امریکی سپریم کورٹ نے شہریوں کے اسلحہ لے کر چلنے کے حق میں تاریخی فیصلہ سنا دیا


امریکی سپریم کورٹ
امریکی سپریم کورٹ
امریکہ کی سپریم کورٹ نے ملک میں اسلحے سے متعلق اپنے ایک اہم فیصلے میں شہریوں کے اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی کے نیو یارک کے ریاستی قانون کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ملک میں جاری اسلحہ رکھنے سے متعلق قومی بحث کے باوجود اسلحہ رکھنے کے حقوق کو تقویت دیتا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ کیلیفورنیا اور نیو جرسی جیسی ریاستوں میں اسی طرح کی پابندیوں کو خطرے میں ڈالتا ہے، اور اب توقع ہے کہ اب امریکہ میں زیادہ لوگوں کو اسلحہ رکھنے اور لے کر چلنے کی اجازت ہو گی۔

اگر ایسی ریاستوں کے اپنے قوانین کو چیلنج کیا جائے تو تقریباً ایک چوتھائی امریکی ایسی ریاستوں میں رہتے ہیں جو متاثر ہو سکتی ہیں۔

اس مقدمے میں امریکی سپریم کورٹ کو یہ بھی علم ہوا کہ نیویارک ریاست کا ایک قانون جس کے تحت شہریوں کو عوامی مقامات پر اسلحہ لے کر چلنے کی ‘مناسب وجہ’ ثابت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، امریکی آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

امریکی سپریم کورٹ کے جسٹس کلیرنس تھامس نے چھ قدامت پسند ججوں کی اکثریت کی جانب سے تحریر کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ امریکی شہریوں کو ذاتی دفاع کے لیے عوام میں ‘عام طور پر استعمال ہونے والے’اسلحہ لے جانے کا حق ہے۔

تاہم عدالت کے تین آزاد خیال ججوں ایلینا کاگن، سونیا سوٹومئیر اور سٹیفن بریئر نے اکثریت کے فیصلے سے اختلاف کیا۔

اسلحہ

امریکی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک میں اسلحے کے استعمال اور اس سے ہونے والے جان لیوا واقعات کی روک تھام کو لے کر ملک میں گہری سیاسی تقسیم ہے۔ یہ سیاسی تقسیم گذشتہ ماہ امریکی شہر یوولڈ، ٹیکساس کے ایک پرائمری سکول اور بفیلو، نیویارک میں ایک گروسری سٹور میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات میں ہلاکتوں کے بعد مزید گہری ہو گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل، امریکی سینیٹ نے ملک میں اسلحہ خریدنے اور اس تک رسائی کو سخت کرنے کے لیے نئی قانون سازی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے سے ‘شدید مایوس’ ہوئے ہیں۔ ان کا اس فیصلے سے متعلق مزید کہنا تھا کہ ‘یہ فیصلہ عام فہم عقل اور آئین دونوں سے متصادم ہے، اور ہم سب کو پریشان ہونا چاہیے۔‘

نیو یارک سٹی کے میئر ایرک ایڈمز نے کہا کہ وہ عام شہریوں کی اسلحے تک رسائی کو محدود کرنے کے دیگر طریقوں کا جائزہ لیں گے، جیسے کہ اسلحہ خریدنے کے لیے درخواست کے عمل کو سخت کرنا اور بعض مقامات پر پابندی کو مدنظر رکھنا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نیویارک کو وائلڈ وائلڈ ویسٹ بننے کی اجازت نہیں دے سکتے۔’

یہ بھی پڑھیے

امریکہ میں اسلحہ رکھنے پر آئینی تحفظ کیوں حاصل ہے؟

امریکی بچوں کی اموات: حادثے پیچھے رہ گئے بندوق پہلے نمبر پر

امریکہ میں فائرنگ: پانچ خونریز حالیہ واقعات

شمالی کوریا کے اسلحہ خانے میں ‘حسن کی فوج’

امریکی صدر جو بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن

جبکہ دوسری جانب امریکہ کی نیشنل رائفل ایسوسی ایشن نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ کی مضبوط گن لابی نے اس کیس کے مدعیوں رابرٹ نیش اور برینڈن کوچ کی اس کیس میں مدد کی تھی۔

نیویارک سے تعلق رکھنے والے دونوں افراد نے اسلحہ جو چھپا کر لے کر چلنے کے اجازت نامے کے لیے درخواست دی تھی لیکن ان کے پاس اسلحہ لائسنس ہونے کے باوجود انھیں مسترد کر دیا گیا تھا۔

امریکہ میں 390 ملین سے زیادہ بندوقیں قانونی طور پر عام شہریوں کی ملکیت میں ہیں۔ صرف سنہ 2020 میں، 45,000 سے زائد امریکی اسلحے کے استعمال سے متعلق واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں، جن میں قتل اور خودکشی شامل ہیں۔

اعلیٰ امریکی عدالت کے جمعرات کے فیصلے نے ان عدالتی فیصلوں کی توثیق کی ہے جن میں اسلحہ رکھنے کے حقوق کو وسعت دی گئی ہے۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گھر اور عوام مقامات دونوں جگہہوں پر اسلحہ لے کر چلنے کے حق کی ضمانت امریکی آئین کی دوسری ترمیم کے ذریعے حاصل ہے۔

امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر یووالڈ کے پرائمری سکول اور نیو یارک کے ایک گراسری سٹور میں ہونے والے فائرنگ کے واقعات کے باوجود سپریم کورٹ کے چھ ارکان کی اکثریت نے امریکی آئین کے دوسری ترمیم کے واضح تشریح کا ساتھ دیا ہے جسے پہلے سنہ 2008 میں معمولی اکثریت والی عدالت نے بیان کیا تھا۔

امریکہ میں عدالت کی جانب اسلحہ سے متعلق آخری تاریخی فیصلہ سنہ 2010 میں جاری کیا گیا تھا۔ جس نے ریاستوں کے ساتھ ساتھ افراد کے لیے ہتھیار رکھنے کے حق کی تصدیق کی تھی۔

جیسے جیسے اس متعلق عدالتی فیصلے بڑھتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے مستقبل کے سپریم کورٹ ججوں کے لیے ملک میں اسلحہ رکھنے سے متعلق آئینی تشریح کرنا اور اسلحے پر پابندی لگانا مزید مشکل ہو رہا ہے۔

اپنے ایک اختلافی نوٹ میں جسٹس بریئر نے لکھا کہ رواں برس ملک میں اسلحے کے استعمال کے واقعات میں کافی جانیں گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ صرف اس سال (2022) کے آغاز سے ابتک بڑے پیمانے پر فائرنگ کے 277 واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں یعنی اوسطاً ایک دن میں ایک سے زیادہ واقعات۔’

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp