خودکشیاں: ان دس لڑکیوں کو ہم بچا سکتے تھے


ان دس لڑکیوں کو ہم بچا سکتے تھے، اس پہلے کچھ لکھنا چاہتا ہو بلکہ بہت کچھ، یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ ہم قبائل انتہا پسند ذہنیت رکھتے ہیں، اتن سے لے کر جنگ تک ہم کوشش کرتے ہیں کہ کس طرح سے اس کے انتہا تک جائیں گے!

میں انسانی نفسیات کے میدان میں کام کرتا ہو اس لیے کوشش کرتا ہو اس عجیب و غریب انتہا کی گہرائی تک پہنچ جاؤ۔ میں قبائلیت سے نفرت نہیں کرتا مگر اس نظام سے خوش نہیں ہوں، ہمارے ہاں اگر کوئی گھر کے سامنے سڑک پر سپیڈ بریکر بنا دے، تو باقی محلے والے بھی نکلتے ہیں اور ہر کوئی گھر کے سامنے سڑک پر سپیڈ بریکرز بناتا ہے۔

یہ تو صرف ایک مثال ہے اس طرح کے مقابلے ہمارے ہاں عام سی بات ہے، بدقسمتی سے ہم نے اسی قوت کو مثبت مقابلہ جات میں کبھی بھی استعمال نہیں کی ہے، سوائے منفی پہلوؤں پر۔ چلئے اس سے مزید چند قدم اگے جاتے ہیں، پچھلے پانچ سال سے جنوبی وزیرستان میں خودکشی کے واقعات جمع کرتا ہو اور یہاں زیادہ خودکشی کے وجوہات پر تحقیق میں مصروف ہوں۔

میں نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہم انتہا تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں، ایک مرد/عورت یا بچہ/بچی جب خودکشی کرتی ہے، تو باقی اس کے نقش قدم پر چلتے ہیں، مسائل سے چھٹکارا چاہتے ہیں آسان حل خودکشی۔ ان پانچ سال میں نے کتنے خودکشی واقعات جمع کیے ہیں اس میں کتنے خواتین، حضرات و بچے شامل ہیں، اس کے وجوہات کیا ہے، میں کس نتیجے پر پہنچا اس پر تفصیلی تحریر قلمبند کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

ویسے بھی قبائلی خطے میں جی بی وی (جینڈر بیسڈ وائلنس) صنفی بنیاد پر تشدد مملکت خداداد کے واقعات دیگر علاقوں سے کافی زیادہ ہوتے ہیں، پوسٹ ٹرامٹکٹ سٹریس ڈیس ارڈر عام ہیں، چائلڈ میرج یعنی کم عمری میں شادی، زبردستی شادیاں کرانے کا رواج، ادلہ بدلی، خاندان میں شادی رواج، پسند کی شادی کو خاندان، قوم، خیل، قبیلہ وغیرہ پر داغ (اسٹگما) سمجھنا خواتین کے نفسیات سے پیوست ہیں۔ تقریباً دو سال میں دس ایسے نوجوان لڑکیوں کے خودکشی کے واقعات میں نے درج کیے ہیں جس کا تعلق مندرجہ بالا کیفیت سے تھیں۔

یہ دس خودکشیاں پاڈان نامی کیمیکل کھانے سے ہوئی ہیں، ہمارے علاقے کے لاتعداد مسائل کی طرح ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم ابتدائی طبی امداد کو نہیں جانتے، زہر کھانے کے بعد کسی کو علم نہیں کہ متاثرہ انسان کو کس طرح ہم سنبھال سکتے ہیں۔ میں نے ایسے واقعات کو بھی دیکھا ہے جس میں خواتین نے پھندا لگا کر، کنویں میں چھلانگ لگا کر، بندوق سے خود کو مارا ہے۔ زہر کھانے کا ایک مقصد یہاں پر یہ بھی ہے کہ میں مرنا نہیں چاہتی، مگر مجھے یہ نجس فیصلے قابل قبول نہیں ہے، میں انسان ہوں، مجھے توجہ دیں، مگر ہم اپنی لاعلمی کی وجہ سے اسپتال یا بنیادی صحت کے مراکز تک متاثرہ خاتون کو پہنچانے سے قبل اسے موت کے سامنے قربان کرتے ہیں۔ میں نے یہ بھی درج کیا کہ اکثر اس طرح متاثرہ انسان کو لسی پلاتے ہیں جو زہر کو مزید پھیلاتا ہے۔ یہ دیسی نسخہ نقصان دہ ہی ہے۔

جاری ہے۔

Facebook Comments HS