میرے طلبا کا خود سے شکوہ اور دکھ کیا ہے؟
کچی عمر کے غم، نا پختہ اذہان کو بھٹکا دیتے ہیں۔ وہ نوجوان نسل جسے اپنے مقاصد کا تعین کر کے کسی منزل کی راہ لینی چاہیے، وہ کچی عمر کے عشق میں لذت کی رسیا بنتی ہے تو جینے کا سلیقہ کھو دیتی ہے اور ذہنی آزمائش یا ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہے۔ آخر یہ سب کیسے ممکن ہوتا ہے کہ ایک نوجوان کسی دوسری جنس کے فرد کے ساتھ زندگی جینے کے خواب دیکھے مگر اس تعلق کو راز رکھنے پہ مجبور رہے اور پھر تعلق ٹوٹنے پہ اذیت کا شکار بھی ہو۔
تدریس سے وابستگی کو یہ میرا ساتواں سال ہے۔ باقی اساتذہ کی بنسبت ایک قدر جو مجھے جدا رکھتی ہے، وہ طالب علموں کی کہانیاں سننا ہے۔ ویسے تو میرا یہ بھی ماننا ہے کہ انسان سبھی کچھ بڑوں یا کتابوں سے نہیں سیکھتا، آپ کے چھوٹے یا شاگرد بھی آپ کو وہ بہت کچھ سیکھا یا بتا سکتے ہیں جو اس عمر سے گزرتے پل آپ نہیں سیکھ پائے، مگر اب ان کی زبانی جان پائیں گے۔
میں طالب علموں سے کئی انداز سے کہانیاں سنتا ہوں۔ کبھی وہ اپنی ذاتی زندگی کی کوئی بات یا مسئلہ مجھے انفرادی طور پر بتاتے ہیں اور کبھی دوران کلاس میں چند سوالات کی مدد سے ان کے زندگی سے متعلق تصورات یا رشتوں کی اہمیت یا دیگر اسی طرز کے خیالات یا تصورات پہ ان کی رائے حاصل کرتا ہوں اور مناسب موقع پا کر انھیں جہاں مناسب حل تجویز کرتا ہوں تو وہیں قدر استطاعت معاونت بھی کرتا ہوں۔
گزشتہ دنوں یوں ہی موقع پا کر میں نے طالب علموں سے ایک سوال کیا کہ آج تک انھوں نے اپنی زندگی سے کیا سبق حاصل کیا؟ کا جواب چاہا جو وہ مجھے ایک صفحے پر بغیر کسی ذاتی معلومات یعنی نام، رول نمبر کے لکھ کر دیں گے۔ ہر طالب علم نے اپنی اپنی صلاحیت اور تجربے کے مطابق جواب تحریر کیا اور پھر وہ سبھی جواب مجھ تک پہنچائے گے۔
یہ بات قدرے حیران کر دینے والی تھی کہ اکثر طالب علموں کے جواب دراصل ان کا اپنے آپ سے ہی شکوہ تھا۔ وہ سبق جو انھوں نے زندگی سے سیکھا تھا وہ دراصل ان کی ایک ناکامی تھی، اور اس ناکامی میں ان کے والدین، اساتذہ اور معاشرہ بھی شامل تھا کیونکہ کبھی کسی نے انھیں زندگی کے اس پہلو سے شناسا ہی نہیں کروایا تھا۔
اکثر طلباء کا دکھ وہ لوگ تھے جو انھیں چھوڑ گئے، جو کبھی ان کی زندگی نہیں تھے مگر طلباء انھیں اپنے لیے حد سے زیادہ اہم سمجھتے تھے اور اب ان کی کمی یا نا ہونے کی وجہ سے کسی نا کسی محرومی کا خود کو شکار سمجھتے ہیں۔ ان طلباء کو کبھی کسی نے یہ بات نہیں سکھائی کہ آپ کی زندگی کا حصہ بننے والا ہر شخص آپ کا ہی نہیں ہوتا۔ بعض لوگ صرف ایک وقت یا ضرورت تک آپ کے ساتھ تعلق میں رہتے ہیں اور ہمیں بھی اس حقیقت کو تسلیم کر کے جینا چاہیے کہ وقت پورا ہونے پہ سبھی اپنی اپنی راہیں لے لیں گے، اب اپنی راہ چل دینا کسی طرح سے بیوفائی یا دھوکہ نہیں ہے۔ اور والدین کے علاوہ کوئی بھی اس دنیا میں آپ کو بغیر مقصد کے پیار نہیں کرتا یا بغیر مطلب کے آپ کا قرب حاصل نہیں کرتا۔
دیکھئیے ایک چڑیا ماں اپنی بچوں کو آپ ہی اڑنا سکھاتی ہے اور انھیں گھونسلا بنا کے رہنا سکھاتی ہے۔ ہر چڑیا کے بچے بڑے ہوتے ہی ماں سے جدا ہو جاتے ہیں اور اپنا گھونسلا بنا کر، اپنا رزق خود تلاش کرتے ہیں۔ نا ہی کبھی چڑیا اس بات کا شکوہ کرتی ہے کہ میں نے تمہیں پال کر بڑا کیا لہذا میری خدمت کرو، نا ہی بچے یہ ضد کرتے ہیں کہ ہم تمہارے بچے ہیں ہمیں کھانا لا کر دو۔ اور یہی وقت وقت پہ بچھڑ جانا یا الگ ہو جانا ہی فطرت ہے اور خوش اسلوبی سے نئی راہ اختیار کر لینا ہی عقلمندی ہے۔
ایک اور المیہ یہ بھی ہے کہ ہم کبھی نوجوان ذہنوں کو رشتے بنانے کی تعلیم نہیں دیتے یا انھیں رشتوں کی قدر نہیں سکھاتے اور ان کے انتخاب کو ترجیح نہیں دیتے۔ ہمارے معاشرے کے نوجوان پیار و محبت یا عشق کے نام پر عہد و پیماں تک چلے جاتے ہیں اور زندگی گزارنے کے وعدے کرنے لگ جاتے ہیں مگر کبھی اپنے والدین یا بڑوں کو اس امر سے آگاہ نہیں کرتے اور اگر کوئی ان کے معاملات سے واقف ہو جائے تو اس کے ساتھ سمجھوتے کر کے زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جب یہی نوجوان آگے بڑھ کر عملی زندگی میں ایسے رشتوں یا معاملات سے دوچار ہوتے ہیں تو کبھی بھی ان رشتوں کو نبھانے میں اس طرز سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتے جو انھیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے سیکھنے کی عمر میں نا تو انھیں کسی نے سکھایا اور اگر وہ کبھی اس عمل کا حصہ بنے بھی تو چوروں کی طرح، منہ چھپا کر۔
یہ کچی عمر کا تماشا صرف والدین، اساتذہ، اداروں اور معاشرے کی غفلت کا بنا بنایا ہے۔ اولاد یا بچوں سے بات کرنا، اساتذہ کی شفقت اور معاشرے کا مثبت رویہ، نوجوانوں کے اس منفی رویے کو جڑ سے ختم کر سکتا ہے، مگر اس سب کے لیے بات کرنا اور سننا ضروری ہے اور اس سارے معمے میں اس کچی عمر اور ذہن کے نوجوان کی بات کو اہمیت دینا زیادہ اہم امر ہے۔ ورنہ یہی نوجوان اپنا وہ وقت جو انہیں اپنے لیے راہوں کے تعین میں گزارنا چاہیے، وہ راہیں جو ان کی کامیابی کا ضامن ہو سکتی ہی، یہاں وہاں بھٹکتے ہوئے بسر کر دیں گے اور کل کو شاید زندگی کی ایک تلخ صورت، ان کے لیے ایک حقیقت ہو گی۔


