں اضافے کو روکنا ہو گا ورنہ صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی۔ جس پر سلطان پوچھتا ہے کہ کیوں؟ ٹیکس کلکٹر سر جھکائے کہتا ہے، آقا وہ اب آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، اب وہ رقص کے مرحلے میں ہیں۔
یہ تو ہو گئی ترکی کے عوام کی بات، وہ اپنے حقوق اور مطالبات کو منوانے کے لیے رجب طیب اردوغان جیسے سخت گیر رہنما کے سامنے ڈٹ گئے تھے۔ لیکن گر بات کی جائے پاکستان کی تو یہاں کے سیاسی و سماجی حالات ترکی سے قدرے مختلف ہیں، لیکن دکھ، تکالیف اور مصائب کسی صورت ترکوں سے کم نہیں۔
مگر پھر بھی لوگ نہ تو سلطان کی رعایا کی طرح احتجاجی رقص کرتے ہیں، اور نہ گیزی کے مظاہرین کی طرح بے بسی کی ہنسی سے حکومت کو سوچنے اور عدالت کو مداخلت پر مجبور کرتے ہیں۔ اگر پاکستان کے معاشی و سیاسی حالات بہتر نہ ہوئے تو پھر شاید ترکوں کی طرح ہم بھی ہنستے ہنستے رقص شروع کر دیں اور یہ کہنا شروع کر دیں کہ بس اب بہت ہو گیا۔

