حاجی چنار گل اب سود نہیں کھاتے


چنار گل خان علاقے کے سب سے بڑے ساہوکار تھے۔ وہ تیس ہزار روپے ادھار دیتے تو اس پر مہینے کا دس ہزار سود وصول کرتے تھے۔ قرض دار سے وہ تیس ہزار کا کاغذ لکھوا کر دو مہینے کا سود پیشگی کاٹتے اور نہایت ایمانداری سے بقیہ دس ہزار اس کے ہاتھ پر دھر دیتے۔ یوں قرض دار ہر مہینے دس ہزار ادا کرتا اور اصل زر تیس ہزار اپنی جگہ پر موجود رہتا۔ پھر وہ ادائیگی سے لاچار ہو جاتا تو چنار گل خان اپنے دل پر پتھر رکھ کر اس کی جائیداد قرق کرواتے اور اس کے مالک بن جاتے۔ پیسوں کے ڈھیر لگ گئے۔ کوٹھڑیاں نوٹوں کی بوریوں سے بھر گئیں۔ آدھے قصبے کی جائیداد چنار گل خان کے نام ہو گئی۔ ایک دن انہیں اس خیال نے ستایا کہ حج کرنا فرض ہے لیکن انہوں نے ابھی تک مکے مدینہ کا رخ نہیں کیا۔ یوں وہ مکہ شریف کے لیے رخصت ہوئے۔

ان کی خوش قسمتی کہ وہاں ان کی ملاقات مفتی نیک بخت سے ہو گئی۔ مفتی نیک بخت کو معلوم ہوا کہ چنار گل خان بیاج پر پیسہ دیتے ہیں تو انہوں نے گل خان کو سمجھایا کہ سود لینا حرام ہے۔ اس کی کمائی کھانا ایسا ہی ہے جیسا خنزیر کا گوشت کھانا۔ چنار گل خان پر اس بات کا بہت اثر ہوا۔ انہوں نے مفتی نیک بخت کے ہاتھ چومے اور وعدہ کیا کہ آئندہ وہ سود کی کمائی نہیں کھائیں گے بلکہ ایمانداری سے تجارت کیا کریں گے۔

حاجی چنار گل جب واپس وطن پلٹے تو اپنے وعدے کا انہیں پاس تھا۔ ایسے میں میاں مسکین ان کے پاس آئے۔ میاں مسکین قصبے کے دھوبی تھے۔ پچھلے دنوں ان کا گدھا بیمار ہوا تھا، پیسے نہ ہونے کے سبب وہ اسے سلوتری کے پاس لے جا کر دوا دارو نہیں کر پائے اور وہ مر گیا۔ اب انہیں پچاس ہزار روپے کی ضرورت تھی تاکہ نیا گدھا خریدیں اور اپنا کام چلائیں۔ انہوں نے حاجی چنار گل سے پچاس ہزار قرض مانگا تو حاجی صاحب نے صاف انکار کر دیا۔ کہنے لگے کہ حج کرنے کے بعد سے انہوں نے بیاج پر پیسہ دینا چھوڑ دیا ہے۔

میاں مسکین کا چہرہ اتر گیا۔ وہ سلام کر کے جانے کے لیے اٹھے تو حاجی چنار گل سے ان کا مایوس چہرہ دیکھا نہ گیا۔ ان کا ہاتھ تھام کر انہیں پہلو میں بٹھا لیا اور کہنے لگے ”میاں مسکین، ہم اب بیاج پر پیسہ نہیں دیتے۔ مگر ہم آپ کو تجارت میں اپنا حصہ دار بنا کر سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ ہماری شراکت کے اس پیسے سے آپ خود بھی کمائیں اور ہمیں بھی اپنی آمدنی میں سے حصہ دیں“ ۔

میاں مسکین کا چہرہ کھل اٹھا۔ گو وہ دھوبی کی چھوٹی سی دکان چلاتے تھے مگر کاروبار کو وسعت دینا ان کا خواب تھا۔ حاجی چنار گل جیسا رئیس ان کا شراکت دار بن جاتا تو ان کے وارے نیارے ہو جاتے۔ انہوں نے فوراً ہاں کہہ دی۔

حاجی چنار گل نے فوراً سٹامپ نکالا۔ اس پر کچھ لکھت پڑھت کی اور میاں مسکین سے کاروبار میں شراکت کے معاہدے پر انگوٹھا لگوا لیا۔ اس کے بعد انہوں نے ملازم کو آواز دی ”بخت زمان، گدھا لے آؤ“ ۔ چند منٹ کے بعد بخت زمان ایک گدھے کو کھینچتا ہوا وہاں آ گیا۔

حاجی چنار گل نے گدھے کی رسی میاں مسکین کو تھمائی اور بولے ”میاں مسکین، بسم اللہ کریں۔ کاروبار شروع کرتے ہیں۔ یہ گدھا ہماری ملکیت ہو گا۔ اس کا سارا رسک ہماری ذمہ داری ہے۔ ہاں اسے کچھ ہو گیا تو بخت زمان سے ہمارا معاہدہ ہو گیا ہے، وہ گدھے کی قیمت بھرے گا۔ بدلے میں بخت زمان کو آپ ایک ہزار روپیہ مہینہ بیمے کی مد میں دیں گے۔ اسے خوب کھلائیں پلائیں اور کپڑے دکان سے گھاٹ تک لانے لے جانے کا کاروبار کریں۔ ہمارا تجارتی معاہدہ ایک سال کی متعینہ مدت کے لیے ہو گا۔ آپ ہمیں دس ہزار روپیہ ماہانہ گدھے کے کرائے کی مد میں دیں گے۔ ساتھ کاروباری شراکت داری کے لیے ہم آپ سے گدھے کی خرید کے لیے کچھ رقم بھی لیں گے۔“

”ابھی تو میرے پاس کل تیس ہزار روپے ہیں۔“ میاں مسکین نظریں نیچی کر کے بولے۔

”کوئی بات نہیں، آپ تیس ہزار ہمیں دے دیں۔ ہم اس تیس ہزار میں سے دو مہینے کا ایڈوانس کرایہ یعنی بیس ہزار کاٹ لیتے ہیں اور معاہدہ پورا ہونے پر پچاس ہزار کا یہ قیمتی گدھا ہم آپ کو محض اس دس ہزار کی معمولی رقم کے عیوض فروخت کر دیں گے۔ تیسرے مہینے سے ہر ماہ آپ نے دس ہزار کرایہ ہمیں دینا ہو گا۔“

”لیکن گدھے کی قیمت تو پچاس ہزار ہے، ایڈوانس کے دس ہزار نکال دیں تو چالیس ہزار بچتے ہیں۔ اس چالیس ہزار کے عیوض آپ مجھ سے سال کے ایک لاکھ بیس ہزار لے رہے ہیں۔“ میاں مسکین منمنائے۔

”میاں مسکین، آپ کی مجبوری دیکھ کر ہم نے کاروبار کی پیش کش کی تھی۔ آپ کو حاجی چنار گل کی پاک صاف کاروباری شراکت درکار نہیں تو ہمارے پیسے واپس کر دیں اور جا کر کسی سود خور ساہوکار سے پچاس ہزار قرض لے لیں اور سال کے ایک لاکھ حرام روپے اسے ادا کریں اور جہنم کی آگ میں جلیں“ حاجی چنار گل خفا ہو گئے۔

میاں مسکین کو گدھا درکار تھا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ حاجی چنار گل کا بھی تھا۔ میاں مسکین نہ کہنے کی جرات نہیں کر سکے۔ انہوں نے حاجی چنار گل کے ساتھ تجارتی شراکت کر لی۔ یوں ان کا کام بھی چل گیا اور حاجی چنار گل بھی سود کا پیسہ لے کر خنزیر کا گوشت کھانے سے بچ گئے۔

اسی بارے میں: کیا اسلامی بینکنگ میں واقعی سود نہیں ہے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1500 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments