گجرات کے چوہدری!


میرا اپنا تعلق بھی اسی ضلع سے ہیں اس لئے ایسا کچھ لکھنا گھر جیسی کہانی لگتی ہے۔ بہرحال وقت کے دھارے نے چوہدریوں کی قدیم کشتی میں جو سوراخ کیے ہیں شاید ہی وہ کبھی بھر پائیں، کیونکہ نئی نسل اس مشترکہ املاک سے تنگ نظر آ رہی ہے۔

چوہدری ظہور الہی نے جس روادارانہ سیاست کی بنیاد رکھی تھی وہ تیسری نسل تک پہنچتے پہنچتے مفادات کی نذر ہو رہی ہے۔ خاموش طبع منظور الہی کے پوتے نے بلند آہنگ کے ساتھ خان صاحب کے سامنے اپنی سوچ کا اظہار کیا وہ اب دونوں خانوادوں کے درمیان ایک دراڑ کی شکل میں ظاہر ہو رہی ہے۔

بلاشبہ ڈاکو والے بیان پر خان صاحب کی معذرت جسے مونس الہی نے ٹویٹر پر شیئر کیا ایک اچھا سیاسی قدم تھا۔ جس نے پرویز الہی اور مونس الہی کو خان صاحب کے ساتھ کھڑے رہنے کا ایک اچھا جواز فراہم کر دیا ہے۔

صرف یہی نہیں، چوہدری شجاعت کے بھائی بھی ان کے مقابلے میں خم ٹھونک چکے ہیں، جس میں انہوں نے ڈالروں کے لین دین پر بات کی اور بڑے بھائی کی اولاد کو گجرات کی سیاست سے نابلد قرار دے ڈالا۔ ویسے بات میں وزن ہے، کیونکہ گجرات کی سیاست میں چوہدری ظہور الہی کے بعد چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہی کا نام چلتا ہے۔ اس میں کچھ حصہ چوہدری وجاہت کا بھی ہے۔ لیکن نئی نسل میں اگر دیکھا جائے تو گجرات میں سب سے اہم نام چوہدری مونس الہی کا ہے ان کے بعد چوہدری وجاہت کے صاحبزادے حسین الہی آتے ہیں۔

چوہدری شجاعت کے بیٹوں کی کوئی خاص پذیرائی نہیں۔ ہم جیسے لوگ جو 85 ء سے سیاست کو دیکھ رہے ہیں، ہمیں بھی بہت دیر بعد یعنی کچھ سال پہلے ہی ان کے ناموں کو پتا چلا، اور پھر ان کا حلقہ انتخاب بھی گجرات نہیں ہے۔ آج کل کے وفاقی وزیر چوہدری سالک چکوال سے ایم این اے ہیں۔ چوہدری شجاعت کا مشہور محاورہ ”مٹی پاؤ“ لگتا ہے ان کے اپنے خاندان کی سیاست پر لاگو ہونے والا ہے۔

گجرات ضلع کی سیاست کا ایک اپنا انداز ہے، یہاں کے ڈیرے، بیٹھکیں وغیرہ ہی اس نظام کو چلاتے ہیں۔ عوامی رابطے بہت ضروری ہیں یہاں لینڈ لارڈ ٹائپ سیاست کم ہی چلتی ہے۔ چوہدریوں کے علاوہ ڈیروں کی سیاست میں لالا موسے کے سید اور کائرہ خاندانوں کا ایک اہم نام ہے یہ لوگ الیکشن میں کامیاب ہوں یا نہ ہوں ڈیرے داری چلتی رہتی ہے جس کی وجہ سے لوگ خاندان کے دوسرے افراد کو بھی پہچانتے اور جانتے ہیں۔ گجرات کی آج کل ڈیرہ داری میں ایک اہم اضافہ چوہدری عابد رضا بھی ہیں۔ جو کہ گجرات میں نون لیگ کے واحد ایم این اے ہیں اور گجرات کی بلدیاتی تاریخ پہلی بار انہوں نے ہی چوہدریوں کو ہرا کر گجرات ضلع کونسل کی چیئرمین شپ اپنے بھائی کے لئے حاصل کی۔ لیکن چوہدری شجاعت کے صاحبزدگان ایسی کسی جگہ نظر نہیں آتے جہاں ان کی پہچان بن سکے۔

چوہدری پرویز الہی دھیمے لہجے کے انتہائی زیرک سیاستدان ہیں۔ یہ چوہدری شجاعت کی طرح رواداری کو سب کچھ نہیں سمجھتے، حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کرتے ہیں۔ جبکہ مونس الہی نئی نسل کے نمائندہ ہیں جو خان صاحب کو اپنا ہیرو مانتی ہے۔ نئی سیاست کے نئے اطوار و انداز ہیں۔ ہیروشپ کیا ہوتی اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ خان صاحب نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا کہ مونس الہی کو وزیر نہیں بنانا لیکن مجبوریوں نے ایسا پھندا ڈالا کہ ”پائے رفتن نہ جائے ماندن“ کے مصداق مونس کو وزیر بنانا پڑا، قطعہ نظر اس کے کہ کیسے وزیر بنے، مونس الہی آج تک خان کے گن گاتے اور بجاتے ہیں۔

عدم اعتماد والے کھیل میں بھی بھان متی کے کنبے کی طرف زیادہ رجحان چوہدری شجاعت کا تھا، رواداری میں پرویز الہی کچھ دیر تلک ساتھ چلے مگر پھر ایک باپ کو بیٹے کے سامنے ہار ماننا پڑی اور ظہور الہی و منظور الہی کے خانوادے یک شد سے دو شد ہو گئے۔

چوہدری شجاعت علیل ہونے کے باوجود اب بھی اسی کوشش میں ہیں کہ یہ بٹوارہ نہ ہو کیونکہ یہ جہاندیدہ سیاستدان جانتا ہے کہ اگر اس دراڑ کو ابھی نہ روکا گیا تو چوہدریوں کی قومی سیاست صرف گجرات شہر تک سمٹ کر رہ جائے گی۔

Latest posts by سید تصور عباس، باکو - آذربائیجان (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments