جب مجھے ڈپریشن ہوا


اس سے پہلے کہ میں یہ تحریر شروع کروں مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ ڈپریشن کے بارے میں میرا علم انتہائی ناکافی ہے۔ ڈپریشن کی شدت، اقسام اور وجوہات مختلف ہو سکتی ہیں لیکن میں صرف اس پر بات کروں گا جو مجھ پہ بیتی ہے تاکہ لوگ ذہنی امراض پر کھل کر بات کر سکیں۔

ہمارا یہ المیہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک تو ذہنی امراض کو سنجیدہ لیا نہیں جاتا دوسرا اس پر بات کرنے سے لوگ ہچکچاتے ہیں۔ اور ”سائیکو“ کا لفظ تحقیر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ ڈپریشن کسی بھی بیماری سے زیادہ تکلیف دہ مرض ہے۔ اس کا اندازہ صرف وہی لوگ کر سکتے ہیں جو زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر اس تکلیف سے گزر چکے ہیں۔

11 جون 2021 کا دن میری زندگی کا سیاہ ترین دن تھا اس دن میری پیاری امی جان جو میری دوست، درد شناس اور غمگسار ہستی تھیں ان کی اچانک وفات ہو گئی۔ ان کا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا ہوتے ہوئے میں جس آزمائش اور تکلیف سے گزرا میرے لیے اسے لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں ہے۔

ڈپریشن کی پہلی سٹیج کا آغاز امی جان کی وفات کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ لیکن مجھے یہ احساس نہیں ہوا کہ میں ڈپریشن کا شکار ہو رہا ہوں۔ اس دوران زندگی کے امور میں میری دلچسپی بتدریج کم ہوتی جا رہی تھی۔ امی کی یاد کے ساتھ ساتھ مایوسی نے مسلسل مجھے گھیر رکھا تھا اور میں ناقابل برداشت تکلیف کا سامنا کرتے کرتے تھک چکا تھا۔

اور دکھ کی اس گھڑی میں کوئی محرم راز نہیں تھا کیونکہ میری محرم راز ہستی مجھے اکیلا چھوڑ کے جا چکی تھیں۔

ڈپریشن کی دوسری سٹیج کا آغاز امی جان کی وفات کے چھ ماہ بعد ہوا۔ اس کی ابتدا لایعنی خیالات سے ہوئی۔ مجھے عجیب عجیب طرح کے وہم، وسوسے اور خیالات آنا شروع ہو گئے تھے جن کو میں جتنا روکنے کی کوشش کرتا تھا وہ اتنے ہی زیادہ آتے۔ یہ خیالات چونکہ ناپسندیدہ اور بعض اوقات خوفناک ہوتے تھے اس لیے ان خیالات کے آنے کے بعد بے انتہا ذہنی اذیت، پچتھاوا اور خوف محسوس ہوتا تھا۔ میں ان خیالات کا سامنا کرتے کرتے بے بس ہو چکا تھا۔ میری ذہنی و جسمانی صحت بری طرح متاثر ہو چکی تھی۔

اس بیماری سے میری شخصیت کا اعتماد ٹوٹ چکا تھا اور میں لوگوں سے ملنے جلنے سے گھبرانے لگا تھا۔ میری سرگرمیاں محدود ہو چکی تھیں اور ہر کام سے جی اکتا گیا تھا۔ ایک مسلسل ذہنی دباؤ نے میری شخصیت کی مستقل مزاجی کو ختم کر دیا تھا۔

اس دوران مثبت بات یہ ہوئی کہ مجھے یہ احساس ہونا شروع ہو گیا تھا کہ میرے ساتھ جو بھی مسئلہ ہے یہ ڈپریشن کی کوئی شکل ہے۔ اور مجھے کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

میں کچھ ماہ کے بعد ایک اچھے ماہر نفسیات تک پہنچا جن کی میڈیسن سے مجھے اس خوف کی کیفیت سے نکلنے میں کسی حد تک مدد ملی ہے۔ لیکن آفٹر شاکس ابھی بھی آتے رہتے ہیں۔

میرا اس تحریر کو لکھنے کا مقصد محض یہ ہے کہ اگر خدانخواستہ آپ کو کبھی ایسی کیفیت کا سامنا ہو تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ زندگی اپنی تمام تر خوبصورتی کے باوجود ایک مشکل سفر ہے۔ اور کسی بھی انسان کو کبھی نہ کبھی ایسی کیفیت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایسی حالت میں آپ سب سے پہلے اپنی فیملی اور دوستوں کو اپنی کیفیت بتائیں اور ان سے بات کریں۔

اگر آپ کو کبھی ڈپریشن کا سامنا ہو تو کسی عام فزیشن کے پاس وقت ضائع کرنے کی بجائے کسی اچھے ماہر نفسیات سے رجوع کریں۔

ڈپریشن میں آنے والے خیالات لاشعوری اور آپ کے کنٹرول سے باہر ہوتے ہیں لہذا ان پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ علماء کے مطابق ایسے خیالات سے آپ کے ایمان کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا اس لیے کسی خیال پر خود کو گناہگار مت سمجھیں۔

ڈپریشن میں مریض کو یہ بھی وہم رہتا ہے کہ میں کبھی نارمل نہیں ہو پاؤں گا۔ لیکن اللہ کی ذات پر یقین رکھیں یہ ایک قابل علاج مرض ہے۔

تنہائی میں ڈپریشن زیادہ ہوتا ہے اس لیے اپنے آپ کو مصروف رکھیں اور علاج کے ساتھ ساتھ اپنی قوت ارادی کو مضبوط بنائیں اس سے آپ بہتر طور پہ ڈپریشن کا مقابلہ کر سکیں گے۔

آخر میں انور شعور کا ایک شعر آپ کی نذر
کیا چاہیے نہ تھا یہ کبھی پوچھنا تمہیں
کیسے ہو تم شعور یہ کیا ہو گیا تمہیں

Facebook Comments HS