جیت


”جب بھی کوئی کہانی لکھی جاتی ہے تو سب سمجھتے ہیں شاید آپ بیتی لکھی ہے“ ۔

ماروی ہاتھ میں قلم لئے سوچ رہی تھی، وہ بہت اداس تھی ”کوئی تو میری مدد کرے وہ کمرے میں ٹہلنے لگی“ معلوم بھی ہے بابا آئے ہوئے ہیں تم کو بلا رہے ہیں ”اس کی سانس اکھڑی ہوئی تھی“ میں نے کتنی بار کہا ہے یہ پیغامات مت لایا کرو اگر ان کو مجھ سے شکایت ہے تو بات کریں سب کے سامنے میری پیشی کرنا ضروری ہے ”وہ اس پر چلا اٹھی تو زویا نم آنکھیں لئے چلی گئی، وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے آ گئی جہاں سب بیٹھے تھے۔

” جی بابا جان آپ نے یاد کیا تھا“ وہ دوپٹہ سر پر لئے چاند کی طرح چمک رہی تھی۔
” ماروی ہم اپنی بات بار بار دہرانے کے عادی نہیں جو کہہ دیا سو کہہ دیا“
بابا کیا کہہ دیا جو میں نے نہیں سنا جو ہر کوئی جانتا ہے، وہ بے خوف کھڑی تھی۔

” یہ کہ تم حویلی سے باہر قدم نہیں رکھ سکتی اور تم چلی ہو ایگریکلچر کی تعلیم حاصل کرنے بس بہت ہو گیا اگلے ہفتے میں تمہاری شادی کر رہا ہوں“

وہ تڑپ کے آگے بڑھی ”امی کے بعد سے مجھے یاد نہیں کوئی ایسی فرمائش جو میں نے آپ سے کی ہو، بس آپ یہ بات مان لیں، پھر جو کہیں گے میں مان لوں گی“

وہ ہاتھ جوڑے ان کے قدموں میں بیٹھ گئیں، وہ کچھ دیر اسے دیکھتے رہے، پھر ان کے چہرے پر نرماہٹ آ گئی۔

”اجازت ہے کرلو شوق پورا“ وہ مسکرائے ”یہ کیا کہہ رہے ہو لڑکی ذات کیسے باہر جائے گی“

حویلی کی دیواریں دادی کی چیخ و پکار سے گونج اٹھیں ”یہ میری بیٹی ہے آج پہلی بار اس نے مانگا ہے اور میں یہ خواہش ضرور پوری کروں گا“

انہوں نے کاندھوں پر چادر ڈالی اور مردان خانے میں لوگوں سے ملنے چلے گئے، زویا تو خوشی سے ناچ اٹھی۔
”اچھا بس اب باپ دادا کی عزت کو خاک میں نا ملا دینا“
دادی کو ان کی خوشی ایک آنکھ نا بھا رہی تھی۔
وہ لڑکی مستانی تھی
دیوانی تھی اپنی خوشی میں مگن تھی

وہ پڑھنے لگی دنیا سے بے خبر کالج سے آتی کچھ دیر زویا سے باتیں کرتی اور پھر کتابوں میں گم ہوجاتی، دن رات گزر رہے تھے اس کو دھن تھی کہ وہ جلد از جلد اپنی تعلیم مکمل کر لے۔

اس کے برعکس زویا کو کوئی شوق نہیں تھا، ویسی بھی اس کو باہر رہنا تھا اس کی اسد سے بات طے تھی جو ان کے چاچا کا بیٹا تھا اس نے ساتھ لے کر جانا تھا اس لئے زویا کی شدید خواہش تھی کہ ماروی کی زندگی اس کے سامنے سیٹ ہوجاتی کیونکہ وہ جانتی تھی دادی اس کی پڑھائی کے سخت خلاف ہیں اور بابا جان کبھی ان کی دشمنی نہیں سمجھے، وہ دکھی دل سے سوچتی رہتی مگر کچھ بھی نا کر پاتی، اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب ماروی کو ایگریکلچر کی ڈگری مل گئی۔

”بابا یہ آپ کی آدھے سے زیادہ زمین بنجر کیوں پڑی ہے“
ماروی نے سوال کیا پانی نہیں ہے اور ہمارے ہاریوں کو نئے طریقے بتانے والا بھی کوئی نہیں ہے ”۔
بابا جان نے جواب دیا تو وہ سوچ میں پڑ گئی۔
” بابا میں اگر آپ کی مدد کروں تو؟
دنیا کیا کہے گی اور پھر تمہاری شادی وہ بھی تو کرنی ہے وہ کچھ الجھ گئے،
” چلیں ابھی تو حویلی جانا ہے“

کھیتوں سے گزرتی گاڑی منزل کی طرف رواں دواں تھی زویا کے سسرال والے رخصتی مانگ رہے تھے اور بابا جان کی تمنا تھی پہلے ماروی کی شادی ہو جائے رشتے تو بہت تھے لیکن اس کے معیار کے نہیں تھے۔

” بابا جان مجھے آپ سے بات کرنی ہے“
ماروی کمرے میں داخل ہوئیں تو وہ اس کی جانب متوجہ ہو گئے۔
” آپ زویا کی شادی کر دیں مجھے ابھی بہت کام کرنے ہیں“
اس نے بڑے لاڈ سے کہا تو وہ آہ بھر کے رہ گئے،
” ٹھیک ہے بیٹا دیکھتے ہیں وہ اسے نظر نہیں ملا سکے۔

حویلی میں شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں، اسد بھی آ چکا تھا، جبکہ ماروی زمینوں کو آباد کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی تھی مسلسل اس کے ساتھ کے لوگ بھی بابا جان کو مشورے دے رہے تھے کہ اچانک بابا جان کی طبیعت خراب ہو گئی اور دادی نے اسد کو ان کا جانشین بنانے کا اعلان کر دیا، جو بابا کو بھی پسند نہیں تھا رہ گئی ماروی تو بابا اور زمینوں میں الجھ کر رہ گئی، تبھی اسد اس سے ملنے آیا تو وہ کھل اٹھی۔

” آپ اور حویلی میں“ کام ہی ایسا تھا وہ بولا اچھا آپ بیٹھیں مجھے آپ سے ہی کام ہے، وہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔

” میں ساری زندگی ملک سے باہر رہا اور اب سب چاہتے ہیں کہ میں رانی پور کی گدی نشینی سے انکار نا کروں تو یہ نہیں ہو سکتا“

اس کا لہجہ اٹل تھا، ”تو پھر آپ کیا چاہتے ہیں وہ حیران ہوئی“

مین زویا کو لے کر جانا چاہتا ہوں تو اس میں کیا پریشانی ہے، ماروی نے سوالیہ انداز میں پوچھا، ”زمینوں کو آباد کر دیا ہے تو گدی بھی آپ سنبھالیں ہم کو جانے دیں“ اسد نے ہاتھ باندھے ”یہ کیا کہہ رہے ہو وہ اسے دیکھتی رہی“

” ٹھیک ہے بیٹا کل ہی جشن ہو گا رانی پور کی گدی ماروی کی ہوگی“
بابا جان کمرے میں داخل ہوئے تو دونوں ہی چور سے ہو گئے۔
” جس لڑکی نے مجھے اور میری زندگی کو پر سکوں کیا وہ تو یہ ذمے داری بھی اٹھا لے گی“
انہوں نے ماروی کے سر پر ہاتھ رکھا تو وہ بکھر گئی۔

” میں جانتی ہوں ساری زندگی میری ماں بیٹا نا ہونے کی وجہ سے آپ کے سامنے نظر نا اٹھا سکی اور آج یہ اطراف ان کی جیت لگ رہی ہے“

وہ بے تحاشا رو رہی تھی، اچھا بس کریں میری شادی تو کر دیں، اسد نے قہقہہ لگایا، دادی زویا سبھی تو کمرے میں آ گئے جشن میں بہاراں منایا جانے لگا اور ماروی سوچ رہی تھی کہ آج میں ماں کے سامنے سرخرو ہو گئی، وہ پر سکون سانس لے کر گدی پر بیٹھ گئی تو چاچی نے اپنی جھولی بابا کے سامنے پھیلائی اب تو اس کو میری بہو بنا دو۔ شاہ میر کب سے بیٹھا ہے، تو بابا جان ہنس دیے یہ فیصلہ تو میری بیٹی کرے گی شاہ میر دس جماعت پڑھا تھا مگر سوچ میں بہت بہتر تھا، اس نے کبھی اس کو تنگ نہیں کیا تھا، بلکہ جہاں وہ بات نہیں کر سکتی تھی وہاں وہ بات کرنے جاتا تھا، وہ سوچ رہی تھی کہ ایک دم زویا نے اس کے گلے میں ہاتھ ڈالے۔

” آپی کوئی آپ جیسا نہیں ہو سکتا میں بہت خوش اور آپ بھی شاہ میر بھائی کی فکر نا کریں وہ دیکھیں سب کتنا خوش ہیں، تو اس نے سامنے دیکھا اور زویا کو گلے سے لگا لیا۔

اماں کو جو بیٹا نا ہونے کا طعنہ دادی سے ملتا تھا آج وہ بھی اسے بھول گئیں تھیں وہ دیکھ رہی تھیں کہ دادی بڑی محبت کے ساتھ شاہ میر اور اسد کے ساتھ بیٹھی تھیں، حویلی میں جشن منایا جا رہا تھا، جو عکاسی تھا لڑکی اور لڑکے برابر ہیں اور یہ ہی سوچ اس کی جیت تھی۔

Facebook Comments HS