گورنمنٹ اسلامیہ کالج 1972 تا 2022 ء


1972 ء میں یہ تعلیمی ادارہ گورنمنٹ اسلامیہ کالج بن چکا تھا۔ تمام اساتذہ جو انجمن اسلامیہ کی انتظامیہ کے تحت اس کالج میں کام کر رہے تھے ان کو بھی مستقل ملازم بنا دیا گیا۔ اب وہ اس کالج میں حکومت پنجاب کے ملازمین تھے۔ ان اساتذہ کے لئے جو انجمنوں کے تحت چلنے والے اداروں میں کام کر رہے تھے جب وہ گورنمنٹ ملازم بن گئے تو ان کے لئے ایک خاص لفظ ”نیشنلسٹ کیڈر“ استعمال کیا جانے لگا۔ اب یہ تمام لوگ اپنی اپنی مدت ملازمت پوری کر کے اس کالج سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔

اب اس کالج میں نئی نسل کے لوگ کام کر رہے ہیں۔ پرانے لوگ رکھ رکھاؤ والے تھے۔ ایک دوسرے کا لحاظ کرتے تھے۔ اب وہ روایات یا تو مفقود ہوتی جا رہی ہیں یا پھر بالکل ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ اب سب لوگ ملازمت کرتے ہیں۔ جو ہمارے ہاں تمام سرکاری اداروں کا حال ہے وہ ہی تعلیمی اداروں کا بھی ہے۔ یہاں پر پڑھانے والوں کو اس سے کوئی سرو کار نہیں ہے کہ یہاں پر کیا ہو رہا ہے؟ چاہے کوئی کچھ بھی کرے اساتذہ اپنے آپ کو اس سے بری الذمہ سمجھتے ہیں۔

جب حکومت نے اس کالج کو اپنی تحویل میں لیا تو یہاں پر بی۔ اے، بی۔ ایس۔ سی اور ایف۔ اے، ایف۔ ایس۔ سی کی کلاسز ہوتی تھیں۔ اس کالج کی پڑھائی بہت اچھی تھی۔ ارد گرد کے علاقوں سے طلباء اس کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے تھے۔ اس کالج میں بے شمار نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں ہوتی تھیں۔ کھیل کے میدان آباد تھے۔ طلبا ء مختلف کھیلوں میں شریک ہوتے تھے۔ کالج آفس اور سپورٹس آفس میں پڑی ہوئی ٹرافیاں اور تصاویر اس بات کی گواہ ہیں کہ اس کالج میں غیر نصابی سر گرمیاں اپنے عروج پر تھیں۔

اب نہ کھیلیں ہوتی ہیں اور نہ ہی کچھ اور۔ اس وقت کالج کا میگزین ”کارواں“ باقاعدگی کے ساتھ شائع ہوتا تھا۔ یہ میگزین بہت ہی معیاری میگزین تھا۔ اگر اس کے پرانے شمارے جو کالج لائبریری کا حصہ ہیں ان کی ورق گردانی کی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس میگزین کو شائع کرنے والے اساتذہ اور طلباء کس قدر محنت کرتے ہوں گے کہ اس قدر معیاری رسالہ ہر سال شائع کیا جاتا تھا۔ کالج کا کانووکیشن بھی ہوتا تھا۔

کالج کے رسالے میں کانووکیشن کی تصاویر اس بات کی گواہ ہیں۔ کانووکیشن پر علم و ادب سے دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو مدعو کیا جاتا تھا۔ مگر اب پچھلے کئی سالوں سے کوئی بھی ایسی تقریب اس کالج میں نہیں ہوئی۔ جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ کالج اپنی ساکھ کو برقرار نہیں رکھ سکا بلکہ یہ ادارہ روبہ زوال ہے۔ ایسا کیوں ہوا یہ بھی ایک لمبی کہانی ہے؟ یہاں پر اس وقت یہ کہانی نہیں لکھی جا سکتی۔ اس کے لئے ایک الگ فیچر لکھنے کی ضرورت ہے جو کسی اور وقت پر چھوڑتے ہیں۔ بس یہاں میں اتنا ہی کہوں گا کہ :

دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی اس گھر کے چراغ سے

کالج میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ طلباء کی تربیت کے لے مختلف شعبہ جات کی سوسائٹیاں بھی کام کرتی تھیں۔ ان سوسائٹیوں کے مختلف اوقات میں پروگرام ہوتے تھے۔ ان پروگراموں میں شاعروں، ادیبوں، علماء اور دیگر لوگوں کو مدعو کیا جاتا تھا۔ بچے اس سے بہت کچھ سیکھتے تھے۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ سب کچھ ختم ہوتا گیا۔ روشنی کے یہ چراغ جلانے والے دیے آہستہ آہستہ مدہم ہوتے گئے اور کسی نے بھی ان چراغوں کی طرف دھیان نہ دیا اور بالآخر یہ چراغ بجھ گئے اور تا حال روشنی کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔

گوجرانوالہ کے لوگوں کی تعلیمی ضروریات بڑھتی رہیں۔ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اس کالج کے منتظمین نے اس کالج میں ایم۔ اے اور ایم۔ ایس کے پروگرام شروع کروائے۔ اس طرح اس کالج کو پوسٹ گریجوئیٹ کالج کا درجہ حاصل ہو گیا۔ گوجرانوالہ کا یہ واحد کالج پوسٹ گریجوئیٹ ٹھہرا۔ 1990 ء میں اس کالج کے پرنسپل ظفر قریشی نے کالج اساتذہ کے ساتھ مل کر یہاں پر ایم۔ ایس۔ سی کیمسٹری اور ایم۔ اے سیاسیات کا اجراء کروایا۔

1990 ء سے لے کر 2021 ء تک یہ پروگرام چلتے رہے۔ ہزاروں طلبا ء اور طالبات نے اس کالج سے تعلیم حاصل کی اور آج وہ مختلف شعبہ جات میں کام کر رہے ہیں۔ کچھ طلباء و طالبات تو اچھے مقام پر بھی پہنچ چکے ہیں۔ لیکن کبھی ان لوگوں کو یہ فرصت نہیں ہوئی کہ وہ اس کالج کو بھی کبھی دیکھیں کہ کس حالت میں ہے۔ یہاں پر صرف ان چند طلباء کے نام لکھوں گا جنہوں نے اسی کالج سے تعلیم حاصل کی اور آج وہ اسی کالج میں بطور استاد اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

دوسرے لوگوں کے ساتھ ساتھ یہ لوگ بھی اس کالج کی زبوں حالی کے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے کہ دوسرے لوگ ہیں۔ اکبر علی (شعبہ سیاسیات ) ، محمد فاروق (شعبہ سیاسیات ) ، شجاعت علی (شعبہ سیاسیات ) ، فاروق احمد (شعبہ سیاسیات ) ، ریاض سحر (شعبہ اردو ) ، راشد اویس ( (شعبہ اردو ) ڈاکٹر اظہر علی اظہر (شعبہ اردو ) ، فیض رسول فیضان (شعبہ اردو، ملک کے معروف شاعر، نعت گو، صدارتی ایوارڈ یافتہ) ، ڈاکٹر محمد یوسف ( (شعبہ فزکس ) ۔

یہ وہ چند لوگ ہیں جو اس کالج سے تعلیم یافتہ ہیں اور خوش قسمتی سے اسی کالج میں پڑھا بھی رہے ہیں۔ اس کالج کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس نے تو طلباء کو بہت کچھ دیا لیکن ان طلباء نے اس کالج کے لئے آج تک کچھ نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں کر سکیں گے۔ چاہے اس کالج کی کوئی اینٹ سے اینٹ کیوں نہ بجا دے۔ بس رہے نام اللہ کا۔ ہاں ایک کام ضرور پورے طمطراق سے کریں گے اپنی سیاسی دکان داری کو ضرور چمکائیں گے۔

کہانی یہاں پر ختم نہیں ہوتی ہے پھر اس کالج میں ایم۔ اے اور ایم۔ ایس۔ سی کے اور بھی پروگرام شروع کروائے گئے جن میں ایم۔ اے اسلامیات، ایم۔ اے اکنامکس اور ایم۔ ایس ذوالوجی شامل ہیں۔ ان شعبہ جات سے بھی بہت طلباء اور طالبات نے استفادہ حاصل کیا اور آج وہ مختلف شعبہ جات میں کام کر رہے ہیں۔ 2021 ء میں حکومت کے اعلامیہ کے تحت ایم۔ اے اور ایم۔ ایس۔ سی کے دو سالہ پروگراموں کو ختم کیا جانا تھا تو اس طرح ان کی جگہ ان تمام شعبہ جات میں بی۔

ایس چار سالہ پروگرام سائنس اور آرٹس کے شعبہ جات میں شروع کروا دیے گئے۔ پہلے سے چلنے والے پروگراموں کے علاوہ کچھ نئے بی۔ ایس پروگرام بھی شروع کروائے گئے جیسا کہ بی۔ ایس فزکس، بی۔ ایس کمپیوٹر سائنس اور ریاضی شامل کیے گئے۔ اب ان شعبہ جات میں کالج میں صبح اور شام کی کلاسز میں تعلیم دی جا رہی ہے۔ ان پروگراموں کے علاوہ آئی۔ کام اور بی۔ کام بھی شام کی کلاسز میں کروایا جاتا ہے۔ صبح کے وقت بی۔ ایس چار سالہ کے علاوہ یہاں پر ایف۔اے اور ایف۔ ایس بھی کروائی جا رہی ہے۔ بی۔ ایس پروگرام شروع ہونے کی وجہ سے کالج انتظامیہ کا سارا دھیان صرف اور صرف بی۔ ایس پر ہی ہے۔ چھوٹی کلاسوں میں داخلے بہت ہی کم کیے جاتے ہیں۔ امکان یہ ہے کہ آئندہ کچھ سالوں میں یہاں پر انٹر میڈیٹ کی کلاسز باقاعدہ ختم کر دی جائیں گی اور یہاں پر صرف اور صرف بی۔ ایس ہی ہوا کرے گا اور غریب عوام کے بچوں کے لئے تعلیم کے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔

1972 ء سے 2022 ء تک اس ادارے میں جو اساتذہ پرنسپل کے عہدے پر تعینات رہے :

1۔ خواجہ نذیر احمد (ایم۔ ایس۔ سی) ، 2۔ چوہدری فضل حسین (ایم۔ اے ) 3، ۔ قاری غلام صادق (ایم۔ اے ) ، 4۔ میر محمود سلطان (ایم۔ اے ) ، 5۔ خواجہ عبدالحمید (ایم۔ ایس۔ سی) ، 6۔ قاضی کفایت اللہ (ایم۔ اے ) ، 7۔ محمد عبداللہ جمال (ایم۔ اے ) ، 8۔ امان اللہ چیمہ (ایم۔ ایس۔ سی) ، 9۔ محمد حنیف باجوہ (ایم۔ ایس۔ سی) ، 10۔ خالد محمود دھاریوال (ایم۔ اے ) ، 11۔ محمد ظفر اقبال (ایم۔ ایس۔ سی) ، 12۔ محمد شریف عابد (ایم۔ ایس۔ سی) ، 13۔ محمد اسلم (ایم۔ اے ) ، 14۔ پرویز اختر (ایم۔ ایس۔ سی) موجودہ پرنسپل ہیں۔

اس وقت اس کالج میں اسی ( 80 ) کے قریب اساتذہ اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ تمام اساتذہ کے نام لکھنا ممکن نہیں ہے۔ کالج میں موجود تمام شعبہ جات کے صدور کے نام یہاں پر لکھ رہا ہوں۔ فیض اکبر خان (صدر شعبہ اردو، اسسٹنٹ پروفیسر) ، محمد یونس ( صدر شعبہ سیاسیات، پروفیسر ) ، محمد جمیل (صدر شعبہ انگریزی، اسسٹنٹ پروفیسر) ڈاکٹر محمد زمان چیمہ ( صدر شعبہ اسلامیات، پروفیسر) شہباز احمد ( صدر شعبہ تاریخ، اسسٹنٹ پروفیسر) ، شہزاد نذیر (صدر شعبہ پنجابی، لیکچرار) ، رانا محمد ناصر (صدر شعبہ سوشل ورک، لیکچرار) ، عبدالجبار (صدر شعبہ عربی، اسسٹنٹ پروفیسر) ڈاکٹر محمد افضل زاہد (صدر شعبہ فارسی پروفیسر، ریٹائرڈ 12 / 03 / 2022 ) محمد خالد رانا (صدر شعبہ کیمسٹری، اسسٹنٹ پروفیسر) افتخار احمد (صدر شعبہ ذوالوجی، اسسٹنٹ پروفیسر)

میں بطور پاکستان کے ایک شہری سب سے پہلے محکمہ تعلیم کے تمام ذمہ داران سے یہ التماس کرتا ہوں کہ ایسے تاریخی تعلیمی اداروں کی طرف خصوصی توجہ دی جائے۔ ان اداروں میں کام کرنے والے منتظمین کو خصوصی احکامات جاری کیے جائیں کہ ایسے اداروں کی تاریخی عمارتوں کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے کیونکہ یہ ہمارے ملک کا تاریخی ورثہ ہیں۔ اگر آج ہم اس تاریخی ورثہ کو نقصان پہچانا شروع کر دیں گے جو کہ یہ کام کیا بھی جا رہا ہے۔

اس طرح یہ تاریخ عمارتیں اپنا حسن کھو دیں گی اور تاریخی ورثہ کے نشانات مٹ جائیں گے۔ ان عمارتوں کے فن تعمیر کو بالکل بھی نہ چھیڑا جائے تاکہ ان کا حسن ماند نہ پڑھ جائے۔ دوسرے نمبر پر محکمہ پنجاب آثار قدیمہ سے گزارش کروں گا کہ اس تعلیمی ادارے کی عمارت کو قومی ورثہ میں شامل کیا جائے تاکہ آئندہ کالج انتظامیہ اس تاریخی عمارت کے فن تعمیر کو کوئی نقصان نہ پہنچائے تاکہ یہ اپنی اصلی حالت میں قائم و دائم رہے۔

ہماری آنے والی نسلیں اس تاریخی تعلیمی ادارے سے تعلیم حاصل کرتے رہیں۔ گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ سے بھی گوش گزار ہوں کہ اس ادارے کی بہتری کے لئے ایسے اقدامات اٹھائے کہ اس کالج کی حالت کو بہتر کیا جا سکے۔ کالج میں بے شمار سہولتوں کا فقدان ہے۔ طلبا ء اور طالبات کے لئے بے شمار سہولتوں کی ضرورت ہے جو ضلعی گورنمنٹ اور کالج انتظامیہ مل کر پورا کر سکتی ہے تاکہ اس کالج کے طلباء یکسوئی سے اپنی پڑھائی پر توجہ دے سکیں۔

کالج کی پرانی عمارت کی دیواریں سیلن زدہ ہو چکی ہیں۔ چھتوں سے پانی ٹپکتا ہے جس سے پرانی عمارت کی چھتوں اور دیواروں کو بہت زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔ اگر چند سال تک مزید اس عمارت کی دیکھ بھال نہ کی گئی اور کالج انتظامیہ اور محکمہ ایجوکیشن نے اس کی طرف دھیان نہ دیا تو اس عمارت کو زمین بوس ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا ہے۔ یہ ایک شاندار ماضی کا ورثہ ہے اس کو بچایا جانا چاہیے اور اس کی دیکھ بھال کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔

محکمہ تعلیم اور کالج انتظامیہ کو پرانی عمارت کی دیکھ بھال کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلبا ء و طالبات کو اس کالج کو آثار قدیمہ میں شامل کروانے کے لئے بڑے پیمانے پر ایک مہم کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ یہ عمارت ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے۔ شہری تنظیموں کو بھی اس کی طرف توجہ دینی چاہیے ۔

Facebook Comments HS