چائے کی نئی کہانی


1973 ء میں امریکی ٹیلی ویژن کے پروگرام ”The Tonight Show“ کے میزبان جانی کارسن نے ایک بار اپنے پروگرام میں کہا :

”کیا آپ کو معلوم ہے ہمارے ملک کی سپر مارکیٹ کی شیلف سے ٹوائلٹ پیپر غائب ہو رہا ہے۔“ بس پھر کیا تھا لوگوں نے ٹوائلٹ پیپر کے کئی رول خرید کر گھر میں ذخیرہ کر لیے اور ملک میں سچ مچ تین ہفتے تک ٹوائلٹ پیپر کی قلت ہو گئی۔ احسن اقبال نے ملکی معیشت کے حوالے سے خواہ کچھ بھی سوچا ہو، اس گرمئی روز حساب میں پوری قوم کو چائے کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔ خود میں بارہا چائے پی چکی ہوں جب کہ مجھے چائے پسند ہی نہیں۔

یوں تو پاکستان کے ہر خطے میں الگ طرح کا لباس اور رہن سہن ہے، مختلف ڈشز ہیں اور مہمان نوازی کے مختلف طریقے ہیں جن پر کسی مذہب کی طرح عمل کیا جاتا ہے لیکن ایک خاتون سیاح نے پاکستان کی ایک ایسی مشترک خصوصیت پہچانی ہے جس کا ہمیں خود بھی علم نہ تھا، آپ سمجھتے ہوں گے میں اردو زبان کا ذکر کر رہی ہوں؟ جی نہیں۔ دو سو سال سے بھی کم کے عرصے میں جو خصوصیت پورے ملک میں خون کی طرح جاری و ساری ہے، خیبر سے مہران اور مکران سے خنجراب تک، ہر جگہ کے لوگ اپنے مہمان کے لیے ہر موسم میں جو چیز پیش کرتے ہیں وہ ہے چائے۔

جی ہاں وہی چائے جو بلیک ٹی کو پانی میں ابال کر اس میں شکر اور دودھ ملا کر بنائی جاتی ہے۔ چائے ہمارے پورے ملک میں شناختی کارڈ کی طرح اپنا لی گئی ہے اور یہ بات ایوا نے بتائی جو سیاح ہیں، انٹرنیٹ پر وہ Eva Who Loves Pakistan کے نام سے مشہور ہیں۔ انھوں نے پوری دنیا کے ملکوں کی سیر کی اور سب سے زیادہ پاکستان کو پسند کیا کیوں کہ وہ جہاں بھی گئی، حتی کے شمال میں بلند و بالا پہاڑوں کے اوپر کسی اکیلی جھونپڑی میں بھی اسے چائے ہی پیش کی گئی۔

یہ تو ہمارا بھی تجربہ ہے کہ جس موسم میں کہیں بھی جائیں چائے پینی پڑتی ہے۔ مجھے اس بات کا احساس اس لیے بھی زیادہ ہوا کہ میں شوق سے چائے نہیں پیتی۔ لیکن جب میں نے سنا کہ پاکستان چائے کی درآمد کی وجہ سے دیوالیہ ہو رہا ہے تو مجھے بہت حیرت ہوئی۔ کیوں کہ پاکستانی ایک ایسی تن آسان قوم ہے جس نے محض سستی اور کنجوسی کی وجہ سے دنیا کے مسئلوں کے حل کی ایک سائنسی اپروچ ایجاد کر لی ہے جسے ”جگاڑ“ کہا جاتا ہے اور یہ لفظ ہر زبان میں اسی طرح بولا جاتا ہے، ترقی یافتہ زبانوں نے اپنی لغت میں بھی اسے فخر سے شامل کر لیا ہے۔

پاکستانیوں نے جلد ہی لیموں پانی، شکر کے شربت، ستو، لسی اور سکنجبین چھوڑ کر لال شربت کو اپنا لیا کہ آسان ہوتا ہے پھر وہ چینی اور لال شربت کی ملاوٹ کے کام سے بھی تنگ آئے اور سافٹ ڈرنکس خرید کر پینے پلانے لگے۔ اس تن آسان قوم نے چائے جیسی مشکل ترکیب کو نہ صرف اپنائے رکھا بلکہ اس میں نفاست کے کئی نئے باب رقم کیے۔ ہمارے شہر میں عام چائے اور دودھ پتی سے لے کر مسالہ والی چائے تک سات رنگ کی چائے مل جاتی ہے جس میں ”کوئٹہ ہوٹل“ کی چائے کو شک کا خاص فائدہ ہوا ہے۔ مجھے بھی شک ہے کہ اس میں ضرور سرور آور اجزا ملے ہوئے ہیں

چائے نے آج کل ہمارے چند روزہ قومی تجسس کو ہوا دی ہوئی ہے جس کی تسکین کے لیے میں اپنے چند دوستوں کی دعوت پر شنکیاری والے چائے کے باغ میں گئی۔ وہاں حد نظر تک گہرے سبز رنگ کی صاف ستھری باڑیں اگائی گئی تھیں اور کسی نے ہمیں بتایا کہ یہی چائے کے پودے ہیں۔ گویا وہ جھاڑیاں تھیں جن کو تراش کر باڑ بنائی ہوئی تھی اور ان پر جب کونپلیں نکلتی تھیں تو ان کو چن لیا جاتا تھا، یہی چائے کی پتی ہوتی ہے۔ ہمیں معلوم ہوا کہ نازک کونپل جو تین پتیوں تک ہوتی ہے اس سے سبز چائے یعنی گرین ٹی بنتی ہے اور پانچ پتیوں کی کونپل سے پاکستانی مہمان نوازی والی چائے یعنی بلیک ٹی بنائی جاتی ہے۔

پاکستان کے کفایت شعار لوگوں کی اطلاع کے لیے خاص طور پر عرض ہے کہ استعمال شدہ پتی سے چار بار مزید چائے بنائی جا سکتی ہے۔ یہ بات میں نہیں کہتی کیوں کہ میرا تجربہ اس کے برعکس ہے، یہ بات سائنس دانوں نے بتائی ہے، اس کو یوں اپنایا جا سکتا ہے کہ جب میکے والے آئیں تو نئی پتی استعمال کریں اور استعمال شدہ پتی سسرال والوں کی تواضع کے لیے رکھ لیں۔

سبز اور کالی چائے کے لیے کچھ ایسا پراسس کیا جاتا ہے جس میں خالص ترین، محفوظ ترین اور صحت بخش ترین چائے گرین ٹی ہے، جس میں غذائیت اور ذائقہ محفوظ کر دیا جاتا ہے اور بلیک ٹی میں نفاست کے لیے اس کے دیگر کئی مراحل سے گزارنے کے علاوہ بانڈنگ (Bonding) بھی کی جاتی ہے، اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ چائے کی پتی میں قدرتی طور پر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ والی پتی کی صحبت کا اثر قبول کر لیتی ہے یوں مخصوص خوش بو، مخصوص ذائقہ یا مخصوص رنگ والی پتی کی صحبت میں رکھنے سے پوری لاٹ ایسی ہی پسندیدہ ہو جاتی ہے۔ ایک اہم سوال جو ہمارے ذہن میں اب آیا، اس وقت ہم نے تنقیدی نظر سے دیکھا ہوتا تو ہم اس کسان کی باتوں میں نہ آتے، اور وہ سوال یہ ہے کہ اگر عمدہ ذائقے والی پتی گھٹیا ذائقے والی پتی کا اثر لے لے اور پوری لاٹ خراب ہو جائے تو کیا ہو گا؟

ہو سکتا ہے پتی کے کردار اور چال چلن کے تحفظ کے لیے بھی وہی اہم اقدامات کیے جاتے ہوں جو ہم اپنے بچوں کے لیے کرتے ہیں، معاملہ مزید گمبھیر اس وقت ہو جاتا ہے جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہر بچے کے والدین دوسرے بچے کے بارے میں جو رائے رکھتے ہیں دوسرے بچے کے والدین وہی رائے پہلے بچے کے بارے میں رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے مسائل کبھی حل نہ ہو سکے۔ ہاں بس ایک مسئلہ ایسا ہے جو حل ہونا چاہیے وہ یہ کہ کوئی کسان چائے اگانا پسند نہیں کرتا۔ چائے کا پودا اپنے مزاج میں جھاڑی دار درخت ہے جو تیرہ فٹ تک بلند ہو سکتا ہے لیکن پتی چننے میں آسانی کی خاطر اس کی اونچائی مناسب حد تک رکھی جاتی ہے، ہمارے ملک میں چائے کی کاشت کے حالات اچھے نہیں، جو بھی چند باغات ہیں وہ سرکاری ہیں، جو پاکستان ایگری کلچرل ریسرچ کونسل نے ہی قائم کیے ہیں۔

جو علاقے گرمیوں میں سیر کے لیے اچھے ہیں وہی اتفاق سے چائے کی کاشت کے لیے بھی مناسب ہیں۔ وہ تمام علاقے جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے نہیں بڑھتا اور جہاں بارشیں ہوتی ہیں وہ چائے کی کاشت کے لیے مناسب ہیں۔ چائے کے باغ کو کسی اسپرے اور احتیاط کی ضرورت نہیں۔ یہ جنگلی پودا ہے جو خود بخود بڑھتا اور پھلتا پھولتا ہے۔ بس ایک مسئلہ ہے کہ یہ اپنی کاشت کے ابتدائی پانچ سال تک کوئی فائدہ نہیں دیتا بس پھر اس کے بعد سینکڑوں سالوں تک آپ اس کی پتی چنتے رہیں اس کو کچھ نہیں ہوتا، قلم کی مدد سے کئی اور باغات بنا لیں، بس پھر پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے لیے چھوٹی چھوٹی فیکٹری لگ جاتی ہے جو کہ کاروبار ہے۔ اس کا کاروبار چینی اور کپاس کی نسبت آسان ہے۔

ملک کے جنوب میں کپاس اور کماد کاشت کریں، شمال میں چائے، سطح مرتفع پر زیتون اور ملک کی زمین کو بھی کاروبار کے لیے استعمال کریں، جہاں ملک میں آبادی کی شرح بڑھ رہی ہے وہاں نقد آور فصلوں کا رجحان بھی تو بڑھانا ہو گا، اسی لیے تو سید ضمیر جعفری نے تھوڑے سے فرق کے ساتھ کیا خوب کہا تھا:

شوق سے لخت جگر، نور نظر پیدا کرو
ظالمو تھوڑی سی ”چائے“ بھی مگر پیدا کرو
۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفیہ کوثر کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments