انقلاب فرانس


18 ویں صدی میں فرانس یورپ کا سب سے ترقی یافتہ ملک گردانا جاتا تھا۔ بڑی آبادی اور کامیاب بیرونی تجارت کا حامل اور روشن خیال نظریات کا مرکز تھا۔ فرانس کا کلچر باقی دنیا میں قابل توصیف اور قابل تقلید سمجھا جاتا تھا۔ تاہم یہ ظاہری کامیابی ایک سراب تھی۔ کیونکہ اس دور میں فرانس کو ایک طرف خشک سالی، مہنگائی اور بھاری ٹیکسوں کے ردعمل کا سامنا تھا اور دوسری طرف روشن خیال دور کے مفکرین ( لاک، روسو اور والٹئر ) کے تصورات کی بنیاد پر اٹھائے گئے سوالات کے بنا سخت فکری بحران کا شکار تھا۔

برانی سلطنت

1770 کی دہائی میں فرانس کا سماجی اور سیاسی نظام ( پرانا نظام حکومت ) پوری طرح قائم تھا۔ اس نظام کے تحت فرانس کے عوام تین بڑے سماجی طبقات یا Estates میں تقسیم تھے۔

ان میں پہلے دو طبقات مراعات یافتہ یوں تھے کہ اعلی عہدے صرف ان کے لیے تھے اور دوسرا یہ کہ ان کو ٹیکس دینے سے استثناء حاصل تھا۔ تیسرے طبقے کو یہ سہولیات یا مراعات حاصل نہ تھیں۔

پہلا طبقہ۔ ”رومن کیتھولک چرچ“ سے متعلق افراد کا تھا۔ یہ فرانس کے 10 فی صد زمین کے مالک تھے یہ غریبوں کو تعلیم اور امدادی کام مہیا کرتے تھے اور حکومت کو اپنی آمدنی کا محض 2 فیصد دیتے تھے۔

دوسرا طبقہ۔

یہ امیر امراء پر مشتمل تھا اگرچہ یہ تمام آبادی کا صرف دو فیصد تھے مگر یہ ملک کے 20 فی صد زمین کے مالک تھے مگر یہ کوئی خاص ٹیکس ادا نہیں کرتے تھے۔

ان دونوں طبقات کی اکثریت روشن خیال تصورات کے خلاف تھی کیونکہ یہ ان کو اپنی حیثیت اور دولت کے لیے خطرہ سمجھے تھے۔

تیسرا طبقہ۔

فرانس کے 96 فی صد لوگ تیسرے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ طبقہ تین طرح کے گروہوں سے بنا تھا۔ جو اپنے معاشی حالات کے باعث آپس میں مختلف تھے۔

اس طبقے کا پہلا گروہ ”درمیانے طبقے“ ، ”بینکرز“ ، ”فیکٹریوں کے مالکان“ ، ”تاجر“ ، ”پیشہ ور“ اور ”ہنر مندوں“ کا تھا۔ یہ عموماً پڑھا لکھا اور روشن خیالی کے آزادی سے متعلق تصورات پر پورا یقین رکھتے تھے اگرچہ ان درمیانے طبقے کے بعض افراد امراء کی طرح امیر تھے مگر ان کے برعکس وہ بہت زیادہ ٹیکس ادا کرتے تھے اور مراعات سے محروم تھے۔ ان میں شدت سے یہ احساس تھا کہ اپنی دولت کے بنا وہ اعلی سطح کی سماجی حیثیت اور سیاسی اقتدار کے حق دار ہیں۔

اس طبقے کا دوسرا گروہ شہروں کے غریب مزدوروں کا تھا ان مزدوروں میں چھوٹے دکان دار، مستری اور گھریلو ملازمین وغیرہ شامل تھے۔ ان کی ایک تو اجرت کم تھی پھر یہ کہ اکثر بے روزگار رہتے تھے۔ اس لیے ان کو اکثر فاقوں کا سامنا رہتا تھا۔ روٹی کی قیمت بڑھ جانے سے ان مزدوروں کے ہجوم غلے کے ٹرکوں اور روٹی کی دکانوں پر ہلہ بول دیتے تھے۔”

تیسرے طبقے کے اندر تیسرا گروہ سب سے بڑا تھا۔ یہ کسانوں کا تھا۔ فرانس کے اس وقت ڈھائی کروڑ کی آبادی میں ان کی تعداد 80 فیصد سے زیادہ تھی۔ یہ کسان اپنی آمدنی کا نصف حصہ امراء کے قرضوں، چرچ اور بادشاہ کے اہلکاروں کو ٹیکس میں دیتے تھے۔ ان کو نمک جیسی بنیادی ضروریات کی اشیاء پر بھی ٹیکس دینا پڑتا تھا۔

اہل کلیسا اور امراء طبقات کو حاصل مراعات اور خصوصی حیثیت کے خلاف کسانوں اور مزدوروں میں ردعمل پایا جاتا تھا۔ ٹیکسوں تلے روندے اور پسماندگی کا شکار یہ تیسرا طبقہ تبدیلی کا خواہاں تھا۔

تبدیلی کی قوتیں۔ نچلے طبقے ( کسان اور مزدور) میں بڑھتی بے چینی کے علاوہ کئی دوسرے عوامل بھی فرانس میں انقلابی ماحول بنانے میں معاون ہوئے۔ 1۔ طرز حکومت کے بارے نئے تصورات، 2، شدید اقتصادی مسائل اور 3۔ کمزور اور ہچکچاہٹ کی شکار قیادت جیسے عوامل نے تبدیلی کی خواہش کو متحرک کیا۔

1۔ روشن خیال تصورات۔ تیسرے طبقے میں حکومتی اقتدار کے بارے مفکرین کے خیالات پھیل رہے تھے تیسرے طبقے کے افراد امریکی انقلاب سے بہت inspire ہو گئے تھے۔ انہوں نے معاشرتی ڈھانچے کے متعلق قدیم روایات کے بارے سوالات اٹھانے شروع کیے۔ ”روسو“ اور ”والٹئر“ کے حوالے دے کر وہ مساوات، آزادی اور جمہوریت کے تصورات سے متاثر ہونے لگ گئے تھے۔

2۔ کمزور معیشت۔ فرانس کی معیشت جو صدی کے نصف دہائی میں کافی مضبوط تھی 1780 کے عشرے میں زوال پذیر ہونے لگی۔ جس نے تیسرے طبقے کے نچلے گروہوں کے ساتھ تاجر، فیکٹری مالکان اور بینکرز کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا۔

ظاہری سطح پر معیشت درست نظر آ رہی تھی کیونکہ پیداوار اور تجارت میں دونوں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔ تاہم ٹیکسیوں کے بھاری بوجھ نے کاروبار کو باعث منافع بنانا ناممکن بنا دیا۔ مزید یہ کہ روزمرہ کے اخراجات تیزی سے بڑھ رہے تھے اس پر مستزاد یہ کہ 1780 کے دہائی میں خراب موسموں کے باعث بڑے پیمانے پر فصلوں کی خرابی اور یوں غلے کا فقدان رہا۔ 1789 میں روٹی کی قیمت دگنی ہو گئی اور بہت ساری آبادی کو فاقوں کا سامنا کرنا پڑا۔

1770 اور 1780 کی دہائیوں میں فرانسیسی حکومت قرضوں میں پھنس گئی۔ اس کی ایک وجہ تو لوئیس ( 16 Louis) اور اس کی ملکہ ”ماری انٹوینٹی“ ( Marie Antoinette ) کے بے تحاشا اخراجات تھے۔ پھر یہ کہ ”لوئیس“ کو اپنے پیشرووں کا قرضہ بھی ورثے میں ملا تھا۔ اس کے ساتھ اس نے امریکہ میں اپنے بڑے حریف برطانیہ کے خلاف امریکی انقلابیوں کی مدد کے لیے بھاری قرضے لیے۔ جس سے حکومت کے قرضے دگنے ہو گئے۔ 1786 میں جب بینکرز نے ”لوئیس“ کو مزید پیسہ دینے سے انکار کیا تو ”لوئیس“ کو شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

3۔ کمزور قیادت۔ اگر فرانس میں مضبوط قیادت موجود ہوتی تو مذکورہ اور دیگر مشکلات کا حل نکال لیتی مگر ”لوئی شش دہم“ Louis 16 ( میں قوت فیصلہ کا فقدان تھا۔ اور معاملات کو لٹکانے رکھتا۔ حکومتی مشیروں پر توجہ نہیں دیتا اور حکومتی تفصیلات جاننے کی تکلیف نہیں اٹھاتا۔ اس کے ساتھ اس کی ”ملکہ“ نے حکومتی معالات میں مداخلت سے اس کے مسائل میں اضافہ کیا۔ چونکہ اس کا تعلق فرانس کے پرانے دشمن آسٹریا کے شاہی خاندان سے تھا اس لیے وہ فرانس میں ابتدا سے غیر مقبول تھی

اس کی شاہ خرچیوں کی وجہ سے وہ ”میڈم ڈیفیسٹ“ کہلائی جاتی تھی۔ ایسے ہنگامی حالات میں اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے ”لوئیس شش دہم“

نے حل یہ نکالا گیا کہ دوسرے طبقے ( امراء ) پر ٹیکس لگایا جائے۔ مگر ٹیکس کی اجازت کے لیے اس طبقے نے بادشاہ کو ”اسٹیٹ جنرل“ ( تینوں طبقوں کے نمائندوں پر مشتمل اسمبلی ) کا اجلاس بلانے پر مجبور کیا۔ اس کا اجلاس 175 سال بعد 5 مئی 1789 کو ”ورسلیز“ میں ہوا۔

انقلاب کا ظہور۔۔
”چونکہ زمانہ وسطی سے“ مذہبی اشرافیہ ”اور“ امراء اسٹیٹ جنرل ”میں غالب رہے تھے اور اس 1789 کے“ اجلاس میں بھی وہ یہی توقع کر رہے تھے۔

اسمبلی کے پرانے قواعد کے تحت ہر طبقے کے وفود ووٹ ڈالنے کے لیے الگ الگ ہال میں جمع ہوتے تھے اور ہر طبقے کا ایک ووٹ ہوتا تھا۔ مراعات یافتہ دونوں طبقات ہمیشہ مل کر تیسرے طبقے کے ووٹ پر بھاری نکلتے۔

قومی اسمبلی۔ تیسرے طبقے کے وفود نے جو زیادہ تر درمیانے کلاس سے تعلق رکھتے تھے اور جن کے تصورات روشن خیالی نے متشکل کیے تھے۔ حکومت میں تبدیلی کے خواہاں تھے۔ ان کا اصرار تھا کہ تینوں طبقے اکٹھا مل بیٹھیں اور یہ کہ ہر وفد کا ایک ایک ووٹ ہونا چاہیے۔

ایسا ہونا اس تیسرے طبقے کے مفاد میں تھا کیونکہ اس کے وفود پہلے دو طبقات کے کل وفود جتنے تھے

مگر بادشاہ نے امراء کا ساتھ دیتے ہوئے اسٹیٹ جنرل کو سابقہ قواعد کے مطابق جاری رکھنے کا حکم دیا۔ تاہم تیسرے طبقے کے وفود زیادہ سے زیادہ اختیارات حاصل کرنے پر مصر تھے۔

ان کے موقف کا ترجمان ”ایمونیل سیاس“ ( Emmanuel Joseph Sieyes ) نامی پادری بنا۔ جو تیسرے طبقے کے مطالبہ کے حق میں تھا۔ اپنی ڈرامائی تقریر میں اس نے یہ تجویز پیش کی کہ تیسرے طبقے کے وفود خود کو قومی اسمبلی قرار دیں اور فرانسیسی عوام کے نام پر قوانین اور اصلاحات تشکیل دیں۔ تیسرے طبقے کے وفود کی بھاری اکثریت نے ”اس تجویز سے اتفاق کیا۔ 17 جون 1789 کو انہوں نے قومی اسمبلی کے قیام کے لیے ووٹ ڈالے جو دراصل مطلق العنان آمریت کے خاتمے اور نمائندہ حکومت کے آغاز کا اعلان تھا۔ ووٹ انقلاب کا پہلا سوچا سمجھا قدم تھا۔

اس کے تین دن بعد تیسرے طبقے کے کے وفود نے جب اپنا میٹنگ ہال مقفل پایا تو انہوں نے ٹینس کورٹ ( Tennis Court ) کی طرف والا اندرونی دروازہ توڑ کر اجلاس وہاں منعقد کر کے یہ عہد کیا۔ کہ وہ نئے آئین کے بنانے تک یہاں رہیں گے۔ یہ عہد ”ٹینس کورٹ“ عہد کے نام سے مشہور ہوا۔ وہ امراء اور مذہبی طبقے کے وہ ارکان جو اصلاحات کے حق میں تھے، بھی تیسرے طبقے کے وفود کے ساتھ شامل ہو گئے۔ ان واقعات کے پیش نظر بادشاہ ”لوئیس“ نے ”ورسلیز“ کے گرد سوئس محافظوں والی اپنے کرائے کی فوج تعینات کی۔

باسٹیل Bastille (قلعہ نامہ جیل) پر یلغار۔ اسی اثنا ”پیرس“ میں مختلف افواہیں پھیلیں۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ لوئیس قومی اسمبلی کو ختم کرنے کے لیے فوجی طاقت استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ بعض کا کہنا تھا کہ فرانسیسی شہریوں کو کچلنے کے لیے بیرونی افواج کو لایا جا رہا ہے۔

انہی افواہوں کے تحت لوگوں نے شہر پر ممکنہ حملے کے دفاع کے لیے اسلحہ جمع کرنا شروع کر دیا۔ 14 جولائی کو بارود اور ہتھیار کی تلاش میں ایک ہجوم نے ”پیرس“ میں جیل پر یلغار کر دیا۔ اور عمارت کا کنٹرول سنبھال لیا۔ مشتغل حملہ آوروں نے جیل کے کمانڈر اور کئی محافظوں کو قتل کر کے ان کی لاشوں کا جلوس نکالا۔

جیل کا گھیراؤ فرانسیسی عوام کے لیے انقلاب کی ایک بڑی علامت تھا۔ اسی مناسبت سے 14 جولائی ( یوم باصٹیل ) فرانس میں قومی تعطیل کا دن قرار دیا گیا۔ جس طرح 4 جولائی امریکہ کا قومی دن ہے۔

خوف کی لہر۔ Great Fear۔

یہ بغاوت جلد ”پیرس“ سے نکل کر دیہاتی علاقوں تک پہنچ گئی۔ گاؤں گاؤں یہ افواہیں پھیل گئیں کہ امراء کسانوں کو ڈرانے اور دبانے کے لیے مفرروں ( جرائم پیشہ ) کی خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ جس کے ساتھ پورے فرانس میں خوف کی لہر، جس کو عظیم خوف ” ( Great Fear ) کہا جاتا تھا، چھا گیا۔ اسی خوف کے تحت کسان خود“ مفرور ”بن گئے۔ اپنے زرعی آلات سے مسلح ہو کر انہوں نے امراء کے حویلیوں کو توڑا اور ان پرانے قانونی دستاویزات کو ضائع کر دیا جن کے تحت وہ جاگیردارانہ ٹیکس ادا کرنے کے پابند تھے۔

بعض صورتوں میں کسانوں نے جاگیرداروں کے حویلیوں کو جلا ڈالا۔ اکتوبر 1789 میں“ پیرس ”میں ہزاروں خواتین نے روٹی کی بڑھتی ہوئی قیمت کے خلاف ہنگامہ کیا۔ چاقووں، کلہاڑیوں اور دوسرے ہتھیاروں سے لیس ان خواتین نے“ ورسلیز ”کی طرف مارچ کیا۔ پہلے انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی روٹی فراہم کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ پھر انہوں نے اپنا غصہ بادشاہ اور ملکہ کی جانب موڑ دیا۔ محل میں کچھ محافظوں کو قتل کر داخل ہوئیں۔

بادشاہ اور ملکہ سے“ پیرس ”واپس آنے کا مطالبہ کیا۔ کچھ تردد کے بعد بادشاہ راضی ہو گیا۔ چند گھنٹوں کے بعد بادشاہ اس کے خاندان اور نوکروں نے ورسلیز کو ایسا چھوڑا کہ ان کو اپنا شاندار محل پھر دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ ان کا نکلنا نظام کی تبدیلی اور فرانس کا انتہا پسندانہ اصلاحات کے دور آنے کا پیشہ خیمہ تھا۔

انقلاب، اصلاحات اور خوف۔

تبدیلی کے ان دنوں میں یہ صرف کسان نہیں تھے جو عظیم خوف کا شکار تھے۔ بلکہ امراء اور چرچ کے عہدیدار بھی یکساں خوف زدہ تھے۔ سارے فرانس میں کسانوں کے جتھے اشرافیہ طبقے کے افراد کے خلاف سرگرم ہو گئے اور ان کے گھروں پر حملہ آور ہو کر ان کو برباد کرنے لگے تھے۔ 1789 کے موسم گرما میں ( ورسلیز پر خواتین کے مارچ سے چند ماہ قبل ) امراء اور کلیسا کے بعض ارکان نے قومی اسمبلی میں بغاوت کے حوالے بڑا جذباتی ردعمل ظاہر کیا۔

اسمبلی کی اصلاحات۔

4 اگست 1789 کو اسمبلی میں امراء پوری رات اپنی جذباتی تقریروں سے آزادی اور مساوات کے اصولوں سے اپنی لگاؤ کے اعلانات کرتے رہے۔ اس کام ان کا اپنا مفاد تھا۔ جس کے تحت انہوں نے اسمبلی میں اشرافیہ طبقات کے مراعات ختم کرنے میں تیسرے طبقے کا ارکان کا ساتھ دیا۔ اور یوں عام فرانسیسی بھی اشرافیہ طبقے کے برابر ہو گئے۔ اس کے ساتھ اگلی صبح پرانی حکومت ( نظام ) کا خاتمہ ہو گیا۔

افراد کے حقوق۔

اس کے تین ہفتے بعد قومی اسمبلی نے انقلابی تصورات پر مبنی افراد اور شہریوں کے حقوق سے متعلق اعلامیہ جاری کر دیا۔

اس کے دستاویز میں لکھا گیا کہ ”افراد آزاد پیدا ہوئے ہیں اور وہ آزاد اور حقوق میں مساوی ہی رہیں گے“ ان حقوق میں آزادی، جائیداد، تخفظ جان اور جبر کے خلاف مزاحمت شامل تھے۔ اس کے علاوہ مساوی انصاف، آزادی اظہار اور آزادی عقیدہ کی ضمانت بھی دی گئی۔ ان اصولوں سے اپنے لگاؤ کے اظہار کے لیے انقلابی رہنماؤں نے ”آزادی، مساوات اور بھائی چارہ کا نعرہ اپنا لیا۔

چرچ کو ریاست کے ماتحت کر دیا گیا۔ قومی اسمبلی کی بہت ساری ابتدائی اصلاحات چرچ سے متعلق رہیں۔ چرچ سے زمینیں لے لی گئیں۔ چرچ کے عہدیداروں اور پادریوں کا تقرر انتخاب کے ذریعے کرنے اور ان کو ریاست کے ملازمین کی طرح تنخواہ دینے کے احکامات صادر کر دیے گئے۔ یوں کیھتولیک چرچ جائیداد اور سیاسی آزادی و اختیار سے محروم کر دیا گیا۔ اسمبلی کے ان اقدامات کا بنیادی محرک معاشی تھا۔ چرچ کی زمینوں کی فروخت سے فرانس کے قرضوں کا بوجھ کم ہوا۔

جبکہ دوسری طرف اسمبلی کے ان اقدامات نے فرانس کے لاکھوں کسانوں، جو کیھتولیک تھے، چرچ کو ریاست کا حصہ بنائے جانے سے ناراض ہو گئے۔ حالانکہ یہ اقدامات روشن خیال فلسفے سے ہم آہنگ تھے۔

کسانوں کا مطالبہ تھا کہ ”پوپ کو ریاست کی مداخلت کے بغیر چرچ پر تسلط برقرار رہنا چاہیے۔ اسی باعث وقتاً فوقتاً بہت سارے کسان اسمبلی کے ان اصلاحات کی مخالفت کرتے رہے۔

” لوئیس شش دہم“ کی کوشش فرار۔

قومی اسمبلی کا چرچ اور ریاست کے درمیان تعلق کی تشکیل نو نے ”لوئیس شش دہم“ کو اپنے مستقبل کے بارے متفکر کر دیا۔ جون 1791 کو شاہی خاندان نے آسٹریا کے زیر تسلط ”نیدر لینڈ“ فرار ہونے کی کوشش کی تاہم سرحد پر ان کو پہچان کر کے واپس ”پیرس“ لایا گیا۔ اس کئی فرار ہونے کی کوشش نے حکومت میں اس کے سخت مخالفین کا اثر بڑھا دیا۔

اختلاف اور افتراق۔۔

اسمبلی دو سال تک فرانس کے لیے نیا آئین بنانے میں مصروف رہی۔ 1791 تک اس کے ارکان حکومت اور معاشرے کے حوالے سے اہم تبدیلیاں کرا گئے۔

آئین نے محدود بادشاہت قائم کر دی۔ بادشاہ سے بہت سارے اختیارات لے لیے گئے۔ ایک نئی قانون ساز اسمبلی تخلیق کی گئی جس کو قانون سازی کرنے اور اعلان جنگ کی تائید یا مسترد کرنے کا اختیار دیا گیا۔ تاہم قانون کے نفاذ کا انتظامی اختیار بادشاہ کے پاس رہنے دیا گیا۔

گروہ بندی۔

نئی حکومت کے آنے کے باوجود پرانے مسائل۔ جیسے خوراک کا فقدان اور حکومتی قرضے موجود رہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے سوال پر اسمبلی تین گروہوں میں تقسیم ہو گئی۔ ان میں ہر گروپ اجلاس ہال کے مختلف حصوں میں بیٹھ گیا۔ ہال کے ”بائیں“ طرف بیٹھنے والا گروہ ”ریڈیکل ( انتہا پسند ) تھا۔ یہ بادشاہت کا مخالف اور بڑے پیمانے پر تبدیلیاں چاہتا تھا۔

درمیان ”میں بیٹھا گروہ“ معتدل ” ( لبرل ) تھا یہ حکومت“ ”میں معتدل تبدیلیوں کے حق میں تھے ہال کے“ دائیں جانب بیٹھا گروہ ”قدامت پرستوں“ کا تھا۔ وہ محدود بادشاہت کے موئید تھے اور نسبتاً کم تبدیلیوں کے حق میں تھے۔

اس کے علاوہ اسمبلی کے باہر کئی گروہ بھی حکومتی سمت متعین کرنے پر اثر انداز ہونا چاہتے تھے

ایمیگرس ( Emigres ( وہ امراء اور دوسرے جو فرانس سے نکل گئے تھے ) انقلاب کی ناکامی اور پرانی حکومت کی بحالی کی توقع رکھتے تھے۔ جبکہ دوسری طرف پیرس ”کے بعض مزدور اور چھوٹے دکان دار زیادہ“ تبدیلیاں لانے کے خواہاں تھے۔ یہ گروہ Sans Culottes کہلایا جاتا تھا۔ کیونکہ یہ اعلی طبقے کے برعکس عام شلوار پہنتے تھے۔ اسمبلی میں اگرچہ ان کا کوئی رول نہ تھا تاہم انہوں نے ”پیرس“ کی گلیوں میں جلد اپنی طاقت اور اہمیت جتانے کے طریقے نکالے۔

جنگ اور قتل گری۔

یورپی ممالک کے بہت سارے بادشاہوں اور امراء کو فرانس میں ہونی والی تبدیلیوں نے تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔ ان کو خدشہ یہ تھا کہ ان کے ملکوں میں بھی اسی نوعیت کی بغاوتیں ہو سکتی ہیں۔ اور حقیقت بھی یہ تھی کہ بعض ریڈیکل ( انتہا پسند ) اپنے انقلابی خیالات کو یورپ بھر میں پھیلانا چاہتے تھے۔ نتیجتاً بعض ملکوں بے اقدامات کیے۔ ”آسٹریا“ اور ”پریشیا“ نے فرانس پر زور ڈالا کہ وہ ”لوئیس شش دہم“ کو بحیثیت مطلق حکمران بحال کر دے۔ جس پر قانون ساز اسمبلی نے اپریل 1792 میں ان کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔

فرانس جنگ میں۔
جنگ کا آغاز فرانس کے لیے اچھا نہ تھا 1792 کے موسم گرما میں

” پورشین“ ( Prussian) افواج ”پیرس“ کی طرف بڑھنے لگی۔ اور اس کے کمانڈر نے دھمکی دی کہ اگر انقلابیوں نے شاہی خاندان کو گزند پہنچائی تو وہ پیرس ”کو تباہ کر دے گا۔ اس نے پیرس والوں کو مشتعل“ کر دیا۔ 10 اگست کو 20 ہزار مرد اور خواتین نے طویلرسTuileries ( محل جہاں بادشاہ اور شاہی خاندان مقیم تھا ) پر دھاوا بول دیا۔ محافظوں کو قتل کر کے بادشاہ ملکہ اور ان کے بچوں کو قید کر دیا۔ کچھ عرصے بعد ”پیرس“ کے دفاع پر متعین فرانسیسی افواج کو محاذ جنگ پر جانا پڑا۔

اسی دوران یہ افواہ پھیل گئی کہ جیلوں میں قید بادشاہ کے حامی وہاں سے نکل کر شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ بنا گئے ہیں جس پر مشتعل شہریوں نے قانون ہاتھ میں لے کر ستمبر کے ابتدائی دنوں میں جیلوں پر حملے کر کے ایک ہزار سے زیادہ قیدیوں کو مار ڈالا۔ بہت سارے امراء، پادری اور شاہ پرست ”ستمبر“ کے اس قتل عام میں مشتعل ہجوم کا شکار ہوئے۔ سڑکوں پر متحرک ریڈیکلز (انتہاہ پسند) اور اپنے بعض ارکان کے دباؤ کے تحت قانون ساز اسمبلی نے 1791 کے آئین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بادشاہ کو برخاست کیا۔ اسمبلی کو توڑا اور نئے قانون ساز اسمبلی کے لیے انتحابات کا اعلان کر دیا۔

21 ستمبر کو نئی حکومتی انتظامیہ ( نیشنل کنونشن ) نے چارج سنبھالا جس نے فوری طور پر بادشاہت کو ختم کر کے فرانس کو جمہوریہ قرار دیا۔ بالغ مردوں کو ووٹ اور انتخاب کا حق دیا تاہم انقلاب میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھا گیا۔

جیکوبن کا تسلط۔

ستمبر 1792 کی نئی انتظامیہ (نیشنل کنونشن ) میں زیادہ تر ارکان کا تعلق ”جیکوبن کلب“ نامی ریڈیکل ( انتہا پسند ) سیاسی تنظیم سے تھا۔ ان جیکوبن میں سب سے نمایاں ”جین پال مارٹ“ تھا جو انقلاب کے دوران اپنے اخبار کے اداریوں میں بادشاہت کی حامیوں کے لیے موت تجویز کرتا رہتا تھا۔

نیشنل کنونشن نے ”لوئیس شش دہم“ کے بادشاہ کی حیثیت ختم کر کے عام شہری اور قیدی بنا دیا۔ جیکوبن کے زیر اثر اس نے بادشاہ پر غداری کا مقدمہ چلا کر موت کی سزا دی۔ 21 جنوری 1793 کو گلوٹین مشین ”کے ذریعے اس کا سر اڑا دیا۔

جنگ جاری رہی۔

بیرونی محاذ پر کنونشن نے آسٹریا اور پریشیا سے جنگ جاری رکھی۔ کنونشن نے انتظام سنبھالتے وقت ان دونوں ملکوں کے خلاف ”والمے کی لڑائی ( Battle of Valmy )“ میں حیران کن فتح حاصل کر لی تھی۔ تاہم 1793 کی شروع میں ”برطانیہ“ ، ”ہالینڈ“ اور ”اسپین“ فرانس کے خلاف پریشیا ”اور“ آسٹریا ”کے ساتھ دینے کے لیے کود پڑے۔ اتنے“ زیادہ دشمنوں کے مقابلے میں فرانسیسیوں کو کئی شکستوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، جس پر ”جیکوبن“ نے 18 سال سے 40 سال تک 3 لاکھ فرانسیسی شہریوں کو فوج میں شامل ہونے کا حکم دے دیا۔ 1794 تک فرانسیسی فوج کی تعداد خواتین سپاہیوں سمیت 8 لاکھ ہوئی۔

فرانس دہشت کی گرفت میں۔

فرانسی جمہوریہ کے واحد دشمن صرف بیرونی افواج نہ تھیں بلکہ فرانس کے اندر جیکوبن ”کے ہزاروں مخالفین بھی تھے۔ ان میں وہ کسان، جو بادشاہ کو پھانسی دینے سے نالاں تھے پادری اور مخالف سیاسی رہنما تھے جو صوبوں میں بغاوت کو ہوا دے رہے تھے۔ ان مخالفین اور دشمنوں سے کیسے نمٹا جائے۔ یہ کنونشن ( فرانسیسی حکومت ) کے لیے اہم مسئلہ بنا تھا۔

روبیس پیر کا کنٹرول سنبھالنا۔

1793 میں روبیس پیئر ( Robespierre) نامی ایک جیکوبن رہنما نے بتدریج اختیار حاصل کر لیا تھا۔ روبیس پیر اور اس کے حامیوں نے جمہوریہ کو ”خالص“ بنانے کے لیے ماضی سے متعلق ہر نشان کو مٹانے کی ٹھان لی۔ ”خالص عقل“ ( ) پر اعتقاد رکھنے والے اس ٹولے نے کیلینڈر تبدیل کر دیا۔ مہینوں کے نام بدل دیے۔ کیلینڈر سے ”اتوار“ کا خاتمہ کر دیا کیونکہ ان ”ریڈیکلز“ کے مطابق مزیب فرسودہ اور خطرناک ہے۔ حتی کہ انہوں نے پیرس ”میں تمام گرجا گھر بند کر دیے۔ اور ایسا پھر“ فرانس کے سارے شہروں اور قصبوں میں کر دیا۔

جولائی 1793 میں ”روبیس پیئر“ ”پبلک سیفٹی کمیٹی“ کا سربراہ بن گیا۔ اگلے سال تک اس نے فرانس کو ایک مطلق العنان ڈکٹیٹر کی طرح چلایا۔ اس کا دور حکومت ”دور دہشت“ کہلائے جانے لگا۔ کمیٹی کے سربراہ کا کام انقلاب کو دشمنوں سے بچانا تھا۔ روبیس پیئر کی سربراہی میں کمیٹی اکثر ان دشمنوں پر ”صبح“ مقدمہ چلا کر ”سہ پہر“ کو ”گلوٹین“ کے ذریعے مار دیتے تھے۔ اس دہشت کے لیے روبیس پیئر کی دلیل یہ تھی کہ فرانس کے شہریوں کو انقلاب کے مقاصد کے ساتھ وفادار رکھنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔

انقلاب کے ان ”دشمنوں“ میں سب سے زیادہ مسئلہ ”روبیس پیئر“ کو اپنے ریڈیکل ساتھیوں کی طرف سے آیا جنہوں نے اس کی قیادت کو چیلنج کر دیا۔

1793 اور 1894 کے دوران ان میں سے بہت سارے، جو انقلاب کے قائدین میں سے تھے، کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ان کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ ”روبیس پیئر“ کے نسبت کم ریڈیکل قرار دیے جاتے تھے۔ حتی کی 1794 میں ”جارج ڈانں ٹن“ (George Danton ) جیسا مخلص انقلابی کو بھی مار دیا گیا۔ معمولی شک کی بنا پر ہزاروں عام افراد کو موت کی گھاٹ اتارا گیا۔ ”دہشت کے اس دور میں 40 ہزار لوگ، جن میں 85 فیصد کسان یا غریب مزدور ( جن کے لیے یہ انقلاب برپا ہوا تھا ) تھے کو قتل کر دیا گیا۔

دہشت کا خاتمہ۔

جولائی 1794 میں خود کو خطرے میں پا کر ”نیشنل کنونشن“ کے بعض ارکان ”روبیس پیئر“ کے خلاف ہو گئے۔ جنہوں نے اس کی گرفتاری اور موت کا مطالبہ کر دیا۔ بالآخر 28 جون 1794 کو جب ”روبیس پیئر“ کو ”گلوٹین سے گزرا گیا تو انقلاب فرانس کے اس انتہا پسندانہ مرحلے ( دور دہشت) کا اختتام ہو گیا۔

” روبیس پیئر“ کے بعد فرانسیسیوں کی رائے عامہ ڈرامائی طور پر تبدیل ہو گئی۔ ہر طبقے کے افراد دہشت سے تنگ آ گئے تھے۔ وہ روٹی، نمک اور دوسری اشیاء ضرورت کی اونچی قیمتوں سے تھک گئے تھے۔ 1795 میں ”نیشنل کنونشن“ کے معتدل رہنماؤں نے حکومت کا نیا پلان تیار کیا۔ انہوں نے اختیارات بالائی درمیانے کلاس ( upper middle class ) کے ہاتھوں میں دے دیا۔ دو ایوانی قانون ساز اسمبلی کے ساتھ پانچ افراد پر مشتمل انتظامیہ، جس کو ڈائریکٹری ” ( Directory ) کہا جاتا تھا، کو تشکیل دیا۔ یہ پانچ افراد انقلابی“ تصوریت پسند نہیں ”بلکہ“ معتدل سوچ ”والے تھے۔ اگرچہ ان میں چند ایک بدعنوان بھی تھے تاہم انہوں نے ملک کو نظم و ضبط عطا کیا اور ایک اہم کام یہ کیا کہ فرانسیسی افواج کے لیے ایک بہترین جرنیل“ نیپولین بونا پارٹ ( Napolean Bonapart) کو ڈھونڈ لیا۔

Facebook Comments HS