ایاز امیر پر حملہ کے بعد کیا ہو گا؟


گزشتہ روز لاہور میں دنیا نیوز کے دفتر سے نکلتے ہی ممتاز صحافی اور کالم نگار ایاز امیر کی گاڑی روک کر ان پر تشدد کیا گیا اور چند نامعلوم افراد انہیں زد و کوب کر کے سڑک پر پھینک کر فرار ہو گئے۔ ملک کے طول و عرض میں اس افسوسناک واقعہ کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ سب انگلیاں طاقتور اداروں کی طرف اٹھ رہی ہیں۔ لیکن کوئی بلند آواز سے یہ نام اپنی زبان پر نہیں لا سکتا۔

وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلیٰ پنجاب مذمت کرنے والوں میں شامل ہیں اور حملہ آوروں کو ہر قیمت پر سزا دلوانے کو بیتاب بھی دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اس واقعہ پر باقی سب کی طرح شدید رد عمل کا ظاہر کرنے والے دیگر عناصر کی طرح ملکی سیاسی طاقت پر قابض لوگوں کو بھی بخوبی علم ہے کہ نہ حملہ آور پکڑے جائیں گے اور نہ ہی اس حملہ کی منصوبہ بندی کرنے والوں اور اس کام کے لئے ہرکارے بھیجنے والوں تک پولیس یا کسی دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے کا ہاتھ پہنچ سکے گا۔ یعنی امتحان سے پہلے ہی نتیجہ معلوم ہے۔ اس کے باوجود مذمتی پیغامات بھی جاری ہوئے ہیں، تحقیق و تفتیش کا زور شور سے اعلان بھی کیا گیا اور ایاز امیر کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنے والوں میں اگر ایک طرف شہباز شریف اور دیگر حکومتی شخصیات شامل ہیں تو دوسری طرف اس حکومت کو للکارنے والے عمران خان نے بھی حملہ کی مذمت کرتے ہوئے سخت ترین الفاظ استعمال کیے اور فسطائی ہتھکنڈوں سے اظہار رائے کا گلا گھونٹنے کو مسترد کیا۔

عمران خان کا بیان ولولہ انگیز ہے لیکن اس میں بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کو مخاطب کر کے یہ دعویٰ کرنے کا حوصلہ نہیں کیا گیا کہ سیاست میں فوجی مداخلت کی جو بات پہلے ہی چوبارے چڑھی ہوئی ہے، ایک سیمینار میں اس کا ’بالواسطہ‘ ذکر کرنے پر ایک معمر اور جہاں دیدہ صحافی و سیاست دان کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے سے کیا مقصد حاصل ہو گا؟ عمران خان اگر یہ سوال اٹھائیں تو اس سے پہلے انہیں بعض سوالوں کا جواب دینا پڑتا۔ شاید وہ ان سوالوں کی گہرائی تک پہنچنے کا تردد بھی نہ کریں جیسا کہ ایاز امیر پر نامعلوم افراد کے حملہ کو ’بدترین فسطائی ہتھکنڈا‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ’جب ریاست تشدد پر اتر آتی ہے تو اس کا اخلاقی اختیار ختم ہوجاتا ہے‘ ۔ وزیر اعظم کے رتبے پر فائز شہباز شریف ہوں یا اس عہدہ سے فارغ کیے گئے عمران خان، جب ریاستی اختیار اور اس سے جڑی اخلاقی اقدار کا ذکر کریں گے تو انہیں بہر طور یہ سوچنا پڑے گا کہ ریاست بالآخر کون ہے؟ اور مذمت کرتے ہوئے جب نامعلوم عناصر کا تعلق ’ریاستی اختیار‘ سے جوڑا جا رہا ہے تو اس کا الزام کس پر عائد ہو گا؟ تفہیم عام کے لئے یہ وضاحت کرنے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہیے کہ اگر ’اس ریاستی اختیار‘ کا کوئی تعلق شہباز شریف یا ان کی حکومت کے ساتھ قائم کرنا ممکن ہوتا تو عمران خان اسے سو گنا بڑھا کر بیان کرتے۔

ہر سانس میں شریفوں اور زرداریوں کو کوسنے والا لیڈر جب اپنے ایک ہمدرد صحافی پر حملہ کا الزام شہباز حکومت پر عائد نہیں کر سکا تو اسے یقیناً یہ اندازہ ہو گا کہ یہ حکومت اس معاملے میں اتنی ہی معصوم اور بے ضرر ہے جتنا تحریک انصاف کے دورانیے میں صحافیوں پر ہونے والے حملوں میں عمران خان نردوش تھے۔ بس یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بھی شہباز شریف کی طرح اقتدار میں رہنے کے لئے انسانی حقوق کی ایسی ’معمولی‘ خلاف ورزیوں پر خاموشی ہی میں عافیت سمجھی تھی۔ حیرت انگیز طور پر سابق اور موجودہ وزیر اعظم اس معاملہ میں ایک ہی کشتی کے سوار ہیں اور کشتی کو کامیابی سے منزل تک پہنچانے کے لئے ایک ہی پتوار کا سہارا لینے پر مجبور ہیں لیکن ایک دوسرے سے ہمدردی اور اظہار یک جہتی کرنے کی بجائے، ایک دوسرے کو تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دے کر حقیقی مسئلہ کو نظرانداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

عمران خان کو جاننا چاہیے کہ جمعرات کو اسلام آباد کے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایاز امیر نے درحقیقت اس وجہ ہی کی طرف اشارہ کیا تھا جو ملک میں سول بالادستی اور جمہوری حکومتوں کو لاحق رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایاز امیر نے عمران خان سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ وہ سازش کا سراغ واشنگٹن اور ڈونلڈ لو کی باتوں میں تلاش کرنے کی بجائے اسلام آباد سے قریب اس مقام کی طرف غور کریں جہاں ان کی حکومت کو رخصت کرنے کی منصوبہ بندی ہوئی تھی۔ ایاز امیر کا دعویٰ تھا کہ شہباز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان تو ہرکارے تھے لیکن اصل کام تو کسی اور نے دکھایا تھا۔ عمران خان ایاز امیر کی تقریر کے دوران پراسرار انداز میں مسکراتے رہے گویا وہ اپنے جھوٹ کا پردہ فاش ہونے کے بعد شرمندہ ہونے کی بجائے اترا رہے ہوں کہ ’دیکھا میں نے کیسا پوری قوم کو بے وقوف بنایا‘ ۔ ایاز امیر کے تجزیہ اور رائے سے اتفاق ضروری نہیں ہے لیکن ایک ہی روز بعد لاہور میں ان پر تشدد کرنے کا واقعہ درحقیقت یہ پیغام عام کر رہا ہے کہ امریکی سازش کی حد تک نعرے بازی ٹھیک ہے۔ آپ الزام لگاتے رہو، ہم تردید کرتے رہیں گے لیکن جوں ہی اس حوالے سے کسی معلوم حقیقت کی طرف اشارہ کیا جائے گا تو اسے غیر بیان شدہ ’ریڈ لائن‘ سمجھا جائے گا اور اس کے بعد جو ہو گا اس کی پوری ذمہ داری جوش خطابت میں یا آزادی اظہار کے شوق میں تقریر کرنے والے پر ہی عائد ہوگی۔ اسے ہی اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑے گا۔ ایاز امیر نے اس عمر میں بعض نامعلوم افراد کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بن کر یہی قیمت ادا کی ہے۔ ماضی میں متعدد دیگر صحافیوں پر حملوں کی طرح اس حملہ میں بھی صرف مضروب کو پیغام نہیں پہنچایا جاتا بلکہ اس طریقہ واردات سے دیگر تمام عناصر کو محتاط رہنے کی وارننگ دی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی اختیار کہیں پر ہو یا سمجھا جائے۔ اور قانون و آئین کے علاوہ اخلاقیات کے نصاب میں خواہ کچھ ہی درج ہو، ایک خاص حد سے آگے بڑھنے والوں کے لئے ’معافی‘ نہیں ہے۔ یہ سمجھنے سے انکار کرنا سچائی سے آنکھیں موندنے کے مترادف ہو گا کہ یہ پیغام وہاں نہیں پہنچتا جہاں اسے پہنچانا مقصود ہوتا ہے۔ گویا مطلوبہ نتائج حاصل کرلئے جاتے ہیں۔ پھر کون سی مذمت اور کون سی اتھارٹی اس طریقہ کو روکنے کا حوصلہ کر سکتی ہے؟

اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں مہنگائی کے خلاف جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم نے حکمرانوں کو ’غلام اور بوٹ پالشیا‘ قرار دیا ہے۔ اس طرز تکلم پر غور کیا جائے تو عمران خان صرف ’غلاموں‘ کو ہی اپنی تند و تیز تنقید کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ آقاؤں کے بارے میں براہ راست بات کرتے ہوئے عمران خان کی زبان لڑکھڑانے لگتی ہے۔ وجہ: وہی جو ایاز امیر نے ایک روز قبل عمران خان کے دو بدو ایک سیمینار میں کہنے کا حوصلہ کیا تھا۔ لیکن ملک کا سب سے ’طاقت ور‘ لیڈر، باغیرت سیاست دان اور خودداری کی نئی منازل سے روشناس کروانے کا دعویدار عمران خان بھی بین الاقوامی استعمار سے تو قوم و ملک کو آزادی دلوانا چاہتا ہے لیکن جس استعمار کی طرف ایاز امیر نے اشارہ کیا تھا اور اسلام آباد سے واشنگٹن کی دوری ماپنے کی بجائے راولپنڈی کا فاصلہ دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا تھا، اس کے بارے میں عمران خان کو اب بھی یقین ہے کہ روٹھے سیاں کسی روز مان ہی جائیں گے۔ ایسی صورت میں نیوٹرل ہونے یا چوروں کو حکومت دینے کا طعنہ ہی کافی ہو گا کیوں کہ آخر کار اقتدار تو اسی راستے سے حاصل ہونا ہے۔ دیکھا جائے تو اسی دن کے انتظار میں اس ملک کا سیاست دان عوام کے حقوق کا سوداگر بنا رہا ہے۔ اب اس سوداگری میں عمران خان سب پر بازی لے جانا چاہتے ہیں لیکن انہیں شکوہ ہے کہ ان کی ’وفاداری‘ کے دام کیوں نہیں لگائے جاتے۔ ملک و قوم کے غم میں دبلا ہونے کی لڑائی بس اتنی سی ہے۔

ایاز امیر پر حملہ پر بہت شور ہے۔ سوشل میڈیا پر اسلام آباد کے سیمینار والی تقریر نئے جوش و خروش سے شیئر کی جا رہی ہے۔ ادھر ایاز امیر  نے حملہ کی تفصیلات تو بتائی ہیں لیکن یہ نہیں کہا کہ اس کا تعلق ساز ش کا مرکز واشنگٹن کی بجائے راولپنڈی میں تلاش کرنے کے مشورہ سے بھی ہو سکتا ہے۔ ایاز امیر جیسے جہاندیدہ سے زیادہ کون جان سکتا ہے کہ حد پار کرنے کے بعد حد میں واپس آنے کی کوشش کرنا بے حد ضروری ہے۔ ممکنہ حملہ آوروں سے چشم پوشی اسی حکمت عملی کا حصہ ہوتی ہے۔ یہ کہنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے کہ ایاز امیر سمیت صحافیوں پر حملوں کے واقعات کے درپردہ وہی عوامل کام کرتے ہیں جو اچانک لاپتہ کیے جانے والے افراد، پشتون تحفظ تحریک کے خلاف اقدامات یا علی وزیر جیسے لیڈر کی ناجائز طور سے طویل حراست کی وجہ بنتے ہیں۔ جب ملک کے وزیر اعظم کو لاپتہ افراد کے لواحقین سے ملنے کے لئے کہیں اور سے اجازت لینا پڑے یا بلوچستان میں متاثرین سے ملاقات کے دوران جب کوئی دوسرا وزیر اعظم وعدہ کرے کہ وہ ’متعلقہ حکام‘ کے سامنے یہ معاملہ اٹھائیں گے، تو ایسی صورت میں آئین کی پاسدار عدالتیں سیاست دانوں پر ہی دھونس جما سکتی ہیں، ملک سے حب الوطنی کے نام پر کی جانے والی انسان دشمنی کا خاتمہ نہیں کر سکتیں۔

لاپتہ افراد کے کسی ہمدرد نے کبھی نہیں کہا کہ ان کے خلاف قانونی کارروائی نہ کی جائے۔ صرف یہی تقاضا کیا جاتا ہے کہ اگر کسی نے ملک دشمنی کی ہے تو اسے غائب کر کے انتقام لینے کی بجائے ملکی عدالتی نظام کو استعمال کر کے اسے کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ قومی مفاد کے محافظوں کو یہ انتظام قبول نہیں ہے۔ صحافیوں پر حملوں کی مخالفت کرنے والے بھی یہ نہیں کہتے کہ قانون شکن صحافیوں کو سزا نہ دی جائے، بس وہ یہ چاہتے ہیں جو ہونا ہے سب کے سامنے مسلمہ طریقہ کے مطابق ہو۔ ملک پر نافذ نظام میں یہ طے کیا گیا ہے کہ فی الوقت یہ طریقہ قبول نہیں ہے۔ ملک کے اقتدار پر قابض اور اس کی خواہش کرنے والے لیڈر یکساں طور سے اس بات پر متفق ہیں کہ ملکی مفاد کے محافظ ملک و قوم کے محسن ہیں۔ ان کے خلاف انگلی اٹھانے سے اقتدار ملنے کی رہی سہی امید بھی ختم ہو جاتی ہے۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایاز امیر کی تقریر، ان پر حملے اور اس کی شدید مذمت کے بعد کیا ہو گا؟ شاید کچھ بھی نہیں۔ ملکی آئین کے مطابق ہر کسی کو رائے رکھنے اور اس کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ تو آپ تقریر کیجئے، قافلہ تو چلتا رہے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2239 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments