دانا صحافی، نادان دوست اور مشن "امپوسیبل” عمران خان


جب سے پاکستان میں نئی حکومت آئی ہے تب سے حکومت کے ایوانوں اور میڈیا کے دالانوں میں مسلسل ایک عجیب سی کھچڑی پک رہی ہے، چند ماہ میں بے شمار دعوے، وعدے اور جید صحافیوں کی پیشین گوئیاں منہ کے بل گرتی نظر آئیں، سیاسی پارٹیوں کے ماضی قریب کے ہیرو زیرو بنے اور زیرو ہیرو، عمران خان نے حکومت گرانے کے الزام کا سفر بیرونی طاقتوں یعنی امریکہ سے شروع کیا جو آہستہ آہستہ براستہ روس اور سعودی عرب اسلام آباد کے نواحی شہر کی طرف بڑھ رہا ہے، تمام سیاسی پنڈت اپنے تجزیوں اور پیشین گوئیوں کی پٹاریاں سینے سے لگائے انتہائی محتاط نظر آتے ہیں۔

اس تمام کھیل میں سب سے ”بلنٹ“ عمران خان کھیل رہے ہیں، شاید ان کے پاس اس کے علاوہ دوسرا آپشن بھی نہیں ہے کیونکہ اگر یہ حکومت صرف بیس پرسنٹ بھی پرفارم کر گئی تو عمران خان کا باب ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گا یا صرف اپوزیشن کی چند سیٹوں تک محدود ہو جائے گا۔

عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کے موافق صحافی کھل کر اپنے محبوب لیڈر کے لیے میدان میں اتر آئے ہیں، اس تمام صورتحال سے کچھ اور سمجھ آئے نہ آئے لیکن ایک بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ماضی قریب میں کوئی ”مشن عمران خان“ ٹائپ کی (جو صرف الزام تصور کی جاتی تھی) چیز ضرور موجود تھی جو اب حقیقت کا روپ دھارتی جا رہی ہے، اس مشن میں صحافیوں کے ساتھ حاضر سروس جنرلز، چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیاں اور کچھ مذہبی رہنما آن بورڈ یعنی ایک صفحے پر تھے۔

اس بات کے ثبوت روزانہ کی بنیاد پر پاکستان تحریک انصاف کے موافق صحافی اپنے ہر پروگرام، ولاگ اور مختلف سیمینارز میں جانے انجانے یا جوش خطابت میں دے رہے ہیں، مثلاً اینکرپرسن عمران ریاض خان نے گزشتہ دنوں واضح طور پر ایک سیمینار میں (پنڈی کی طرف اشارہ کر کے ) تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ آپ ہی لوگ ہمیں مخصوص پارٹیوں اور شخصیتوں کے خلاف ثبوتوں کی فائلیں مہیا کرتے رہے ہیں اور بتاتے رہے ہیں کہ یہ لوگ کرپٹ ہیں، اس سلسلے میں آپ ہمارا ساتھ دیں کیونکہ یہ ایک جہاد ہے،

انہوں نے تقریب میں موجود صحافیوں کے نام لے کر اپنی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور بھی کیا جو شاید اس جوش میں نہیں بیٹھے تھے، ہاتھوں میں ٹھنڈے منرل واٹر کی بوتلیں تھامے وہ کھسیانے سے ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہوئے۔

ویسے یہ بھی ایک کمال ہی جہاد ہے جس میں شریک صحافی چند سالوں میں موٹرسائیکلوں سے بلٹ پروف گاڑیوں اور کروڑوں کے گھروں میں پہنچ جاتے ہیں، شاید ہم جہاد کی اس صنف سے نا آشنا تھے جس کا اجر اس قدر دنیا میں ہی مل جاتا ہے۔

جب تمام کی تمام پاکستان تحریک انصاف، سوشل میڈیا ٹرولز سے لے کر صحافی اور سیاسی رہنما موجودہ آرمی کی قیادت پر کھل کے الزام لگا رہی ہے کہ جنرل کون ہوتے ہیں ہمیں بتانے والے کہ کون وزیراعلی ہونا چاہیے یا کون منسٹر، عین اسی وقت جنرل ظہیر الاسلام ریٹائرڈ نے پاکستان تحریک انصاف کے ایک امیدوار کے حق میں پوری تقریب ہی کر ڈالی، جس میں انہوں نے کھل کر بتایا کہ ہم نے کس طرح دوسری پارٹیوں سے مایوس ہو کر عمران خان اور تحریک انصاف کو ہر طرح سے سپورٹ کیا، کہ مابدولت نے سوچا کہ ہم کیوں نہ عمران خان کو ٹرائی کریں کیونکہ ہم بھی تو جہاد ہی کر رہے ہیں اور اس جہادی کے گھر کا وسیع گراؤنڈ دیکھ کر اس نیکی پر دل خوب مائل ہوا۔

رہی بات عمران خان کی تو ان کا بیانیہ اس وقت دھڑام سے گر جاتا ہے جب وہ اسٹیبلشمنٹ کی قیادت کو نیوٹرل ہونے کا طعنہ دیتے ہیں، یعنی ان کا زور آرمی کو غیر سیاسی کرنے سے زیادہ اپنے حق میں سیاسی کرنے پر ہے۔

پاکستان کی مستحکم سیاسی صورت حال اور مستقبل کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ اس کا تعین موجودہ حکومت کی کارکردگی اور اسٹیبلشمنٹ کی قیادت کی مستقل مزاجی کرے گی ورنہ سری لنکا ہم سے زیادہ دور نہیں۔

جن ”سیانے“ دوستوں پر حب الوطنی اور جہاد کے نام پر اسٹیبلشمنٹ نے نادانی میں تکیہ کیا اس سے شدید سبق سیکھنے کی ضرورت ہے، شاید یہ مملکت مزید کسی نادانی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments