مضاربہ سکینڈل۔ ”پاکستان کی سب سے بڑی ڈکیتی“ ۔


نیب کے چیئرمین جاوید اقبال نے کہا ”مضاربہ کیس ان کیسز میں سے ایک تھا جو انتہائی مشکل ترین کیسز تھے، یہ پاکستان کی سب سے بڑی ڈکیتی تھی یہ فراڈ یا دھوکہ دہی کا کیس نہیں تھا بلکہ اس میں مفتیان کا فرعونیت کا رویہ تھا۔ انہوں نے جو دولت غلط طریقے سے اکٹھی کر کے سرمایہ کاری کی وہ وہاں سے کچھ حاصل نہ کرسکے۔ یہ وہ انتقام تھا جو قدرت نے مفتیان سے لیا اور آج وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔“

سنہ 2013 میں سامنے آنے والے اربوں کی مالیت کے اس سکینڈل کے بارے میں نیب کو 30 ہزار سے زیادہ افراد نے شکایات جمع کروائیں۔ بعض خبروں میں اس فراڈ کی مالیت ڈھائی کھرب روپے بتائی گئی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ اقتصادی امور کے اجلاس میں مضاربہ سکینڈل کے حوالے سے نیب حکام نے بتایا کہ راولپنڈی اسلام آباد میں بھی بعض مساجد میں مولوی صاحبان نے اعلان کیا کہ بینکوں سے پیسے نکال لیے جائیں کیونکہ یہ سودی لین دین ہے مضاربہ میں پیسے کھپائے جائیں جہاں حق حلال کا جائز منافع ملتا ہے اس حوالے سے فتوے بھی جاری کیے گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایسے ہی اعلانات دوسرے علاقوں میں بھی ہوتے تھے۔

اس مقدمے میں گرفتار کیے گئے مذہبی رہنماؤں اور ان کے ساتھیوں میں مفتی احسان الحق، مفتی ابرار الحق، حافظ محمد نواز، معین اسلم، عبید اللہ، مفتی شبیر احمد عثمانی، سجاد احمد، آصف جاوید، غلام رسول ایوبی، محمد حسین احمد، حامد نواز، محمد عرفان، بلال خان بنگش، مطیع الرحمن، محمد نعمان قریشی، سید عکشید حسین، محمد عادل بٹ، محمد ثاقب، عمیر احمد، عقیل عباسی، مفتی حنیف خان، نذیر احمد ابراہیم اور سیف اللہ سمیت 45 ملزمان شامل تھے۔ مفتی احسان الحق کو 10 برس قید اور نو ارب روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ غلام رسول ایوبی کو 14 برس قید اور پونے سات کروڑ روپے جرمانے کی سزا دی گئی۔

الیگزر گروپ اور بی فور یو گروپ وغیرہ کے فراڈ بھی بڑے تھے جن میں مضاربہ کے نام پر لوگوں کا اربوں روپیہ لوٹا گیا۔ نیب ذرائع کے مطابق بی فور یو گروپ کے مالک سیف الرحمان نے 4 لاکھ سے زیادہ لوگوں کا ایک کھرب سے زیادہ مضاربہ کے نام پر لوٹا۔

اگست 2016 میں چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے بتایا کہ مضاربہ مشارکہ سکینڈل میں 28 کیس احتساب عدالتوں میں دائر کیے گئے تھے۔

اس سلسلے میں آئی بی اے کے دسمبر 2018 کے بزنس ریویو میں عرفان اللہ، وقار احمد اور ارشد علی نے ایک دلچسپ مضمون لکھا ہے جس میں مضاربہ سکینڈل کے متاثرین کا نقطہ نظر اور انہیں گھیرنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔ مندرجہ ذیل معلومات اسی مضمون سے لی گئی ہیں۔

مفتی احسان والے مضاربہ سکینڈل میں سب سے پہلے مذہبی لیڈروں کو سکیم آفر کی گئی۔ کئی متاثرین نے کہا کہ اس کے پیچھے کراچی کا ایک نمایاں مذہبی ادارہ تھا۔ فراڈ سکیم کے بانی نے علما کے ذریعے پورے ملک میں سکیم پھیلائی۔ وہ لوگوں سے رقم اکٹھی کرتے اور انہیں طے کردہ منافع دیتے اور اس خدمت کے عیوض انہیں طے کردہ کمیشن دیا جاتا۔ ان میں سے کئی افراد نے اپنی رقم بھی اس سکیم میں لگائی اور اپنے جاننے والوں کی بھی۔

وقت گزرنے کے ساتھ بات پھیلتی گئی اور لوگ اپنا پیسہ لگاتے گئے۔ علاقے میں اپنی مذہبی حیثیت کے باعث علما نے لوگوں کو قائل کیا کہ مضاربہ سرمایہ کاری کا ایک اسلامی طریقہ ہے جبکہ عام بینک اور دیگر مالیاتی ادارے سود کا استعمال کر کے منافع دیتے ہیں جو اسلام میں حرام ہے۔ یوں لوگ حلال رقم کمانے کے چکر میں انہیں پیسے دیتے گئے۔

ایک شخص نے بتایا کہ وہ سعودی عرب سے چھٹیاں گزارنے واپس آیا تھا تو اسے مضاربہ سکیم کا پتہ چلا۔ وہ فوراً مفتی کے پاس گیا اور اس سکیم کے بارے میں پوچھا۔ مفتی مضاربہ سکیم کا ایجنٹ تھا۔ سعودیہ پلٹ شخص نے پوچھا کہ کیا مضاربہ میں سود کا عنصر شامل ہے؟ مفتی نے بتایا کہ اس میں سود نہیں اور تم میری گارنٹی پر سرمایہ کاری کرو۔ سعودیہ پلٹ شخص نے پیسہ لگا دیا۔

ایک دوسرے شخص نے بتایا کہ اس نے دیکھا کہ لوگ مضاربہ سکیم میں پیسہ لگا رہے ہیں اور اپنی سرمایہ کاری سے بہت خوش ہیں۔ اس نے بھی پیسہ لگا دیا۔

لوگ ان ایجنٹ علما کے پاس جا جا کر ان سے اپنا پیسہ مضاربہ میں لگانے کی درخواست کرنے لگے۔ زیادہ منافعے کے علاوہ ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ یہ ایجنٹ علما یہ ظاہر کرتے تھے کہ مضاربہ سکیم ایک حلال کاروباری موقع ہے اور عین شرعی اصولوں کے مطابق ہے۔

مضاربہ سکیم کے ذریعے 60 فیصد سے 120 فیصد منافع دیا جاتا۔ یہ پوچھنے پر کہ کاروبار کیا ہے، مختلف کاروبار بتائے جاتے۔ مثلاً یہ بتایا گیا کہ کیبل کی درآمد کا کام ہے۔ کیش پر یہ کیبل 70 ہزار کی ملتی ہے۔ اگر تھوڑی مدت کے ادھار پر لی جائے تو ایک لاکھ قیمت ہوتی ہے۔ اگر طویل مدت کے ادھار پر لی جائے تو اس کی قیمت ڈیڑھ لاکھ ہے۔ ہم کیش پر 70 ہزار کی کیبل لیتے ہیں اور ادھار پر فروخت کرتے ہیں۔ یوں شرعی طریقے سے بھاری منافع کما لیتے ہیں۔

یہ کہا گیا کہ ہمارے ملائشیا میں پولٹری فارم ہیں جہاں سے ساری دنیا کو ہم مرغیاں برآمد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارا آسٹریلیا میں کیٹل فارم ہے۔

ایک شخص کو بتایا گیا کہ تمہارے پیسوں سے ہم نے تیس بوری آلو خریدے۔ بیس بوریاں بیچ کر اصل زر واپس مل گیا۔ بدقسمتی سے باقی دس میں سے پانچ بوریاں خراب ہو گئیں اور ان میں سے بھی آدھے آلو ٹھیک نکلے۔ یوں ہم نے ساڑھے سات بوریوں کا منافع کمایا۔

رئیل اسٹیٹ کا بھی بتایا جاتا کہ ہم اگر بیس لاکھ کی عمارت تعمیر کرتے ہیں تو اسے ساٹھ لاکھ کی بیچتے ہیں۔ یا یہ کہ ہم درآمدات کرتے ہیں اور بھاری قیمت پر ملک میں بیچتے ہیں۔ یا ہم سونے اور دیگر دھاتوں کا کاروبار کرتے ہیں۔

منافعے کی شرح زیادہ ہوتی۔ مثلاً ایک شخص کو ایک لاکھ روپے پر 6 ہزار ماہانہ دیا جاتا، یعنی سال کا 72 ہزار۔ یہ سکیم پکڑی کس طرح گئی؟

یہ سکیم اس وقت تک کامیابی سے چلتی رہی جب تک نئے انویسٹر آتے رہے۔ ان کی رقم سے پرانے انویسٹر کو منافع دے دیا جاتا۔ لیکن ایک وقت آیا جب ایجنٹ علما نے منافع دینے کے عمل کو ٹالنا شروع کر دیا۔

ایک متاثرہ شخص بتاتا ہے کہ جب مجھے وقت پر منافع نہ ملا تو میں ایجنٹ عالم کے پاس گیا۔ اس نے کہا کہ ”میں تمہیں اس مدت کا اور آئندہ مدت کا منافع دے دوں گا۔ چند ماہ انتظار کرو، تمہیں ایک بڑی رقم ملے گی“ ۔

ایک دوسرے شخص نے بتایا ”مجھے منافعے کی پہلی قسط بروقت مل گئی۔ لیکن دوسری قسط ڈیڑھ مہینہ لیٹ ہوئی۔ میں نے ایجنٹ سے رابطہ کیا تو اس نے کہا کہ مال راستے میں ہے، اور جلد ہی تمہیں تمہارا حصہ مل جائے گا۔ بعد میں نہ مجھے منافع ملا نہ اصل زر“ ۔

ایک اور شخص نے بتایا ”پہلے کچھ مدت تک دیر ہوئی تو ہم نہیں گھبرائے۔ لیکن جب رقم جمع ہوتی گئی اور ایجنٹ نہ تو ہمیں ملا اور نہ اس نے ہمارا فون اٹھایا تو ہمیں شک ہو گیا۔“

ایک اور شخص نے بتایا کہ ”جب شروع میں منافع ملنا رکا تو سرمایہ کاروں نے ایجنٹوں کے پاس چکر لگانے شروع کیے۔ شروع میں تو ایجنٹ ان سرمایہ کاروں کو تسلی دلاسا دے کر پانچ چھے ماہ کی مدت تک ٹالنے میں کامیاب رہے۔ اس دوران سرمایہ کاروں کا دباؤ بڑھتا رہا اور پھر وہ بھاگ گئے۔ چند دن بعد ہمیں خبر ملی کہ مضاربہ سکیم کوئی کاروبار نہیں بلکہ فراڈ تھی“ ۔

سکیم میں سرمایہ لگانے والے 70 فیصد لوگوں کو منافعے کی صرف پہلی قسط ملی۔ بقیہ 30 فیصد کو دوسری قسط بھی ملی۔ اس سے زیادہ کسی کو نہ ملا۔

یہ تھے ان محققین کے مضمون کے اہم نکات۔ اب آپ مضاربہ یا کسی دیگر شرعی سکیم میں سرمایہ لگانا چاہتے ہیں تو یہ تسلی ضرور کر لیں کہ آپ کو تقریباً اتنا ہی منافع مل رہا ہے جتنا سودی ادارے دے رہے ہیں یا بے تحاشا منافع دیا جا رہا ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ جو مفتیان آپ کو اس کاروبار میں پیسہ لگانے کی ترغیب دے رہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ یہ عین شرعی کاروبار ہے، کہیں ان کے اپنے مالی مفادات تو اس ادارے سے وابستہ نہیں۔

سادہ دل بندے یاد رکھیں کہ مملکت خدا داد میں ”درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری“ ۔ ایسا نہ ہو کہ شرعی کاروبار کی ترغیب میں آپ اپنی جمع پونجی سرکاری یا نیم سرکاری سکیموں سے نکال کر لٹا بیٹھیں۔

کیا اسلامی بینکنگ میں واقعی سود نہیں ہے؟


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1500 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments