موت کی گواہی


اس کے اردگرد اس کے قریبی عزیز موجود تھے۔ ابھی چند ہی لمحے قبل اس کی روح نے جسم کا ساتھ چھوڑا تھا اور اب الگ کھڑے ہو کر حیرانی سے صورت حال کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ڈاکٹر اس کے جسم کو الیکٹرک شاک دے رہے تھے۔ ہر طرح سے اس کے جسم کو چیک کیا جا رہا تھا کہ کہیں زندگی کی ہلکی سی بھی رمق موجود ہے تو بحال ہو جائے۔ آدھے گھنٹے کی کوششوں کے بعد ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کردی۔ موت کے وقت اس کے والد اور ایک بہن اور دو بہنوئی ساتھ تھے۔ میت کو فوراً ہی گھر کی طرف ایمبولینس کے ذریعے روانہ کیا گیا۔ موت کی خبر سن کر اس کی میت سے پہلے ہی اس کے بھائی، بھاوجیں اور بچے بھی ابو کے گھر پہنچ گئے۔

اس نے میت کے اردگرد موجود لوگوں کا طائرانہ جائزہ لیا۔ یہ الگ بات کہ وہ اپنی موجودگی کا احساس نہیں دلا سکتی تھی مگر ان لوگوں کے تاثرات ضرور محسوس کر سکتی تھی۔ سگے بہن بھائیوں نے نزدیک اس کی موت غیر متوقع تھی۔ اور وہ سب شدید صدمے میں محسوس ہو رہے تھے۔ والد اور والدہ اس کی اچانک موت پر اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہے تھے۔

رات تین بجے کا وقت تھا۔ شدید گرمی اور بار بار لائٹ جانے کی وجہ سے سب ہی پریشان تھے۔ اچانک خاندان کی چند خواتین داخل ہوئیں ان میں سے ایک نے میت کا طائرانہ جائزہ لیتے ہوئے اظہار افسوس کیا۔ دوسری جو تعلیم یافتہ تھیں انھوں نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ اور ٹیسٹ رپورٹ کا مطالبہ کر دیا جو میت کے ساتھ ہی آئی تھیں۔ ان خاتون نے بغور ٹیسٹ رپورٹ کا مطالعہ کر کے اطلاع دی کہ ”موت کی وجہ جی بی ایس وائرس کا شدید اٹیک ہے۔“

خاندان کی ایک اور خاتون نے اچنبھے سے ان کی جانب دیکھا۔ ”یہ جی بی ایس وائرس کیا بلا ہے۔ ہم نے تو کبھی اس کا نام نہیں سنا۔ جو ان موت ہے۔ یقیناً پیچھے کوئی وجہ ہوگی؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کل تک چلتی پھرتی لڑکی جسے بظاہر کوئی بیماری بھی نہیں تھی، بنا کسی زہر کے لقمۂ اجل بن جائے۔ توبہ توبہ! کیا زمانہ آ گیا ہے۔ ماں باپ شادیاں نہیں کرتے۔ بیٹیوں کی کمائی کھاتے ہیں اور بیٹیاں خودکشی کر لیتی ہیں اور نام آتا ہے جی بی ایس وائرس کا۔“

ان خاتون کی سرگوشی اتنی بلند ضرور تھی کہ دو کرسیاں چھوڑ کر بیٹھی ہوئی بہن کے کانوں تک پہنچی۔ صدمے نے اس کی چھوٹی بہن کے حواس گنگ کر دیے تھے وگرنہ وہ دو منٹ میں خاندان کی ان خاتون کو نکال باہر کرتی۔

اس کی پائنتی کی طرف کھڑی اس کی ایک کزن چہرے پر سوگواری طاری کیے کھڑی تھی۔ چند لمحے وہ اس کے گھر کے تمام لوگوں سے گلے مل کر روتی رہیں پھر تمام لوگوں سے معذرت کر کے کھڑی ہو گئیں کہ صبح تدفین کے وقت آئیں گی۔ اس کی روح اپنی اس عزیزہ کے پیچھے باہر تک آئی۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی اس عزیزہ نے مصنوعی آنسو صاف کیے اور اپنی بھابی سے کہنے لگیں، ”میرا تو منہ دکھ گیا افسردہ چہرہ بنائے بنائے۔ خس کم جہاں پاک۔ اس لڑکی نے ہمیشہ مجھے نیچا دکھایا۔ ہمیشہ مجھ سے آگے بڑھنے کی کوشش کی دیکھا آج اللہ نے ایسا بدلہ لیا ہے کہ میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔“ ان کے چہرے کی خوشی نے اسے لمحوں میں اس بات کا ادراک کروا دیا کہ اس کی موت کتنے لوگوں کے لیے باعث تسکین ثابت ہوئی ہے۔

شدید گرمی اور اتنی رات گئے نہلانے والی خاتون کے دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس کی میت کو ایدھی سینٹر میں رکھوا دیا گیا۔ اس کے بہنوئی اس کے بھائی سے کہہ رہے تھے کہ ”انکل ناحق اس کی شادی کے لیے پریشان تھے۔ دیکھو اس کی موت تو جوانی میں ہی لکھی تھی۔“ اور دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ اگر اس کی شادی ڈاکٹر احسان سے ہوجاتی تو ہماری حیثیت تو صفر ہوجاتی۔ اچھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جلد بلا لیا۔

دوسرے دن جمعہ تھا تدفین ظہر میں تھی۔ صبح دس بجے دیگر رشتے دار بھی گھر آ گئے اور یہ طے ہوا کہ غسل ایدھی سینٹر میں ہی ہو گا۔ میت کو غسل دینے والی پرانی واقف کار تھیں۔ ان کے ساتھ اس کی بہنیں جانے لگیں تو دونوں ممانیاں، ایک چچی اور دو بھابی بھی ساتھ لد کر ایدھی سینٹر گئیں کہ ہم غسل میں شامل ہوں گے۔ غسل دینے والی خاتون نے غسل کے تمام فرائض پورے کرتے ہوئے اس کی بہنوں کی مدد سے اس کی میت کو غسل دیا۔ آخر میں دونوں ممانیوں، چچی اور بھابیوں نے بھی پانی ڈالا۔

اس نے دیکھا کہ بڑی ممانی چھوٹی سے کہہ رہی تھیں۔ ”ارے اس کا جسم تو پیلا پڑ گیا ہے، نیلا ہونا چاہیے تھا، میں تو سمجھی تھی کہ زہر کھا لیا ہے، اب تو میت ہاتھ لگانے کے بھی قابل نہ ہوگی۔“ دوسری ممانی نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ ”بھابی آپ صحیح کہہ رہی ہیں باجی نے اپنی جوان بچیوں کو گھر بٹھا کر رکھا اسی لیے آج یہ دن دیکھنا پڑا۔“

وہ حیرت سے ان دونوں ممانیوں کی شکل دیکھ رہی تھی جن کے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس کا بچپن گزرا تھا وہ اس کے بارے میں کس یقین سے منفی رائے کا اظہار کر رہی تھیں۔ تھوڑی دور اس کی ایک بھابی نے دوسری سے کہا کہ۔ ”ہونا ہو یہ خودکشی ، عین چھوٹی بہن کی مہندی میں انتقال کرنا اور اس کی شادی والے دن تدفین ہونا، بھابی آپ مانیں نہ مانیں، یہ سراسر خودکشی ہے۔“

بڑی بھابی نے چھوٹی کی طرف دیکھا اور کسی بھی تاثر کے اظہار کے بغیر سرجھکا لیا۔ وہ یہ سوچ رہی تھیں کہ اس سے ان کے کتنے ہی اختلافات سہی مگر انھوں نے یہ کبھی نہیں چاہا تھا کہ اسے موت آ جائے۔

وہ اس کایا پلٹ پر حیران تھی، وہ تمام دوست احباب جن پر وہ جان چھڑکتی تھی، اس کی موت سے بے خبر تھے اور وہ خود انھیں موت کی خبر دینے سے قاصر تھی۔ چند دن گھر میں سوگ طاری رہا۔ قرآن خوانی اور ایصال ثواب بھی ہوتا رہا۔ اس کی موت کا سب سے زیادہ اثر اس کے والدین اور بہن بھائیوں نے لیا تھا۔ باقی لوگ تین دن میں ہی اس کی موت کو بھول گئے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی والدین آج بھی اس کی جوان موت پر اور نا آسودہ زندگی پر صدمہ محسوس کرتے ہوں۔ باقی سب اپنی اپنی زندگی میں مگن ہیں۔

موت تو اسے گھر پر بھی آ سکتی تھی مگر اللہ تعالی کو اس کی طبعی موت کی گواہی دلوانی تھی جبھی تو اس کی موت شہر کے مشہور ہسپتال میں ہوئی، اس کی ایک بہن، دو بہنوئیوں، اور ایک بھائی اور اس کے دوست کی موجودگی میں، اللہ تعالی نے غیروں کو بھی گواہ بنا دیا کہ اس کی موت طبعی ہے اور جی بی ایس وائرس کے جسم پر اٹیک کی وجہ سے ہوئی ہے۔ ورنہ اس کے والدین کو جوان موت پر نہ جانے کیا کیا الزام سہنے پڑتے۔

Facebook Comments HS