سیاست میں شاطرانہ چالیں
یہ دو ہزار گیارہ کی بات ہے صوبے میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت اور ہمارے انتہائی محترم میاں افتخار حسین صوبائی وزیر اطلاعات تھے۔ میں ان دنوں ایک نیوز چینل میں کام کر رہا تھا ہمارے بیورو چیف دھماکے کی کوریج کر رہے تھے کہ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں مقامی پولیس سے لڑائی ہوئی۔ پولیس نے ہماری پوری ٹیم کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور پولیس سٹیشن لے جاکر حوالات میں بند کر دیا۔ کئی ایک سینئر ساتھیوں نے حوالات جاکر انہیں رہا کروایا۔
مگر ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تشدد کرنے والے پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ شام کو پشاور پریس کلب میں ہم نے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے اجلاس بلایا اور حکومت کے خلاف احتجاج اور سرکاری کوریج کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ اس دوران وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین صاحب بھی تشریف لے آئے۔ ہم نے مطالبات ان کے گوش گزار کیے ۔ اور فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے اپنے دھیمے انداز میں مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا۔
ہم کوشش کریں گے کہ آپ لوگوں کے مطالبات پر عملدرآمد ہو، اگر ایسا نہ ہوا تو ہم بھی آپ لوگوں کے احتجاج میں ساتھ دیں گے۔ میں نے حیران ہو کر اجلاس میں بیٹھے دوستوں کو دیکھا اور کہا۔ میاں صاحب ہاتھ اٹھا کر دعا کیجئے ہم اپنا احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ سب نے حیران ہو کر میری طرف دیکھا تو میں نے کہا۔ کہ مہذب دنیا میں احتجاج کا مقصد اپنی آواز اور مطالبات کو حکمرانوں کے کانوں تک پہنچانا ہوتا ہے۔ اگر ہمارے حکمران اتنے بے بس ہیں کہ وہ مطالبات کو ماننے کی بجائے ہمارے ساتھ احتجاج میں شریک ہو رہے ہیں تو پھر ہم احتجاج کس لئے کرے اس لئے بہتر ہو گا کہ ہم اپنا مقدمہ اللہ پر چھوڑ دیں۔
اس بات کو یہی پر ختم کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور گزشتہ دس سال کے دوران سیاست میں ان نئے شاطرانہ چالوں یا رجحانات کا جائزہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے عوام شش و پنچ میں پڑ جاتے ہیں کہ کون کس وقت حکومت میں ہے اور کس وقت وہ اپوزیشن کی بولی بولنا شروع کرتے ہیں۔ مثلاً پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان گزشتہ بیس سال سے سندھ میں اقتدار کے میوزیکل چیئر کا کھیل جاری ہے۔ اس دوران کراچی لٹتی رہی اور روشنیوں کے شہر سے کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی۔ مگر یہ دونوں پارٹیاں اس تباہی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتی رہی۔ دونوں پارٹیوں کو اس تباہی کی کوئی پروا نہیں بلکہ ایک دوسرے سے روٹھنے اور منانے کا سلسلہ آج بھی اسی طرح جاری ہے۔
مخلوط حکومتوں میں یہ روش بھی شاید ایم کیوں ایم اور جماعت اسلامی نے ڈالی کہ حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے بھی حکومتی اقدامات پر تنقید بھی کرتے ہیں۔ کابینہ میں بیٹھ کر حکومتی پالیسیوں کی منظوری دیتے ہیں اور باہر آ کر عوام کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے ان پالیسیوں اور اقدامات سے برات کا اعلان بھی کرتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر ایم کیو ایم کا ایک اور شاطرانہ چال ملاحظہ ہو۔
چالیس سال تک الطاف حسین کی قیادت میں گولی اور بندوق کی زور پر کراچی میں اجارہ داری قائم کی۔ قتل و غارت اغوا غنڈہ گردی کو سیاست کا لازمی جز بنایا، ڈرانے دھمکانے اور بلیک میل کرنے کے لئے جتھوں کے جتھے رکھ لئے۔ فاروق ستار، وسیم اختر، خالد مقبول صدیقی، امین الحق، فیصل سبز واری، خواجہ اظہار۔ سمیت درجنوں افراد جنھوں نے اہل کراچی کا جینا حرام کر دیا الطاف حسین سے جدا ہوتے ہی پوتر بن گئے۔ ان کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف ہو گئے۔ اور وہ اپنی پارٹی کے ساتھ صرف پاکستان کا نام شامل کر کے نئے ڈبے میں پرانا پراڈکٹ بیچتے ہوئے کراچی سمیت ملک بھر کے اقتدار میں بھی حصہ دار بن گئے۔ پونے چار سال عمران خان کے دست راست بن کر اپوزیشن کو لتاڑتے رہے اور پھر اپنے ہی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کامیاب بنا کر دوبارہ حکمران بن گئے۔ یہی کھیل بلوچستان میں کئی بار کھیلا گیا۔
رانا ثناء اللہ صاحب اس وقت ملک کے منتخب وزیر داخلہ ہیں دن رات ٹی وی پر بیٹھ کر یہی رونا روتے ہیں کہ عمران خان نے ملک کا بیڑا غرق کر دیا۔ انھوں نے غیر قانونی طور پر پانچ سو ارب روپے ملک ریاض کو واپس کیے ۔ بدلے میں ان سے زمین لی، عمران خان نے اسلام آباد پر حملہ کیا۔ آئین سے غداری کی علی ہذ القیاس اور انہیں فوری طور پر گرفتار کرنا چاہیے۔ چلو ہم بھی کہتے ہیں کہ گرفتار کرنا چاہیے تو کرلو بھائی۔ ہم وزیر داخلہ تھوڑی ہیں۔
آپ آخر کس کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کس کو گرفتاری کے لئے تیار کر رہے ہیں۔ ٹی وی پر بیٹھ کر عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی بجائے اتحادیوں اور اسٹیبلشمنٹ سے بات کریں انہیں ثبوت دکھائیں اور عمل کر کے دکھائیں۔ مقدمات قائم کر کے انہیں عدالتوں میں پیش کریں۔ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور شاطرانہ چالیں چلنے کی کیا ضرورت ہے۔
شہباز شریف صاحب سے گوادر میں لاپتہ افراد کے لواحقین فریاد کرتے ہیں تو بے چارہ کھل کر کہنے پر مجبور ہوتا ہے کہ با اختیار لوگوں سے بات کروں گا۔ یہ کیسی بے چارگی ہے یہ کیسی حکومت ہے جس میں اپنے شہریوں کو عدالت کے سامنے پیش کرنے کے لئے وزیر اعظم کو بھی اجازت لینا پڑتا ہے
پی ٹی آئی نے پونے چار سال تک پاکستان پر حکومت کی۔ بیس ہزار ارب ڈالر قرضہ لیا، معیشت کا ستیا ناس کر دیا، داخلی و خارجہ پالیسیاں آخری ہچکیاں لینے لگی مگر وہ حکومت کی آخری گھڑی تک ان تمام خرابیوں کی ذمہ دار سابقہ حکومت کو گردانتی رہی۔ اپنی کسی ایک پالیسی اہم قدم اور فیصلے کی ناکامی انھوں نے قبول نہیں کی۔ یہی حال اب مسلم لیگ حکومت کا ہے۔ حکومت کا تیسرا مہینہ ہونے کو ہے مگر وہ ابھی تک سابقہ حکومت کی بارودی سرنگوں سے باہر نہیں آئے۔
جو بھی وزیر مشیر ٹی وی پر آتا ہے یہی رونا رونے لگتا ہے مہنگائی کی رفتار کو بریک لگنے کی بجائے اس میں اضافہ ہوا۔ شہباز شریف اور مفتاح اسماعیل نے تین مہینے میں اتنے فیصلے تبدیل کیے کہ عمران خان کے یوٹرن اور ان لوگوں کے فیصلوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان حکومت نے اپنے آخری مہینے میں تیل کی قیمت میں کمی، آئی ایم ایف معاہدے کو توڑنے اور ممبران اسمبلی میں اربوں روپے کی بندر بانٹ کر کے واقعی بارودی سرنگیں بچھا دی تھیں مگر یہ طریقہ بھی تو انھوں نے مسلم لیگ اور مفتاح اسماعیل سے سیکھا تھا۔ کیونکہ دو ہزار اٹھارہ کے اپنے آخری بلکہ انتخابی بجٹ میں مفتاح اسماعیل نے ٹیکسوں میں کمی اور تنخواہوں میں بے تحاشا اضافے کا جو اعلان کیا تھا۔ اس کا خمیازہ بھی تو عمران حکومت کو بھگتنا پڑا تھا۔
مختصر یہ کہ گزشتہ دو دہائیوں میں اہل سیاست نے ذاتی اور سیاسی مفادات کے لئے نظریات، اصولوں، قومی مفادات اور جمہوریت کا بیڑہ غرق کر دیا۔ انھوں نے سیاست کو عبادت سے گالی بنا دیا، شرفاء سیاست سے کنارہ کش ہوتے گئے اور اب سیاست عبادت اور خدمت کی بجائے نو دولتیوں کا پسندیدہ مشغلہ اور بچوں کا کھیل بن گیا۔ لیکن اس سب کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا کتنا ہاتھ ہے۔ اور یہ سب کیوں اور کس طرح ان کے مفاد میں ہے۔ یہاں سے آگے لکھتے ہوئے قلم کی سیاہی اور بدن کا خون خشک ہوجاتا ہے۔ اور اگر کوئی سر پھرا لکھنے کی جرات کر بھی لے تو تحریر اخبار کی زینت کی بجائے ڈسٹ بن کی نذر ہو جاتی ہے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔


