بہتر ہزار مقتولین، دو پختون اور شرمندہ صحافت


سلیم صافی صحافت میں اپنا مقام رکھتے ہیں۔ میں لڑکپن سے جانتا ہوں، جماعت، ایشیا پرنٹر، المورد اور این این آئی میں ان کی محنت کا میں گواہ ہوں۔ ہمارے دوست مشترکہ ہیں اور جب تک اس نے اپنے موبائل فون کے لئے سیکرٹری نہیں رکھا تھا، گاہے بگاہے ملاقات اور تبادلہ خیالات ہوتے رہتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ سیلف میڈ انسان ہیں۔ اگرچہ اکثر جاننے والے مجھ سے متفق نہیں۔

جرات سوال کا نعرہ لے کر سلیم صافی صحافی بنے تھے۔ شاید وہی جرات سوال کند پاکر احسان اللہ احسان اور راؤ انوار کے انٹرویو کے بعد ان کے زیادہ تر ہم قوم اسے اب گرے ایریا میں سمجھتے ہیں۔ لیکن یہ ان کی ڈیوٹی ہے کہ وہ سچ ظاہر کرنے کے لئے جس سے مناسب سمجھیں انٹرویو کریں، پھر وہ کسی ادارے کے نوکر بھی ہیں، جو صحافتی اقدار کا خیال رکھے تو ادارہ بند ہو جانے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے اور اپنے صحافیوں کا خیال رکھے تو صحافت آئی سی یو میں چلی جاتی ہے۔ ایسے حال میں سروائیو کرنے کا فن صرف سلیم جانتا ہے۔

یہ اس کی محبت ہے کہ لاکھوں پسند کرنے والوں کے باوجود وہ صرف پختونوں کے سامنے اپنی صفائی پیش کرنے کا خود کو ذمہ دار سمجھتا ہے، جس کا اظہار اس نے راؤ انوار کے انٹرویو سے قبل اور اب منظور پشتیں کے انٹرویو کی صورت میں کفارے کی شکل میں پیش کی۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ سلیم ہی احسان اللہ احسان اور راؤ انوار جیسے کرداروں کا انٹرویو کیوں کرتا ہے جن کے ہاتھ پختونوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں؟ شاید اس لئے کہ اگر کوئی نان پختون ایسے کرداروں کا انٹرویو کرے تو اس پر پختون ردعمل بہت شدید آئے یا شاید اس لئے کہ اس پر متاثرین (پختون) یقین نہ کریں یا شاید اس لیے کہ ایسے خونی کرداروں کا ملائم چہرہ کسی پختون کے ذریعے پیش کرنا زیادہ مناسب سمجھا جاتا ہے اور یا شاید اس لئے کہ یہ کردار جس علاقے کے لوگوں کے ساتھ ظلم و زیادتیوں میں ملوث ہیں وہ پختون ہیں اور ایک پختون کی حیثیت سے سلیم صافی ان حالات اور معاملات سے زیادہ باخبر ہیں۔

وجوہات کچھ بھی ہوں سلیم نے پختونوں کے تسلیم شدہ قاتلوں کو قوم کے سامنے پرائم ٹائم میں بٹھا کر جرات سوال کا اظہار کیا نہ اپنے پینل میں متاثرین کا نمائندہ بٹھا کر صحافتی انصاف کیا۔ ورنہ وہ انوار سے پوچھ سکتا تھا کہ بقول آپ کے، نقیب اللہ دہشتگرد تھا، تو آرمی چیف نے اس کے والد کے ساتھ ملاقات کر کے انصاف کا وعدہ کیوں کیا تھا؟ اس کے والد کا سرکاری خرچے پر سی ایم ایچ میں علاج کیوں کرایا تھا؟ اس کے والد کو سرکاری خرچے پر گھر بنا کر کیوں دیا؟ وہ دہشت گرد تھا تو کہیں چھپے رہنے کی بجائے سوشل میڈیا پر ڈیشنگ تصاویر اور دوستوں کے ساتھ ویڈیو چیٹ کر کے کیوں اپلوڈ کرتا رہتا؟ کراچی کی سڑکوں پر روایتی ناچ اتنڑ ناچ کر کیوں اپلوڈ کرتا رہتا؟ شاید اس نے اپنے نام کے ساتھ ساتھ پلاسٹک سرجری کے ذریعے چہرہ بھی تبدیل کر دیا تھا؟ پولیس افسران راؤ انوار کو کیوں بندے مارنے اور پلاٹ قبضہ کرنے کا حکم دیتے رہیں؟ کیا یہ راؤ انوار کی شہرت کی وجہ سے تھا یا پولیس میں یہ معمول کے واقعات ہیں؟ اگر وہ واقعی ایسا پولیس افسر ہے تو پھر وہ عدالتوں میں وی آئی پی گیٹ سے کیسے داخل ہوتا رہا اور قتل کے چار سو چوالیس الزامات میں کیوں اسے ایک دن ہتھکڑی لگی نہ جیل بھیجا گیا؟

پی ٹی ایم جبر کی پیداوار ہے جس کو جواں سال منظور پشتین نے اسلحہ زدہ علاقوں میں جنگ پسند قوتوں کے خلاف غیر مسلح شکل میں عزم اور مزاحمت کی طاقت سے لیس کر دیا ہے، جو اچھے اور برے سب جنگ پسندوں کے خلاف ہے۔ کیونکہ بروں نے ہمارے بہتر ہزار اپنے مارے ہیں اور اچھوں کی وجہ سے پوری قوم فیٹف کی چکی میں پس رہی ہے، جب کہ وہی برے افغانستان میں اچھوں کے مہمان ہیں جن کی فتح کو ہم اپنی فتح سمجھتے ہیں اور جو ہمارے بروں کو ہمارے حوالے کرنے، ان کی حمایت سے ہاتھ اٹھانے یا کم ازکم ان کو اپنے ملک سے نکالنے کی بجائے سرکاری تحفظ مہیا کر رہے ہیں۔

ان بہتر ہزار مقتولین میں صرف سترہ مقتولین غدار تھے کیونکہ ان کا تعلق علی وزیر کے گھرانے سے تھا، جس کو اس کے انہی جرائم میں پس زنداں ڈالا گیا ہے جو جرائم وکلا تنظیمیں پی ٹی آئی نون لیگ ایم کیو ایم جمعیت اور جماعت اسلامی کے کارکن اور رہنما کرتے رہتے ہیں، جس میں ایمان مزاری کو گرفتار کیے بغیر بری کیا جاتا ہے اور عمران خان اور اس کے حواریوں کو گرفتار کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ اور پھر بھی ان سترہ کم بہتر ہزار مقتولین کے لئے انصاف یا خون بہا مانگنے کی بجٹ صرف آئین پاکستان کو ماننے کی شرط رکھی جائے اگرچہ ریاست کے پاس مقتولین کا خون بہا نہ مانگنے یا قاتلوں کو معافی کا اختیار بھی نہیں، (یاد رہیں کہ ٹی ٹی پی نے اس ظلم پر معافی مانگی ہے نہ شرمندگی کا اظہار کیا ہے ) لیکن پھر بھی دوسری وہ آئین پاکستان کو نہ ماننے اور پاکستانی زمین پر اپنا نظام قائم کرنے کی شرط رکھے بلکہ الٹا ریاست سے اپنے نقصانات کا ازالہ چاہے تو ایسی حالت میں مذاکرات کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے؟

افغانستان میں تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال اور بلوچستان کی حالت مدنظر رکھ کر بہترین سٹریٹیجی یہی ہے کہ اپنے خلاف اٹھنے والی بندوقیں جتنا ممکن ہو کم کر دی جائیں، کیونکہ افغانستان میں امریکہ کی دلچسپی کم ہوئی ہے نہ ختم ہو گئی ہے۔ طالبان کو حکومت سے نکال باہر کرنے کے علاوہ نان پختون اتحاد کے عزائم افغانستان کے جغرافیائی قطع برید پر بھی تیار ہے بشرطیکہ کہ ہمسایہ ممالک اور بڑے چوہدری ایسا کرنے میں پس و پیش سے کام نہ لیں، جس کے برے اثرات لامحالہ ازبکستان تاجکستان ترکمانستان ایران اور پاکستان کے علاوہ علاقائی سیاست پر بھی پڑیں گے۔

باخبر ذرائع کے مطابق حالیہ ٹارگٹ کلنگ اور فوج پر ہونے والے حملے طالبان نہیں بلکہ حافظ گل بہادر گروپ کر رہا ہے جو کبھی ہمارا لاڈلا تھا۔ حالیہ حملے جو بھی کرتا ہو اس سے علی الرعم، وزیرستان کی حالات پر گہری نظر رکھنے والے شفیق زمان وزیری کے مطابق شورش برپا کرنے کی طریقہ کار وہی ہے جو بائیس سال پہلے تھا۔ اس وقت پہلے قبیلوں کے ان مشران اور عمائدین کو ٹارگٹ کیا گیا تھا جو مزاحمت کی طاقت اور حلقہ اثر رکھتے تھے، دوسری لہر میں اس ظلم کو رپورٹ کرنے والے صحافی اور مخالفت میں آواز اٹھانے والے سوشل ورکرز، پختون نیشنلسٹ اور قومی و اجتماعی سوچ رکھنے والے اساتذہ کو نشانہ بنایا گیا تھا جب یہ موثر آواز ختم کی گئی تو پھر علانیہ جنگ کے ذریعے تمام قبیلوں کے زورآور خاندانوں کو دن دیہاڑے اس طرح نشانہ بنایا گیا کہ چھوٹے بچوں اور خواتین تک کو بھی نہیں بخشا گیا۔ چونکہ وزیرستان میں اسلام کے علاوہ کوئی مذہب اور دیوبندی کے علاوہ کوئی فرقہ موجود نہیں تھا اس لئے قتل و غارت کو جواز بخشنے کے لیے غدار اور ایجنٹ کی اصطلاحات گھڑی گئیں۔ جس کی وجہ جرگہ سلامت رہا نہ جنازہ، حجرہ سلامت رہا نہ بارات، مساجد بچیں نہ مزارات۔

ضرب عضب کے بعد لگتا تھا کہ ایک نئے دور کا آغاز ہو گا لیکن اب ایجنٹ اور غدار کی بجائے دہریہ، ملحد، ملعون یا ان کے آلہ کار کے الزام میں وہ لوگ ٹارگٹ کیے جا رہے ہیں جو امن، علم، انسانی حقوق کے علمبردار، میڈیا ایکٹوسٹ، سوشل ورکر اور سیاسی سرگرمیوں میں فعال ہوتے ہیں۔ فضل الرحمان گروپ کے علاوہ کے ہر کوئی نامعلوم قاتل کی زد پر ہے خواہ اس کا تعلق جماعت اسلامی سے ہو، یوتھ سے ہو، این ڈی ایم، پی ٹی ایم یا اے این پی سے۔ جمعیت اس لئے بچی ہوئی ہے کیونکہ ان کا بیانیہ اور سرگرمیاں وہی ہیں جو نشانچیوں کی ہے، یعنی رجعت پسندی، ازکار رفتہ نظام تعلیم اور علم، روشنی، روزگار، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی اور ترقی سے گریز پائی، نور اسلام داوڑ، مصور داوڑ، سنید داوڑ وغیرہ کا امن، تعلیم، روزگار اور انسانی حقوق مانگنے کے علاوہ اور کوئی جرم نہیں تھا جن کو منہ پر ڈھاٹے باندھے ہاتھ میں قاضی نما بندوق پکڑنے والوں نے قتل کیا۔

سلیم صافی سے منظور پشتین کا یہ شکوہ بالکل برحق اور بجا ہے کہ آپ اپنے چینل پر پختونوں کے قاتلوں کو انٹرویو کا وقت دے سکتے ہیں لیکن انہی پختونوں کے لئے زندگی کا حق اور عزت کی زندگی امن روزگار تعلیم اور حقوق مانگنے والوں کو نہیں۔ جب کہ درحقیقت اس کا یہ شکوہ جس طرح سلیم صافی سے ہے اسی طرح یہ ساری شرمندہ صحافتی برادری سے بھی ہے۔ مذاکرات کرنے والوں کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ امن بیشک مذاکرات کے ذریعے آتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ مذاکرات کے لئے بیٹھنے والے اپنے مظالم پر شرمندہ ہوں مظلوموں سے معافی مانگنے کے خواستگار ہوں اور بندوق رکھ کر آئندہ اچھے شہریوں کی طرح پاکستانی قانون اور آئین کے تحت زندگی گزارنے کا عزم کیے ہوئے ہوں۔

 


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 96 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments