پاکستانی فلم بین کا شعور اور سرمد گھوسٹ کی فلم ”کملی“

فرائیڈ کے مطابق ”جنسی تحریکات یا لبیڈو کا رخ بدل کر ان سے بہت سے مثبت اور تعمیری کام لیے جا سکتے ہیں۔“ عام زبان میں ہم اسے ”انرجیز کو چینلائز“ کرنا کہیں گے۔ مگر ایک ایسا معاشرہ جہاں جنس ایک ”ٹیبو“ کے طور پر موجود ہو وہاں اس کا اظہار یا پھر اس کے بارے میں بات کرنا سوائے شرمندگی کے کسی عورت تو کیا مرد کو بھی کچھ نہیں دلوا سکتی۔ اس سب پر مستزاد سماجی، مذہبی، روایتی اور خاندانی روایات اور اقدار کڑی پابندیاں بن کر ایک انسان کو اپنے آپ میں اخلاقی، ذہنی اور جذباتی طور پر جکڑ لیتی ہیں۔
ایسے میں فلم کملی کا مرکزی کردار، جسے صبا قمر نے کمال خوب صورتی سے نبھایا بل کہ جلا بخشی (جس کے لاشعور میں ایک کسی مرد کا عکس ہے ) اس کا ساتھ پانا ہو سکتا ہے، مگر خوف اور وحشت اسے اس بات پر کبھی بھی آمادہ نہیں ہونے دیں گی کہ وہ آگے بڑھ کر اپنے آپ کو ایکس پوز کر دے۔ ایسی صورت میں علامتیں، سائے، عکس، شخصے اور دھندلی پرچھائیاں ہی اس کملی کا مقدر بن جاتی ہیں۔ وہ پانی کے لمس سے، زمین کے کھردرے پن سے، املتاس کی چھاؤں، رنگ اور عکس سے اپنے لیے ایک خیالی دنیا تعمیر کرتی ہے اور اتنے دل سے اس سب پر کارفرما ہوتی ہے کہ پوری کائنات کے تمام تر مظاہر اس کی محبت کی داستان کا ایک مہرہ بنا نظر آتے ہیں۔
ایک ایسی جوان عورت جس کا شوہر پچھلے پورے آٹھ سال سے لاپتہ ہے۔ وہ پورے احساسات، جذبات، تحسسات اور خدشات ہر وقت اپنے حساس اور تعمیری ذہن میں لیے ادھر ادھر بھٹکتی پھرتی ہے مگر اس میں نہ تو ہمت ہے اور نہ ہی اتنا حوصلہ کہ وہ خود کو بے باک کر سکے۔ ایسے میں وہ ایک نفسیاتی حالت کا شکار ہوتی ہے جسے عام نفسیات کی زبان میں ”ہلوسینیشنز“ یا پھر ”فریب نظر“ کہتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس ساری صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کملی کردار کی حنا خود؟ اس کی نند؟ اس کے علاقے والے؟ وہ امیر ملکائن جو لاولدی کے سبب اس لڑکی کو استعمال کرنا چاہتی ہے؟ یا پھر ہماری روایات؟ میں فلم کی کہانی بتا کر اپنے ملک کی گرتی ہوئی فلم انڈسٹری کی ساکھ کو مزید تو خراب نہیں کرنا چاہوں گی مگر سب لوگوں سے یہی گزارش کروں گی کہ جائیے، فلم دیکھیے اور فلم کے اختتام پر اپنے اندر اٹھنے والے تمام تر سوالات، تراحم اور تشکیک سے لطف اندوز ہوئیے!
صبا قمر نے اداکاری کی سطح پر اور سرمد گھوسٹ نے موضوعاتی سطح پر ہمیشہ سے ہی نئے نئے سوالات اپنے فن کے ذریعے ہمارے اذہان میں ڈالے ہیں۔ ان کے جواب ہم جان بوجھ کر بھی نہیں دے سکتے یا شاید ہمت نہیں کہ ہم لوگ ان سوالات کو فیس کر سکیں۔ ہمارے اندر ایسی خفت در آتی ہے کہ نظر چرائے سوا گزارا نہیں ہوتا۔ مگر کب تک ہم لوگ انسانی نفسی جذبات کر کچل کچل کر اپنی روایات اور اناؤں کے محل تعمیر کرتے رہیں گے؟ ایک نہ ایک دن تو نظریں ملانا ہی پڑیں گی۔ وہ دن بھی آ ہی چکنا ہے۔

