نوآبادیات اور مابعد نو آبادیات :بنیادی مباحث


جب کوئی طاقت ور ریاست اپنی طاقت کے بل بوتے پر کسی کم زور ریاست اور اس کے افراد و سائل پر غاصبانہ قبضہ جما لے۔ وہاں کی افرادی، مادی وسائل کو اپنی معاشی و معاشرتی ترقی کے لیے استعمال کرے تو وہ مقبوضہ ریاست اس طاقت ور ریاست کی نوآبادی کہلائی گی۔ نو آباد کار کا بنیادی مقصد اس مغلوب ریاست کے قدرتی وسائل، افرادی قوت اور تجارتی منڈیوں پر غلبہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ جس کے ذریعے سے وہ اپنی معاشرتی و اقتصادی حالت کو بہتر بناتی ہے۔

اردو میں عام طور پر لفظ کالونی مستعمل ہے، جس سے ہمارے ذہن میں شہر سے ملحق آبادی کا تصور ابھرتا ہے۔ نو آبادیات میں کالونی کے معانی اس مطلب سے علاحدہ ہوتے ہیں۔ یہاں مرکز کا دائرہ کار ایک شہر یا اس سے منسلک آبادی نہیں بل کہ مختلف براعظموں اور علاقوں تک پہنچ جاتا ہے۔ نو آبادیات کے تناظر میں دو الفاظ کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک نو آباد کار (غالب ریاست) اور دوسرا نو آبادی ( مغلوب ریاست ) ۔ ان دونوں کو دوسرے الفاظ میں بالترتیب ”فاتح“ اور ”مفتوح“ بھی کہا جا سکتا ہے۔

نو آبادیات کسی ملک کے سماج پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد ان کے ثقافتی رشتوں، تمدنی ماحول اور تہذیب کی علامتوں کے علاوہ تاریخی شعور میں بھی تغیر و تبدل لاتا ہے۔ نو آبادیات جس معاشرے پر تسلط حاصل کر لیتا ہے تو وہاں کے فاتح مختلف طبقوں کو جنم دیتے ہیں۔ اولین صورت میں فاتح خود مفتوح باشندوں کی زبان اور ان کے تہذیبی نظام کو سمجھنے کی سعی و کوشش کرتے ہیں۔ جس کی نمایاں مثال فورٹ ولیم کالج کا کردار ہے۔

یہ وہ پہلا طبقہ ہے جو نو آباد کار کی زبان اور ان کی تہذیب سے تو واقفیت نہیں رکھتا مگر نو آباد کار کی زبان، علوم اور ثقافتی عناصر کا سخت حامی ہوتا ہے۔ دوسرا طبقہ ان افراد پر مشتمل ہوتا ہے جو اپنے ہی وطن میں نو آباد کار کے علوم، زبان اور تہذیب کو حاصل کرتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند میں اس کی عمدہ مثال دلی کالج کی دین ہے۔ تیسرا طبقہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے جو نو آباد کار کے اصل ملک جاکر ان کی تہذیب اور سماج کا بہ غور مشاہدہ کرتے ہیں۔

ان کے علوم اور ان کی زبان کو نو آباد کاروں کی رفاقت میں سیکھتے ہیں۔ موخر الذکر طبقہ ایک خاص سطح پر تہذیبی اور نفسیاتی کش مکش کا شکار ہوتا ہے۔ نیز یہ طبقہ قدم قدم پر اپنی تہذیبی غلامی سے نو آباد کاروں کا موازنہ کرتا ہے اور ایک خاص تہذیبی الجھن کا شکار ہو کر رہ جاتا ہے۔ دنیا میں طاقت ور ریاستیں کم زور ریاستوں میں اپنے خاص مقاصد کے حصول کے لیے نو آبادیاتی صورت حال کو جنم دیتی ہیں۔ اشرف کمال نوآباد کاروں کے ان مقاصد کی نشان دہی بہ ذیل الفاظ میں کرتے ہیں :

”نوآبادیاتی صورت حال پید کرنے کے سبب کے پیچھے طاقت ور قوم کے غاصبانہ قبضہ کرنے کی ذہنیت کار فرما ہوتی ہے۔ نو آباد جب کسی قوم اور ملک کو اپنی نو آبادیات بنا لیتا ہے تو وہاں کے رسم و رواج، تہذیب و ثقافت، زبان و تعلیم پر اپنی گہری چھاپ لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس ساری صورت حال کا مقصد نو آبادی کے اختیار اور دائرہ کار کو بڑھانا اور نو آبادیاتی باشندوں کو ہر حوالے سے مجبور و بے بس بنانا ہوتا ہے۔“ (1)

برصغیر پاک و ہند میں نو آبادیاتی دور سکندر اعظم، محمد بن قاسم، منگول خاندان، لودھی خاندان، یورپی اقوام، پرتگالی، ولندیزی، فرانسیسیوں سے ہوتا ہوا برطانوی دور تک پہنچتا ہے۔ مابعد اثرات میں چوں کہ انگریز سب سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور تھے، اس لیے ہنوز اس کے اثرات چل رہے ہیں۔

برصغیر میں یورپی اقوام سے قبل پرتگیزی آئے پھر ولندیزیوں نے قدم جمائے، بعد ازاں فرانسیسی عہد برصغیر میں یورپی نو آبادیات کے ضمن میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ فرانسیسی دور جس میں برطانوی سامراج بھی برصغیر میں داخل ہوا۔ ان دونوں کے آپس میں چپقلش کا ہونا لازمی امر تھا۔ کیوں کہ دونوں ملک یہاں تجارت کی غرض سے تجارتی منڈیوں میں اجارہ داری حاصل کرنا چاہتے تھے، اس لیے ان کو ایک دوسرے سے مفاہمت قابل قبول نہیں تھی۔ وقتاً فوقتاً ان دونوں ممالک کے مابین اسی معاملے میں تصادم ہوتا رہا بالآخر تاج برطانیہ برصغیر میں اپنی کمپنی ( ایسٹ انڈیا کمپنی) کی اجارہ داری قائم رکھنے میں کام یاب ہوا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر محمد رؤف رقم طراز ہیں :

”انگریزوں کے سامنے فرانسیسیوں کے قدم نہ جم سکے اور انھیں بالآخر برطانوی کمپنی کے لیے میدان خالی چھوڑنا پڑا۔“ (2)

نو آباد کاروں نے ہمیشہ نو آبادی باشندوں کو اپنے سے کم تر گردانا ہے۔ ان کی تہذیب و ثقافت کو خود سے کم تر سمجھا ہے۔ نو آباد کار خود کو اعلا تربیت یافتہ اور اعلا سیاسی و سماجی شعور سے بہرہ ور تسلیم کرواتے رہے ہیں۔ حالاں کہ اگر دیکھا جائے تو نو آباد کار کا کردار ہمیشہ سے دنیا میں استحصالی رہا ہے۔ برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی تجارت کا لبادہ اوڑھ کر وارد ہوئی۔ برصغیر سے قدرتی وسائل اور خام مال لوٹ کر برطانیہ منتقل کرتی رہی۔ برطانیہ ایک زرعی ملک سے صنعتی ملک میں تبدیل ہوتا گیا۔ نو آباد کار نے برصغیر میں اپنی مرضی کی تعلیم کو رواج دینے کے علاوہ اپنی تہذیب و ثقافت کو رائج کرنے کی بھر پور کوشش و سعی کی۔ ایسا کرنے کا مقصد صرف اور صرف نو آبادیات کو ہمیشہ کے لیے ذہنی و جسمانی طور پر محکوم و غلام رکھنا تھا۔

اسی طرح جب ایک طاقت ور قوم کسی دوسرے کم زور ملک یا خطے پر اپنا قبضہ جما لیتی ہے تو وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سرگرداں رہتی ہے۔ برصغیر میں برطانوی نو آباد کار بھی ان ہی مقاصد کے حصول کی خاطر یہاں وارد ہوئے۔ برطانوی شہنشاہت سے علاحدہ ہونے کے بعد (1947ء) برصغیر میں مابعد صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ جسے عرف عام میں مابعد نو آبادیات کہا جاتا ہے۔ مابعد نوآبادیات کے لیے انگریزی میں (Post Colonialism) کا لفظ مستعمل ہے۔

مابعد نو آبادیات جیسے نام سے واضح ہوتا ہے کہ نو آبادیات کے بعد زمانہ ہوتا ہے۔ المختصر مابعد نو آبادیاتی دور سے مراد نو آبادیاتی استعماریت سے چھٹکارے کے بعد اثرات کا دور ہے۔ اس کا بیشتر تعلق نوآبادیاتی استعمار کے تہذیب و ثقافت پر مرتب ہونے والے اثرات کے تسلسل سے ہوتا ہے۔ جس میں نو آباد کار ایک عرصہ تک اپنی نو آبادی قائم کرنے کے بعد اپنے اثرات چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ وہاں کے مقامی باشندے ملک کا انتظام و انصرام کو اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں۔ اس کو آزادی کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ نو آبادیاتی صورت حال کے خاتمے کے بعد نو آبادیات کے پیدا کردہ اثرات مو جود رہتے ہیں۔ یعنی مابعد نو آبادیاتی دور میں بھی استحصال، غربت، غلام ذہنیت، نفسیاتی پستی، ذہنی کش مکش وغیرہ کار فرما رہتی ہے۔ اشرف کمال اس بابت لکھتے ہیں :

”نو آبادیاتی صورت حال کے اختتام اور ملکوں کی آزادی کے باوجود غلامی اور نوآبادیاتی آثار ختم نہیں ہوئے۔ مابعد نو آبادیاتی دور میں اسی استحصال کی چکی میں پس رہے ہیں، غریب ابھی بھی غریب ہے۔“ (3)

برطانیہ سے چھٹکارے کے بعد مابعد نو آبادیاتی عہد میں بھی برصغیر کی صورت حال مختلف نہیں رہی۔ مثلاً دو آزاد خطوں کے قیام میں لاکھوں جانوں کا نا حق خون بہہ نکلا۔ تقسیم کے بعد بھی اس طرح کے حالات و واقعات رونما ہوتے رہے۔ مابعد نو آبادیاتی عہد میں بھی نوآبادیاتی نظام کی طرح عوام کو غلام بنانا، مصلحت کی بنیاد پر منافقت، معیشت و معاشرت کو کرپشن یعنی بد عنوانی کے منہ میں دھکیلنا، ملکی وسائل پر مخصوص طبقے کا قبضہ وغیرہ وغیرہ موجزن رہتا ہے۔ جیسا کہ اشرف کمال تنقیدی تھیوری اور اصطلاحات میں اس نکتے کی صراحت یوں کرتے ہیں :

”مصلحت کے نام پر منافقت، اقتدار کے نام پر عوام کو غلام بنانا، سہولیات کے نام پر وسائل پر قبضہ جما لینا، ملکی معیشت کے نام پر قوم کو دیوالیہ کر کے اپنی جیبیں بھر لینا، ٹھوس اور خوب صورت نظریات کو اندر سے کھوکھلا کر دینا، تہذیب و ثقافت، معیشت و معاشرت اور سماج کو کرپشن کی آلودگی سے گدلا کر دینا، یہ سب کچھ مابعد نو آبادیاتی دور کا طرہ امتیاز ٹھہرا۔“ (4)

مابعد نو آبادیات کے مطالعے میں ثقافت اور تہذیب پر اثر انداز ہونے والے عوامل کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ مابعد نو آبادیات ثقافتی تبادلے میں طاقت کے رشتوں کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ مابعد نو آبادیاتی مطالعہ اس مفروضے سے اپنی ابتدا کرتا ہے کہ تاریخ کا نو آبادیاتی عہد طاقت کے تعلق سے جنم لیتا ہے۔ اس دور میں نہ طاقت کا اظہار سادہ اور فی الفور سمجھ میں آنے والا ہوتا ہے اور نہ طاقت کے رشتے سادہ اور عام فہم ہوتے ہیں۔ ما بعد نو آبادیاتی مطالعہ اصل میں نو آبادیاتی ثقافت کی تشریح نہیں بل کہ تعبیر ہے۔ ناصر عباس نیر اس تناظر میں رقم طراز ہیں :

”مابعد نو آبادیاتی مطالعہ، ثقافتی مطالعے کی ایک قسم ہے، تاہم اس کا امتیاز یہ ہے کہ یہ مرکوز اور پابند مطالعہ ہے۔ مابعد نو آبادیاتی مطالعہ، نو آبادیاتی تاریخ کے مستند بیانیوں کی اہمیت اس شرط کے ساتھ تسلیم کرتا ہے کہ یہ بیانیے ثقافتی مطالعے کے مسالے کا کام دے سکیں، طاقت کے رشتوں کو سمجھنے کی بنیاد بن سکیں۔“ (5)

مابعد نو آبادیاتی عہد میں ثقافتی مطالعہ اور اس کے اثرات خاص مقام رکھتے ہیں۔ برطانوی باشندوں نے اس ضمن میں خاص منصوبے کے تحت برصغیر میں ذہن سازی کی۔ یہاں کے مقامی نو آبادی کو یہ باور کرایا گیا کہ ان کی تہذیب و ثقافت کم درجے کی حامل ہے۔ نو آباد کاروں کی تہذیب و ثقافت بلند تر ہے۔ برطانوی نو آباد کاروں نے مقامی آبادی کو یہ منوایا کہ ہماری ثقافت مضبوط ہے، اعلا ہے، یہ قابل تقلید ہے۔

برطانوی باشندوں نے برصغیر پاک و ہند میں اپنے قدم مضبوطی کے ساتھ جمانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے۔ سب سے پہلا حربہ طاقت کا استعمال تھا جس کے مطابق نو آباد کار کے خلاف آواز بلند کرنے والے باشندوں کو بہ زور طاقت قتل کرنا، پھانسیاں دینا تھیں۔ اس طرح یہاں تہذیب و ثقافت کے حوالے مخصوص طرز پر ذہن سازی کی گئی۔

نو آباد کار نے مقامی آبادی کو مکمل طور پر باور کروایا کہ وہ دنیا کے اعلی ترین لوگ ہیں، مہذب باشندے ہیں، اور ان کی تہذیب و ثقافت بھی اعلا ہے۔ اسی طرح زبان کی بابت بھی اس بات سے آگاہ کیا گیا کہ دنیا کی بہترین اور مہذب زبان انگریزی ہے۔ اس زبان کے بولنے والے بھی مہذب کہلائیں گے۔ مابعد نو آبادیاتی عہد میں آج بھی اگر غور کیا جائے توہم ہنوز اسی نہج پہ رواں دواں ہیں۔ ہمیں اپنے بڑے پن اور علمیت کے اظہار کے لیے انگریزی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

ہماری مقامی آبادی کی کثیر تعداد انگریزی زبان بولنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہے، اس کے باوجود ہمارے حکم ران ایوانوں میں انگریزی میں گفت گو کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کی عدالتی کارروائی، حکومتی اجلاس کی کارروائی، سیاسی و انتظامی اداروں کی کارروائی انگریزی میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔ جو کہ ہمارے ملک جیسے ترقی پذیر ملک کی عوام کے لیے محض شور کے علاوہ کچھ نہیں۔ نو آبادیاتی اثرات کی بنا پر موجودہ عہد میں بھی مقام و مرتبہ اور عزت کے اظہار کے لیے انگریزی زبان کو بہ طور معیار سمجھا جاتا ہے۔ ہنوز بیوروکریسی کے علاوہ اعلا طبقہ بھی نو آباد کاروں کے متعین کردہ راستوں پر گام زن ہیں۔

گو کہ بہ ظاہر برطانوی نو آباد کار خطہ برصغیر سے تقسیم ہند کے بعد چلا گیا مگر آج بھی وہی روش برقرار ہے۔ مابعد نو آبادیاتی دور میں بھی ہماری اعلا تعلیم اور دولت کا قبلہ لندن ہی ٹھہرتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں حکم ران طبقے کا رویہ عام غریب آدمی کے ساتھ آقا اور نوکر جیسا ہے۔ مابعد نو آبادیاتی عہد میں اگر بہ غور مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سماج میں اعلا طبقہ غریب مقامی باشندوں سے فاصلے رکھتا ہے۔ محنتی اور مزدور افراد کے لیے ”کمی“ جیسا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جب کہ وہ اس اعلا طبقے کی کوئی چیز استعمال نہیں کر سکتا، نہ کسی حقیر نام سے پکار سکتا ہے۔

ہمارے ملک میں امیر و غریب کے لیے مروج دوہرا نظام تعلیم بھی نو آبادیات کی دین ہے جس سے ہم اس مابعد نو آبادیاتی عہد میں بھی چھٹکارا حاصل نہیں کر پائے۔ اگر امیر غریب کے لیے یکساں نظام تعلیم رائج کر دیا جائے تو اشرافیہ اور ایلیٹ کلاس کو علم ہے کہ ان کی اجارہ داری اور ان کی اولاد کی موروثی چودھراہٹ ختم ہو کر رہ جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی مابعد نو آبادیاتی عہد میں انگریز کی طرف سے ملنے والی تہذیب و ثقافت کو اپنائے ہوئے ہیں۔

انگریزی طرز زندگی کا اختیار کرنا اور انگریزی زبان کو اسی کے لب و لہجے میں بولنے کی صلاحیت پیدا کرنا عزت کا معیار تصور کیا جاتا ہے۔ ہمارا نظام تعلیم دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔ ایک طرف اعلا طبقے کے لیے انگریزی طرز تعلیم اور دوسری طرف عام غریب کے لیے اردو طرز تعلیم کا نظام مروج ہے۔ اعلا طبقے کی اولاد اس وقت بھی یورپ سے ڈگریاں حاصل کر رہی ہے جبکہ اس کے مقابلے میں مقامی ڈگری ہولڈر افراد کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ مذکورہ بالا بحث سے پتا چلتا ہے کہ ہنوز ہم انگریز نو آباد کار کے مابعد نو آبادیاتی اثرات سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکے۔

حوالہ جات:
1۔ اشرف کمال، محمد، ڈاکٹر، تنقیدی تھیوری اور اصطلاحات، مثال پبلی کیشنز، فیصل آباد، 2016ء، ص106۔
2۔ محمد رؤف، ڈاکٹر، اردو غزل مابعد نو آبادیاتی مطالعہ، روہی بکس، فیصل آباد، 2015ء، ص128۔
3۔ اشرف کمال، محمد، ڈاکٹر، تنقیدی تھیوری اور اصطلاحات، مثال پبلی کیشنز، فیصل آباد، 2016ء، ص119۔
4۔ ایضاً۔

5۔ ناصر عباس نئیر، مابعد نو آبادیات (اردو کے تناظر میں ) ، اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2013 ء، ص10۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments