چے گویرا، خاتون اول اور ”گیلا تیتر“
میں نے 1970 ء میں صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ اس وقت ملک میں تازہ تازہ مار شل لا ء لگا تھا۔ زمانہ طالبعلمی میں ہی دائیں بازو کے لوگوں سے قربت پیدا ہو گئی جو صحافت میں بھی تاحال قائم ہے لیکن بائیں بازو کے نظریہ سے مخلص دوستوں کی بھی بڑی تعداد ہے۔ ان سے اختلاف بھی کیا اگرچہ زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح صحافت میں بھی نظریاتی تقسیم تھی لیکن اس کے باوجود ہمیشہ باہم احترام کا رشتہ بھی قائم رہا نظریاتی اختلاف کو کبھی تعلقات کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا جاتا
اس وقت صرف سرکاری ٹیلی ویژن ہوتا تھا لہذا پرنٹ میڈیا کا دور تھا۔ اس لئے اس وقت پرنٹ میڈیا کے جرات مند صحافیوں کا طوطی بولتا تھا لیکن آج الیکٹرانک میڈیا پر رات کو ”عدالتیں“ لگانے والوں کا دور دورہ ہے۔ عدالتیں لگانے والے اینکر پرسنز نے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ پچاس سال پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ہمیں 70 کا دور خاصا پسماندہ نظر آتا ہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں سوشل میڈیا (ٹویٹر، فیس بک اور یو ٹیوب) نے نجی ٹیلی ویژنز کی اہمیت بھی کم کر دی ہے۔
سوشل میڈیا نے جہاں پورے معاشرے میں فساد برپا کر رکھا ہے۔ وہ یوٹیوبرز کے لئے کمائی کا ایک ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ اب تو کوئی شخص کسی جگہ بھی بیٹھ کر کسی کے خلاف نہ صرف پوسٹ لگا سکتا ہے بلکہ جو جی میں آئے اس کے خلاف کہہ سکتا ہے۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی دور ہو جس میں آزادی صحافت کا احترام کیا گیا ہو۔ ہر دور میں آزادی صحافت پر لگائی جانے والی قدغن سے صحافی نالاں نظر آئیں گے۔ حکمرانوں کی ناراضی پر نہ صرف اخبارات کے ڈیکلریشن منسوخ کر دیے جاتے تھے بلکہ ایڈیٹروں کو جیل کی ہوا کھانے پر مجبور کر دیا جاتا تھا۔
ہر دور میں آزادی صحافت کو کنٹرول کرنے کے لئے مختلف قوانین کا استعمال ہوتا رہا ہے لیکن کسی دور میں بھی کسی صحافی نے اس طرح صحافت کی ”ریڈ لائن“ عبور نہیں کی جس طرح آج کی جا رہی ہے۔ جو بات ”صاحب اور سرکار“ کہ کر کہی جا سکتی ہے وہ ”تو“ کہہ کر نہیں کی جانی چاہیے۔ اب تو ایسا زمانہ آ گیا ہے جس کے پاس مناسب تعلیم اور تجربہ نہیں اس کے ہاتھ سوشل میڈیا کا استرا آ گیا ہے جس کو ذبح کرنا چاہے ذبح کر دیتا ہے اور جس کے خلاف جو جی میں آئے سوشل میڈیا پر وائرل کر دے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں اگر کسی یوٹیوبر پر اس کی ”بے لگامی“ پر ریاستی ادارے باز پرس کریں یا قانون کی گرفت میں لایا جائے تو آزادی صحافت پر حملہ کرنے کا شور شرابا شروع ہو جاتا ہے۔
ہر دور میں ریاستی اداروں کے کردار پر تنقید کی جاتی رہی ہے لیکن یہ تنقید قانون اور قاعدے کے مطابق ہو تو کسی کو کسی پر ہاتھ اٹھانے کی جرات نہیں ہوگی پاکستان میں پچھلے چند سالوں سے صحافیوں کی ایک فوج ظفر موج پیدا ہو گئی ہے جو ”طاقت ور“ لوگوں سے اپنے تعلق کو وجہ افتخار سمجھتی ہے اور پھر ان کے اشاروں پر جس کو چاہتے ہیں۔ ”مجرم، چور اور ڈاکو“ ثابت کرنے میں اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔
صحافت اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے جب صحافی ریڈ لائن کراس کرتا ہے تو وہ سیاست دان بن جاتا ہے جب وہ سیاست دان بن کر گفتگو کرتا ہے تو وہ صحافت کا چوغا پہن کر آزادی صحافت پر حملہ کا واویلا شروع کر دیتا ہے۔ اگر اس نے وکٹ سے باہر کھیلنے کی کوشش کی ہے تو اس کو ہاتھ ڈالے جانے پر چیخ و پکار نہیں کرنی چاہیے صحافی کو صحافی رہ کر بات کرنی چاہیے جب وہ اپنے قلم اور ٹی وی ٹاک کی بجائے جلسوں میں سیاست دانوں کی طرح ریاستی اداروں کو للکارتا پھرے تو پھر اسے صحافت کی کچھار میں پناہ تلاش نہیں کرنی چاہیے اگر کل تک کوئی طاقت ور لوگوں کا لاڈلا رہا ہو وہ آج کیونکر انہیں آنکھیں دکھا سکتا ہے۔ ان کے سامنے اس کی نظریں نیچی ہی ہونی چاہیں
پاکستان میں کچھ لوگوں کو ویسے بھی یہ غلط فہمی ہو گئی ہے کہ وہ ریاستی اداروں سے زیادہ طاقت ور ہو گئے ہیں۔ لہذا ان کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا اب تو صحافی کیا سیاست دان بھی ریاستی اداروں کو بلیک میل کرنے لگے ہیں اور سب کچا چٹھا سنانے کے لئے ویڈیو وائرل کرنے دھمکی دینے لگ جاتے ہیں۔ ہمارے دوست ایاز امیر نے یہ جانتے ہوئے کہ چے گویرا کے ہاتھ پر ہزاروں لوگوں کا خون ہے، عمران خان کو چے گویرا بننے کا مشورہ دیا ہے۔
اسی طرح مجھے کسی دوست نے ایک شکاری صحافی کو ”گیلا تیتر“ کا خطاب ملنے کی وجہ یہ بتائی کہ اس نے ممنوعہ علاقے میں تیتروں کا شکار کر کے اپنی گاڑی کے بونٹ پر نمائش کی، اس پر تیتروں کا شکار کرنے پر تنقید ہوئی جس پر اس نے کہا کہ یہ تیتر میرے فریج سے نکالے ہوئے ہیں اور اب تک گیلے ہیں، جس پر ان کو گیلا تیتر کا خطاب مل گیا۔ بہرحال ”گیلا تیتر“ نے اپنی ٹکر کے آدمی کو ٹکر ماری تو اسے آٹے دال کا بھاؤ پتا چل گیا۔
آئے روز اپنے کو نمایاں کرنے اور اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے کچھ صحافی نما سیاست دانوں نے اسٹیبلشمنٹ پر غصہ نکالنا اپنا وتیرہ بنا لیا ہے جب اس کا رد عمل سامنے آتا ہے تو پھر آزادی صحافت پر حملہ کا شور شرابا شروع کر دیا جاتا ہے۔ میں حیران ہوں سابق وزیر اعظم عمران خان ان کی اہلیہ کی ایک آڈیو لیک ہونے اور دوسری ان کی اپنی آڈیو کے منظر عام پر آنے کی خبر آنے پر اس قدر فرسٹریشن کا شکار ہو گئے ہیں کہ انہوں نے دھمکی دے دی ہے۔ مجھے ساری سازش کا علم ہے۔ اس کے ایک ایک کردار کا پتہ ہے۔ میں نے بھی ایک ویڈیو بھی بنائی ہوئی ہے۔ کچھ ہوا تو وہ سامنے آئے جائے گی۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کیا وہ اپنی اس پریس کانفرنس کے ذریعے جن قوتوں پیغام دینا چاہتے ہیں۔ دے دیا ہے اور پھر خود ہی انکشاف کر دیا ہے۔ ”جب کوئی ایک بات ہو جائے تو نامعلوم نمبر سے کال آجاتی ہے۔ “ انہوں نے عدلیہ سے سوال کیا ہے کہ کیا ملک میں مارشل لا لگ گیا ہے؟
پھر کہا ”ادب سے عدلیہ سے پوچھتا ہوں کہ کیا ملک میں انسانی حقوق معطل ہو گئے ہیں؟ ہم پر دہشت گردی کے کیس بنائے جا رہے تاکہ ہم ڈر کر بیٹھ جائیں“ ۔ عمران خان ایک سانس میں ریاستی اداروں کو دھمکی دیتے ہیں اور دوسری سانس میں منت سماجت پر اتر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سب پتا ہے کہ کس نے کیا کیا ہے؟ میں چپ ہوں اپنی قوم کے لئے چاہتا ہوں ملک کو نقصان نہ پہنچے اس لیے کوئی بات نہیں کرتا، مجھے پتہ ہے۔ کس طرح یہ سازش ہوئی اور اس سازش میں کون کون ملوث ہے۔ میں نے ایک ویڈیو بنائی ہے اور محفوظ جگہ پر رکھی ہوئی ہے۔
انہوں نے دھمکی دی ہے کہ ”اگر اسی طرح ہمیں دیوار سے لگایا گیا اور ہراساں کیا گیا تو پھر مجبور ہو کر بولوں گا پھر سب کچھ قوم کے سامنے رکھ دوں گا کہ کیا ہوا ہے۔“ ؟ عمران خان کا غصہ ان کی ایک آڈیو وائرل ہونے پر ہے جو ان کی اہلیہ سے منسوب کی جا رہی ہے۔ اس میں وہ عمران خان کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ارسلان خالد کو مخالفین کے خلاف بیانیہ بنانے اور انہیں غدار ثابت کرنے کی مہم چلانے کی ہدایات دے رہی ہیں۔ بشریٰ بی بی کی مبینہ طور پر جو آڈیو لیک ہوئی ہے۔ اس میں کہتی سنی جا سکتی ہیں کہ علیم خان اور دیگر میرے اور خان صاحب کے بارے میں باتیں کریں گے۔ فرح کے خلاف بھی بولیں گے۔ سب کو غداری سے جوڑ دیں۔ اس آڈیو میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی خط اور روس کا معاملہ اٹھانا ہے۔ اسے نیچے نہیں آنے دینا
اگرچہ پی ٹی آئی ذرائع نے ٓآڈیو کو فیک قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے سپریم کورٹ کو ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت ٹیپ کرنے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بشریٰ بی بی کہہ رہی ہیں کہ خان صاحب نے آپ سے کہا تھا کہ غداری کا ہیش ٹیگ چلانا ہے۔ مجھے لوگوں کے فون آ رہے ہیں کہ آپ کا سوشل میڈیا تو بہت ایکٹو تھا لیکن ایک ہفتے سے بالکل ایکٹو نہیں ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ آج کل تو آپ لوگوں کو بہت ایکٹو ہونا چاہیے تھا۔
سپریم کورٹ نے وزیر اعلی ٰپنجاب کے عہدہ کے انتخاب سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سبطین خان کی اپیل پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ دس صفحات پر مشتمل یہ تحریری فیصلہ جسٹس اعجاز الاحسن نے قلمبند کیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے سیکنڈ پول کے لیے مناسب وقت دینے کی استدعا کی ہے جب کہ پرویز الہی نے عدالت کے حکم پر پیش ہو کر بتایا کہ ان کے کچھ حامی ارکان حج کی ادائیگی کے سلسلے میں ملک سے باہر ہیں جب کہ پانچ مخصوص نشستوں کا نوٹی فکیشن بھی جاری نہیں ہوا ہے۔ ان حالات میں یہ ایوان نامکمل ہے۔ اس لئے وزیر اعلی ٰکے انتخاب کے لئے ایوان مکمل ہونے تک کا وقت دیا جائے، عدالت نے فریقین کو آپشن دیا فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا دوبارہ انتخاب 22 جولائی 2022 ء کو چار بجے صوبائی اسمبلی میں منعقد ہو گا۔ اسمبلی اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر کریں گے اور تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ڈپٹی اسپیکر ہی وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے اور پولنگ تک حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ پنجاب رہیں گے۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کی پانچ مخصوص نشستوں سے متعلق ہائی کورٹ کے 27 مئی کے فیصلے کی تفصیلی وجوہات ایک ہفتے میں جاری کی جائیں گی اور الیکشن کمیشن تفصیلی فیصلہ آنے کے فوری بعد ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق مخصوص نشستوں پر ناموں کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔
عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی فریق ہائی کورٹ کے فیصلے سے متاثر ہو تو دادرسی کے لیے مجاز فورم سے رجوع کر سکتا ہے۔ فیصلے میں پنجاب اسمبلی کے بیس حلقوں میں ضمنی الیکشن کے دوران نئے ترقیاتی پروگراموں اور ڈیویلپمنٹ اسکیموں کے لیے فنڈز کے اجرا پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ضمنی انتخابات الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گے۔ جبکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے مطابق ضمنی انتخابات کے حلقوں میں ٹرانسفر، پوسٹنگ پر مکمل پابندی ہوگی اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن قانون کے مطابق کارروائی کرے گا۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی نے پر امن، غیر جانبدارانہ اور شفاف اسمبلی کارروائی کی واضح یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ اسمبلی چیمبرز اور متعلقہ دفاتر آئین و قانون کے مطابق کام کریں گے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے بعد پنجاب اسمبلی کے 20 حلقوں میں ضمنی انتخابات کے سلسلے میں سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے۔ مریم نواز مسلم لیگ (ن) اور عمران خان پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ مریم نواز اپنے جلسوں میں پی ٹی آئی کی پنجاب دشمنی کو اجاگر کر رہی ہیں جب کہ عمران خان کا بیانیہ سازش کے تحت انہیں اقتدار سے نکالے جانے پر مرکوز ہے۔ سر دست مسلم لیگ نون کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے لیکن انتخابی مہم کے آخری ایام میں صورت حال واضح ہو گی کہ کون سی جماعت 20 میں سے اکثریتی نشستیں حاصل کرتی ہے۔ ضمنی انتخابات کے نتائج ملکی سیاست کے رخ کا تعین کریں گے۔

