ہم سب

ہم سب

ہم سب مل کر چلیں گے

  • Live
  • Archive
  • کالم۔
  • بلاگ
  • بی بی سی
  • گوشہ ادب
  • میرے مطابق
  • ا- فیچر
  • اداریہ۔
  • روپ، رنگ اور روشنی
  • کتابیں
میرے مطابق 

بلیک ہول میں پڑے 22 کروڑ لوگ

01/07/2022 شفقت عزیز constitution, family, India, kashmir, pakistan, Politics, rights, usa
     

کم عمر لڑکی نے گھر چھوڑ کر شادی کر لی۔ اس نے اپنے شوہر (اغواکار؟) کا مذہب، فرقہ، عقیدہ برضا و رغبت تسلیم کر لیا۔ طالب علم نے پروفیسر کو قتل کر دیا، اسے لیکچر کے دوران پروفیسر کے بعض الفاظ پسند نہ آئے تھے۔ مدرسے کی لڑکیوں نے استانی کی زندگی چھین لی، مقتولہ نے مبینہ طور پر طالبات کے محبوب مذہبی رہنا کی کسی بات سے اختلاف کیا تھا۔ فلاں شہر میں چار سالہ بچی کا اغوا اور قتل۔ مذہبی تنظیم کے مشتعل کارکنوں نے جگہ جگہ سڑک بلاک کر دی، تین پولیس اہلکار تشدد سے جان بحق ہو گئے۔

صرف ایک سال کے عرصے میں درجنوں خواجہ سرا نفرت کی بھینٹ چڑھ کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ صوبائی اسمبلی نے نکاح نامے میں فرقے کے اندراج کے لیے قانون منظور کر لیا۔ سودی نظام معیشت فوری طور پر ختم کر دیا جائے، وفاقی شرعی عدالت۔ سودی نظام کے خلاف مہم چلانے کے لیے لوگ چندہ دیں (سودی نظام پر قائم بینکوں میں کھولے گئے اکاؤنٹس کی توسط سے ) ۔ ”جناب مذہبی ٹچ (تڑکا) بھی دیں“ ، سٹیج پر سر عام سیاسی جماعت کے رہنما کا اپنے قائد کو مشورہ جسے فوری طور پر قبول کر لیا گیا۔ ایک مشروب ساز کمپنی اعلانات شائع کراتی ہے کہ اس کا کسی خاص مذہب، فرقے یا عقیدے سے کوئی تعلق نہیں۔ ٹی وی اینکر لوگوں کو بتا رہا ہے کہ فلاں نے فلاں کے خواب میں توہین مذہب کا ارتکاب کیا ہے۔

حکمران وقت نے توشہ خانے سے قیمتی اشیاء لے کر بازار میں بیچ ڈالیں۔ یہ وہ مقبول رہنما ہیں جو اپنے لاکھوں مداحوں کو روزانہ کی بنیاد پر بد عنوانی کے خلاف لیکچر دیتے ہیں۔ ہم نے چھبیس سال ملک میں جمہوریت کی سربلندی کے لیے جد و جہد کی مگر طاقتور اداروں کا فرض ہے کہ غیر جمہوری ہو یا آئین سے ماورا، مجھے اقتدار میں رکھنے کے لیے کردار ادا کریں نہیں تو اللہ میاں کے نزدیک انہیں جانور شمار کیا جائے گا، انہی نیک اور دیانت دار رہنما کا نہ ختم ہونے والا پر زور اصرار۔

پٹرول پانچ سو روپے لیٹر ہوا تو بھی پرواہ نہیں، شرط یہ ہے کہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر ہمارا شہزادہ (عمر رسیدہ یا بزرگ کہنے کی جسارت کوئی نہ کرے ) متمکن ہو، کسی اور کی حکومت ہوئی تو مہنگائی قطعی نا قابل قبول ہو گی اور غریب عوام پر ظلم تصور کی جائے گی، فدایان کا واشگاف اعلان۔ نہ ہمیں کوئی فون کرتا ہے نہ ہمارا فون سنتا ہے، ہمیں دوران پرواز حکم آتا ہے کہ طیارے سے نیچے اترو اور ہمارا طیارہ واپس کرو، ترلے منتیں کرتے ہیں مگر کوئی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نہیں نکالتا، کشمیر کے معاملے پر دوستوں نے حمایت سے صاف معذرت کر لی، پھر بھی ہم اتنے اہم اور ’خطرناک‘ ہیں کہ دنیا ہمارے خلاف سازش میں شریک ہو گئی۔

ہم ایک آزاد اور خود مختار ملک ہیں۔ کوئی ہمیں انسانی حقوق پر بھاشن نہ دے، کوئی ہمیں اقلیتوں کے حقوق نہ سکھائے، کوئی ہمیں آزادی اظہار کی اہمیت نہ بتائے، کوئی ہمیں باور نہ کرائے کہ ہم تعلیمی نصاب کے نام پر نفرت، دقیانوسیت اور فرسودگی اپنی نسلوں کو منتقل کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہم ایسے تمام مشوروں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، کیا ہوا کہ دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے ہمیں کچھ ڈالرز چاہئیں مگر خدا را اسے بھیک مت سمجھیں، آپ کو بتائے دے رہے ہیں کہ یہ ہماری ’سٹریٹجک لوکیشن‘ کا تاوان ہے۔

اور ہاں وہ جو عورتوں اقلیتوں، آزادیوں وغیرہ کے بارے میں بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کر رکھے ہیں، انہیں زیادہ سنجیدگی سے مت لیا کریں، ہمارا ہر چیز کا ایک ’لوکل کانٹیکسٹ‘ ہوتا ہے مثلاً آزادی اظہار کا مطلب ہے کہ آپ دنیا کے تمام بڑے بڑے بڑے مسائل جیسا کہ فلسطین، کشمیر، اسلامو فوبیا پر کھل کر بول اور لکھ سکتے ہیں، کسی بھی تہذیب، تمدن کا مذاق اڑا سکتے ہیں مگر پاپا جونز شونز جیسی فضول باتوں سے اجتناب کریں۔ توشہ خان ووشہ خان یا جن کو آپ انتہا پسند گروپس کہتے ہیں کے بارے لکھنے پر پابندی نہیں ہے، ہاں جواب میں وٹے ماریں، گالیاں دیں تو یہ آپ اور ان کا معاملہ ہے۔

چین میں عالمی ترقی کے حوالے سے ایک اہم حالیہ مکالمے میں BRICS ممالک یعنی برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ کے علاوہ ایتھوپیا، سینیگال، اور فجی سمیت وسط ایشیا، مشرق بعید، افریقہ، لاطینی امریکہ کے 13 ترقی پذیر ممالک شریک ہوئے۔ کچھ لوگوں کے لیے چین کی میزبانی میں اس ہم ایونٹ میں پاکستان کی عدم شرکت حیرت اور صدمے کا باعث رہی تا ہم حقائق سمجھنے اور جاننے والوں کے لیے یہ سادہ اور قابل فہم بات ہے۔ اب اس تحریر کو الٹا پڑھیں تو حقائق کا سرسری ذکر مل جائے گا مگر اس سے بڑی حقیقت تو یہ ہے کہ ہم 22 کروڑ سے زیادہ لوگ ایک بلیک ہول میں جا پڑے ہیں جو ہم تک آتی روشنی کی ہر رمق کو تیزی سے نگلتا جا رہا ہے۔

Facebook Comments HS