مہنگائی اور محبت کا سفر



” جس کو دیکھو یہ ہی بولتا دکھائی دے گا پیٹ کی فکر کریں یا ان بے جا اخراجات کی آج اس کی شادی کل اس کا ولیمہ پھر جانے کا سوچو تو پیٹرول پورے مہینے کا راشن کھا جاتا ہے“ ۔

روشنی بہت غصے میں تھی۔

” یہ سب تم مجھے کیوں سنا رہی ہو جیسے میں نے مہنگائی کی ہو تاکہ تم برینڈڈ سوٹ نا لے سکو اور اپنی نئی سیوک کار کی شان کسی کو نا دکھا سکو، حد ہو گئی ہے بے وقوفی کی“

حسن نے سر کو جھٹکا اور باہر چلے گئے۔
” کیا کروں“

وہ سوچ رہی تھی نہیں جاتی تو خاندان بھر میں باتیں بنتی اوپر سے عید بھی قریب ہے قربانی الگ کرنی تھی اور پیٹرول نے خون چوس لیا تھا، ساتھ ہی دینا کیا ہے یہ بھی ایک اہم سوال تھا ”

اس کے ددھیال میں یہ پہلی شادی تھی نا جاتی تو بڑی مشکل ہوجاتی اس نے تیز گرم چائے سے اپنا منہ جلا لیا، کاش کوئی اچھا سا پکا والا بہانہ ہی مل جائے، اس نے سوچنے میں بچوں کو بھی مات دے دی۔

” ہاں پھر کیا سوچا جانے کا؟“

رات کو سونے سے پہلے حسن نے پوچھا میں سو رہی ہوں اس نے جواب دیے بغیر منہ دوسری طرف کر لیا تو وہ بھی خاموش ہو گئے۔

روشنی کی پریشانیاں اپنی جگہ درست تھیں صبح ہوئی تو وہ بولے۔
” میں اپنے کسی دوست سے ادھار لے لیتا ہوں تم پریشان مت ہو“ ۔
نہیں ایسا نہیں کریں روشنی نے منع کیا۔
” میں کرلوں گی کچھ نا کچھ“

وہ آفس چلے گئے، اس نے جلدی سے اپنے دوست کو کال ملائی کچھ دیر بات کرنے کے بعد اس نے اپنے پیسوں کا تقاضا کیا تو اس کا لہجہ ہی بدل گیا۔

” میرا ہاتھ ابھی تنگ چل رہا ہے تم ابھی پانچ ہزار لے لو میں ایک دم پچاس ہزار نہیں دے سکتی“

اس نے بے مروتی سے جواب دیا تو اس کے اندر کچھ ٹوٹ گیا، جب رانی کو ضرورت تھی تب اس نے اس کو فوراٰ پیسے دے دیے تھے بعد میں حسن نے کتنا ڈانٹا تھا ”

وہ موبائل بند کر کے سوچنے لگی رات کو حسن نے پھر چلنے کے بارے میں پوچھا تو اس نے ہاں میں سر ہلا دیا۔

” مجھ سے کوئی امید نہیں رکھنا میں کاروبار میں سے کچھ نکالنے کے موڈ میں نہیں ہوں وہ بے نیازی سے بولے، تو وہ چپ سنتی رہی، ورکرز کی تنخواہ، عید کے خرچے اور گھر والوں کی دعوتیں وہ سنتے ہوئے سو گئی۔

اب جب وہ شادی ہال میں داخل ہوئی تو حیران رہ گئی کون کہتا ہے کہ مہنگائی ہو گئی پیٹرول کے دام آسمان سے باتیں کر رہے ہیں دو وقت کا کھانا دوبھر ہو گیا ہے۔

انواع و اقسام کے کھانے زرق برق لباس کیا کسی کو احساس نہیں تھا مہنگائی کے اس دور میں مقابلے کی دوڑ پیٹرول سے بھی مہنگی تھی جو انسان کو جانور بنا رہی تھی، اس کو اپنے سونے کے کڑے یاد آ گئے جو گروی رکھ کر اس نے ایک لاکھ اس شادی میں شرکت کے لئے مانگے تھے، اسے اپنے آپ سے گھن آنے لگی۔

” حسن چلیں گھر وہ بولی“
خیریت تو ہے وہ بھی پریشان ہو گیا۔
” ابھی تو منہ دکھائی بھی نہیں دی“
کر دیا میں نے سب بس آپ چلیں، وہ ضد کر رہی تھی تو سب سے ہاتھ ملا کر گاڑی میں آ بیٹھے۔
” ایسا ہی تھا تو اتنا خرچہ کر کے آنے کی کیا ضرورت تھی“
وہ گاڑی کی سیٹ سے ٹیک لگائے خاموش بیٹھ کر سن رہی تھی اس کو کچھ برا نہیں لگ رہا تھا۔
واقعی ہم بے حس ہوچکے ہیں اور ہم سب کو سدھارنے کو بس سوچ کو بدلنا ضروری ہے۔
”اب چائے بھی پینے دو گی یا نہیں“
حسن نے جھک کر اسے دیکھا۔

” بالکل مگر ریسٹورنٹ سے نہیں کسی بھی ڈھابے سے“
اس نے بڑے لاڈ سے کہا انہوں نے بریک لگائے۔
” خیر تو ہے یہ آج ڈھابے کا خیال کیسے آیا“
حسن ہنس رہے تھے۔
” دراصل پیٹرول مہنگا ہو گیا ہے گاڑی کو ٹرن کرنے میں کافی ضائع ہو جائے گا“ ۔
روشنی نے بھی شرارتی انداز میں کہا۔
” اچھا بڑی جلدی خیال آ گیا“

تو اس نے ہنستے ہوئے آہستگی سے ان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا واپسی اور محبت کا سفر شروع ہو چکا تھا۔

Latest posts by زیبا بدر (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments