جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے پر حملہ، حالت تشویش ناک
یہ حملہ ایک تقریب کے دوران ہوا جہاں ان پر دو بار گولی چلائی گئی جس میں سے ایک ان کی پیٹھ پر لگی۔ گولی لگنے کے بعد شنزو آبے زمین پر گر گئے۔
واضح رہے کہ شنزو آبے جاپان کے سب سے طویل عرصہ تک رہنے والے وزیر اعظم ہیں جو 2006 میں ایک سال تک وزیر اعظم رہے اور پھر 2012 سے 2020 تک آّٹھ سال تک وزیر اعظم رہے۔
شنزو آبے نے صحت کی خرابی کی وجہ سے استعفی دے دیا تھا۔ انھوں نے بعد میں بتایا تھا کہ ان کو بڑی آنت کی ایک بیماری لاحق ہے جسے السرائیٹیو کولائیٹس کہا جاتا ہے۔
ٹوکیو کے سابق گورنر یوئچی ماسوزی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ 67 سالہ سابق وزیر اعظم حملے میں زخمی ہونے کے بعد کارڈیو پلمنری اریسٹ کی حالت میں ہیں۔
جاپان میں یہ اصطلاح کسی شخص کی باضابطہ طور پر موت کی تصدیق سے قبل استعمال کی جاتی ہے۔
چیف کیبنٹ سیکرٹری ہیروکازو ماٹسونو نے واقعے کے بعد رپورٹرز کو بتایا تھا کہ ’سابق وزیر اعظم کو نارا شہر میں ساڑھے گیارہ بجے کے قریب گولی ماری گئی۔ ایک شخص، جس پر حملہ آور ہونے کا شبہ ہے، حراست میں لیا جا چکا ہے۔ شنزو آبے کی موجودہ حالت کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ ’وجہ جو بھی ہو، ایسے ظالمانہ قدم کو کسی طرح بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا اور ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔‘
عینی شاہدین نے بڑی گن تھامے ایک شخص کو دیکھا
یہ بھی پڑھیے
امریکی بچوں کی اموات: حادثے پیچھے رہ گئے بندوق پہلے نمبر پر
سب سے طویل عرصے تک جاپانی وزیراعظم رہنے والے شنزو آبے مستعفی
جاپان کے متوقع وزیراعظم: کسان کے بیٹے اور ایک منجھے ہوئے سیاستدان
سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز نظر آئیں، جن کی تصدیق نہیں کی جا سکی، جن میں پیرا میڈیکل سٹاف کو ایک گلی میں شنزو آبے کے گرد گھیرا ڈالے دیکھا گیا۔ اس واقعے کے بعد ان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جب یہ حملہ ہوا۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایک شخص کو دیکھا جس نے ایک بڑی گن تھامی ہوئی تھی اور اس نے عقب سے فائر کیا۔
پہلی گولی غالبا شنزو آبے کو نہیں لگی لیکن دوسری گولی ان کی پیٹھ میں جا کر لگی جس کے بعد وہ زمین پر گرے۔ سکیورٹی نے فوری طور پر مبینہ حملہ آور کو حراست میں لے لیا جس نے فرار ہونے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
مقامی براڈ کاسٹر این ایچ کے نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شنزو آبے ہوش میں تھے جب ان کو فائرنگ کے بعد اس جگہ سے نکالا گیا۔ براڈ کاسٹر کے مطاق پولیس نے حملہ آور کی گن قبضے میں لے لی اور اس کی شناخت بھی کی جا چکی ہے۔
جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے کے مستعفی ہونے کے بعد ان کے قریبی اتحادی یوشیڈے سوگا وزیر اعظم بنے تھے جن کی جگہ بعد میں فومیو کشیڈا نے لی۔
جاپان میں ایسے واقعات بہت کم ہوتے ہیں کیوں کہ گنز پر پابندی ہے۔ یہاں سیاسی تشدد کے واقعات بھی بہت کم سننے کو ملتے ہیں۔
2014 میں جاپان میں گنز سے اموات کے صرف چھ واقعات ہوئے جب کہ اسی سال میں امریکہ میں تقریبا 33,599 سے زائد واقعات پیش آئے۔
جاپان میں گن خریدنے کے خواہش مند کو ایک سخت ٹیسٹ سے گزرنا پڑتا ہے اور ان کی ذہنی صحت بھی جانچی جاتی ہے۔ اس کے باوجود صرف شاٹ گن اور ایئر رائفل ہی فروخت کرنے کی اجازت ہے۔


