خوابوں میں توہین اور اوریا مقبول جان


کیا ایک انسان توہین رسالت کا مرتکب ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کسی دوسرے کے خواب میں توہین کردے اور پھر جب خواب دیکھنے والا اپنی نیند مکمل کر کے جاگ جائے تو اپنا منہ دھونے سے پہلے خواب میں توہین کرنے والے کا سر تن سے جدا کردے؟

یہ واقع کچھ دن پہلے معلوم ہوا جب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک وڈیو سامنے سے گزری جس میں حضرت اوریا مقبول جان صاحب فرما رہے ہیں کہ خواب میں ایک منفی اقدام نظر آیا جو کہ صاف توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے۔

یہ سننے کے بعد خاکسار کی کم عقل میں کچھ سوالات نے جنم لیا کہ کیا اب ایسا بھی ہوا کرے گا کہ لوگوں کے اوپر توہین مذہب، توہین رسالت اور توہین اسلام کا الزام اس صورت میں لگا کرے کہ اس نے میرے خواب میں توہین کی تھی؟

کیا اب وہ دن دور نہیں جب بلاسفیمی کے قانون میں مزید سخت ترامیم کر کے خوابوں میں ہونے والی توہینیں بھی شامل کی جائیں گی؟ اگر ایسا ہونا ہے تو سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ خواب میں توہین کرنے والے کا سر تن سے جدا خواب میں ہی کیا جائے گا یہ حقیقت میں؟

اوریا مقبول جان کے اس بیان کے بعد تمام پاکستانی بیس کروڑ مسلمانوں سمیت عالم اسلام اور او آئی سی کے رہنماؤں کو اس پر غور و فکر کرنا چاہیے اور ہماری رہنمائی کرنی چاہیے کہ ہمارا دین خواب میں توہین دیکھنے پر کیا فرماتا ہے۔

کیونکہ ابھی تک ایسا ہی محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ریاستی ادارے اوریا مقبول کے ایسے خیالات سے متفق ہیں کیونکہ ابھی تک پیمرا کے ادارے نے اس بات کا نوٹس نہیں لیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اوریا مقبول نے کوئی پاگل پن والی بات نہیں کی بلکہ نہایت ہی ایم ترین معلومات فراہم کی ہے جس کی وجہ سے ہماری بیس کروڑ عوام کے دماغوں کی بتیاں کھل کر رہ گئی ہیں۔

Facebook Comments HS

3 thoughts on “خوابوں میں توہین اور اوریا مقبول جان

  • 26/06/2022 at 9:10 شام
    Permalink

    اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

  • 27/06/2022 at 12:48 شام
    Permalink

    بہت خوب است۔ بہت شکریہ

  • 27/06/2022 at 12:59 شام
    Permalink

    اوریا صاصاحب کا دماغ چل گیا ہے انہیں فوری طور پر کسی دماغی ڈاکڑ سے رجوع کرنا چاہئے اس سے پہگے کہ ان کے ملفوظات سن کر ان کاکوئ معتقد کسی بگناہ کی جان لے لے۔ احمدیوں کی جان ویسے بھی بہت سستی ہے پاکستان میں۔

Comments are closed.