بائیں بازو کا اتحاد اور متحرک کردار کے امکانات!


گزشتہ ماہ پاکستانی بائیں بازو کی جماعتوں نے اسلام آباد میں آل پارٹیز پیپلز کانفرنس منعقد کر کے ”یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ“ کی بنیاد رکھ دی۔ اس کے باوجود کہ نیشنل میڈیا نے اسے کوریج نہیں دی، لیکن قیام پاکستان سے لے کر ہمارا ملک جن ناگہانی قوتوں اور طبقات کے ہتھے چڑھ کر معاشی، سماجی اور سیاسی دلدل میں دھنس گیا ہے، اور واپسی کے امکانات محدود ہو چکے ہیں، ایسے حالات میں ایک ترقی پسند متبادل سیاست منظم کرنے کی کوششوں کو سراہنا ضروری ہے۔

اگر پاکستان میں بائیں بازو کی متبادل سیاست ایک مضبوط اور متحرک پریشر گروپ ہی بن کر ملکی سیاسی دھارے میں آ جائے تو اس کے ملکی سیاست پر بڑے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور رولنگ اشرافیہ کی من مانیاں محدود ہو سکتی ہیں۔ جہاں تک بائیں بازو کی ماضی کی سیاسی بے عملی یا پھر گروہ بندی کا تعلق ہے، وہ تو دائیں بازو کی تمام جماعتوں میں بھی کم نہیں ہے، کیونکہ وہ بھی ماسوائے غیر جمہوری قوتوں کا دم چھلا بننے اور سٹیٹس کو قائم رکھنے کے کچھ کرنے کی سکت نہیں رکھتیں۔ ایسے حالات میں بکھرے ہوئے بائیں بازو کا اتحاد اور سرگرم سیاسی عمل کی جانب قدم خوش آئند بھی ہے اور بھر پر تائید و حمایت کا مستحق بھی۔

پاکستان کے بائیں بازو پر سب سے بڑا الزام تو یقیناً سیاسی بے عملی ہے، جس کی بنیادی وجہ بلا شعبہ ماضی کی گروہ بندیاں تھیں، جن کے محرکات میں پاکستان میں سیاسی عمل کا انحطاط اور فیوڈل سماج کی انا پرستیوں کا بھی عمل دخل ہو سکتا ہے، جس نے تحریک کو تقسیم در تقسیم کے عمل کے ذریعے چھوٹے چھوٹے گرہوں پیں منقسم کر دیا تھا۔ اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں اور بہت سی تاویلیں بھی پیش کی جا سکتی ہیں، بلکہ ان گروپس کی بعض سرکردہ شخصیات گاھے بگاھے ایسا کرتی بھی رہی ہیں۔ البتہ میرے جیسے عام سیاسی کارکن کے لیے اتحاد کی ان کوششوں کی اہمیت کو نذر انداز کرنا ممکن نہیں، کیونکہ راقم بخوبی آگاہ ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں سے بکھری ہوئی ترقی پسند قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے اور بائیں بازو کی ایک متحدہ سیاسی جماعت کی تشکیل کے لیے بہت سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔

پاکستان میں بائیں بازو کی ایک باعمل سیاست کو بنیادی طور پر تین فیزز میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا فیز قیام پاکستان سے لے کر 1953 ء میں راولپنڈی سازش کیس کے قیام اور کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگنے تک کا، دوسرا فیز 1957 ء میں ڈھاکہ میں نیشنل عوامی پارٹی کے قیام سے لے کر 1970 ء کے الیکشن اور پیپلز پارٹی کی حکومت تک کا، اور تیسرا فیز 1986 ء میں پاکستان سوشلسٹ پارٹی اور کمیونسٹ لیگ کے باہمی انضمام سے 2012 ء میں عوامی ورکرز پارٹی کا قیام اور 26 جون 2022 ء کو آل پاکستان پیپلز کانفرنس کے ذریعے بائیں بازو کے اتحاد اور یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کا قیام ہو سکتا ہے۔ یہ یقیناً راقم کا نقطۂ نظر ہے اور اس پر مختلف آرا ہو سکتی ہیں۔

بٹوارے کے وقت کمیونسٹ پارٹی ہی تھی جس نے قوموں کے حق خودارادیت کے اصول کی بنیاد پر قیام پاکستان کی حمایت کی تھی، ورنہ مذہبی جماعتوں، بشمول جماعت اسلامی نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی، اور ان کے راہنما قائد اعظم کو کافر اعظم کہتے تھے۔ پاکستان بن گیا تو ہمارے یہاں سیاسی منظر نامے پر ابھرنے والی قیادت میں قائد اعظم کو چھوڑ کر کوئی ایک بھی قابل قدر راہنما نہیں تھا جس نے انگریز سامراج کے تسلط کے خلاف ملکی آزادی کے لیے کوئی کردار ادا کیا ہو۔

ہمارے حصے آنے والی رولنگ الیٹ یا تو انگریز سامراج کے پیدا کردہ اور نمک خوار جاگیردار تھے، یا پھر برصغیر کے وسائل کو لوٹنے کے لیے انگریز کی تیار کردہ بیوروکریسی۔ ان دونوں عوام دشمن قوتوں کا اتحاد ایک فطری عمل تھا، سو ہو گیا اور انہوں نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کرنے والی مذہبی جماعتوں کو ساتھ ملا کر بنیاد پرستی کی ایسی بنیادیں استوار کیں، جو دہشت گردی کا روپ دھار کر ملکی بنیادوں کو کھوکھلا اور آنے والی نسلوں تک کو تباہ کر چکی ہیں۔

پھر اس رولنگ الیٹ نے ملک کو ایک عوامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے جمہوری اداروں کے قیام اور ایک غیر جانبدار خارجہ پالیسی مرتب کرنے کی بجائے ملکی اور علاقائی ضروریات کے برخلاف امریکی سامراج کے ساتھ گٹھ جوڑ اور اتحاد قائم کیے، اور قرضوں، امدادوں اور غلامی کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا، جو آج اب پوری طرح سے وطن عزیز کو زنجیروں میں جکڑ چکا ہے۔ بائیں بازو کے سیاسی متبادل کے طور پر منظر عام پر آتے ہی امریکی سامراج کے ایما پر 1953 ء میں کمیونسٹ پارٹی کے راہنماؤں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا اور راولپنڈی سازش کیس کی آڑ میں دیگر عوامی تنظیموں سمیت کمیونسٹ پارٹی پر پابندی عائد کر دی گئی۔

ترقی پسند تحریک کا دوسرا متحرک ترین دور 1957 ء میں ڈھاکہ میں نیشنل عوامی پارٹی کے قیام کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ اس وقت تک حکمران طبقات اور اسٹیبلشمنٹ نے ملک کو سیٹو اور سینٹو جیسے سامراجی عسکری اتحادوں میں شامل کر کے اپنے ملک پر امریکی سامراج کی گرفت مستحکم کر دے تھی۔ نیشنل عوامی پارٹی پاکستان کی پہلی ترقی پسند جمہوری پارٹی تھی جس کی جڑیں مشرقی پاکستان سمیت مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں میں موجود تھیں۔

ڈھاکہ میں منعقد ہونے والے تاسیسی کنوینشن میں میاں افتخارالدین، عبدالحمید بھاشانی، شیخ عبدالمجید سندھی، عبدالصمد اچکزئی، غوث بخش بزنجو، میر گل خان نصیر، خان عبدالغفار خان، جی ایم سید، ، سی آر اسلم، سید قسور گردیزی، میاں محمود علی قصوری، چوہدری فتح محمد، حیدر بخش جتوئی، سردار شوکت علی جیسے قد آور رہنما شامل تھے۔ نیشنل عوامی پارٹی نے بہت کم مدت میں بے پناہ مقبولیت سے جمہوریت دشمن قوتوں کو ہلا کر رکھ دیا، اور انہیں خطرہ پیدا ہو گیا کہ نیشنل عوامی پارٹی اور عوامی لیگ مل گئیں تو فروری 1959 ء کے انتخابات میں غیر جمہوری قوتوں کو زبردست شکست سے دوچار کر دیں گیں۔

چنانچہ 7 اور 8 اکتوبر 1958 ء کی درمیانی شب پاکستان کے پہلے صدر (جنرل) اسکندر مرزا نے ملکی آئین معطل کر کے اسمبلیاں تحلیل کر دیں، سیاسی جماعتیں کالعدم قرار دے کر ملک کی تاریخ کا پہلا باقاعدہ مارشل لاء لگا دیا، اور اس وقت کے آرمی چیف ایوب خان کو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا۔ پنجاب میں نیپ کی قیادت انڈر گراؤنڈ کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھ میں تھی اور سی۔ آر۔ اسلم نیپ پنجاب کے صدر تھے۔ افسوسناک حالات اس وقت پیدا ہوئے جب نیپ کی نیشنلسٹ قیادت نے پنجاب کی قیادت کو بلڈوز کرنے کے لیے قدم اٹھائے۔

اس میں افسوس ناک امر یہ تھا کی 1953 ء میں پابندی کے بعد انڈر گراؤنڈ کمیونسٹ پارٹی متحد نہ ہو سکی تھی اور کراچی بیسڈ کمیونسٹ پارٹی نے متحدہ کمیونسٹ پارٹی بنانے کو اہمیت دینے کی بجائے نیشنلسٹوں کی حمایت کر کے اپنے فاصلے پنجاب اور سرحد کی پارٹی سے جدا کر لیے۔ بعد ازاں چین روس اختلافات نے سر اٹھایا تو کمیونسٹوں اور نیشنلسٹوں کے بڑھتے ہوئے اختلافات نے نیشنل عوامی پارٹی کا شیرازہ بکھیر دیا۔ نیشنل عوامی پارٹی پہلے ولی گروپ اور بھاشانی گروپ میں تقسیم ہو گئی، بعد ازاں بکھر کر رہ گئی اور ملک میں ترقی پسند تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

ترقی پسند تحریک کا تیسرا فیز 80 کی دہائی میں بکھرے ہوئے ترقی پسندوں کو اکٹھا کرنے اور بائیں بازو کی ایک متحدہ جماعت بنانے کی کوششوں سے ہوا، جس کا آغاز ڈکٹیٹر ضیاء کے سیاہ دور میں ایم۔ آر۔ ڈی کے قیام اور طیارہ اغوا ڈرامے کے دوران بائیں بازو کی قیادت نے جیل میں کیا۔ انہوں نے بائیں بازو کے اتحاد اور باہمی انضمام سے متحدہ، منظم اور قابل عمل تحریک کی بنیاد رکھنے کے لیے بحث کا آغاز کر دیا۔ سب سے پہلے پاکستان سوشلسٹ پارٹی اور کمیونسٹ لیگ نے 80 کی دہائی میں باہمی انضمام سے پاکستان ورکرز پارٹی قائم کی، پھر 90 کی دہائی میں عوامی جمہوری پارٹی اور 1999 ء میں نیشنل ورکرز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی۔

اس دوران کمیونسٹ پارٹی اور مزدور کسان پارٹی کے انضمام سے کمیونسٹ مزدور کسان پارٹی بنی، لیکن کمیونسٹ پارٹی نے تھوڑے ہی عرصہ میں علیحدگی اختیار کر لی۔ نیشنل ورکرز پارٹی نے کمیونسٹ مزدور کسان پارٹی کے ساتھ بحث مباحثے کے بعد باہمی مرجر کر کے 2010 ء میں ورکرز پارٹی بنائی، اور پھر 2012 ء میں ورکرز پارٹی، عوامی پارٹی اور لیبر پارٹی نے مل کر عوامی ورکرز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ متحدہ پارٹی بنانے کے اس عمل میں 20 کے قریب بائیں بازو کی جماعتیں انضمام کے عمل سے گزریں اور سنجیدگی سے اسے استحکام بھی دیا، ماسوائے اکا دکا افراد کے جو اپنے وجود کے خول سے باہر نہ نکل پائے اور ساتھ چلنے کی بجائے پیچھے مڑنے پر اکتفا کیا۔

مرجرز کے اس سارے عمل کے باوجود انہیں احساس تھا کہ ایک متحرک ترقی پسند تحریک پیدا کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے چھوٹے بڑے کی تفریق کے بغیر بائیں بازو کو یکجا کرنے کی بحث اور رابطے جاری رکھے۔ 12۔ 13 مارچ کو عوامی ورکرز پارٹی کی تیسری کانگریس لاہور میں منعقد ہوئی تو راقم بھی اس میں شرکت کے لیے برطانیہ سے گیا تھا۔ اس کانفرنس میں بائیں بازو کی تمام ترقی پسند جماعتوں کو ملا کر بائیں بازو کا وسیع تو اتحاد قائم کرنے اور ایک سیاسی متبادل کے طور پر ملکی سیاسی دھارے میں آنے کا برملا اعلان ہوا۔

93 سالہ بزرگ سوشلسٹ راہنما استاد محترم عابد حسن منٹو نے اپنی تفصیلی گفتگو میں ایسے اتحاد کے قیام اور ماضی کی غلطیوں پر بہت مدلل انداز میں روشنی ڈالی۔ پارٹی کے نو منتخب صدر یوسف مستی خان نے ایک قدم آگے بڑھ کر افریقی نیشنل کانگریس کی تاریخی مثال دیتے ہوئے متحدہ ترقی پسند تحریک پیدا کرنے بارے تفصیل سے روشنی ڈالی اور آنے والے دنوں میں اسے عملی جامہ پہنچانے کا اعلان کیا۔

بائیں بازو کی متبادل سیاست کے لیے 26 جون کو عوامی ورکرز پارٹی کی جانب سے اسلام آباد میں آل پارٹیز پیپلز کانفرنس کے دعوت نامے تمام ترقی پسند، سیکولر، جمہوری جماعتوں اور ٹریڈ یونینوں کو بھیجے گئے تو ایک چھوٹی سی بدمزگی ضرور پیدا ہوئی اور ایک گروپ نے بائیں بازو کی پرانی کج رویوں کو دہراتے ہوئے 26 جون کی طے شدہ کانفرنس سے ایک ہفتہ قبل اسلام آباد میں ہی ترقی پسندوں کا اجلاس بلا کر آل پارٹیز پیپلز کانفرنس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔

مجھے خوشی ہے کہ کسی ترقی پسند کارکن نے بھی اس پر منفی ردعمل نہ دیا اور خاموشی اختیار رکھی، جو بائیں بازو میں پیدا ہونے والی سیاسی میچورٹی کا واضح ثبوت ہے۔ بہرحال 26 جون کو منعقد ہونے والی آل پارٹیز پیپلز کانفرنس میں ترقی پسند، سیکولر، جمہوری قوتوں کا متحدہ محاذ قائم کرنے کا فیصلہ ہو گیا اور لمبی بحث کے بعد 23 جماعتوں نے ”یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ“ کے قیام اور ابتدائی پروگرام کے ڈکلئریشن پر دستخط کر دیے۔

تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر نامور سوشلسٹ راہنما اور عوامی ورکرز پارٹی کے صدر یوسف مستی خان کو یو۔ ڈی۔ ایف کا عبوری صدر منتخب کر لیا۔ کانفرنس نے 17 جولائی کو ملک بھر میں آئی۔ ایم۔ ایف و سامراجی غلامی، سبسڈیز کا خاتمہ، مہنگائی کا طوفان، بالادست طبقات و بیوروکریسی کو دی جانے والی مراعات، اور محنت کش طبقات کے بڑھتے ہوئے استحصال کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال دے دی۔

یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ سمجھتا ہے کہ پاکستان کی معیشت کو بنیادی طور پر سامراج کی ایماء اور گزشتہ 4 دہائیوں سے بالخصوص سامراجی قرضوں پر چلایا گیا ہے، جس سے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور مجموعی طور پر ”قومی سلامتی“ کے نام سے ریاستی ڈھانچہ پلتا رہا ہے۔ مروجہ معاشی نظام میں دوسرے بڑے ستون وہ بڑے زمین دار، تاجر و صنعت کار ہیں جن، کو اسٹیبلشمنٹ کے بعد جیو پولیٹیکل رینٹ کا بقایا حصہ ملتا رہا، اور جو کہ خوراک، رہائش، تعلیم، اور صحت جیسے بنیادی ضروریات کے شعبوں پر اجارہ داریاں قائم کر کے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔

اس استحصالی معاشی نظام میں وقت کے ساتھ ساتھ روزگار فراہم کرنے والی صنعتیں کم اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ ملی بھگت سے قدرتی وسائل کی بے دریغ بندر بانٹ اور زمین کو مالیاتی اثاثہ بنا کر رائل اسٹیٹ کے کاروبار سے منافع خوری کے طرف رجحان تیزی سے بڑھا ہے۔ آخر میں ریاستی اہلکار اور فوجی افسران بالخصوص منافع خوری کی مختلف دھندوں میں اتنی گہری شراکت ہو گئی ہے کہ ریاستی اداروں کی اولین ترجیح اپنے کمائی کے ذرائع کو محفوظ کرنا ہو گیا ہے۔ یہ سب کچھ آئی ایم ایف اور دیگر بیرونی ڈونرز کی مکمل اشیرباد سے ہوتا ہے۔

ترقی پسندوں کے بنیادی اہداف آج بھی وہی ہیں جن کے لیے ہم پاکستان کے بننے سے جدوجہد کر رہے ہیں۔ آج پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ان بنیادی اغراض و مقاصد کو زیادہ زور و شور سے عام کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ مین سٹریم کی سیاسی قوتیں موجودہ بحران کا نہ سنجیدہ تجزیہ اور نہ ہی اس سے نکلنے کے لیے ٹھوس پروگرام پیش کر سکتے ہیں۔ مجوزہ محاذ جن نکات پر اپنی جدوجہد مرکوز کرنا چاہتا ہے ان میں اسٹیبلشمنٹ کی معاشی و سیاسی بالادستی کا خاتمہ؛ مذہب کی سیاست سے علیحدگی اور تمام مذہبی اقلیتوں کا سیاسی و معاشی تحفظ؛ قومی جبر کا خاتمہ، پاکستان کو کثیر القومی ریاست تسلیم کرنا اور حقیقی جمہوری وفاق کا قیام؛ صنفی جبر کی تمام اقسام اور پدرسری نظام کا خاتمہ؛ زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیری باقیات و بڑی زمینداریوں کا خاتمہ؛ لینڈ مافیاز اور قبضہ گیروں کو لگام دینا؛ متبادل معاشی نظام سے سامراجی بالادستی و قرض غلامی کا خاتمہ اور آزاد خارجہ پالیسی کے تحت پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستی و معاشی تعلقات؛ تمام محنت کش اور محنت کار عوام کو ان کی زندگی کے بنیادی حقوق کی ضمانت؛ نیو لبرل ”ترقی“ اور موسمیاتی تبدیلی کے نتیجہ میں ماحولیات کی تباہی (جیسا کہ سندھ میں پانی کا شدید بحران) کی روک تھام اور قابل تجدید توانائی کو فروغ شامل ہے۔

یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے متبادل معاشی پروگرام کے بنیادی نکات کا بھی اعلان کیا، جن کے مطابق دفاعی بجٹ اور اعلی ریاسی اہلکاروں کی مراعات میں بتدریج کمی، تاکہ صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اخراجات میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔ آئی ایم ایف اور دیگر بیرونی طاقتوں کی عوام اور ماحول دشمن پالیسیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے ہمسایہ ممالک بالخصوص افغانستان اور ہندوستان کے ساتھ دوستانہ تجارتی تعلقات کا قیام؛ دفاعی اور نجی سرمایہ داروں پر ٹیکس، بڑی زمینداریوں بشمول ہاؤسنگ سکیموں کا خاتمہ اور کسانوں و مزدوروں میں زمینوں کی تقسیم اور آخر میں زمین، پانی، جنگلات، معدنیات وغیرہ کے بے دریغ استحصال پر پابندی اور آنے والی نسلوں کے لیے دوررس معاشی منصوبہ بندی، جس میں دیہی صنعت کاری اور عوامی فلاح پر خصوصی توجہ ہو۔

قدرتی وسائل و ساحلوں کے معاملے کو حقیقی معنوں میں حل کرنے لے لیے پاکستان کو ایک کثیرالاقوامی مملکت بنانا اور قوموں کے حق خودارادیت کے ضمانت دینا ناگزیر ہے۔ اس ضمن میں شہروں اور اطراف، دونوں میں ”ترقی“ کے نام پر مقامی آبادیوں کی بے دخلیاں اور ماحولیاتی تباہی کے برعکس ترقی کے عوام اور ماحول دوست تصور و عمل کو قائم کرنا۔ مزدوروں کو کم از کم 50 ہزار روپے ماہانہ اجرت، مناسب حالات کار، انجمن سازی اور پر امن احتجاج و ہڑتال کی مکمل آزادی اور سوشل سکیورٹی کی ضمانت (بالخصوص عورتوں اور بچوں کے لیے ) ۔

سیلف ایملائیڈ لیبر جیسا کہ چھوٹا دکاندار، رہیڑی بان اور بارڈر زون میں تجارت کرنے والے حلقوں کی سرکاری سطح پر قبولیت و معاونت۔ چھوٹے کسانوں کو کھاد، بیج اور دیگر اشیاء پر اجارہ داریاں قائم کرنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تسلط سے نجات اور ان اشیاء کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے مربوط پالیسی؛ پانی کی فراہمی اور کاشت کی کم از کم قیمتوں کی ضمانت۔ بیرون ملک جانے والے مزدوروں کی فلاح و بہبود کی ضمانت۔ نوجوان نسل کی مختلف ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل کمپنیوں کے معیشت میں بڑھتے ہوئے حصے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے قوانین کی تشکیل جو ان کو بنیادی حقوق کی ضمانت دے۔

یونائٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے اعلان کیا ہے کہ آنے والے دنوں مین محاذ کے مکمل پروگرام کو ترتیب دیا جائے گا اور اس میں باہر رہ جانے والی بائیں بازو کی جماعتوں، ٹریڈ یونینوں، خواتین، طالب علموں و یوتھ تنظیموں کو بھی شامل کیا جائے گا۔ فی الوقت اس علامیہ میں موجودہ معاشی بحران کے حوالے سے تجزیہ اور ٹھوس متبادل پروگرام کے خد و خال کو پیش کیا جا رہا ہے۔ اتحاد کے پروگرام میں طویل مدتی پروگرام میں دوررس سماجی تبدیلی کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا جائے گا، موجودہ بحران ترقی پسند اتحاد سے یہ تقاضا کرتا ہے کی پاکستان کے مروجہ معاشی و سماجی ڈہانچوں کی نشان دہی کی جائے اور واضح کیا جائے کی متبادل نہ صرف ممکن ہے بلکہ ناگزیر ہے۔

آئیے ہم سب مل کر ملکی آزادی کی تکمیل کرنے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد پر ملکی معاشی ڈھانچے کی تشکیل نو کر کے پاکستان کو استحصال سے پاک ترقی پسند، جمہوری معاشرے میں ڈھالنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

Facebook Comments HS

پرویز فتح (لیڈز-برطانیہ)

پرویز فتح برطانیہ کے شہر لیذز میں مقیم ہیں اور برٹش ایروسپیس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں ساوتھ ایشین ممالک کے ترقی پسندوں کی تنظیم ساوتھ ایشین پیپلز فورم کورڈینیٹر ہیں اور برطابیہ میں اینٹی ریسزم اور سوشل جسٹس کے لئے سرگرم ہیں۔

pervez-fateh has 60 posts and counting.See all posts by pervez-fateh