اگنی پت سکیم کے بھارتی افواج پر اثرات


14 جون 2022 ء کو بھارتی حکومت کی جانب سے فوج میں نان کمیشنڈ بھرتی کے لئے ”اگنی پتھ سکیم“ متعارف کروائی گئی۔ اس سکیم کے مطابق فوج کے تینوں ادارے ہر سال 17.5 سے 21 سال کے جوانوں کو صرف چار سال کے لئے بھرتی کریں گے جو صرف چھ ماہ کی ابتدائی تربیت کے بعد ہی فوج میں اپنی خدمات کا آغاز کر دیں گے۔ ان فوجیوں کو ”اگنی ویر“ کہا جائے گا۔ چار سال کے بعد ان جوانوں میں سے صرف پچیس فیصد کو مستقل بنیاد پر فوج میں بھرتی کیا جائے گا جبکہ باقی پچھتر فیصد جوانوں کو مدت معاہدہ ختم ہونے پر جبری طور پر ریٹائر کر دیا جائے گا۔

ریٹائر ہونے والے جوانوں کو کسی قسم کی مراعات (پنشن، تعلیم اور میڈیکل وغیرہ) نہیں دی جائیں گی۔ ان کی اپنی ہی تنخواہوں کا کچھ حصہ جو ہر ماہ ان کی تنخواہ سے کاٹا جائے گا وہ چار سال بعد ریٹائر ہونے پر ان کودے دیا جائے گا۔ یہ گیارہ سے بارہ لاکھ کے درمیان کی ایک معمولی رقم ہوگی۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ ریٹائر ہونے والے یہ فوجی ان پیسوں سے اپنا کوئی کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ عالمی معیشت میں افراط زر کے تناظر میں چار سال بعد بارہ لاکھ کی یہ رقم کسی بھی کاروبار کے لئے بالکل ناکافی ہوگی۔

انڈیا کا ڈیفنس بجٹ ستر بلین ڈالر سے زائد ہے جس کا نصف سے زائد حصہ پینشنز اور تنخواہوں میں صرف ہوجاتا ہے۔ اسی بوجھ کو کم کرنے کی غرض سے بنائی گئی یہ سکیم انڈین آرمی کے لئے ایک بڑا خطرہ ثابت ہوگی۔ وہ نوجوان جو بچپن سے فوج میں شامل ہونے کا خواب دیکھتے آئے ہیں وہ اس وقت غم و غصے کی حالت میں ہیں کہ وہ اس خواب کو چار سال بعد اپنے سامنے ٹوٹتا ہوا دیکھیں گے۔ اس وقت ”اگنی پتھ“ سکیم نے پورے ملک میں آگ لگا رکھی ہے۔

متعدد ٹرینیں اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں میں طالب علموں اور نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور اب تک سات سو کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ بھارت میں آئے دن کسی نہ کسی پالیسی کے خلاف احتجاج ہونا اب معمول کی بات ہو گئی ہے لیکن ”اگنی پتھ“ سکیم کے خلاف احتجاج کافی شدید اور مختلف نوعیت کاہے۔

اس سکیم کے خلاف بھارت کے طول و عرض میں بے روز گار نوجوانوں کی جانب سے ہونے والے احتجاج پر تشدد صورت حال اختیار کر رہے ہیں۔ متعدد فوجی، سیاسی شخصیات، بائیں بازو کی جماعتیں اور نوجوان طلبا اس سکیم کو ایک غلط پالیسی قرار دے رہے ہیں اور اس سکیم کو ماننے سے انکاری ہیں۔ اس سکیم مخالف احتجاج کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ ”اگنی پتھ“ سکیم کا مختصر جائزہ لیا جائے تو سکیم کے کئی نقاط ایسے ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہیں۔

اگنی پتھ کے زیر تربیت ”اگنی ویر“ صرف چھ ماہ کے مختصر دورانیے میں وہ تربیت کیسے حاصل کر سکتا ہے؟ اگر وہ کر بھی لے تو اپنی جان ہتھیلی پر رکھے سرحد کی حفاظت کے لئے فرنٹ لائن پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اس سکیم کے تحت بھرتی ہونے والے جوانوں کی عمر سترہ سال رکھی گئی ہے جو کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق چائلڈ لیبر کے زمرے میں آتی ہے۔ ان نوجوانوں کی یہ عمر (سترہ سے اکیس) دسویں اور بارہویں جماعت کی بنیادی ڈگری حاصل کرنے کی ہے جو وہ ملازمت میں گزار دیں گے اور اس کے بعد جب ریٹائر ہوں گے تو وہ ان ڈگریوں سے محروم ہوں گے جو کسی بھی شعبے یا ملازمت کے لئے بنیادی ڈگریاں ہوتی ہیں۔

چار سالہ مدت کے بعد ایک غیر تربیت یافتہ اور بنیادی تعلیم سے محروم نوجوان سپاہی کی معاشرے میں کیا حیثیت ہوگی؟ نوجوانوں کے پڑھنے اور مہارتیں سیکھنے کی عمر میں ان سے ایک ایسی ملازمت کروائی جائے گی جس سے وہ آئندہ کی زندگی میں کوئی خاص مقصد حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ایسے نوجوانوں کی ذہنی کشمکش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چار سال بعد جب ان کی عمر صرف اکیس برس ہوگی، وہ معاشرے میں خود کو ایک ناکام انسان سمجھتے ہوئے مستقبل سے بھی مایوس ہوں گے۔

وقتی دلچسپی اور معاشی سہولتوں کے فقدان کے پیش نظر وہ نوجوان بھرتی تو ہو جائیں گے مگر چار سال بعد ان کا مستقبل کیا ہو گا؟ ان کی شخصیت کیسی ہوگی، ان کی پہچان کیا ہوگی؟ شاید ان میں سے چند ایک ایسی کمپنیز میں ملازمت حاصل کر لیں جہاں فوجی تربیت سے متعلقہ شعبے ہوں، ایسی فورسز ہیں جہاں وہ اپنی تربیت کو بروئے کار لا سکیں گے مگر لاکھوں کی تعداد میں نوجوان ان کمپنیز یا فورسز کا حصہ نہیں بن سکتے۔ ملازمت کے تمام راستے بند دیکھ کر وہ ایسی تنظیموں کا حصہ بنیں گے جہاں دہشت گردی، شدت پسندی اور اشتعال انگیزی میں اس تربیت کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ طالبعلموں اور نوجوانوں کے ذہنوں کے ساتھ اس سے بڑی زیادتی کیا ہوگی کہ ان سے کوئی کار آمد کام لینے کی بجائے تخریب کاری کی طرف دھکیلتے ہوئے ان کی سماجی حیثیت اور نفسیاتی صحت کو سیاسی مفادات کی خاطر داؤ پر لگا دیا جائے۔

نفسیاتی لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو اس عمر کے نوجوان جذباتی طور پر اتنے پختہ نہیں ہوتے، ان کا ذہن بیک وقت کئی چیزوں کا حامی بھی ہوتا ہے اور کسی دوسرے لمحے انکاری بھی ہوتا ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق اس عمر میں نو جوانوں کو خطروں سے کھیلنا اور خطرے مول لینا اچھا لگتا ہے سو اس عمر میں ان کو چار سال فوج سے وابستہ رکھ کر ریٹائر کر دیا جانا ان کی ذہنی صحت کے لئے نقصان دہ ہو گا۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ سپاہی جوان اور صحت مند ہوں گے، ان سے فوج کے لئے کام لیا جائے گا تاکہ بعد میں پینشنز نہ دینے کی صورت میں معاشی تنگی سے بچا جا سکے اور فوج کے بجٹ کا معیشت پر بوجھ کم کیا جا سکے۔

لیکن ارباب اختیار کا اس جانب خیال نہیں جاتا کہ وہی ”اگنی ویر“ جو ، جوان اور صحت مند تو ہوں گے مگر اس کے ساتھ وہ ملٹرائیزڈ بھی ہوں گے جو معاشرے میں دہشت گردی اور اشتعال انگیزی کو پروان چڑھائیں گے۔ علاوہ ازیں اگر ان کو مراعات کے بغیر ریٹائر کیا جائے گا تو ان میں حکومت اور فوج کے لئے نفرت بڑھے گی اور وہ احساس کمتری کا شکار ہوں گے۔

بھارت کے سابقہ فوجی افسران نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی حکومت سے سوال کیا ہے کہ آخر دفاعی اداروں کو ہی اس تجربے کے لئے کیوں چنا گیا؟ کسی کم رسک والے ادارے پر یہ سکیم کیوں نہیں آزمائی گئی؟ کیا بی جے پی آنے والے وقت میں کسی جنگ کی تیاری کر رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو پھر مجبوراً بھارت کے ہمسائیوں کو بھی اپنی دفاعی استعداد کو بڑھانے کے لئے ایک خطیر رقم خرچ کرنا ہو گی۔ جنگ کے امکانات بڑھنے کی وجہ سے خطے میں امن و امان کی صورتحال کو خطرہ ہو گا۔

بھارتی حکومت ان نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہی ہے، ان کو تشدد کی طرف راغب کر رہی ہے اور یہ سکیم بھی اس شدت پسندی کی مثال ہے جو بی جے پی کا وژن ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی اور اس کے نظریات سے متفق جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ان نوجوانوں کے مستقبل کا فیصلہ کریں ورنہ نوجوانوں کی وہ طاقت جسے وہ اس سکیم کے تحت استعمال کرنا چاہتے ہیں وہی طاقت ان کے لئے وبال جان نہ بن جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شائستہ مبین کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments