گینجی کی کہانی: اردو ادب میں گراں قدر اضافہ


داستان گوئی کا فن حقیقی کہانی ہر مبنی ہو کہ افسانوی واقعہ پر ، جزو ادب و ثقافت ہے اور ثقافت کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ خود زندگی۔ کہانی زندگی کا عکس ہے اور یہ عکس جب تاریخ کی در و دیوار کے اندر جھانکنے سے دیکھا جائے گا تو کہانی و زندگی ایک بہتے دریا کے دو کنارے معلوم ہوں گے۔ زندگی کی ہلچل معروضیت کے جس نہج پر ہوگی شعور کی بلندی بھی اسی سطح کی ملے گی۔ گویا مادی اشیا کی طرح شعور بھی ارتقا پذیر رہتا ہے۔

دیکھنے میں دریا کا پانی ایک ہی نظر آتا ہے مگر ہر آن ہر لحظے بہتا ہوا پانی اور ہے۔ ادب میں روایت کا تسلسل قدامت کا ساکھی ہے حالانکہ روایت کی تکمیل میں کلیدی کردار جدت کا ملتا ہے۔ روایتی تصور میں مادہ اور توانائی دو مختلف اور جداگانہ اشیا ہیں اور جدید کوانٹم فزکس میں مادہ و توانائی ایک چیز کے مختلف مظہر ہیں۔ داستان اور ناول دونوں میں کہانی ہے مگر پلاٹ اور کرداروں کے مابین کشمکش سے تعین ہو گا کہ تبدل و تغیر کے محرکات میں مافوق الفطرت کا دخل ہے کہ سماج میں سے لیے گئے انسانی کرداروں کا ۔ گینجی کی کہانی ایک جاپانی ناول ہے۔

ابتدا میں قصہ خواب، طلسم، مظاہر فطرت، بے ہنگم پلاٹ اور غیر منطقی واقعات کی بھول بھلیاں میں الوپ تھا اس لیے داستان کہلایا۔ زمانے نے کروٹیں بدلیں، توہم پرستی اور طلسمات کے چنگل سے نکل کر زندگی نے بتدریج حقیقی بود و باش کا لبادہ اوڑھا۔ بعد از قرون وسطی، نشاط ثانیہ (Renaissance) کی تحریک سے ادب، آرٹ، تفریح، و صنعتی آلات و پیداوار اور جدید ریاست کے قیام سے حیات نو کے نقوش نمودار ہوئے۔ دوسری مہابھاری لڑائی کے بعد جاپان نے جس طرح تباہی و بربادی کی راکھ سے ققنس (Sphinx) کی طرح نیا جنم لیا کسی معجزہ سے کم نہیں۔

قدیم و جدید جاپان میں بادشاہت کا تسلسل بدستور چلا آ رہا ہے۔ جبکہ مذہب کو ریاستی امور سے علیحدہ رکھنے اور خواتین کو زندگی کے تمام تر شعبوں بھرپور نمائندگی دی گئی۔ گینجی کی کہانی پڑھتے ہوئے ناول کی کلیت جن جزئیات کی بنیاد پر قائم کی ہوئی ہے وہ داستان کی ترقی یافتہ ہیئت بھی ہے، پختہ اور منطقی طریقوں سے متوازن صورت گری کا اچھوتا تجربہ بھی ہے۔ حالانکہ ناول داستانوں کے مقابلے میں میں مختصر پیرائے میں لکھا جاتا ہے۔

جبکہ اس مسودے کی لمبائی آٹھ اعشاریہ چھ انچ اور چوڑائی پانچ اعشاریہ چھ انچ اور ضخامت 1128 صفحات پر محیط ہے۔ گینجی شہزادے کا نام ہے۔ تین سال کی عمر میں اس کی ماں فوت ہو گئیں، چھ برس کا ہوا اس کی نانی بھی رخصت ہوئیں۔ اس نے دربار میں بچپن سے ہی حالات سوگوار دیکھیں اور یقیناً ایسے میں ان کے طرز تفکر اور رہن سہن کے انداز پر منفی یا مثبت دونوں اثرات مرتب ہونا فطری امر ہے۔ مختلف عورتوں سے جنسی مراسم قائم کرنے اور لاؤ ابالی زندگی گزارنے سے جو چاہتا ہے حاصل تو کر لیتا ہے مگر اسے پیار نہ ملنے کا احساس بے چینی و بیگانگی کا باعث بنا رہتا ہے۔

ناول کی کہانی میں داستان گوئی کی آمیزش بھی نظر آئے گی شاید اس لیے کہ دیو ملائی قصے کہانیوں سے اتنے مانوس اور بذریعہ رسومات جڑے ہوئے ہیں کہ پیدائش سے لے کر مرنے تک تمام حیات کے چھوٹے بڑے واقعات میں مافوق الفطرت و ماورائیت کے نظریات کا دخل نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔

موراساکی شکیبو نامی ایک عورت نے 11 ویں صدی میں ایک ناول ”گینجی کی کہانی“ لکھا جسے دنیا کی کئی مشہور و معروف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا اور عالمی ادب کے عظیم کاوشوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے خیال میں یہ دنیا کا پہلا ناول ہے جو ایک ہزار سال پہلے جاپانی زبان میں لکھا گیا۔

8 ویں سے 12 ویں صدی عیسوی تک جاپان کے ہیان (Heian) دور کو جاپان کا سنہری دور سمجھا جاتا ہے۔ ایک ہزار سال پہلے جاپانیوں کی نفسیات کیسی ہوا کرتی تھی، گینجی اور متعلقہ کرداروں کی رہن سہن، بول چال، رسم و رواج، فنون و ادب، زبان و ثقافت سے سہل انداز میں کیے گئے ترجمہ سے پتہ چلتا ہے۔ ”ناول کہ مصنفہ خود بھی شاعرہ و ادیبہ تھیں۔ ان کا تعلق اشرافیہ سے تھا، ان کے خاندان کے کئی افراد جاپان کے شاہی دربار سے وابستہ تھے اور خود بھی دربار میں ملازمہ تھیں۔ موراساکی شکیبو اس کا قلمی نام ہے ان کے اصل نام سے کوئی واقف نہیں۔“

ناول نگار ایک عورت ہونے کے ناتے یہ بات نمایاں ہے کہ قدیم جاپان میں اشرافیہ طبقہ کی عورتیں بھی تعلیم یافتہ تھیں یہاں تک کہ امور مملکت میں بھرپور حصہ لیتی تھیں۔ موراساکی شکیبو چینی زبان اور فنون لطیفہ میں مہارت رکھتی تھیں۔ اس وقت چین میں کاغذ ایجاد ہو چکا تھا مگر عام دستیاب نہ تھا مگر مصنفہ دربار سے وابستہ تھیں اس لیے انہیں کاغذ مہیا کیا گیا۔

گینجی کے معنی روشنی ہے اور اس وقت تک ابھی بجلی پیدا نہیں ہوئی تھی، لوگ لالٹین اور مٹی کے دیے اور شمئیں روشن کرتے اور سردیوں میں لکڑیوں سے آگ جلایا کرتے تھے۔

”جاپان میں بدھ مت 550 عہ 575 عہ کے درمیان متعارف ہوا۔ یہاں بدھ مت کی ابتدائی شکل چینی تھی جو کوریا کے وساطت سے منتقل ہوئی لیکن بعد ازاں جاپانیوں نے اپنے طور پر قابل لحاظ فکری اور اور نظریاتی ترقی کی۔ قومیت کے جذبات کے تحت جاپانیوں نے چینی ذرائع سے استفادہ کرنا عار خیال کیا اور تراجم کی مدد سے اپنی الگ تشریحات لکھنے کا آغاز کر دیا۔ بدھ مت کی نمایاں خصوصیات مقامی مجموعہ عقائد شنتو مت کے ساتھ مفاہمانہ رویہ ہے۔ چنانچہ شنتو مت کے کئی دیوتا بدھ کے اوتاروں کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔“ یہ جھلک گینجی کی کہانی میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ ہائیکو ہو یا دوسری جاپانی شاعری، بدھ مت کی فکری جھلک نمایاں نظر آتی ہے۔ ناول میں بھی پنر جنم اور دیوتاؤں کے تذکرے ملتے ہیں۔

”گینجی کی کہانی“ انگریزی The Tale of Genji (آرتھر ویلے /ایڈورڈ سائیڈن اسٹیکر) سے اردو زبان میں ترجمہ باقر نقوی مرحوم نے کیا جبکہ تحقیق، تدہین اور حواشی کی عالمانہ خدمات خرم سہیل نے سرانجام دی ہیں۔

جاپان میں میں اس وقت شہنشاہت کا مرکزیت پر مبنی رتسورہ (Ritsuryo) نظام حکمرانی رائج تھا، لوگوں میں زمین کی مساوی تقسیم کے بدلے میں مطلوبہ ذمے داریاں بطور خدمات وصول کی جاتی تھیں۔ آس پاس کے علاقوں میں بھی یہی نظام رائج تھا۔

ناول کا ترجمہ باقر نقوی مرحوم نے کیا، ان کی اچانک وفات کے باعث تحقیق و تدوین و حواشی کو خرم سہیل نے احسن طریقہ سے پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ آخر میں

افضل ندیم دو گر کے مضمون سے اقتباس پیش کر کے اجازت چاہوں گا کہ:

”جاپان کے پہلے نوبل انعام یافتہ ادیب“ یاسوناری کا واباتا ”نے بھی نوبل انعام حاصل کرنے کی تقریب کے موقع پر اپنے کلیدی خطاب میں اس ناول گینجی مونوگتاری کا تذکرہ کیا تھا۔ ہر جاپانی شہری اسے اپنے زمانہ طالب علمی میں اپنے اسکول کے نصاب میں بھی پڑھتا ہے۔ گینجی مونوگتاری ایک عظیم ناول ہے جو کہ دو لاکھ سے زائد جملوں پر مبنی ہے۔ ایک ادبی روایت کے مطابق اس کہانی کے آٹھ سو سے زیادہ جاپانی شاعری کے صنف و سخن پر مبنی اشعار اور کہانی موجود ہیں۔ 1971 میں بھارت کے پروفیسر احتشام حسین نے اس ناول کے ابتدائی چند ابواب کی تلخیص لکھی مگر باقاعدہ ترجمہ ندارد تھا۔ تو شی کا زو ایسومورا کے مطابق پہلی بار پاکستان سے اس ناول کا اردو زبان میں ترجمہ شائع ہوا ہے۔“

Facebook Comments HS