ابلیس کی مجلس شوریٰ: پاکستان کے سیاست دان اور ان کے رویوں پر ایک نظر
ملک میں آنے والے تمام حالات کا سامنا کرتے ہوئے آج ہم ایک ایسی سیڑھی پر قدم رکھے ہوئے ہیں جو نہ تو ٹوٹ رہی ہے نہ ہی اس سے آگے جانے کا ہمیں امکان نظر آتا ہے۔ ملکی مداری صفت حکمرانوں اور آقاؤں کی ریت و روایات آئے دن پہلے کی نسبت بدلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ملک کو ترقی اور خوشحالی کے دعوے دار تو ہزاروں ملتے ہیں مگر افسوس کوئی مرد قلندر ایسا نہیں آتا کہ جو الہ دین کا چراغ جلائے اور میرا ملک راتوں رات امیر بنے اور خوشحالی کے عظیم ترین راستوں پر گامزن ہو جائے۔
میرے ملک الباکستان کی سرزمین بہت زرخیز ہے جہاں ہر طرح کے حکمران باآسانی اگتے ہیں ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے نچانے اور غریب اور لاچارگی سے پسے عوام کو ورغلا کر ووٹ حاصل کرنے کے نشے میں مست ہے۔ الیکشن آئے تو کہتے نہیں تھکتے کہ ہم آپ کے بہت بڑے سیاست دان اور خیر خواہ ہیں جو کہ ہم آپ کی زمین پر ایک ایسا بیج بو دیں گے جس سے آپ زمین تو کیا سمندر کی تہہ سے بھی اپنے ضروریات زندگی کا سامان پیدا کر سکتے ہیں مگر الیکشن کا وقت ختم تو عوام کو کہتے ہیں ہم آپ کے ہیں کون۔ عوام اپنی وہی بیچارگی اور دکھ بھری زندگی کو لے کر حکمرانوں کے حق میں یا تو بددعا دیتے ہیں یا تو گالیاں دیتے پھرتے ہیں۔
پاکستان میں کرپشن اور اقربا پروری کی بات کی جائے تو یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں حکمرانوں اور وزیروں نے جب بھی موقع ملا عوام کو لوٹنے میں کوئی بھی کسر نہیں چھوڑی ہر عوامی خادم نے عوام کو ہی یرغمال بنا کر خون کے آنسوں بہانے پر مجبور کیا ہے۔ ہر دفتر کی دیوار پر لٹکی بابائے قوم کی تصویر یہ سوال کر رہی ہوتی ہے کہ آخر ہم نے پاکستان کا قیام اسی دن کے لیے کیا تھا؟ کیا پاکستان کا یہی مطلب ہے؟ کیا پاکستان کے لیے قربانیاں انہیں برائیوں کو پروان چڑھانے کے لئے دی تھیں؟
یہ سب سوالات ہر اس حکمران کے لیے ہیں جو قومی چور ہو۔ میرے عظیم ملک پاکستان کی روایت رہی ہے کہ عوام کو لوٹو باقی تمام معاملات اپنی جگہ پر درست ہوں گے۔ عظیم ترین سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران آئے روز طرح طرح کے حربے استعمال کر کے عوام کو لوٹنے کا بازار گرم کرتے ہیں۔ انصاف کا جنازہ تو پہلے ہی نکل چکا ہوتا ہے مزید انسانیت کا حق تلف کرنے میں اور کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ یہ ہے میرے ملک کے عظیم حکمرانوں کی ایک مختصر سی تمہید۔
ملک خدا داد پاکستان میں بہت اقسام کے سیاست دان پائے جاتے ہیں۔ مگر میری نظر میں تین اہم اور موثر ترین قسم کے سیاست دان سر فہرست ہیں۔
نمبر ایک وہ سیاست دان جو صرف اور صرف باتوں کی حد تک عوام کو اپنے جھوٹے وعدوں پر قائل کرتے ہیں۔
نمبر دو وہ سیاست دان جو خاموش ہوتے ہیں اور اندر ہی اندر عوام کو کھوکھلا کرنے میں اپنا بہترین کردار ادا کرتے ہیں بظاہر تو یوں لگتا ہے کہ وہ عوام کے ہمدرد ہیں مگر حقیقت کچھ اور ہوتی ہے وہ بس اپنی ہی ذات تک محدود ہیں۔ اور اپنی اولادوں کے لیے نوازنے میں لگے رہتے ہیں۔
اور تیسرے نمبر پر وہ سیاستدان آتے ہیں جو غنڈے اور بدمعاش قسم کے ہوتے ہیں جو ہر چیز بندوق کی نوک پر بات منوانے کے چکروں میں ہوتے ہیں۔ ان کو سادہ لفظوں میں ان پڑھ اور جاہل کہا جائے تو کوئی حرج نہیں ہو گا۔ وہ بس اپنی سیاسی زندگی کو چمکانے اور اپنی انا کی تسکین کے لیے عوام کے جذبات کا قتل عام کرتے ہیں۔
چند روز قبل ایک نجی ٹی وی چینل کا ایک پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ایک سیاست دان اور ایک تجزیہ نگار صحافی ایک دوسرے پر کسی بات پہ الجھ رہے تھے اتنے میں باتوں کی تکرار اتنی شدت اختیار کر گئی کہ سیاست دان نے صحافی کو تھپڑ رسید کیا جس پر ٹی وی سیٹ پر ایک ہل چل سی مچ گئی جس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ سیاست نہیں ایک کشتی ہے جس کا ہر کھلاڑی اس تاک میں رہتا ہے کہ اگلا حریف کھلاڑی کو کیسے پچھاڑنے میں کامیاب رہوں۔
ہاتھ کی انگلیوں کی طرح انسان بھی برابر نہیں ہوتے مگر سیاسی انداز سے یوں کہا جاسکتا ہے کہ سیاست میں کوئی بھی انسان یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اخلاقی اور تہذیبی دائرہ کار کو ناصرف پامال کرتا ہے بلکہ اس اخلاقی پیکر اور مقصد انسانیت کو ہی بھول کر وہ بس یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔
کیا ہم ایک دفعہ یہ سوال خود سے نہیں کر سکتے کہ آیا جس کو ہم ضمیر کی آواز یعنی ووٹ دینے جا رہے وہ اس لائق ہے جو آپ کے تمام تر معاملات کو بھرپور انداز سے سمجھ سکے۔ ویسے غریب عوام بھی کیا کمال کرتے ہیں اپنی ضمیر ان کو بیچ دیتے ہیں جس کو دوسرے انسان سے کس طرح پیش آنا چاہیے اور معاملات کو کیسے سلجھانے چاہیے ان کو معلوم تک نہیں ہوتا۔
کافی عرصے سے پاکستان کے سیاسی حالات کا جائزہ لینے اور اس پر غور کرنے سے یہ بات بخوبی واضح ہو چکی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنی من مانی کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ سیاست کے نام پر عوام کو ایک مخصوص انداز سے نا انصافی کی بیٹھی پر جلایا جاتا ہے۔ مہنگائی، بدامنی، اقربا پروری جیسے مہلک اور عظیم ترین براوں سے نجات دلانے کے بجائے غریب عوام کو غربت اور بھوک کے دامن گیر ہونے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ کیا یہی میرے قائد کا پاکستان ہے؟ کیا اسی دن کے لیے میرے قائد نے ایک عظیم ترین قربانی کے بعد پاکستان ان لٹیروں کے ہاتھ میں تھما دیا تھا؟
میرے قائد کا پاکستان خوشحال نہیں تو صرف انہی خود غرض سیاسی مداریوں کی وجہ سے نہیں ہے۔ آج آئے روز خبر ملتی ہے کہ ڈالر دو سو روپے کا ہوا، اسٹاک ایکسچینج مارکیٹ میں اتنا بڑا نقصان ہوا، بجلی کی پیداوار میں کمی واقع ہوتی جا رہی ہے، مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، تیل کی قیمتوں میں بھی قدرے اضافہ ہوتا جا رہا۔ آخر کیوں ایسا کیوں ہو رہا کیا پاکستان اتنا خودکفیل نہیں جو ڈالر کی قیمت کو کم کر سکے؟ کیا پاکستان کے درآمدات و برآمدات کے ذخائر میں اتنی کمی ہے جو پاکستان اتنا مقروض ملک ثابت ہوا ہے؟ کیا پاکستان میں معدنیات کی دولت کم پڑ گئی جس سے تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن گیا ہے؟ کیا پاکستان کے پاس پانی کم پڑ گیا ہے جس سے بجلی پیدا کرنے میں دشواری پیش آتی جا رہی ہے؟
ان تمام باتوں کا جواب صرف اور صرف ہمارے سیاستدان ہی دے سکتے ہیں۔ اور وہ ان تمام تر معاملات کے اولین ذمہ دار ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ اپنے حقوق کی آواز کو دبانے کے بجائے بلند ایوانوں تک رسائی کرے جس سے وہ ان تمام مسائل کا سدباب کر سکیں۔
پاکستان زندہ باد


