لبرل ازم اور پاکستان

لبرل لفظ لاطینی زبان کے لفظ لائبر سے ماخوذ ہے جس کا مطلب ”آزاد“ یا ”غلام نہیں“ ہے۔ لبرل ازم فرد کی آزادی کے تحفظ اور اس میں اضافہ کا نام ہے۔ لبرل عقیدہ کی بنیاد یہ یقین ہے کہ انسان بنیادی طور پر عقلی مخلوق ہے جو اپنے تنازعات کو بات چیت اور سمجھوتہ کے ذریعے حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لبرل ازم ایک وسیع مضمون ہے لیکن عام طور پر اس میں فرد کے انفرادی و اجتماعی حقوق، جمہوریت، سیکولرازم، قانون کی حکمرانی، معاشی اور سیاسی آزادی، آزادی اظہار رائے، آزاد پریس اور مذہب کی آزادی شامل ہیں۔ لبرل ازم کا نظریہ بیسویں صدی میں خاص طور پر نمایاں ہوا جب مغربی ممالک نے ریاستوں کے درمیان جنگوں اور دوسرے اختلافات کو ختم کرنے کے لیے لیگ آف نیشنز، یونائیٹڈ نیشنز، اور بین الاقوامی عدالت انصاف جیسے ادارے بنائے۔
مشہور برطانوی فلاسفر جان لاک کو جدید لبرل ازم کا بانی کہا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو زندگی، آزادی اور جائیداد کا فطری حق حاصل ہے اور حکومتوں کو ان حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے۔
لبرل ازم کا جمہوریت کے ساتھ گہرا لیکن بعض اوقات ناخوشگوار تعلق ہوتا ہے۔ جمہوری نظریے کے مطابق حکومتیں انتخابات میں اکثریت سے اقتدار حاصل کرتی ہیں۔ جبکہ لبرل ازم کا تعلق بنیادی طور پر حکومتی سرگرمیوں کے دائرہ کار سے ہے۔ جمہوری ریاستیں سیاسی، سماجی، معاشی و معاشرتی چیلنجز سے نبٹنے کے لیے فرد کی آزادی متاثر کر سکتی ہیں لیکن لبرل ازم میں اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ معاملات کو بات چیت سے حل کیا جائے اور معاشرے میں توازن رکھتے ہوئے فرد کی انفرادی حیثیت متاثر نا ہو۔
لبرل ازم کے معاملے میں سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے کیونکہ حکومت افراد کو دوسروں کے ہاتھوں نقصان پہنچنے سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔ لیکن وہ ممالک جہاں لبرل ازم ابھی تک پنپ نہیں سکی وہاں حکومت خود فرد کی آزادی کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔
فرد کی زندگی اور آزادی کو محفوظ بنانے کے لیے مختلف اداروں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ان کی جبری طاقت فرد کے خلاف بھی ہو سکتی ہے۔ لہذا ایک ایسا نظام وضع کرنا انتہائی ضروری ہے جو حکومت کو ضروری طاقت تو فراہم کرے لیکن حکومت کرنے والوں کو اس طاقت کا غلط استعمال کرنے سے بھی روکے۔
اگر پاکستان کی بات کی جائے تو ملک عزیز کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں فرد کی ذاتی حیثیت شناخت تک سے محروم ہے۔ ہماری آزادی ناصرف سماجی، لسانی، معاشی، علاقائی اور مذہبی حوالے سے متاثر ہوتی ہے بلکہ حکومتوں اور اداروں تک نے فرد کی آزادی کو انتہائی ابتر بنا دیا ہے۔ اگر افراد کی بات کی جائے تو پاکستانی شہریوں کی پہلی نسل جو پچاس، ساٹھ اور ستر کی دہائیوں تک رہی مذہبی طور پر تک لبرل تھی۔ کیونکہ ان کی عمر کے پہلے سال ایک ایسے معاشرے میں گزرے تھے جہاں ایک سے زائد مذاہب کے ماننے والے تھے۔ یوں مذہبی رواداری اس نسل کی سماجی مجبوری تھی۔
وہ روایات و اخلاقیات اور ادارے جو بعد ازاں لبرل دشمنی کے مراکز بنے ان کی ابتدائی بنیادیں قیام پاکستان کے فوری بعد استوار ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ کسی حکومت کو اتنا استحکام حاصل ہوا اور نا ہی ان کے منشور اور ترجیحات میں شامل تھا کہ وہ فرد کی ذاتی حیثیت کو تسلیم کرتیں اور ایسی قانون سازی کرتیں جس سے معاشرے میں لبرل ازم فروغ پاتا۔ رہی سہی کسر ڈکٹیٹرز نے پوری کر دی جنہوں نے اپنے ناجائز اقتدار کے لیے مذہبی شدت پسندی، فرقہ واریت اور غیر جمہوری روایات کو استعمال کیا۔ اپنے اقتدار کو طول اور استحکام دینے کے لیے مذہبی نظریات کی تشریح اس انداز سے کی گئی کہ لبرل نظریات کو ہمارے معاشرے میں گالی سمجھا جانے لگا۔ نتیجتاً فرد اس وقت کئی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔
کیا پاکستان میں لبرل روایات کا احیاء ممکن ہے؟ اس وقت کوئی ادارہ، یونیورسٹی یا تھنک ٹینک اس معاملے میں آواز نہیں اٹھا رہا الٹا وہ رجعت پسندی اور غیر جمہوری روایات کا گڑھ بن چکے ہیں۔ گنتی کے چند افراد سوشل میڈیا پر وقتاً فوقتاً بات ضرور کرتے ہیں لیکن ان کے فالوورز محدود ہیں۔ صورتحال اس حد تک خراب ہو چکی ہے کہ فرد کی آزادی کی بات کرنے والا نظریہ فی الحال زیر بحث بھی نہیں لایا جا سکتا۔

