سدا آباد ہی رکھنا زبیرؔ اس دل کی محفل کو

آج کل سوشل میڈیا کے اس طبقے میں ”پڑوسن“ کے چرچے ہیں جو ”طارق ہاشمی“ صاحب کو جانتے ہیں اور کیوں نہ ہوں جب وہ ”جوتوں“ کی فرمائش سے ابتدا کرے اور بات ”پانچ قیراط“ ہیرے کی انگوٹھی تک جا پہنچے اور بیچارے ہاشمی صاحب کی تنخواہ سولہ سو ایک سو اسی روپے ہو۔ یہ ڈاکٹر طارق ہاشمی کا کمال ہے کہ انھوں نے گمبھیر سیاسی صورت حال میں ایک ایسا کردار تخلیق کیا کہ جس سے منہ کی کڑواہٹ اور حالات کی تلخی قہقہوں اور مسکراہٹوں میں بدل جاتی ہے۔
لیکن طارق ہاشمی کا تعارف فقط ”پڑوسن“ کے حوالے سے کرنا بھی سراسر ظلم ہے وہ تخلیق، تحقیق اور تنقید کے مابین نہ صرف ”رشتہ“ تلاش کرلیتے ہیں بلکہ اس کا عملی اظہار ”دل نے دستک دی“ ”نظم کی تیسری جہت“ ”شعریات خیبر عصری تناظر میں“ ”پاکستانی ادب کے معمار فارغ بخاری“ ”اردو غزل کی نئی تشکیل“ اور ان جیسے کئی اور تخلیقات میں کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر سید زبیر شاہ سے پتہ چلا کہ طارق ہاشمی صاحب پشاور تشریف لا رہے ہیں۔ میں نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی کیونکہ زبیر شاہ صاحب اکثر اپنے تخلیقی سفر میں ہاشمی صاحب کی مہربانیوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔
صبح انھیں قرطبہ یونیورسٹی میں ایک پی ایچ ڈی کے دفاع میں بطور بیرونی ممتحن شرکت کرنی تھی جس کے نگران زبیر شاہ صاحب تھے۔ راستے میں مجھے بھی گاڑی میں بٹھا لیا اور جلد ہی ہم قرطبہ کے سیمینار ہال میں تھے۔ وہاں سے فراغت کے بعد مجھے گھر چھوڑ دیا اور دونوں شعبہ اردو جامعہ پشاور تشریف لے گئے۔ اس سرسری سی ملاقات میں ”پڑوسن“ کے علاوہ کوئی بات نہ ہو سکی لیکن مجھے اطمینان تھا کہ شام کو پشاور پبلک سکول میں طارق ہاشمی صاحب کے ساتھ ”مکالمہ“ ہے۔
مقررہ وقت پر گھر سے نکلا تو تیز آندھی نے یوں گھیر لیا جیسے کالی آندھی (ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم ) کسی زمانے میں پاکستانی ٹیم کو گھیر لیتی تھی۔ اپنی صحت ابتدا سے مثالی ہے اس لیے نرم و نازک ہواؤں کی اٹکھیلیاں اور چھیڑ خانیاں تو اچھی لگتی ہے لیکن جمالیاتی ذوق کو ٹھیس پہنچانے والی گرد آلود، طوفانی اور زمہریر ہواؤں سے الجھنے کی تاب نہیں لا سکتا۔ جیسے تیسے اس کمرے میں پہنچ ہی گیا جہاں زبیر شاہ صاحب نے میز پر طارق ہاشمی صاحب کی جملہ تصنیفات کو سجا دیا تھا۔
قسمت اللہ خٹک، راج آفریدی، منصور ساحل اور پروفیسر جمال پہلے سے موجود تھے۔ حسب روایت مہمان خصوصی کی خالی کرسی سب کا منہ چڑا رہی تھی۔ زبیر شاہ صاحب ”کلام“ و ”طعام“ دونوں کے انتظامات میں مصروف رہے۔ اور راج نے جب یہ بھی بتایا کہ وہ ”لنچ“ کے بغیر آئے ہیں تو ان کے چہرے پر تھوڑے سے خوف کے آثار بھی پائے گئے۔ تھوڑی دیر بعد جدید لب و لہجے کے شاعر ”شہر میں گاؤں کے پرندے“ ہاتھ میں لیے ”دیوار کے اندر“ سے نہیں بلکہ دروازے کو اوقات میں لاکر وارد ہوئے۔
تھوڑی دیر میں طارق ہاشمی صاحب تشریف لائے اور زبیر شاہ صاحب نے آداب میزبانی سنبھال کر مکالمے کا آغاز کرتے ہوئے ہاشمی صاحب کے ساتھ اپنی شناسائی اور تخلیقی سفر کی ابتدا میں ان کی رہنمائی کا ذکر بڑے خلوص سے کیا۔ اسحاق وردگ نے ان کے ساتھ وابستگی اور پشاور کی ادبی محفلوں کو بڑی حسرت سے یاد کیا۔ پروفیسر جمال نے ایڈورڈ کالج میں ان کے ساتھ بیتے ہوئے وقت کا تذکرہ دلچسپ انداز میں کیا۔
؎ہنسی میں کٹتی تھیں راتیں خوشی میں دن گزرتا تھا
کنول ماضی کا افسانہ نہ تم بھولے نہ ہم بھولے
پتہ چلا کہ وہ طلباء میں بہت مقبول رہے اور ان کے طریقہ تدریس میں یہ نمایاں پہلو تھا کہ ہر کلاس میں روزانہ ایک نیا شعر اور ایک نیا لفظ سکھاتے۔ یہ کتنا اچھا خیال ہے مجھے ذاتی طور پر بہت اچھا لگا کیونکہ اسی طرح قومی زبان اور ادب سے طلبا کی دلچسپی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس دوران ناصر علی سید صاحب تشریف لائے اور محفل کی رونق بڑھائی:
؎تم آ گئے تو چمکنے لگی ہیں دیواریں
ابھی ابھی تو یہاں پر بڑا اندھیرا تھا
طارق ہاشمی صاحب یادوں کی بارات فیصل آباد سے بہ راستہ ڈیر اسماعیل خان لا کر پشاور کی گلیوں میں گھومے پھرے اور ادب کی گلی میں قدم رکھتے ہی ان کے چہرے پر سنجیدگی عود آئی شاید یہ ادب انسان کو مؤدب اور محتاط بنا دیتا ہے۔ انھوں نے خبیر پختونخوا میں شعر و ادب پر بات کی اور ان کا کہنا تھا کہ یہاں اس خطے میں اچھا شعر کہا جا رہا ہے البتہ نثر میں خاص کر تنقید اور ناول پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے عالمی ادب اور ادیبوں کے تناظر میں ادب کی اہمیت، جدیدیت، عصری حسیت اور کمٹمنٹ پر تفصیلی گفتگو کی جو ہم جیسے ادب کے طالبعلموں کے لیے بہت مفید رہی۔
تھوڑی دیر بعد سوال و جواب کا سلسلہ چلا۔ راج آفریدی نے ”ادب اطفال“ کے فروغ میں پی ٹی وی اور پرنٹ میڈیا کے کردار سے متعلق سوال کیا۔ جس پر ڈاکٹر طارق ہاشمی نے رائے دی کہ علامہ اقبال سمیت اپنے دور کے ہر بڑے ادیب نے بچوں کی تربیت اور تفریح کے لیے ادب تخلیق کیا لیکن اس دور میں ایسا کوئی بڑا ادیب نظر نہیں آ رہا جو یہ فریضہ انجام دے رہا ہو۔ راقم الحروف نے ان سے سوال کیا کہ ادب انحطاط کا شکار ہے اور کیا اچھے فن پارے اس لیے سامنے نہیں آرہے کہ ادیب بھرپور ریاضت سے کتراتے ہیں؟
اس پر انھوں نے کہا کہ ادب لکھا جا رہا ہے اور بہت اچھا لکھا جا رہا ہے نئے لوگ جملہ اصناف ادب میں طبع آزمائی کر رہے ہیں۔ کتاب اب بھی خریدی اور پڑھی جا رہی ہے بس اپنا معیار تخیل مزید بہتر کرنے کے لیے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے اور خاص کر نثر میں یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ جو لکھا جا رہا ہے اس کا تعین ہو کہ اس سے پہلے کیا لکھا گیا ہے اور اس وقت کیا لکھنا چاہیے۔ انھوں نے حلقہ ارباب ذوق پشاور کا نیا سلسلہ ”کتاب کیفے /کتاب کہانی“ کو بہت پسند کیا۔
سوال و جواب کا سلسلہ چلتا رہا۔ ناصر علی سید صاحب نے طارق ہاشمی کی ادبی سرگرمیوں اور ادب کے ساتھ ان کی گہری وابستگی اور دلچسپی کو سراہا اور خیبر پختونخوا کے ادبی منظرنامے پر ایک معتبر نام کے طور پر یاد کیا۔ انھوں نے کہا کہ ”مکالمہ“ زندہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ مکالمے میں سیکھنے کا موقع زیادہ ملتا ہے۔ چائے، چاٹ سمیت سموسے اور بسکٹ کا دور چلا۔ اس کے بعد ڈاکٹر زبیر شاہ، ڈاکٹر اسحاق وردگ، ناصر علی سید اور ڈاکٹر طارق ہاشمی نے اپنا اپنا کلام سنا کر نہ صرف داد سمیٹی بلکہ محفل کا ذائقہ بدل ڈالا۔ ڈاکٹر زبیر شاہ نے یوں ابتدا کی۔
اداسی لوٹ آتی ہے دوار شام سے پہلے
سر مژگاں چمکتے ہیں ستارے شام سے پہلے
سدا آباد ہی رکھنا زبیر اس دل کی محفل کو
یہاں مل بیٹھتے ہیں غم کے مارے شام سے پہلے
جدید لب و لہجے کے خوبصورت شاعر ڈاکٹر اسحاق وردگ نے اپنی تازہ غزل یوں زمزمہ کی۔
ایک تماشا ہے میری ذات میں آوازوں کا
اپنے ہونے کا ہی اعلان نہیں ہے مجھ میں
شور اتنا ہے کہ خاموش پڑا ہوں خود میں
آسمانوں کی طرف دھیان نہیں ہے مجھ میں
بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر ناصر علی سید دو غزلوں کے مختلف شعر سنا کر داد کے مستحق ٹھہرے :
کن خرابوں میں محبت تیری لے آئی ہے
دل مجھے روکتا ہے کار جہاں کھینچتا ہے
تو عجب وادیٔ حیراں میں الگ مجھ سے ہوا
نیلے پربت کو جہاں زرد دھواں کھینچتا ہے
ڈاکٹر طارق ہاشمی صاحب نے اپنا کلام سنایا:
کچھ اختیار ہے خود پر نہ اپنے بس میں ہوں میں
نظر ہے اور کوئی جس کی دسترس میں ہوں میں
وہ اپنے سبزہ و گل کی بہار میں گم ہے
اسے خبر ہی کہاں ہے کہ خار و خس میں ہوں میں
یہ مکالمہ رات دیر تک جاری رہا۔ ناصر علی سید صاحب نے پرانے وقتوں کی بات چھیڑی تو پی ٹی وی کے ڈراموں کا سنہرا دور زیربحث آیا۔ ضیاء الحق کے مارشل لاء دور میں انور مقصود اور معین اختر کی ان سے چھیڑ خانی اور ذومعنی جملے دہرائے گئے۔ ماضی کتنا خوبصورت ہے اور حال کتنا بدحال۔ یہ شاید ہر دور کا المیہ رہا ہے میں کبھی بھی یہ جان نہیں پایا کہ یہ واقعی ایسا ہے یا ہمارے ذہن کی اختراعی صورت ہے بہرحال جو بھی ہو یہ پل بڑے سہانے تھے کہ ایک کمرے یادوں کی تقریب باتوں کے ذریعے بپا تھی اور ہم اردگرد سے بے خبر بڑے انہماک سے سماعت کر رہے تھے۔ بالا آخر تقریب کی طرح یہ ”مکالمہ“ بھی اختتام پذیر ہوا لیکن کم وقت میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔
؎وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا

