جدید نرسنگ کی بانی فلورنس نائیٹنگل
ترقی یافتہ معاشروں میں میڈیکل سے وابستہ افراد کو ناصرف زیادہ سہولیات فراہم کی جاتی ہیں بلکہ ان کو انتہائی عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان میں نرسنگ کے پیشہ کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ ہم اپنے پیاروں کو جس حالت میں جن لوگوں کے حوالے کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں وہ لوگ ہماری نفرت کا نشانہ بنتے ہیں۔ امید ہے کوئی دوست اس کی وجوہات لکھے گا۔
اس پوسٹ میں جدید نرسنگ کی بانی فلورنس نائیٹنگل کا مختصر تعارف دیا گیا ہے کہ کیسے اس نے ایک ایسے ادارے کی بنیاد ڈالی جو لاکھوں افراد کی زندگی بچانے میں کامیاب ہوا۔
فلورنس نائٹنگیل اٹلی کے اپنے ہم نام شہر فلورنس میں 12 مئی 1820 کو ایک انگریز خاندان میں پیدا ہوئی۔ فلورنس کا والد ولیم نائیٹنگل ایک لینڈ لارڈ تھا جو ریاضی، فلسفہ اور مذہب کا عالم تھا۔
فلورنس نے 1844 میں ہسپتال میں بطور نرس کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن اس کے والدین نے اس کی مخالف تھے کیونکہ انیسویں صدی کے انگلستان میں نرسنگ کوئی معقول کام نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اپنے والدین کی مخالفت کے باوجود اس نے بطور نرس کام شروع کر دیا۔ فلورنس کی پرفارمنس اتنی اچھی تھی کہ ایک سال بعد اس کو سپریٹنڈنٹ کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ جولائی 1850 میں وہ جرمنی اور فرانس گئی اور ہسپتالوں میں رضاکار کے طور پر کام کرتی رہی۔ 1853 میں وہ لندن واپس آئی اور خواتین کے لیے مخصوص ایک ہسپتال میں بطور نرس کام شروع کیا۔
اکتوبر 1853 میں برطانیہ، فرانس اور ترکی نے روس کے ساتھ جنگ شروع کر دی جس کو کریمیا کی جنگ کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں انگلستان کا بہت زیادہ جانی نقصان ہوا۔ زخمی فوجیوں کی تعداد 18000 تھی۔ برطانوی میڈیکل کیمپوں میں طبی سہولیات کا فقدان اور اموات کی شرح بہت زیادہ تھی۔ فلورنس نے وزیر جنگ سڈنی ہربرٹ کی مدد سے جنگ میں بطور میڈیکل ٹیم حصہ لینے کا اجازت نامہ حاصل کر لیا۔
فلورنس 1854 میں 38 نرسوں کے ساتھ برطانوی فوجیوں کے ایک فوجی کیمپ میں گئی جو قسطنطنیہ (استنبول) کے مضافات میں واقع تھا۔ ایسے کیمپوں میں صحت کی صورتحال انتہائی مایوس کن تھی۔ زخمیوں کو فرش پر لٹایا گیا تھا اور چند ڈاکٹر گندے ماحول میں مریضوں کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے۔ فلورنس نے اپنے تجربے کی بنیاد پر اعداد و شمار مرتب کیے، اس سے پتہ چلا کہ ہر سو میں سے ساٹھ زخمی متعدی بیماریوں کی وجہ سے مر رہے تھے۔
فلورنس نے ماحول کو صاف ستھرا کرنا شروع کیا۔ صاف طبی سامان، صاف پانی اور صحت مند خوراک کا بندوبست کیا۔ اس کام سے شرح اموات 60 % سے کم ہو کر 2.2 % ہو گئیں۔
فلورنس اور اس کی ٹیم کو اپنی خدمات کی وجہ سے انگلینڈ میں بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور ان کا استقبال ایک ہیرو کی طرح کیا گیا۔ ان کی خدمات اور شخصیت سے متاثر ہو کر عام لوگوں میں نرسنگ کے متعلق رائے تبدیل ہونے لگی۔ فلورنس نے ملکہ وکٹوریہ اور وزیر اعظم لارڈ پامرسٹن سے فوجی ہسپتالوں میں سرکاری تحقیقات کرنے کی اجازت طلب کی جس سے فوجیوں کی صحت پر خصوصی توجہ دی جانے لگی۔
1860 میں فلورنس نے سینٹ تھامس ہسپتال اور دنیا کے پہلے نرسنگ اسکول نائٹنگیل نرسنگ اسکول کی بنیاد رکھی۔ اس اسکول کے قیام نے نرسنگ کو ایک باعزت پیشہ میں بدل دیا۔
فلورنس نے نرسنگ میں بہت سی کتابیں اور رپورٹیں لکھیں۔ اس کی کتاب ”نوٹس آن نرسنگ“ کو نرسنگ کی پہلی کتاب کا اعزاز حاصل ہے۔ 13 اگست 1910 کو نوے سال کی عمر میں فلورنس نائیٹنگل کا لندن میں انتقال ہوا۔


